۱-تِیمُتھِیُس

پہلا تِیمُتھِیُس پولُس رسول کا ایک خط ہے جو اُس نے اپنے شاگرد تِیمُتھِیُس کو لکھا۔ اس خط میں کلیسیا کی رہنمائی، عبادت، قیادت اور ایمانداروں کے کردار پر زور دیا گیا ہے۔ پولُس رسول تِیمُتھِیُس کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ سچائی پر قائم رہے، غلط تعلیمات سے بچا رہے اور کلیسیا میں دیانتداری اور پاکیزگی کو فروغ دے۔ یہ خط خدا پر بھروسہ، دعا کی اہمیت اور روحانی مضبوطی کے اصولوں پر زور دیتا ہے، تاکہ ایک مؤثر اور خدا کے حکم کے مطابق زندگی گزاری جا سکے۔

تمہید
1 پَولُس کی طرف سے جو ہمارے مُنّجی خُدا اور ہمارے اُمّیدگاہ مسِیح یِسُوعؔ کے حُکم سے مسِیح یِسُوعؔ کا رسُول ہے۔
2 تِیمُتِھیُس کے نام جو اِیمان کے لِحاظ سے میرا سچّا فرزند ہے۔
فضل رحم اور اِطمِینان خُدا باپ اور ہمارے خُداوند مسِیح یِسُوعؔ کی طرف سے تُجھے حاصِل ہوتا رہے۔
جُھوٹی تعلِیمات کے خِلاف اِنتباہ
3 جِس طرح مَیں نے مَکِدُنیہ جاتے وقت تُجھے نصِیحت کی تھی کہ اِفِسُس میں رہ کر بعض شخصوں کو حُکم کر دے کہ اَور طرح کی تعلِیم نہ دیں۔ 4 اور اُن کہانِیوں اور بے اِنتِہا نَسب ناموں پر لِحاظ نہ کریں جو تکرار کا باعِث ہوتے ہیں اور اُس اِنتِظامِ الٰہی کے مُوافِق نہیں جو اِیمان پر مبنی ہے اُسی طرح اب بھی کرتا ہُوں۔ 5 حُکم کا مقصد یہ ہے کہ پاک دِل اور نیک نِیّت اور بے رِیا اِیمان سے مُحبّت پَیدا ہو۔ 6 اِن کو چھوڑ کر بعض شخص بیہُودہ بکواس کی طرف مُتوجِّہ ہو گئے۔ 7 اور شرِیعت کے مُعلِّم بننا چاہتے ہیں حالانکہ جو باتیں کہتے ہیں اور جِن کا یقِینی طَور سے دعویٰ کرتے ہیں اُن کو سمجھتے بھی نہیں۔
8 مگر ہم جانتے ہیں کہ شرِیعت اچّھی ہے بشرطیکہ کوئی اُسے شرِیعت کے طَور پر کام میں لائے۔ 9 یعنی یہ سمجھ کر کہ شرِیعت راست بازوں کے لِئے مُقرّر نہیں ہُوئی بلکہ بے شرع اور سرکش لوگوں اور بے دِینوں اور گُنہگاروں اور ناپاکوں اور رِندوں اور ماں باپ کے قاتِلوں اور خُونِیوں۔ 10 اور حرام کاروں اور لَونڈے بازوں اور بردہ فروشوں اور جُھوٹوں اور جُھوٹی قَسم کھانے والوں اور اِن کے سِوا صحِیح تعلِیم کے اَور برخِلاف کام کرنے والوں کے واسطے ہے۔ 11 یہ خُدایِ مُبارک کے جلال کی اُس خُوشخبری کے مُوافِق ہے جو میرے سپُرد ہُوئی۔
خُدا کی رحمت کے لِئے شُکرگُزاری
12 مَیں اپنے طاقت بخشنے والے خُداوند مسِیح یِسُوعؔ کا شُکر کرتا ہُوں کہ اُس نے مُجھے دِیانت دار سمجھ کر اپنی خِدمت کے لِئے مُقرّر کِیا۔ 13 اگرچہ مَیں پہلے کُفر بکنے والا اور ستانے والا اور بے عِزّت کرنے والا تھا تَو بھی مُجھ پر رَحم ہُؤا اِس واسطے کہ مَیں نے بے اِیمانی کی حالت میں نادانی سے یہ کام کِئے تھے۔ 14 اور ہمارے خُداوند کا فضل اُس اِیمان اور مُحبّت کے ساتھ جو مسِیح یِسُوعؔ میں ہے بُہت زِیادہ ہُؤا۔ 15 یہ بات سچ اور ہر طرح سے قبُول کرنے کے لائِق ہے کہ مسِیح یِسُوعؔ گُنہگاروں کو نجات دینے کے لِئے دُنیا میں آیا جِن میں سب سے بڑا مَیں ہُوں۔ 16 لیکن مُجھ پر رَحم اِس لِئے ہُؤا کہ یِسُوعؔ مسِیح مُجھ بڑے گُنہگار میں اپنا کمال تحمُّل ظاہِر کرے تاکہ جو لوگ ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے اُس پر اِیمان لائیں گے اُن کے لِئے مَیں نمُونہ بنُوں۔ 17 اب اَزلی بادشاہ یعنی غَیرفانی نادِیدہ واحِد خُدا کی عِزّت اور تمجِید ابدُالآباد ہوتی رہے۔ آمِین۔
18 اَے فرزند تِیمُتِھیُس اُن پیشِین گوئِیوں کے مَوافِق جو پہلے تیری بابت کی گئی تِھیں مَیں یہ حُکم تیرے سپُرد کرتا ہُوں تاکہ تُو اُن کے مُطابِق اچّھی لڑائی لڑتا رہے اور اِیمان اور اُس نیک نِیّت پر قائِم رہے۔ 19 جِس کو دُور کرنے کے سبب سے بعض لوگوں کے اِیمان کا جہاز غرق ہو گیا۔ 20 اُن ہی میں سے ہُمِنِیُس اور سکندر ہیں۔ جِنہیں مَیں نے شَیطان کے حوالہ کِیا تاکہ کُفر سے باز رہنا سِیکھیں۔
کلِیسیائی عِبادت
1 پس مَیں سب سے پہلے یہ نصِیحت کرتا ہُوں کہ مُناجاتیں اور دُعائیں اور اِلتجائیں اور شُکر گُذارِیاں سب آدمِیوں کے لِئے کی جائیں۔ 2 بادشاہوں اور سب بڑے مرتبہ والوں کے واسطے اِس لِئے کہ ہم کمال دِین داری اور سنجِیدگی سے اَمن و آرام کے ساتھ زِندگی گُذاریں۔ 3 یہ ہمارے مُنّجی خُدا کے نزدِیک عُمدہ اور پسندِیدہ ہے۔ 4 وہ چاہتا ہے کہ سب آدمی نجات پائیں اور سچّائی کی پہچان تک پُہنچیں۔ 5 کیونکہ خُدا ایک ہے اور خُدا اور اِنسان کے بِیچ میں درمِیانی بھی ایک یعنی مسِیح یِسُوعؔ جو اِنسان ہے۔ 6 جِس نے اپنے آپ کو سب کے فِدیہ میں دِیا کہ مُناسِب وقتوں پر اِس کی گواہی دی جائے۔ 7 مَیں سچ کہتا ہُوں۔ جُھوٹ نہیں بولتا کہ مَیں اِسی غرض سے مُنادی کرنے والا اور رسُول اور غَیر قَوموں کو اِیمان اور سچّائی کی باتیں سِکھانے والا مُقرّر ہُؤا۔
8 پس مَیں چاہتا ہُوں کہ مَرد ہر جگہ بغَیر غُصّہ اور تکرار کے پاک ہاتھوں کو اُٹھا کر دُعا کِیا کریں۔ 9 اِسی طرح عَورتیں حیادار لِباس سے شرم اور پرہیزگاری کے ساتھ اپنے آپ کو سنواریں نہ کہ بال گُوندھنے اور سونے اور موتِیوں اور قِیمتی پَوشاک سے۔ 10 بلکہ نیک کاموں سے جَیسا خُدا پرستی کا اِقرار کرنے والی عَورتوں کو مُناسِب ہے۔ 11 عَورت کو چُپ چاپ کمال تابِع داری سے سِیکھنا چاہیے۔ 12 اور مَیں اِجازت نہیں دیتا کہ عَورت سِکھائے یا مَرد پر حُکم چلائے بلکہ چُپ چاپ رہے۔ 13 کیونکہ پہلے آدمؔ بنایا گیا۔ اُس کے بعد حوّاؔ۔ 14 اور آدمؔ نے فرِیب نہیں کھایا بلکہ عَورت فرِیب کھا کر گُناہ میں پڑ گئی۔ 15 لیکن اَولاد ہونے سے نجات پائے گی بشرطیکہ وہ اِیمان اور مُحبّت اور پاکِیزگی میں پرہیزگاری کے ساتھ قائِم رہیں۔
کلِیسیا کے قائدین
1 یہ بات سچ ہے کہ جو شخص نِگہبان کا عُہدہ چاہتا ہے وہ اچّھے کام کی خواہِش کرتا ہے۔ 2 پس نِگہبان کو بے اِلزام۔ ایک بِیوی کا شَوہر۔ پرہیزگار۔ مُتّقی۔ شایستہ۔ مُسافِر پرور اور تعلِیم دینے کے لائِق ہونا چاہیے۔ 3 نشہ میں غُل مچانے والا یا مار پِیٹ کرنے والا نہ ہو بلکہ حلِیم ہو۔ نہ تکراری نہ زَر دوست۔ 4 اپنے گھر کا بخُوبی بندوبست کرتا ہو اور اپنے بچّوں کو کمال سنجِیدگی سے تابِع رکھتا ہو۔ 5 (جب کوئی اپنے گھر ہی کا بندوبست کرنا نہیں جانتا تو خُدا کی کلِیسیا کی خبرگِیری کیونکر کرے گا؟)۔ 6 نَومُرِید نہ ہو تاکہ تکبُّر کر کے کہِیں اِبلِیس کی سی سزا نہ پائے۔ 7 اور باہر والوں کے نزدِیک بھی نیک نام ہونا چاہیے تاکہ ملامت میں اور اِبلِیس کے پھندے میں نہ پھنسے۔
کلِیسیا میں معاونین
8 اِسی طرح خادِموں کو بھی سنجِیدہ ہونا چاہیے دو زُبان اور شرابی اور ناجائِز نفع کے لالچی نہ ہوں۔ 9 اور اِیمان کے بھید کو پاک دِل میں حِفاظت سے رکھّیں۔ 10 اور یہ بھی پہلے آزمائے جائیں۔ اِس کے بعد اگر بے اِلزام ٹھہریں تو خِدمت کا کام کریں۔ 11 اِسی طرح عَورتوں کو بھی سنجِیدہ ہونا چاہئے۔ تُہمت لگانے والی نہ ہوں بلکہ پرہیزگار اور سب باتوں میں اِیمان دار ہوں۔ 12 خادِم ایک ایک بِیوی کے شَوہر ہوں اور اپنے اپنے بچّوں اور گھروں کا بخُوبی بندوبست کرتے ہوں۔ 13 کیونکہ جو خِدمت کا کام بخُوبی انجام دیتے ہیں وہ اپنے لِئے اچھّا مرتبہ اور اُس اِیمان میں جو مسِیح یِسُوع پر ہے بڑی دِلیری حاصِل کرتے ہیں۔
بڑا بھید
14 مَیں تیرے پاس جلد آنے کی اُمّید کرنے پر بھی یہ باتیں تُجھے اِس لِئے لِکھتا ہُوں 15 کہ اگر مُجھے آنے میں دیر ہو تو تُجھے معلُوم ہو جائے کہ خُدا کے گھر یعنی زِندہ خُدا کی کلِیسیا میں جو حَق کا سُتُون اور بُنیاد ہے کیوں کر برتاؤ کرنا چاہئے۔ 16 اِس میں کلام نہیں کہ دِین داری کا بھید بڑا ہے یعنی
وہ جو جِسم میں ظاہِر ہُؤا
اور رُوح میں راست باز ٹھہرا
اور فرِشتوں کو دِکھائی دِیا
اور غَیر قَوموں میں اُس کی مُنادی ہُوئی
اور دُنیا میں اُس پر اِیمان لائے
اور جلال میں اُوپر اُٹھایا گیا۔
جُھوٹے اُستاد
1 لیکن رُوح صاف فرماتا ہے کہ آیندہ زمانوں میں بعض لوگ گُمراہ کرنے والی رُوحوں اور شَیاطِین کی تعلِیم کی طرف مُتوجِّہ ہو کر اِیمان سے بَرگشتہ ہو جائیں گے۔ 2 یہ اُن جُھوٹے آدمِیوں کی رِیاکاری کے باعِث ہو گا جِن کا دِل گویا گرم لوہے سے داغا گیا ہے۔ 3 یہ لوگ بیاہ کرنے سے منع کریں گے اور اُن کھانوں سے پرہیز کرنے کا حُکم دیں گے جِنہیں خُدا نے اِس لِئے پَیدا کِیا ہے کہ اِیمان دار اور حق کے پہچاننے والے اُنہیں شُکرگُذاری کے ساتھ کھائیں۔ 4 کیونکہ خُدا کی پَیدا کی ہُوئی ہر چِیز اچھّی ہے اور کوئی چِیز اِنکار کے لائِق نہیں بشرطیکہ شُکرگُذاری کے ساتھ کھائی جائے۔ 5 اِس لِئے کہ خُدا کے کلام اور دُعا سے پاک ہو جاتی ہے۔
مسِیح یِسُوع کا اچھّا خادِم
6 اگر تُو بھائِیوں کو یہ باتیں یاد دِلائے گا تو مسِیح یِسُوع کا اچھّا خادِم ٹھہرے گا اور اِیمان اور اُس اچھّی تعلِیم کی باتوں سے جِس کی تُو پَیروی کرتا آیا ہے پروَرِش پاتا رہے گا۔ 7 لیکن بیہُودہ اور بُوڑِھیوں کی سی کہانِیوں سے کنارہ کر اور دِین داری کے لِئے رِیاضت کر۔ 8 کیونکہ جِسمانی رِیاضت کا فائِدہ کم ہے لیکن دِین داری سب باتوں کے لِئے فائِدہ مند ہے اِس لِئے کہ اب کی اور آیندہ کی زِندگی کا وعدہ بھی اِسی کے لِئے ہے۔ 9 یہ بات سچ ہے اور ہر طرح سے قبُول کرنے کے لائِق۔ 10 کیونکہ ہم مِحنت اور جانفشانی اِسی لِئے کرتے ہیں کہ ہماری اُمّید اُس زِندہ خُدا پر لگی ہُوئی ہے جو سب آدمِیوں کا خاص کر اِیمان داروں کا مُنّجی ہے۔
11 اِن باتوں کا حُکم کر اور تعلِیم دے۔ 12 کوئی تیری جوانی کی حقارت نہ کرنے پائے بلکہ تُو اِیمان داروں کے لِئے کلام کرنے اور چال چلن اور مُحبّت اور اِیمان اور پاکِیزگی میں نمُونہ بن۔ 13 جب تک مَیں نہ آؤُں پڑھنے اور نصِیحت کرنے اور تعلِیم دینے کی طرف مُتوجِّہ رہ۔ 14 اُس نِعمت سے غافِل نہ رہ جو تُجھے حاصِل ہے اور نبُوّت کے ذرِیعہ سے بزُرگوں کے ہاتھ رکھتے وقت تُجھے مِلی تھی۔ 15 اِن باتوں کی فِکر رکھ۔ اِن ہی میں مشغُول رہ تاکہ تیری ترقّی سب پر ظاہِر ہو۔ 16 اپنی اور اپنی تعلِیم کی خبرداری کر۔ اِن باتوں پر قائِم رہ کیونکہ اَیسا کرنے سے تُو اپنی اور اپنے سُننے والوں کی بھی نجات کا باعِث ہو گا۔
اِیمان داروں کی ذمہ داریاں
1 کِسی بڑے عُمر رسِیدہ کو ملامت نہ کر بلکہ باپ جان کر نصِیحت کر۔ 2 اور جوانوں کو بھائی جان کر اور بڑی عُمر والی عَورتوں کو ماں جان کر اور جوان عَورتوں کو کمال پاکِیزگی سے بہن جان کر۔
3 اُن بیواؤں کی جو واقِعی بیوہ ہیں عِزّت کر۔ 4 اور اگر کِسی بیوہ کے بیٹے یا پوتے ہوں تو وہ پہلے اپنے ہی گھرانے کے ساتھ دِین داری کا برتاؤ کرنا اور ماں باپ کا حق ادا کرنا سِیکھیں کیونکہ یہ خُدا کے نزدِیک پسندِیدہ ہے۔ 5 جو واقِعی بیوہ ہے اور اُس کا کوئی نہیں وہ خُدا پر اُمّید رکھتی ہے اور رات دِن مُناجات اور دُعاؤں میں مشغُول رہتی ہے۔ 6 مگر جو عَیش و عِشرت میں پڑ گئی ہے وہ جِیتے جی مَر گئی ہے۔ 7 اِن باتوں کا بھی حُکم کر تاکہ وہ بے اِلزام رہیں۔ 8 اگر کوئی اَپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگِیری نہ کرے تو اِیمان کا مُنکر اور بے اِیمان سے بدتر ہے۔
9 وُہی بیوہ فَرد میں لِکھی جائے جو ساٹھ برس سے کم کی نہ ہو اور ایک شَوہر کی بِیوی ہُوئی ہو۔ 10 اور نیک کاموں میں مشہُور ہو۔ بچّوں کی تربِیّت کی ہو۔ پردیسِیوں کے ساتھ مِہمان نوازی کی ہو۔ مُقدّسوں کے پاؤں دھوئے ہوں۔ مُصِیبت زدوں کی مدد کی ہو اور ہر نیک کام کرنے کے دَرپے رہی ہو۔
11 مگر جوان بیواؤں کے نام دَرج نہ کر کیونکہ جب وہ مسِیح کے خِلاف نَفس کے تابِع ہو جاتی ہیں تو بیاہ کرنا چاہتی ہیں۔ 12 اور سزا کے لائِق ٹھہرتی ہیں اِس لِئے کہ اُنہوں نے اپنے پہلے اِیمان کو چھوڑ دِیا۔ 13 اور اِس کے ساتھ ہی وہ گھر گھر پِھر کر بیکار رہنا سِیکھتی ہیں اور صِرف بیکار ہی نہیں رہتِیں بلکہ بَک بَک کرتی رہتی اور اَوروں کے کام میں دَخل بھی دیتی ہیں اور ناشایستہ باتیں کہتی ہیں۔ 14 پس مَیں یہ چاہتا ہُوں کہ جوان بیوائیں بیاہ کریں۔ اُن کے اَولاد ہو۔ گھر کا اِنتِظام کریں اور کِسی مُخالِف کو بَدگوئی کا مَوقع نہ دیں۔ 15 کیونکہ بعض گُمراہ ہو کر شَیطان کی پَیرو ہو چُکی ہیں۔ 16 اگر کِسی اِیمان دار عَورت کے ہاں بیوائیں ہوں تو وُہی اُن کی مدد کرے اور کلِیسیا پر بوجھ نہ ڈالا جائے تاکہ وہ اُن کی مدد کر سکے جو واقِعی بیوہ ہیں۔
17 جو بزُرگ اچھّا اِنتِظام کرتے ہیں۔ خاص کر وہ جو کلام سُنانے اور تعلِیم دینے میں مِحنت کرتے ہیں دو چند عِزّت کے لائِق سمجھے جائیں۔ 18 کیونکہ کِتابِ مُقدّس یہ کہتی ہے کہ دائیں میں چلتے ہُوئے بَیل کا مُنہ نہ باندھنا اور مزدُور اپنی مزدُوری کا حق دار ہے۔ 19 جو دعویٰ کِسی بزُرگ کے برخِلاف کِیا جائے بغَیر دو یا تِین گواہوں کے اُس کو نہ سُن۔ 20 گُناہ کرنے والوں کو سب کے سامنے ملامت کر تاکہ اَوروں کو بھی خَوف ہو۔
21 خُدا اور مسِیح یِسُوع اور برگُزِیدہ فرِشتوں کو گواہ کر کے مَیں تُجھے تاکِید کرتا ہُوں کہ اِن باتوں پر بِلاتعصُّب عمل کرنا اور کوئی کام طرف داری سے نہ کرنا۔ 22 کِسی شخص پر جلد ہاتھ نہ رکھنا اور دُوسروں کے گُناہوں میں شرِیک نہ ہونا۔ اپنے آپ کو پاک رکھنا۔
23 آیندہ کو صِرف پانی ہی نہ پِیا کر بلکہ اپنے مِعدہ اور اکثر کمزور رہنے کی وجہ سے ذرا سی مَے بھی کام میں لایا کر۔
24 بعض آدمِیوں کے گُناہ ظاہِر ہوتے ہیں اور پہلے ہی عدالت میں پُہنچ جاتے ہیں اور بعض کے پِیچھے جاتے ہیں۔ 25 اِسی طرح بعض اچھّے کام بھی ظاہِر ہوتے ہیں اور جو اَیسے نہیں ہوتے وہ بھی چِھپ نہیں سکتے۔
1 جِتنے نَوکر جُوئے کے نِیچے ہیں اپنے مالِکوں کو کمال عِزّت کے لائِق جانیں تاکہ خُدا کا نام اور تعلِیم بدنام نہ ہو۔ 2 اور جِن کے مالِک اِیمان دار ہیں وہ اُن کو بھائی ہونے کی وجہ سے حقِیر نہ جانیں بلکہ اِس لِئے زیادہ تر اُن کی خِدمت کریں کہ فائِدہ اُٹھانے والے اِیمان دار اور عزِیز ہیں۔
جُھوٹی تعلِیم اور حقیِقی دَولت
تُو اِن باتوں کی تعلِیم دے اور نصِیحت کر۔ 3 اگر کوئی شخص اَور طرح کی تعلِیم دیتا ہے اور صحِیح باتوں کو یعنی ہمارے خُداوند یِسُوع مسِیح کی باتوں اور اُس تعلِیم کو نہیں مانتا جو دِین داری کے مُطابِق ہے۔ 4 وہ مغرُور ہے اور کُچھ نہیں جانتا بلکہ اُسے بحث اور لفظی تکرار کرنے کا مرض ہے۔ جِن سے حَسد اور جھگڑے اور بَدگوئِیاں اور بدگُمانِیاں۔ 5 اور اُن آدمِیوں میں ردّ و بدل پَیدا ہوتا ہے جِن کی عقل بِگڑ گئی ہے اور وہ حق سے محرُوم ہیں اور دِین داری کو نفع ہی کا ذرِیعہ سمجھتے ہیں۔
6 ہاں دِین داری قناعِت کے ساتھ بڑے نفع کا ذرِیعہ ہے۔ 7 کیونکہ نہ ہم دُنیا میں کُچھ لائے اور نہ کُچھ اُس میں سے لے جا سکتے ہیں۔ 8 پس اگر ہمارے پاس کھانے پہننے کو ہے تو اُسی پر قناعِت کریں۔ 9 لیکن جو دَولت مَند ہونا چاہتے ہیں وہ اَیسی آزمایش اور پَھندے اور بُہت سی بے ہُودہ اور نُقصان پُہنچانے والی خواہِشوں میں پھنستے ہیں جو آدمِیوں کو تباہی اور ہلاکت کے دریا میں غَرق کر دیتی ہیں۔ 10 کیونکہ زَر کی دوستی ہر قِسم کی بُرائی کی جڑ ہے جِس کی آرزُو میں بعض نے اِیمان سے گُمراہ ہو کر اپنے دِلوں کو طرح طرح کے غَموں سے چَھلنی کر لِیا۔
شخصی نصِیحتیں
11 مگر اَے مردِ خُدا! تُو اِن باتوں سے بھاگ اور راست بازی۔ دِین داری۔ اِیمان۔ مُحبّت۔ صبر اور حِلم کا طالِب ہو۔ 12 اِیمان کی اَچھّی کُشتی لڑ۔ اُس ہمیشہ کی زِندگی پر قبضہ کر لے جِس کے لِئے تُو بُلایا گیا تھا اور بُہت سے گواہوں کے سامنے اچھّا اِقرار کِیا تھا۔ 13 مَیں اُس خُدا کو جو سب چِیزوں کو زِندہ کرتا ہے اور مسِیح یِسُوع کو جِس نے پُنطیُس پِیلاطُسؔ کے سامنے اچھّا اِقرار کِیا تھا گواہ کر کے تُجھے تاکِید کرتا ہُوں۔ 14 کہ ہمارے خُداوند یِسُوع مسِیح کے اُس ظہُور تک حُکم کو بے داغ اور بے اِلزام رکھ۔ 15 جِسے وہ مُناسِب وقت پر نُمایاں کرے گا جو مُبارک اور واحِد حاکِم۔ بادشاہوں کا بادشاہ اور خُداوندوں کا خُداوند ہے۔ 16 بقا صِرف اُسی کو ہے اور وہ اُس نُور میں رہتا ہے جِس تک کِسی کی رسائی نہیں ہو سکتی نہ اُسے کِسی اِنسان نے دیکھا اور نہ دیکھ سکتا ہے۔ اُس کی عِزّت اور سلطنت ابد تک رہے۔ آمِین۔
17 اِس مَوجُودہ جہان کے دَولت مَندوں کو حُکم دے کہ مغرُور نہ ہوں اور ناپائیدار دَولت پر نہیں بلکہ خُدا پر اُمّید رکھّیں جو ہمیں لُطف اُٹھانے کے لِئے سب چِیزیں اِفراط سے دیتا ہے۔ 18 اور نیکی کریں اور اچھّے کاموں میں دَولت مند بنیں اور سخاوت پر تیّار اور اِمداد پر مُستعِد ہوں۔ 19 اور آیندہ کے لِئے اپنے واسطے ایک اچھّی بُنیاد قائِم کر رکھّیں تاکہ حقِیقی زِندگی پر قبضہ کریں۔
20 اَے تِیمُتِھیُس اِس امانت کو حِفاظت سے رکھ اور جِس عِلم کو عِلم کہنا ہی غلط ہے اُس کی بے ہُودہ بکواس اور مُخالِفت پر توجُّہ نہ کر۔ 21 بعض اُس کا اِقرار کر کے اِیمان سے بَرگشتہ ہو گئے ہیں۔
تُم پر فضل ہوتا رہے۔