۱-پطرؔس

پہلا پطرس کا خط مسیحی ایمانداروں کو صبر، ثابت قدمی اور مسیح میں امید رکھنے کی ترغیب دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ مشکلات اور ایذارسانیوں کا سامنا کر رہے ہوں۔ یہ خط راستبازی کی راہ میں تکالیف برداشت کرنے، مسیحی طرزِ زندگی اپنانے اور محبت و فروتنی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔ پطرس ایمانداروں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ ایک مقدس قوم اور خدا کے چُنے ہوئے لوگ ہیں، جو دنیا میں روشنی بن کر زندگی گزاریں۔ یہ خط ایمان کی مضبوطی اور خدا کے فضل پر بھروسہ رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

تمہید
1 پطرؔس کی طرف سے جو یِسُوعؔ مسِیح کا رسُول ہے
اُن مُسافِروں کے نام جو پُنطُس۔ گلِتیہ۔ کَپّدُکیہ۔ آسِیہ اور بتُھنیہ میں جا بجا رہتے ہیں۔ 2 اور خُدا باپ کے عِلمِ سابق کے مُوافِق رُوح کے پاک کرنے سے فرمانبردار ہونے اور یِسُوعؔ مسِیح کا خُون چِھڑکے جانے کے لِئے برگُزِیدہ ہُوئے ہیں۔
فضل اور اِطمِینان تُمہیں زِیادہ حاصِل ہوتا رہے۔
زِندہ اُمّید
3 ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسِیح کے خُدا اور باپ کی حمد ہو جِس نے یِسُوعؔ مسِیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعِث اپنی بڑی رحمت سے ہمیں زِندہ اُمّید کے لِئے نئے سِرے سے پَیدا کِیا۔ 4 تاکہ ایک غَیرفانی اور بے داغ اور لازوال مِیراث کو حاصِل کریں۔ 5 وہ تُمہارے واسطے (جو خُدا کی قُدرت سے اِیمان کے وسِیلہ سے اُس نجات کے لِئے جو آخِری وقت میں ظاہِر ہونے کو تیّار ہے حِفاظت کِئے جاتے ہو) آسمان پر محفُوظ ہے۔
6 اِس کے سبب سے تُم خُوشی مناتے ہو۔ اگرچہ اب چند روز کے لِئے ضرُورت کی وجہ سے طرح طرح کی آزمایشوں کے سبب سے غم زدہ ہو۔ 7 اور یہ اِس لِئے ہے کہ تُمہارا آزمایا ہُؤا اِیمان جو آگ سے آزمائے ہُوئے فانی سونے سے بھی بُہت ہی بیش قِیمت ہے یِسُوعؔ مسِیح کے ظہُور کے وقت تعرِیف اور جلال اور عِزّت کا باعِث ٹھہرے۔ 8 اُس سے تُم بے دیکھے مُحبّت رکھتے ہو اور اگرچہ اِس وقت اُس کو نہیں دیکھتے تَو بھی اُس پر اِیمان لا کر اَیسی خُوشی مناتے ہو جو بیان سے باہر اور جلال سے بھری ہے۔ 9 اور اپنے اِیمان کا مقصد یعنی رُوحوں کی نجات حاصِل کرتے ہو۔
10 اِسی نجات کی بابت اُن نبِیوں نے بڑی تلاش اور تحقِیق کی جِنہوں نے اُس فضل کے بارے میں جو تُم پر ہونے کو تھا نبُوّت کی۔ 11 اُنہوں نے اِس بات کی تحقِیق کی کہ مسِیح کا رُوح جو اُن میں تھا اور پیشتر سے مسِیح کے دُکھوں کی اور اُن کے بعد کے جلال کی گواہی دیتا تھا وہ کَون سے اور کَیسے وقت کی طرف اِشارہ کرتا تھا۔ 12 اُن پر یہ ظاہِر کِیا گیا کہ وہ نہ اپنی بلکہ تُمہاری خِدمت کے لِئے یہ باتیں کہا کرتے تھے جِن کی خبر اب تُم کو اُن کی معرفت مِلی جِنہوں نے رُوحُ القُدس کے وسِیلہ سے جو آسمان پر سے بھیجا گیا تُم کو خُوشخبری دی اور فرِشتے بھی اِن باتوں پر غَور سے نظر کرنے کے مُشتاق ہیں۔
پاکِیزہ زِندگی گُذارنے کی تلقِین
13 اِس واسطے اپنی عقل کی کمر باندھ کر اور ہوشیار ہو کر اُس فضل کی کامِل اُمّید رکھّو جو یِسُوعؔ مسِیح کے ظہُور کے وقت تُم پر ہونے والا ہے۔ 14 اور فرمانبردار فرزند ہو کر اپنی جہالت کے زمانہ کی پُرانی خواہِشوں کے تابِع نہ بنو۔ 15 بلکہ جِس طرح تُمہارا بُلانے والا پاک ہے اُسی طرح تُم بھی اپنے سارے چال چلن میں پاک بنو۔ 16 کیونکہ لِکھا ہے کہ پاک ہو اِس لِئے کہ مَیں پاک ہُوں۔
17 اور جب کہ تُم باپ کہہ کر اُس سے دُعا کرتے ہو جو ہر ایک کے کام کے مُوافِق بغَیر طرف داری کے اِنصاف کرتا ہے تو اپنی مُسافِرت کا زمانہ خَوف کے ساتھ گُذارو۔ 18 کیونکہ تُم جانتے ہو کہ تُمہارا نِکمّا چال چلن جو باپ دادا سے چلا آتا تھا اُس سے تُمہاری خلاصی فانی چِیزوں یعنی سونے چاندی کے ذرِیعہ سے نہیں ہُوئی۔ 19 بلکہ ایک بے عَیب اور بے داغ برّے یعنی مسِیح کے بیش قِیمت خُون سے۔ 20 اُس کا عِلم تو بِنایِ عالَم سے پیشتر سے تھا مگر ظہُور اخِیر زمانہ میں تُمہاری خاطِر ہُؤا۔ 21 کہ اُس کے وسِیلہ سے خُدا پر اِیمان لائے ہو جِس نے اُس کو مُردوں میں سے جِلایا اور جلال بخشا تاکہ تُمہارا اِیمان اور اُمّید خُدا پر ہو۔
22 چُونکہ تُم نے حق کی تابِع داری سے اپنے دِلوں کو پاک کِیا ہے جِس سے بھائِیوں کی بے رِیا مُحبّت پَیدا ہُوئی اِس لِئے دِل و جان سے آپس میں بُہت مُحبّت رکھّو۔ 23 کیونکہ تُم فانی تُخم سے نہیں بلکہ غَیرفانی سے خُدا کے کلام کے وسِیلہ سے جو زِندہ اور قائِم ہے نئے سِرے سے پَیدا ہُوئے ہو۔ 24 چُنانچہ
ہر بشر گھاس کی مانِند ہے
اور اُس کی ساری شان و شوکت گھاس کے پُھول کی مانِند۔
گھاس تو سُوکھ جاتی ہے اور پُھول گِر جاتا ہے۔
25 لیکن خُداوند کا کلام ابد تک قائِم رہے گا۔
یہ وُہی خُوشخبری کا کلام ہے جو تُمہیں سُنایا گیا تھا۔
زِندہ پتّھر اور مُقدّس قَوم
1 پس ہر طرح کی بدخواہی اور سارے فرِیب اور رِیاکاری اور حسد اور ہر طرح کی بدگوئی کو دُور کر کے۔ 2 نَوزاد بچّوں کی مانِند خالِص رُوحانی دُودھ کے مُشتاق رہو تاکہ اُس کے ذرِیعہ سے نجات حاصِل کرنے کے لِئے بڑھتے جاؤ۔ 3 اگر تُم نے خُداوند کے مِہربان ہونے کا مزہ چکّھا ہے۔
4 اُس کے یعنی آدمِیوں کے ردّ کِئے ہُوئے پر خُدا کے چُنے ہُوئے اور قِیمتی زِندہ پتّھر کے پاس آ کر۔ 5 تُم بھی زِندہ پتّھروں کی طرح رُوحانی گھر بنتے جاتے ہو تاکہ کاہِنوں کا مُقدّس فِرقہ بن کر اَیسی رُوحانی قُربانِیاں چڑھاؤ جو یِسُوعؔ مسِیح کے وسِیلہ سے خُدا کے نزدِیک مقبُول ہوتی ہیں۔ 6 چُنانچہ کِتابِ مُقدّس میں آیا ہے کہ
دیکھو۔ مَیں صِیُّون میں کونے کے سرے کا چُنا ہُؤا
اور قِیمتی پتّھر رکھتا ہُوں
جو اُس پر اِیمان لائے گا ہرگِز شرمِندہ نہ ہو گا۔
7 پس تُم اِیمان لانے والوں کے لِئے تو وہ قِیمتی ہے مگر اِیمان نہ لانے والوں کے لِئے
جِس پتّھر کو مِعماروں نے ردّ کِیا
وُہی کونے کے سِرے کا پتّھر ہو گیا۔
8 اور
ٹھیس لگنے کا پتّھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان ہُؤا
کیونکہ وہ نافرمان ہو کر کلام سے ٹھوکر کھاتے ہیں اور اِسی کے لِئے مُقرّر بھی ہُوئے تھے۔
9 لیکن تُم ایک برگُزِیدہ نسل۔ شاہی کاہِنوں کا فِرقہ۔ مُقدّس قَوم اور اَیسی اُمّت ہو جو خُدا کی خاص مِلکِیّت ہے تاکہ اُس کی خُوبِیاں ظاہِر کرو جِس نے تُمہیں تارِیکی سے اپنی عجِیب رَوشنی میں بُلایا ہے۔ 10 پہلے تُم کوئی اُمّت نہ تھے مگر اب خُدا کی اُمّت ہو۔ تُم پر رحمت نہ ہُوئی تھی مگر اب تُم پر رحمت ہُوئی۔
خُدا کے غُلام
11 اَے پِیارو مَیں تُمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ تُم اپنے آپ کو پردیسی اور مُسافِر جان کر اُن جِسمانی خواہِشوں سے پرہیز کرو جو رُوح سے لڑائی رکھتی ہیں۔ 12 اور غَیر قَوموں میں اپنا چال چلن نیک رکھّو تاکہ جِن باتوں میں وہ تُمہیں بدکار جان کر تُمہاری بدگوئی کرتے ہیں تُمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر اُن ہی کے سبب سے مُلاحظہ کے دِن خُدا کی تمجِید کریں۔
13 خُداوند کی خاطِر اِنسان کے ہر ایک اِنتِظام کے تابِع رہو۔ بادشاہ کے اِس لِئے کہ وہ سب سے بزُرگ ہے۔ 14 اور حاکِموں کے اِس لِئے کہ وہ بدکاروں کی سزا اور نیکوکاروں کی تعرِیف کے لِئے اُس کے بھیجے ہُوئے ہیں۔ 15 کیونکہ خُدا کی یہ مرضی ہے کہ تُم نیکی کر کے نادان آدمِیوں کی جہالت کی باتوں کو بند کر دو۔ 16 اور اپنے آپ کو آزاد جانو مگر اِس آزادی کو بدی کا پردہ نہ بناؤ بلکہ اپنے آپ کو خُدا کے بندے جانو۔ 17 سب کی عِزّت کرو۔ برادری سے مُحبّت رکھّو۔ خُدا سے ڈرو۔ بادشاہ کی عِزّت کرو۔
مسِیح کے دُکھوں کا نمُونہ
18 اَے نَوکرو! بڑے خَوف سے اپنے مالِکوں کے تابِع رہو۔ نہ صِرف نیکوں اور حلِیموں ہی کے بلکہ بدمزاجوں کے بھی۔ 19 کیونکہ اگر کوئی خُدا کے خیال سے بے اِنصافی کے باعِث دُکھ اُٹھا کر تکلِیفوں کی برداشت کرے تو یہ پسندِیدہ ہے۔ 20 اِس لِئے کہ اگر تُم نے گُناہ کر کے مُکّے کھائے اور صبر کِیا تو کون سا فخر ہے؟ ہاں اگر نیکی کر کے دُکھ پاتے اور صبر کرتے ہو تو یہ خُدا کے نزدِیک پسندِیدہ ہے۔ 21 اور تُم اِسی کے لِئے بُلائے گئے ہو کیونکہ مسِیح بھی تُمہارے واسطے دُکھ اُٹھا کر تُمہیں ایک نمُونہ دے گیا ہے تاکہ اُس کے نقشِ قدم پر چلو۔ 22 نہ اُس نے گُناہ کِیا اور نہ اُس کے مُنہ سے کوئی مکر کی بات نِکلی۔ 23 نہ وہ گالِیاں کھا کر گالی دیتا تھا اور نہ دُکھ پا کر کِسی کو دھمکاتا تھا بلکہ اپنے آپ کو سچّے اِنصاف کرنے والے کے سپُرد کرتا تھا۔ 24 وہ آپ ہمارے گُناہوں کو اپنے بدن پر لِئے ہُوئے صلِیب پر چڑھ گیا تاکہ ہم گُناہوں کے اِعتبار سے مَر کر راست بازی کے اِعتبار سے جِئیں اور اُسی کے مار کھانے سے تُم نے شِفا پائی۔ 25 کیونکہ پہلے تُم بھیڑوں کی طرح بھٹکتے پِھرتے تھے مگر اب اپنی رُوحوں کے گلّہ بان اور نِگہبان کے پاس پِھر آ گئے ہو۔
بِیویاں اور شَوہر
1 اَے بِیوِیو! تُم بھی اپنے اپنے شَوہر کے تابِع رہو۔ 2 اِس لِئے کہ اگر بعض اُن میں سے کلام کو نہ مانتے ہوں تَو بھی تُمہارے پاکِیزہ چال چلن اور خَوف کو دیکھ کر بغَیر کلام کے اپنی اپنی بِیوی کے چال چلن سے خُدا کی طرف کِھنچ جائیں۔ 3 اور تُمہارا سِنگار ظاہِری نہ ہو یعنی سر گُوندھنا اور سونے کے زیور اور طرح طرح کے کپڑے پہننا۔ 4 بلکہ تُمہاری باطِنی اور پوشِیدہ اِنسانیّت حِلم اور مِزاج کی غُربت کی غَیرفانی آرایش سے آراستہ رہے کیونکہ خُدا کے نزدِیک اِس کی بڑی قدر ہے۔ 5 اور اگلے زمانہ میں بھی خُدا پر اُمّید رکھنے والی مُقدّس عَورتیں اپنے آپ کو اِسی طرح سنوارتی اور اپنے اپنے شَوہر کے تابِع رہتی تِھیں۔ 6 چُنانچہ سارؔہ ابرہامؔ کے حُکم میں رہتی اور اُسے خُداوند کہتی تھی۔ تُم بھی اگر نیکی کرو اور کِسی ڈراوے سے نہ ڈرو تو اُس کی بیٹِیاں ہُوئِیں۔
7 اَے شَوہرو! تُم بھی بِیوِیوں کے ساتھ عقل مندی سے بسر کرو اور عَورت کو نازک ظرف جان کر اُس کی عِزّت کرو اور یُوں سمجھو کہ ہم دونوں زِندگی کی نِعمت کے وارِث ہیں تاکہ تُمہاری دُعائیں رُک نہ جائیں۔
نیک کاموں کی خاطِر دُکھ اُٹھانا
8 غرض سب کے سب یک دِل اور ہمدرد رہو۔ برادرانہ مُحبّت رکھّو۔ نرم دِل اور فروتن بنو۔ 9 بدی کے عِوض بدی نہ کرو اور گالی کے بدلے گالی نہ دو بلکہ اِس کے برعکس برکت چاہو کیونکہ تُم برکت کے وارِث ہونے کے لِئے بُلائے گئے ہو۔ 10 چُنانچہ
جو کوئی زِندگی سے خُوش ہونا
اور اچھّے دِن دیکھنا چاہے
وہ زُبان کو بدی سے
اور ہونٹوں کو مکر کی بات کہنے سے باز رکھّے۔
11 بدی سے کنارہ کرے اور نیکی کو عمل میں لائے۔
صُلح کا طالِب ہو اور اُس کی کوشِش میں رہے۔
12 کیونکہ خُداوند کی نظر راست بازوں کی طرف ہے
اور اُس کے کان اُن کی دُعا پر لگے ہیں۔
مگر بدکار خُداوند کی نِگاہ میں ہیں۔
13 اگر تُم نیکی کرنے میں سرگرم ہو تو تُم سے بدی کرنے والا کَون ہے؟ 14 اور اگر راست بازی کی خاطِر دُکھ سہو بھی تو تُم مُبارک ہو۔ نہ اُن کے ڈرانے سے ڈرو اور نہ گھبراؤ۔ 15 بلکہ مسِیح کو خُداوند جان کر اپنے دِلوں میں مُقدّس سمجھو اور جو کوئی تُم سے تُمہاری اُمّید کی وجہ دریافت کرے اُس کو جواب دینے کے لِئے ہر وقت مُستعِد رہو مگر حِلم اور خَوف کے ساتھ۔ 16 اور نیّت بھی نیک رکھّو تاکہ جِن باتوں میں تُمہاری بدگوئی ہوتی ہے اُن ہی میں وہ لوگ شرمِندہ ہوں جو تُمہارے مسِیحی نیک چال چلن پر لَعن طَعن کرتے ہیں۔ 17 کیونکہ اگر خُدا کی یِہی مرضی ہو کہ تُم نیکی کرنے کے سبب سے دُکھ اُٹھاؤ تو یہ بدی کرنے کے سبب سے دُکھ اُٹھانے سے بِہتر ہے۔ 18 اِس لِئے کہ مسِیح نے بھی یعنی راست باز نے ناراستوں کے لِئے گُناہوں کے باعِث ایک بار دُکھ اُٹھایا تاکہ ہم کو خُدا کے پاس پُہنچائے۔ وہ جِسم کے اِعتبار سے تو مارا گیا لیکن رُوح کے اِعتبار سے زِندہ کِیا گیا۔ 19 اِسی میں اُس نے جا کر اُن قَیدی رُوحوں میں مُنادی کی۔ 20 جو اُس اگلے زمانہ میں نافرمان تِھیں جب خُدا نُوح کے وقت میں تحمُّل کر کے ٹھہرا رہا تھا اور وہ کشتی تیّار ہو رہی تھی جِس پر سوار ہو کر تھوڑے سے آدمی یعنی آٹھ جانیں پانی کے وسِیلہ سے بچِیں۔ 21 اور اُسی پانی کا مُشابِہ بھی یعنی بپتِسمہ یِسُوع مسِیح کے جی اُٹھنے کے وسِیلہ سے اب تُمہیں بچاتا ہے۔ اُس سے جِسم کی نجاست کا دُور کرنا مُراد نہیں بلکہ خالِص نیّت سے خُدا کا طالِب ہونا مُراد ہے۔ 22 وہ آسمان پر جا کر خُدا کی دہنی طرف بَیٹھا ہے اور فرِشتے اور اِختیارات اور قُدرتیں اُس کے تابِع کی گئی ہیں۔
تبدیل شُدہ زِندگیاں
1 پس جب کہ مسِیح نے جِسم کے اِعتبار سے دُکھ اُٹھایا تو تُم بھی اَیسا ہی مِزاج اِختیار کر کے ہتھیار بند بنو کیونکہ جِس نے جِسم کے اِعتبار سے دُکھ اُٹھایا اُس نے گُناہ سے فراغت پائی۔ 2 تاکہ آیندہ کو اپنی باقی جِسمانی زِندگی آدمِیوں کی خواہِشوں کے مُطابِق نہ گُذارے بلکہ خُدا کی مرضی کے مُطابِق۔ 3 اِس واسطے کہ غَیر قَوموں کی مرضی کے مُوافِق کام کرنے اور شہوَت پرستی۔ بُری خواہِشوں۔ مَے خواری۔ ناچ رنگ۔ نشہ بازی اور مکرُوہ بُت پرستی میں جِس قدر ہم نے پہلے وقت گُذارا وُہی بُہت ہے۔ 4 اِس پر وہ تعجُّب کرتے ہیں کہ تُم اُسی سخت بدچلنی تک اُن کا ساتھ نہیں دیتے اور لَعن طَعن کرتے ہیں۔ 5 اُنہیں اُسی کو حِساب دینا پڑے گا جو زِندوں اور مُردوں کا اِنصاف کرنے کو تیّار ہے۔ 6 کیونکہ مُردوں کو بھی خُوشخبری اِسی لِئے سُنائی گئی تھی کہ جِسم کے لِحاظ سے تو آدمِیوں کے مُطابِق اُن کا اِنصاف ہو لیکن رُوح کے لِحاظ سے خُدا کے مُطابِق زِندہ رہیں۔
خُدا کی نِعمتوں کے اچھّے مُختار
7 سب چِیزوں کا خاتِمہ جلد ہونے والا ہے۔ پس ہوشیار رہو اور دُعا کرنے کے لِئے تیّار۔ 8 سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ آپس میں بڑی مُحبّت رکھّو کیونکہ مُحبّت بُہت سے گُناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ 9 بغَیر بُڑبُڑائے آپس میں مُسافِر پروَری کرو۔ 10 جِن کو جِس جِس قدر نِعمت مِلی ہے وہ اُسے خُدا کی مُختلِف نِعمتوں کے اچھّے مُختاروں کی طرح ایک دُوسرے کی خِدمت میں صرف کریں۔ 11 اگر کوئی کُچھ کہے تو اَیسا کہے کہ گویا خُدا کا کلام ہے۔ اگر کوئی خِدمت کرے تو اُس طاقت کے مُطابِق کرے جو خُدا دے تاکہ سب باتوں میں یِسُوع مسِیح کے وسِیلہ سے خُدا کا جلال ظاہِر ہو۔ جلال اور سلطنت ابدُالآباد اُسی کی ہے۔ آمِین۔
مسِیحی ہونے کے باعث دُکھ اُٹھانا
12 اَے پِیارو! جو مُصِیبت کی آگ تُمہاری آزمایش کے لِئے تُم میں بھڑکی ہے یہ سمجھ کر اُس سے تعجُّب نہ کرو کہ یہ ایک انوکھی بات ہم پر واقِع ہُوئی ہے۔ 13 بلکہ مسِیح کے دُکھوں میں جُوں جُوں شرِیک ہو خُوشی کرو تاکہ اُس کے جلال کے ظہُور کے وقت بھی نِہایت خُوش و خُرّم ہو۔ 14 اگر مسِیح کے نام کے سبب سے تُمہیں ملامت کی جاتی ہے تو تُم مُبارک ہو کیونکہ جلال کا رُوح یعنی خُدا کا رُوح تُم پر سایہ کرتا ہے۔ 15 تُم میں سے کوئی شخص خُونی یا چور یا بدکار یا اَوروں کے کام میں دست انداز ہو کر دُکھ نہ پائے۔ 16 لیکن اگر مسِیحی ہونے کے باعِث کوئی شخص دُکھ پائے تو شرمائے نہیں بلکہ اِس نام کے سبب سے خُدا کی تمجِید کرے۔
17 کیونکہ وہ وقت آ پُہنچا ہے کہ خُدا کے گھر سے عدالت شرُوع ہو اور جب ہم ہی سے شرُوع ہو گی تو اُن کا کیا انجام ہو گا جو خُدا کی خُوشخبری کو نہیں مانتے؟
18 اور جب راست باز ہی مُشکِل سے نجات پائے گا
تو بے دِین اور گُنہگار کا کیا ٹِھکانا؟
19 پس جو خُدا کی مرضی کے مُوافِق دُکھ پاتے ہیں وہ نیکی کر کے اپنی جانوں کو وفادار خالِق کے سپُرد کریں۔
خُدا کا گلّہ
1 تُم میں جو بزُرگ ہیں مَیں اُن کی طرح بزُرگ اور مسِیح کے دُکھوں کا گواہ اور ظاہِر ہونے والے جلال میں شرِیک بھی ہو کر اُن کو یہ نصِیحت کرتا ہُوں۔ 2 کہ خُدا کے اُس گلّہ کی گلّہ بانی کرو جو تُم میں ہے۔ لاچاری سے نِگہبانی نہ کرو بلکہ خُدا کی مرضی کے مُوافِق خُوشی سے اور ناجائِز نفع کے لِئے نہیں بلکہ دِلی شَوق سے۔ 3 اور جو لوگ تُمہارے سپُرد ہیں اُن پر حُکُومت نہ جتاؤ بلکہ گلّہ کے لِئے نمُونہ بنو۔ 4 اور جب سردار گلّہ بان ظاہِر ہو گا تو تُم کو جلال کا اَیسا سِہرا مِلے گا جو مُرجھانے کا نہیں۔
5 اَے جوانو! تُم بھی بزُرگوں کے تابِع رہو بلکہ سب کے سب ایک دُوسرے کی خِدمت کے لِئے فروتنی سے کمربستہ رہو اِس لِئے کہ خُدا مغرُوروں کا مُقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو تَوفِیق بخشتا ہے۔ 6 پس خُدا کے قَوی ہاتھ کے نِیچے فروتنی سے رہو تاکہ وہ تُمہیں وقت پر سر بُلند کرے۔ 7 اور اپنی ساری فِکر اُسی پر ڈال دو کیونکہ اُس کو تُمہاری فِکر ہے۔
8 تُم ہوشیار اور بیدار رہو۔ تُمہارا مُخالِف اِبلِیس گرجنے والے شیرِ بَبر کی طرح ڈُھونڈتا پِھرتا ہے کہ کِس کو پھاڑ کھائے۔ 9 تُم اِیمان میں مضبُوط ہو کر اور یہ جان کر اُس کا مُقابلہ کرو کہ تُمہارے بھائی جو دُنیا میں ہیں اَیسے ہی دُکھ اُٹھا رہے ہیں۔ 10 اب خُدا جو ہر طرح کے فضل کا چشمہ ہے، جِس نے تُم کو مسِیح میں اپنے ابدی جلال کے لِئے بُلایا تُمہارے تھوڑی مُدّت تک دُکھ اُٹھانے کے بعد آپ ہی تُمہیں کامِل اور قائِم اور مضبُوط کرے گا۔ 11 ابدُالآباد اُسی کی سلطنت رہے۔ آمِین۔
اِختتامی سلام
12 مَیں نے سِلوانُس کی معرفت جو میری دانِست میں دِیانت دار بھائی ہے مُختصر طَور پر لِکھ کر تُمہیں نصِیحت کی اور یہ گواہی دی کہ خُدا کا سچّا فضل یِہی ہے۔ اِسی پر قائِم رہو۔
13 جو بابل میں تُمہاری طرح برگُزِیدہ ہے وہ اور میرا بیٹا مرقس تُمہیں سلام کہتے ہیں۔ 14 مُحبّت سے بوسہ لے لے کر آپس میں سلام کرو۔
تُم سب کو جو مسِیح میں ہو اِطمِینان حاصِل ہوتا رہے۔