امثال

کتابِ امثال بائبل کی حکمت کی کتابوں میں سے ایک ہے، جس میں زندگی کے مختلف پہلوؤں پر عملی حکمت اور اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب انسانوں کے لیے خدا کی حکمت اور دانشمندی کا خزانہ ہے، جس میں فرد کو اخلاقی اصولوں اور اچھے فیصلوں کی رہنمائی دی گئی ہے۔ امثال میں انسان کی ذہانت، سچائی، انصاف، اور محتاط زندگی گزارنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ایمان، اخلاقی بلندی، اور خدا کی رہنمائی کو اپنے دل و دماغ میں بسانے کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔

امثال کی اَہمیّت
1 اِسرائیلؔ کے بادشاہ سُلیماؔن بِن داؤُد کی امثال۔
2 حِکمت اور تربِیّت حاصِل کرنے اور فہم کی باتوں کا اِمتیاز کرنے کے لِئے۔ 3 عقل مندی اور صداقت اور عدل اور راستی میں تربِیّت حاصِل کرنے کے لِئے۔ 4 سادہ دِلوں کو ہوشیاری۔ جوان کو عِلم اور تمِیز بخشنے کے لِئے 5 تاکہ دانا آدمی سُن کر عِلم میں ترقّی کرے اور فہِیم آدمی درُست مشوَرت تک پُہنچے۔ 6 جِس سے مِثل اور تمثِیل کو۔ داناؤں کی باتوں اور اُن کے مُعمّوں کو سمجھ سکے۔
نوجوان کو نصِیحت
7 خُداوند کا خَوف عِلم کا شرُوع ہے لیکن احمق حِکمت اور تربِیّت کی حقارت کرتے ہیں۔
8 اَے میرے بیٹے! اپنے باپ کی تربِیّت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلِیم کو ترک نہ کر۔ 9 کیونکہ وہ تیرے سر کے لِئے زِینت کا سِہرا اور تیرے گلے کے لِئے طَوق ہوں گی۔
10 اَے میرے بیٹے! اگر گُنہگار تُجھے پُھسلائیں تُو رضامند نہ ہونا۔ 11 اگر وہ کہیں ہمارے ساتھ چل۔ ہم خُون کرنے کے لِئے تاک میں بَیٹھیں اور چِھپ کر بے گُناہ کے لِئے ناحق گھات لگائیں۔ 12 ہم اُن کو اِس طرح جِیتا اور سمُوچا نِگل جائیں جِس طرح پاتال مُردوں کو نِگل جاتا ہے۔ 13 ہم کو ہر قِسم کا نفِیس مال مِلے گا۔ ہم اپنے گھروں کو لُوٹ سے بھر لیں گے۔ 14 تُو ہمارے ساتھ مِل جا۔ ہم سب کی ایک ہی تَھیلی ہو گی۔
15 تو اَے میرے بیٹے! تُو اُن کے ہمراہ نہ جانا۔ اُن کی راہ سے اپنا پاؤں روکنا۔ 16 کیونکہ اُن کے پاؤں بدی کی طرف دَوڑتے ہیں اور خُون بہانے کے لِئے جلدی کرتے ہیں۔ 17 کیونکہ پرِندہ کی آنکھوں کے سامنے جال بِچھانا عبث ہے۔ 18 اور یہ لوگ تو اپنا ہی خُون کرنے کے لِئے تاک میں بَیٹھتے ہیں اور چِھپ کر اپنی ہی جان کی گھات لگاتے ہیں۔
19 نفع کے لالچی کی راہیں اَیسی ہی ہیں۔ اَیسا نفع اُس کی جان لے کر ہی چھوڑتا ہے۔
حِکمت پُکارتی ہے
20 حِکمت کُوچہ میں زور سے پُکارتی ہے۔ وہ راستوں میں اپنی آواز بُلند کرتی ہے۔ 21 وہ پُرہجُوم بازار میں چِلاّتی ہے۔ وہ پھاٹکوں کے مدخل پر اور شہر میں یہ کہتی ہے:-
22 اَے نادانو! تُم کب تک نادانی کو دوست رکھّو گے؟ اور ٹھٹّھاباز کب تک ٹھٹّھابازی سے خُوش رہیں گے اور احمق کب تک عِلم سے عداوت رکھّیں گے؟ 23 تُم میری ملامت کو سُن کر باز آؤ۔ دیکھو! مَیں اپنی رُوح تُم پر اُنڈیلُوں گی۔ مَیں تُم کو اپنی باتیں بتاؤُں گی۔ 24 چُونکہ مَیں نے بُلایا اور تُم نے اِنکار کِیا مَیں نے ہاتھ پَھیلایا اور کِسی نے خیال نہ کِیا۔ 25 بلکہ تُم نے میری تمام مشوَرت کو ناچِیز جانا اور میری ملامت کی بے قدری کی 26 اِس لِئے مَیں بھی تُمہاری مُصِیبت کے دِن ہنسُوں گی اور جب تُم پر دہشت چھا جائے گی تو ٹھٹّھا مارُوں گی۔ 27 یعنی جب دہشت طُوفان کی طرح آ پڑے گی۔ اور آفت بگُولے کی طرح تُم کو آ لے گی۔ جب مُصِیبت اور جان کنی تُم پر ٹُوٹ پڑے گی 28 تب وہ مُجھے پُکاریں گے لیکن مَیں جواب نہ دُوں گی۔ اور دِل و جان سے مُجھے ڈُھونڈیں گے پر نہ پائیں گے۔ 29 اِس لِئے کہ اُنہوں نے عِلم سے عداوت رکھّی اور خُداوند کے خَوف کو اِختیار نہ کِیا۔ 30 اُنہوں نے میری تمام مشوَرت کی بے قدری کی اور میری ملامت کو حقِیر جانا۔ 31 پس وہ اپنی ہی روِش کا پَھل کھائیں گے اور اپنے ہی منصُوبوں سے پیٹ بھریں گے۔ 32 کیونکہ نادانوں کی برگشتگی اُن کو قتل کرے گی اور احمقوں کی فارِغُ البالی اُن کی ہلاکت کا باعِث ہو گی۔ 33 لیکن جو میری سُنتا ہے وہ محفُوظ ہو گا اور آفت سے نِڈر ہو کر اِطمِینان سے رہے گا۔
حِکمت کے اِنعامات
1 اَے میرے بیٹے! اگر تُو میری باتوں کو قبُول کرے اور میرے فرمان کو نِگاہ میں رکھّے۔ 2 اَیسا کہ تُو حِکمت کی طرف کان لگائے اور فہم سے دِل لگائے 3 بلکہ اگر تُو عقل کو پُکارے اور فہم کے لِئے آواز بُلند کرے 4 اور اُس کو اَیسا ڈھُونڈے جَیسے چاندی کو اور اُس کی اَیسی تلاش کرے جَیسی پوشِیدہ خزانوں کی 5 تو تُو خُداوند کے خَوف کو سمجھے گا اور خُدا کی معرفت کو حاصِل کرے گا 6 کیونکہ خُداوند حِکمت بخشتا ہے۔ عِلم و فہم اُسی کے مُنہ سے نِکلتے ہیں۔ 7 وہ راست بازوں کے لِئے مدد تیّار رکھتا ہے اور راست رَو کے لِئے سِپر ہے۔ 8 تاکہ وہ عدل کی راہوں کی نِگہبانی کرے اور اپنے مُقدّسوں کی راہ کو محفُوظ رکھّے۔
9 تب تُو صداقت اور عدل اور راستی کو بلکہ ہر ایک اچھّی راہ کو سمجھے گا۔ 10 کیونکہ حِکمت تیرے دِل میں داخِل ہو گی اور عِلم تیری جان کو مرغُوب ہو گا۔ 11 تِمیز تیری نِگہبان ہو گی۔ فہم تیری حِفاظت کرے گا 12 تاکہ تُجھے شرِیر کی راہ سے اور کج گو سے بچائیں۔ 13 جو راست بازی کی راہ کو ترک کرتے ہیں تاکہ تارِیکی کی راہوں میں چلیں۔ 14 جو بدکاری سے خُوش ہوتے ہیں اور شرارت کی کج روی میں خُوش رہتے ہیں۔ 15 جِن کی روِشیں ناہموار اور جِن کی راہیں ٹیڑھی ہیں۔
16 تاکہ تُجھے بیگانہ عَورت سے بچائیں یعنی چِکنی چُپڑی باتیں کرنے والی پرائی عَورت سے 17 جو اپنی جوانی کے ساتھی کو چھوڑ دیتی اور اپنے خُدا کے عہد کو بُھول جاتی ہے۔ 18 کیونکہ اُس کا گھر مَوت کی اُترائی پر ہے اور اُس کی راہیں پاتال کو جاتی ہیں۔ 19 جو کوئی اُس کے پاس جاتا ہے واپس نہیں آتا اور زِندگی کی راہوں تک نہیں پُہنچتا۔ 20 تاکہ تُو نیکوں کی راہ پر چلے اور صادِقوں کی راہوں پر قائِم رہے۔ 21 کیونکہ راست باز مُلک میں بسیں گے اور کامِل اُس میں آباد رہیں گے۔ 22 لیکن شرِیر زمِین پر سے کاٹ ڈالے جائیں گے اور دغاباز اُس سے اُکھاڑ پھینکے جائیں گے۔
نَوجوانوں کی نصِیحت
1 اَے میرے بیٹے! میری تعلِیم کو فراموش نہ کر۔ بلکہ تیرا دِل میرے حُکموں کو مانے۔ 2 کیونکہ تُو اِن سے عُمر کی درازی اور پِیری اور سلامتی حاصِل کرے گا۔ 3 شفقت اور سچّائی تُجھ سے جُدا نہ ہوں۔ تُو اُن کو اپنے گلے کا طَوق بنانا اور اپنے دِل کی تختی پر لِکھ لینا۔ 4 یُوں تُو خُدا اور اِنسان کی نظر میں مقبُولِیتّ اور عقل مندی حاصِل کرے گا۔
5 سارے دِل سے خُداوند پر توکُّل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ 6 اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان اور وہ تیری راہنُمائی کرے گا۔ 7 تُو اپنی ہی نِگاہ میں دانِش مند نہ بن۔ خُداوند سے ڈر اور بدی سے کنارہ کر۔ 8 یہ تیری ناف کی صِحت اور تیری ہڈِّیوں کی تازگی ہو گی۔ 9 اپنے مال سے اور اپنی ساری پَیداوار کے پہلے پَھلوں سے خُداوند کی تعظِیم کر۔ 10 یُوں تیرے کھّتے خُوب بھرے رہیں گے اور تیرے حَوض نئی مَے سے لبریز ہوں گے۔
11 اَے میرے بیٹے! خُداوند کی تنبِیہ کو حِقیر نہ جان اور اُس کی ملامت سے بیزار نہ ہو۔ 12 کیونکہ خُداوند اُسی کو ملامت کرتا ہے جِس سے اُسے مُحبّت ہے۔ جَیسے باپ اُس بیٹے کو جِس سے وہ خُوش ہے۔ 13 مُبارک ہے وہ آدمی جو حِکمت کو پاتا ہے اور وہ جو فہم حاصِل کرتا ہے 14 کیونکہ اِس کا حصُول چاندی کے حصُول سے اور اِس کا نفع کُندن سے بِہتر ہے۔ 15 وہ مرجان سے زِیادہ بیش بہا ہے اور تیری مرغُوب چِیزوں میں بے نظِیر۔ 16 اُس کے دہنے ہاتھ میں عُمر کی درازی ہے اور اُس کے بائیں ہاتھ میں دَولت وعِزت۔ 17 اُس کی راہیں خُوش گوار راہیں ہیں اور اُس کے سب راستے سلامتی کے ہیں۔ 18 جو اُسے پکڑے رہتے ہیں وہ اُن کے لِئے حیات کا درخت ہے اور ہر ایک جو اُسے لِئے رہتا ہے مُبارک ہے۔
19 خُداوند نے حِکمت سے
زمِین کی بُنیاد ڈالی
اور فہم سے آسمان کو قائِم کِیا۔
20 اُسی کے عِلم سے گہراؤ کے سوتے پھُوٹ نِکلے
اور افلاک شبنم ٹپکاتے ہیں۔
21 اَے میرے بیٹے! دانائی اور تمِیز کی حِفاظت کر۔ اُن کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دے۔ 22 یُوں وہ تیری جان کی حیات اور تیرے گلے کی زِینت ہوں گی۔ 23 تب تُو بے کھٹکے اپنے راستہ پر چلے گا اور تیرے پاؤں کو ٹھیس نہ لگے گی۔ 24 جب تُو لیٹے گا تو خَوف نہ کھائے گا۔ بلکہ تُو لیٹ جائے گا اور تیری نِیند مِیٹھی ہو گی۔ 25 ناگہانی دہشت سے خَوف نہ کھانا اور نہ شرِیروں کی ہلاکت سے جب وہ آئے۔ 26 کیونکہ خُداوند تیرا سہارا ہو گا اور تیرے پاؤں کو پھنس جانے سے محفُوظ رکھّے گا۔
27 بھلائی کے حق دار سے اُسے دریغ نہ کرنا جب تیرے مقدُور میں ہو۔ 28 جب تیرے پاس دینے کو کُچھ ہو تُو اپنے ہمسایہ سے یہ نہ کہنا اب جا۔ پِھر آنا۔ مَیں تُجھے کل دُوں گا۔ 29 اپنے ہمسایہ کے خِلاف بُرائی کا منصُوبہ نہ باندھنا۔ جِس حال کہ وہ تیرے پڑوس میں بے کھٹکے رہتا ہے۔ 30 اگر کِسی نے تُجھے نُقصان نہ پُہنچایا ہو تُو اُس سے بے سبب جھگڑا نہ کرنا۔ 31 تُند خُو آدمی پر حسد نہ کرنا اور اُس کی کِسی روِش کو اِختیار نہ کرنا۔ 32 کیونکہ کج رَو سے خُداوند کو نفرت ہے لیکن راست باز اُس کے محرمِ راز ہیں۔ 33 شرِیروں کے گھر پر خُداوند کی لَعنت ہے لیکن صادِقوں کے مسکن پر اُس کی برکت ہے۔ 34 یقیناً وہ ٹھٹّھابازوں پر ٹھٹھّے مارتا ہے لیکن فروتنوں پر فضل کرتا ہے۔ 35 دانا جلال کے وارِث ہوں گے لیکن احمقوں کی ترقّی شرمِندگی ہو گی۔
حِکمت کے فائدے
1 اَے میرے بیٹو! باپ کی تربِیّت پر کان لگاؤ اور فہم حاصِل کرنے کے لِئے توجُّہ کرو۔ 2 کیونکہ مَیں تُم کو اچھّی تلقِین کرتا ہُوں۔ تُم میری تعلِیم کو ترک نہ کرنا۔ 3 کیونکہ مَیں بھی اپنے باپ کا بیٹا تھا اور اپنی ماں کی نِگاہ میں نازُک اور اکیلا لاڈلا۔ 4 باپ نے مُجھے سِکھایا اور مُجھ سے کہا میری باتیں تیرے دِل میں رہیں۔ میرے فرمان بجا لا اور زِندہ رہ۔ 5 حِکمت حاصِل کر۔ فہم حاصِل کر۔ بُھولنا مت اور میرے مُنہ کی باتوں سے برگشتہ نہ ہونا۔ 6 حِکمت کو ترک نہ کرنا۔ وہ تیری حِفاظت کرے گی۔ اُس سے مُحبّت رکھنا۔ وہ تیری نِگہبان ہو گی۔ 7 حِکمت افضل اصل ہے۔ پس حِکمت حاصِل کر بلکہ اپنے تمام حاصِلات سے فہم حاصِل کر۔ 8 اُس کی تعظِیم کر۔ وہ تُجھے سرفراز کرے گی۔ جب تُو اُسے گلے لگائے گا وہ تُجھے عِزّت بخشے گی۔ 9 وہ تیرے سر پر زِینت کا سِہرا باندھے گی اور تُجھ کو جمال کا تاج عطا کرے گی۔
10 اَے میرے بیٹے! سُن اور میری باتوں کو قبُول کر اور تیری زِندگی کے دِن بُہت سے ہوں گے۔ 11 مَیں نے تُجھے حِکمت کی راہ بتائی ہے اور راہِ راست پر تیری راہنُمائی کی ہے 12 جب تُو چلے گا تیرے قدم کوتاہ نہ ہوں گے اور اگر تُو دَوڑے تو ٹھوکر نہ کھائے گا۔ 13 تربِیّت کو مضبُوطی سے پکڑے رہ۔ اُسے جانے نہ دے۔ اُس کی حِفاظت کر کیونکہ وہ تیری حیات ہے۔ 14 شرِیروں کے راستہ میں نہ جانا اور بُرے آدمِیوں کی راہ میں نہ چلنا۔ 15 اُس سے بچنا۔ اُس کے پاس سے نہ گُذرنا۔ اُس سے مُڑ کر آگے بڑھ جانا۔ 16 کیونکہ وہ جب تک بُرائی نہ کر لیں سوتے نہیں۔ اور جب تک کِسی کو گِرا نہ دیں اُن کی نِیند جاتی رہتی ہے۔ 17 کیونکہ وہ شرارت کی روٹی کھاتے اور ظُلم کی مَے پِیتے ہیں۔
18 لیکن صادِقوں کی راہ نُورِ سحر کی مانِند ہے جِس کی روشنی دوپہر تک بڑھتی ہی جاتی ہے۔ 19 شرِیروں کی راہ تارِیکی کی مانِند ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ کِن چِیزوں سے اُن کو ٹھوکر لگتی ہے۔
20 اَے میرے بیٹے! میری باتوں پر توجُّہ کر۔ میرے کلام پر کان لگا۔ 21 اُس کو اپنی آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دے۔ اُس کو اپنے دِل میں رکھ۔ 22 کیونکہ جو اِس کو پا لیتے ہیں یہ اُن کی حیات اور اُن کے سارے جِسم کی صِحت ہے۔ 23 اپنے دِل کی خُوب حِفاظت کر کیونکہ زِندگی کا سرچشمہ وُہی ہے۔ 24 کج گو مُنہ تُجھ سے الگ رہے۔ دروغ گو لب تُجھ سے دُور ہوں۔ 25 تیری آنکھیں سامنے ہی نظر کریں اور تیری پلکیں سِیدھی رہیں۔ 26 اپنے پاؤں کے راستہ کو ہموار بنا اور تیری سب راہیں قائِم رہیں۔ 27 نہ دہنے مُڑ نہ بائیں اور پاؤں کو بدی سے ہٹا لے۔
زِناکاری کے خِلاف اِنتباہ
1 اَے میرے بیٹے! میری حِکمت پر توجُّہ کر۔ میرے فہم پر کان لگا۔ 2 تاکہ تُو تمِیز کو محفُوظ رکھّے اور تیرے لب عِلم کے نِگہبان ہوں۔ 3 کیونکہ بیگانہ عَورت کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے اور اُس کا مُنہ تیل سے زِیادہ چِکنا ہے 4 پر اُس کا انجام ناگدَونے کی مانِند تلخ اور دو دھاری تلوار کی مانِند تیز ہے۔ 5 اُس کے پاؤں مَوت کی طرف جاتے ہیں۔ اُس کے قدم پاتال تک پُہنچتے ہیں۔ 6 سو اُسے زِندگی کا ہموار راستہ نہیں مِلتا۔ اُس کی راہیں بے ٹھِکانا ہیں پر وہ بے خبر ہے۔
7 اِس لئے اَے میرے بیٹو! میری سُنو اور میرے مُنہ کی باتوں سے برگشتہ نہ ہو۔ 8 اُس عَورت سے اپنی راہ دُور رکھ اور اُس کے گھر کے دروازہ کے پاس بھی نہ جا۔ 9 اَیسا نہ ہو کہ تُو اپنی آبرُو کِسی غَیر کے اور اپنی عُمر بے رحم کے حوالہ کرے۔ 10 اَیسا نہ ہو کہ بیگانے تیری قُوّت سے سیر ہوں اور تیری کمائی کِسی غَیر کے گھر جائے۔ 11 اور جب تیرا گوشت اور تیرا جِسم گُھل جائیں تو تُو اپنے انجام پر نَوحہ کرے 12 اور کہے مَیں نے تربِیّت سے کَیسی عداوت رکھّی اور میرے دِل نے ملامت کو حقِیر جانا۔ 13 نہ مَیں نے اپنے اُستادوں کا کہا مانانہ اپنے تربِیّت کرنے والوں کی سُنی! 14 مَیں جماعت اور مجلِس کے درمِیان قریباً سب بُرائیوں میں مُبتلا ہُؤا۔
15 تُو پانی اپنے ہی حَوض سے اور بہتا پانی اپنے ہی چشمہ سے پِینا۔ 16 کیا تیرے چشمے باہر بہہ جائیں اور پانی کی ندیاں کُوچوں میں؟ 17 وہ فقط تیرے ہی لِئے ہوں۔ نہ تیرے ساتھ غَیروں کے لِئے بھی۔ 18 تیرا سوتا مُبارک ہو اور تُو اپنی جوانی کی بِیوی کے ساتھ شاد رہ۔ 19 پیاری ہرنی اور دِل فریب غزال کی مانِند اُس کی چھاتِیاں تُجھے ہر وقت آسُودہ کریں اور اُس کی مُحبّت تُجھے ہمیشہ فریفتہ رکھّے۔ 20 اَے میرے بیٹے! تُجھے بیگانہ عَورت کیوں فریفتہ کرے اور تُو غَیر عَورت سے کیوں ہم آغوش ہو؟ 21 کیونکہ اِنسان کی راہیں خُداوند کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور وُہی اُس کے سب راستوں کو ہموار بناتا ہے۔ 22 شرِیر کو اُسی کی بدکاری پکڑے گی اور وہ اپنے ہی گُناہ کی رسِیّوں سے جکڑا جائے گا۔ 23 وہ تربِیّت نہ پانے کے سبب سے مَر جائے گا۔ اور اپنی سخت حماقت کے سبب سے گُمراہ ہو گا۔
دیگر باتوں کے خِلاف اِنتباہ
1 اَے میرے بیٹے! اگر تُو اپنے پڑوسی کا ضامِن ہُؤا ہے۔ اگر تُو ہاتھ پر ہاتھ مار کر کِسی بیگانہ کا ذِمّہ وار ہُؤا ہے 2 تو تُو اپنے ہی مُنہ کی باتوں میں پھنسا۔ تُو اپنے ہی مُنہ کی باتوں سے پکڑا گیا۔ 3 سو اَے میرے بیٹے! چُونکہ تُو اپنے پڑوسی کے ہاتھ میں پھنس گیا ہے۔ اب یہ کر اور اپنے آپ کو بچا لے۔ جا۔ خاکسار بن کر اپنے پڑوسی سے اِصرار کر۔ 4 تُو نہ اپنی آنکھوں میں نِیند آنے دے اور نہ اپنی پلکوں میں جھپکی۔ 5 اپنے آپ کو ہرنی کی مانِند صیّاد کے ہاتھ سے اور چِڑیا کی مانِند چڑیمار کے ہاتھ سے چُھڑا۔
6 اَے کاہِل! چیونٹی کے پاس جا۔ اُس کی روِشوں پر غَور کر اور دانِش مند بن۔ 7 جو باوُجُودیکہ اُس کا نہ کوئی سردار نہ ناظِر نہ حاکِم ہے۔ 8 گرمی کے مَوسم میں اپنی خُوراک مُہیّا کرتی ہے اور فصل کٹنے کے وقت اپنی خُورِش جمع کرتی ہے۔ 9 اَے کاہِل! تُو کب تک پڑا رہے گا؟ تُو نِیند سے کب اُٹھے گا؟ 10 تھوڑی سی نِیند۔ ایک اَور جھپکی۔ ذرا پڑے رہنے کو ہاتھ پر ہاتھ۔ 11 اِسی طرح تیری مُفلسی راہزن کی طرح اور تیری تنگ دستی مسلّح آدمی کی طرح آ پڑے گی۔
12 خبِیث و بدکار آدمی ٹیڑھی تِرچھی زُبان لِئے پِھرتا ہے۔ 13 وہ آنکھ مارتا ہے۔ وہ پاؤں سے باتیں اور اُنگلیوں سے اِشارہ کرتا ہے۔ 14 اُس کے دِل میں کجی ہے۔ وہ بُرائی کے منصُوبے باندھتا رہتا ہے وہ فِتنہ انگیز ہے۔ 15 اِس لئے آفت اُس پر ناگہاں آ پڑے گی۔ وہ یک لخت توڑ دِیا جائے گا اور کوئی چارہ نہ ہو گا۔
16 چھ چِیزیں ہیں جِن سے خُداوند کو نفرت ہے بلکہ سات ہیں جِن سے اُسے کراہِیت ہے۔
17 اُونچی آنکھیں۔
جُھوٹی زُبان۔
بے گُناہ کا خُون بہانے والے ہاتھ۔
18 برُے منصُوبے باندھنے والا دِل۔
شرارت کے لِئے تیز رَو پاؤں۔
19 جُھوٹا گواہ جو دروغ گوئی کرتا ہے
اور جو بھائیوں میں نِفاق ڈالتا ہے۔
زِناکاری کے خِلاف اِنتباہ
20 اَے میرے بیٹے! اپنے باپ کے فرمان کو بجا لا اور اپنی ماں کی تعلِیم کو نہ چھوڑ۔ 21 اِن کو اپنے دِل پر باندھے رکھ اور اپنے گلے کا طَوق بنا لے۔ 22 یہ چلتے وقت تیری رہبری اور سوتے وقت تیری نِگہبانی اور جاگتے وقت تُجھ سے باتیں کرے گی۔ 23 کیونکہ فرمان چراغ ہے اور تعلِیم نُور اور تربِیّت کی ملامت حیات کی راہ ہے۔ 24 تاکہ تُجھ کو برُی عَورت سے بچائے یعنی بیگانہ عَورت کی زُبان کی چاپلُوسی سے۔ 25 تُو اپنے دِل میں اُس کے حُسن پر عاشِق نہ ہو اور وہ تُجھ کو اپنی پلکوں سے شِکار نہ کرے۔ 26 کیونکہ چھنال کے سبب سے آدمی ٹُکڑے کا مُحتاج ہو جاتا ہے۔ اور زانِیہ قیمتی جان کا شِکار کرتی ہے۔
27 کیا ممُکِن ہے کہ آدمی اپنے سِینہ میں آگ رکھّے اور اُس کے کپڑے نہ جلیں؟ 28 یا کوئی انگاروں پر چلے اور اُس کے پاؤں نہ جُھلسیں؟ 29 وہ بھی اَیسا ہے جو اپنے پڑوسی کی بِیوی کے پاس جاتا ہے۔ جو کوئی اُسے چُھوئے بے سزا نہ رہے گا۔ 30 چور اگر بُھوک کے مارے اپنا پیٹ بھرنے کو چوری کرے تو لوگ اُسے حقِیر نہیں جانتے۔ 31 پر اگر وہ پکڑا جائے تو سات گُناہ بھرے گا۔ اُسے اپنے گھر کا سارا مال دینا پڑے گا۔ 32 جو کِسی عَورت سے زِنا کرتا ہے وہ بے عقل ہے۔ وُہی اَیسا کرتا ہے جو اپنی جان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ 33 وہ زخم اور ذِلّت اُٹھائے گا اور اُس کی رُسوائی کبھی نہ مِٹے گی۔ 34 کیونکہ غَیرت سے آدمی غضب ناک ہوتا ہے اور وہ اِنتقام کے دِن نہیں چھوڑے گا۔ 35 وہ کوئی فدِیہ منظُور نہیں کرے گا اور گو تُو بُہت سے اِنعام بھی دے تَو بھی وہ راضی نہ ہو گا۔
1 اَے میرے بیٹے! میری باتوں کو مان اور میرے فرمان کو نِگاہ میں رکھ۔ 2 میرے فرمان کو بجا لا اور زِندہ رہ اور میری تعلِیم کو اپنی آنکھ کی پُتلی جان۔ 3 اُن کو اپنی اُنگلیوں پر باندھ لے۔ اُن کو اپنے دِل کی تختی پر لِکھ لے۔ 4 حِکمت سے کہہ تُو میری بِہن ہے اور فہم کو اپنا رِشتہ دار قرار دے۔ 5 تاکہ وہ تُجھ کو پرائی عَورت سے بچائیں یعنی بیگانہ عَورت سے جو چاپلُوسی کی باتیں کرتی ہے۔
بدکردار عَورت
6 کیونکہ مَیں نے اپنے گھر کی کھِڑکی سے یعنی جھروکے میں سے باہر نِگاہ کی 7 اور مَیں نے ایک بے عقل جوان کو نادانوں کے درمِیان دیکھا۔ یعنی نَوجوانوں کے درمِیان وہ مُجھے نظر آیا 8 کہ اُس عَورت کے گھر کے پاس گلی کے موڑ سے جا رہا ہے اور اُس نے اُس کے گھر کا راستہ لِیا۔ 9 دِن چِھپے شام کے وقت۔ رات کے اندھیرے اور تارِیکی میں 10 اور دیکھو! وہاں اُس سے ایک عَورت آ مِلی جو دِل کی چالاک اور کسبی کا لِباس پہنے تھی۔ 11 وہ غَوغائی اور خُود سر ہے۔ اُس کے پاؤں اپنے گھر میں نہیں ٹِکتے۔ 12 ابھی وہ کُوچوں میں ہے۔ ابھی بازاروں میں اور ہر موڑ پر گھات میں بَیٹھتی ہے۔ 13 سو اُس نے اُس کو پکڑ کر چُوما اور بے حیا مُنہ سے اُسے کہنے لگی 14 سلامتی کی قُربانی کے ذبِیحے مُجھ پر فرض تھے۔ آج مَیں نے اپنی نذریں ادا کی ہیں۔ 15 اِسی لئے مَیں تیری مُلاقات کو نِکلی کہ کِسی طرح تیرا دِیدار حاصِل کرُوں۔ سو تُو مُجھے مِل گیا۔ 16 مَیں نے اپنے پلنگ پر کامدار غالِیچے اور مِصرؔ کے سُوت کے دھاری دار کپڑے بِچھائے ہیں۔ 17 مَیں نے اپنے بِستر کو مُر اور عُود اور دارچِینی سے مُعطّر کِیا ہے۔ 18 آ ہم صُبح تک دِل بھر کر عِشق بازی کریں اور مُحبّت کی باتوں سے دِل بہلائیں۔ 19 کیونکہ میرا شَوہر گھر میں نہیں۔ اُس نے دُور کا سفر کِیا ہے۔ 20 وہ اپنے ساتھ روپَے کی تَھیلی لے گیا ہے اور پُورے چاند کے وقت گھر آئے گا۔ 21 اُس نے مِیٹھی مِیٹھی باتوں سے اُس کو پُھسلا لِیا اور اپنے لبوں کی چاپلُوسی سے اُس کو بہکا لِیا۔ 22 وہ فوراً اُس کے پِیچھے ہو لِیا۔ جَیسے بَیل ذبح ہونے کو جاتا ہے یا بیڑیوں میں احمق سزا پانے کو۔ 23 جَیسے پرِندہ جال کی طرف تیز جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ وہ اُس کی جان کے لِئے ہے۔ حتّیٰ کہ تِیر اُس کے جگر کے پار ہو جائے گا۔
24 سو اب اَے بیٹو! میری سُنو اور میرے مُنہ کی باتوں پر توجُّہ کرو۔ 25 تیرا دِل اُس کی راہوں کی طرف مائِل نہ ہو۔ تُو اُس کے راستوں میں گُمراہ نہ ہونا۔ 26 کیونکہ اُس نے بُہتوں کو زخمی کر کے گِرا دِیا ہے۔ بلکہ اُس کے مقتُول بے شُمار ہیں۔ 27 اُس کا گھر پاتال کا راستہ ہے اور مَوت کی کوٹھریوں کو جاتا ہے۔
حِکمت کی تعرِیف و تَوصیِف
1 کیا حِکمت پُکار نہیں رہی
اور فہم آواز بُلند نہیں کر رہا؟
2 وہ راہ کے کنارے کی اُونچی جگہوں کی چوٹِیوں پر
جہاں سڑکیں مِلتی ہیں کھڑی ہوتی ہے۔
3 پھاٹکوں کے پاس شہر کے مدخل پر
یعنی دروازوں کے مدخل پر وہ زور سے
پُکارتی ہے۔
4 اَے آدمِیو! مَیں تُم کو پُکارتی ہُوں
اور بنی آدمؔ کو آواز دیتی ہُوں۔
5 اَے سادہ دِلو! ہوشیاری سِیکھو
اور اَے احمقو! دانا دِل بنو۔
6 سُنو! کیونکہ مَیں لطِیف باتیں کہُوں گی
اور میرے لبوں سے راستی کی باتیں نِکلیں گی۔
7 اِس لِئے کہ میرا مُنہ سچّائی کو بیان کرے گا اور
میرے ہونٹوں کو شرارت سے نفرت ہے۔
8 میرے مُنہ کی سب باتیں صداقت کی ہیں۔
اُن میں کُچھ ٹیڑھا تِرچھا نہیں ہے۔
9 سمجھنے والے کے لِئے وہ سب صاف ہیں
اور عِلم حاصِل کرنے والوں کے لِئے
راست ہیں۔
10 چاندی کو نہیں بلکہ میری تربِیّت کو قبُول کرو
اور کُندن سے بڑھ کر عِلم کو۔
11 کیونکہ حِکمت مرجان سے افضل ہے
اور سب مرغُوب چِیزوں میں بے نظِیر۔
12 مُجھ حِکمت نے ہوشیاری کو اپنا مسکن بنایا ہے
اور عِلم اور تمِیز کو پا لیتی ہُوں۔
13 خُداوند کا خَوف بدی سے عداوت ہے۔
غرُور اور گھمنڈ اور بُری راہ
اور کج گو مُنہ سے مُجھے نفرت ہے۔
14 مشوَرت اور حِمایت میری ہیں۔
فہم مَیں ہی ہُوں۔ مُجھ میں قُدرت ہے۔
15 میری بدَولت بادشاہ سلطنت کرتے
اور اُمرا اِنصاف کا فتویٰ دیتے ہیں۔
16 میری ہی بدَولت حاکِم حُکُومت کرتے ہیں
اور سردار یعنی دُنیا کے سب قاضی بھی۔
17 جو مُجھ سے مُحبّت رکھتے ہیں مَیں اُن سے مُحبّت
رکھتی ہُوں
اور جو مُجھے دِل سے ڈُھونڈتے ہیں وہ مُجھے پا
لیں گے۔
18 دَولت و عِزّت میرے ساتھ ہیں۔
بلکہ دائمِی دَولت اور صداقت بھی۔
19 میرا پَھل سونے سے بلکہ کُندن سے بھی بِہتر ہے
اور میرا حاصِل خالِص چاندی سے۔
20 مَیں صداقت کی راہ پر
اِنصاف کے راستوں میں چلتی ہُوں۔
21 تاکہ مَیں اُن کو جو مُجھ سے مُحبّت رکھتے ہیں مال
کے وارِث بناؤُں
اور اُن کے خزانوں کو بھر دُوں۔
22 خُداوند نے اِنتظامِ عالَم کے شرُوع میں
اپنی قدِیمی صنعتوں سے پہلے مُجھے پَیدا کِیا۔
23 مَیں ازل سے یعنی اِبتدا ہی سے مُقرّر ہُوئی۔
اِس سے پہلے کہ زمِین تھی۔
24 مَیں اُس وقت پَیدا ہُوئی جب گہراؤ نہ تھے۔
جب پانی سے بھرے ہُوئے چشمے بھی نہ تھے۔
25 مَیں پہاڑوں کے قائِم کِئے جانے سے پہلے
اور ٹِیلوں سے پہلے خلق ہُوئی۔
26 جب کہ اُس نے ابھی نہ زمِین کو بنایا تھا نہ مَیدانوں کو
اور نہ زمِین کی خاک کی اِبتدا تھی۔
27 جب اُس نے آسمان کو قائِم کِیا مَیں وہِیں تھی۔
جب اُس نے سمُندر کی سطح پر دائِرہ کھینچا۔
28 جب اُس نے اُوپر افلاک کو اُستوار کِیا
اور گہراؤ کے سوتے مضبُوط ہو گئے۔
29 جب اُس نے سمُندر کی حد ٹھہرائی
تاکہ پانی اُس کے حُکم کو نہ توڑے۔
جب اُس نے زمِین کی بُنیاد کے نِشان لگائے
30 اُس وقت ماہِر کارِیگر کی مانِند مَیں اُس کے
پاس تھی
اور مَیں ہر روز اُس کی خُوشنُودی تھی
اور ہمیشہ اُس کے حضُور شادمان رہتی تھی۔
31 آبادی کے لائِق زمِین سے شادمان تھی
اور میری خُوشنُودی بنی آدمؔ کی صُحبت میں تھی۔
32 اِس لِئے اَے بیٹو! میری سنُو
کیونکہ مُبارک ہیں وہ جو میری راہوں پر
چلتے ہیں۔
33 تربِیّت کی بات سُنو اور دانا بنو
اور اِس کو ردّ نہ کرو۔
34 مُبارک ہے وہ آدمی جو میری سُنتا ہے
اور ہر روز میرے پھاٹکوں پر اِنتظار کرتا ہے
اور میرے دروازوں کی چَوکھٹوں پر ٹھہرا
رہتا ہے۔
35 کیونکہ جو مُجھ کو پاتا ہے زِندگی پاتا ہے
اور وہ خُداوند کا مقبُول ہو گا۔
36 لیکن جو مُجھ سے بھٹک جاتا ہے اپنی ہی جان کو
نُقصان پُہنچاتا ہے۔
مُجھ سے عداوت رکھنے والے سب مَوت سے
مُحبّت رکھتے ہیں۔
حِکمت اور حماقت کا موازنہ
1 حِکمت نے اپنا گھر بنا لِیا۔ اُس نے اپنے ساتوں سُتُون تراش لِئے ہیں۔ 2 اُس نے اپنے جانوروں کو ذبح کر لِیا اور اپنی مَے مِلا کر تیّار کر لی۔ اُس نے اپنا دسترخوان بھی چُن لِیا۔ 3 اُس نے اپنی سہیلیوں کو روانہ کِیا ہے۔ وہ خُود شہر کی اُونچی جگہوں پر پُکارتی ہے۔ 4 جو سادہ دِل ہے اِدھر آ جائے۔ اور بے عقل سے وہ یہ کہتی ہے 5 آؤ! میری روٹی میں سے کھاؤ اور میری مِلائی ہُوئی مَے میں سے پِیو۔ 6 اَے سادہ دِلو! باز آؤ اور زِندہ رہو اور فہم کی راہ پر چلو۔
7 ٹھٹھّاباز کو تنبِیہ کرنے والا لَعن طعن اُٹھائے گا اور شرِیر کو ملامت کرنے والے پر دھبّا لگے گا۔ 8 ٹھٹّھاباز کو ملامت نہ کر۔ نہ ہو کہ وہ تُجھ سے عداوت رکھنے لگے۔ دانا کو ملامت کر اور وہ تُجھ سے مُحبّت رکھّے گا۔ 9 دانا کو تربِیّت کر اور وہ اَور بھی دانا بن جائے گا۔ صادِق کو سِکھا اور وہ عِلم میں ترقّی کرے گا۔
10 خُداوند کا خَوف حِکمت کا شرُوع ہے اور اُس قُدُّوس کی پہچان فہم ہے۔ 11 کیونکہ میری بدَولت تیرے ایّام بڑھ جائیں گے اور تیری زِندگی کے سال زِیادہ ہوں گے۔ 12 اگر تُو دانا ہے تو اپنے لِئے اور اگر تُو ٹھٹّھاباز ہے تو خُود ہی بُھگتے گا۔
13 احمق عَورت غَوغائی ہے۔ وہ نادان ہے اور کُچھ نہیں جانتی۔ 14 وہ اپنے گھر کے دروازہ پر شہر کی اُونچی جگہوں میں بَیٹھ جاتی ہے 15 تاکہ آنے جانے والوں کو بُلائے جو اپنے اپنے راستہ پر سِیدھے جا رہے ہیں۔ 16 سادہ دِل اِدھر آ جائیں اور بے عقل سے وہ یہ کہتی ہے 17 چوری کا پانی مِیٹھا ہے اور پوشِیدگی کی روٹی لذِیذ 18 پر وہ نہیں جانتا کہ وہاں مُردے پڑے ہیں اور اُس عَورت کے مِہمان پاتال کی تہہ میں ہیں۔
سُلیماؔن کی امثال
1 سُلیمان کی امثال
دانا بیٹا باپ کو خُوش رکھتا ہے لیکن احمق بیٹا اپنی ماں کا غم ہے۔
2 شرارت کے خزانے عبث ہیں لیکن صداقت مَوت سے چُھڑاتی ہے۔
3 خُداوند صادِق کی جان کو فاقہ نہ کرنے دے گا پر شرِیروں کی ہوس کو دُور و دفع کرے گا۔
4 جو ڈِھیلے ہاتھ سے کام کرتا ہے کنگال ہو جاتا ہے لیکن مِحنتی کا ہاتھ دَولت مند بنا دیتا ہے۔
5 وہ جو گرمی میں جمع کرتا ہے دانا بیٹا ہے پر وہ بیٹا جو دِرَو کے وقت سوتا رہتا ہے شرم کا باعِث ہے۔
6 صادِق کے سر پر برکتیں ہوتی ہیں لیکن شرِیروں کے مُنہ کو ظُلم ڈھانکتا ہے۔
7 راست آدمی کی یادگار مُبارک ہے لیکن شرِیروں کا نام سڑ جائے گا۔
8 دانا دِل فرمان بجا لائے گا پر بکواسی احمق پچھاڑ کھائے گا۔
9 راست رَو بے کھٹکے چلتا ہے لیکن جو کج روی کرتا ہے ظاہِر ہو جائے گا۔
10 آنکھ مارنے والا رنج پُہنچاتا ہے اور بکواسی احمق پچھاڑ کھائے گا۔
11 صادِق کا مُنہ حیات کا چشمہ ہے لیکن شرِیروں کے مُنہ کو ظُلم ڈھانکتا ہے۔
12 عداوت جھگڑے پَیدا کرتی ہے لیکن مُحبّت سب خطاؤں کو ڈھانک دیتی ہے۔
13 عقل مند کے لبوں پر حِکمت ہے لیکن بے عقل کی پِیٹھ کے لِئے لٹھ ہے۔
14 دانا آدمی عِلم جمع کرتے ہیں لیکن احمق کا مُنہ قرِیبی ہلاکت ہے۔
15 دَولت مند کی دَولت اُس کا مُحکم شہر ہے۔ کنگال کی ہلاکت اُسی کی تنگ دستی ہے۔
16 صادِق کی محِنت زِندگانی کا باعِث ہے۔ شرِیر کی اِقبال مندی گُناہ کراتی ہے۔
17 تربِیّت پذِیر زِندگی کی راہ پر ہے لیکن ملامت کو ترک کرنے والا گُمراہ ہو جاتا ہے۔
18 عداوت کو چِھپانے والا دروغ گو ہے اور تُہمت لگانے والا احمق ہے۔
19 کلام کی کثرت خطا سے خالی نہیں لیکن ہونٹوں کو قابُو میں رکھنے والا دانا ہے۔
20 صادِق کی زُبان خالِص چاندی ہے۔ شرِیروں کے دِل بے قدر ہیں۔
21 صادِق کے ہونٹ بُہتوں کو غذا پُہنچاتے ہیں لیکن احمق بے عقلی سے مَرتے ہیں۔
22 خُداوند ہی کی برکت دَولت بخشتی ہے اور وہ اُس کے ساتھ دُکھ نہیں مِلاتا۔
23 احمق کے لِئے شرارت کھیل ہے پر حِکمت عقل مند کے لِئے ہے۔
24 شرِیر کا خَوف اُس پر آ پڑے گا اور صادِقوں کی مُراد پُوری ہو گی۔
25 جب بگُولا گُذرتا ہے تو شرِیر نیست ہو جاتا ہے لیکن صادِق ابدی بُنیاد ہے۔
26 جَیسا دانتوں کے لِئے سِرکہ اور آنکھوں کے لِئے دُھواں وَیسا ہی کاہِل اپنے بھیجنے والوں کے لِئے ہے۔
27 خُداوند کا خَوف عُمر کی درازی بخشتا ہے لیکن شرِیروں کی زِندگی کوتاہ کر دی جائے گی۔
28 صادِقوں کی اُمّید خُوشی لائے گی لیکن شرِیروں کی توقُّع خاک میں مِل جائے گی۔
29 خُداوند کی راہ راست بازوں کے لِئے پناہ گاہ لیکن بدکرداروں کے لِئے ہلاکت ہے۔
30 صادِقوں کو کبھی جُنبِش نہ ہو گی لیکن شرِیر زمِین پر قائِم نہیں رہیں گے
31 صادِق کے مُنہ سے حِکمت نِکلتی ہے لیکن کج گو زُبان کاٹ ڈالی جائے گی۔
32 صادِق کے ہونٹ پسندیدہ بات سے آشنا ہیں لیکن شرِیروں کے مُنہ کج گوئی سے۔
1 دغا کے ترازُو سے خُداوند کو نفرت ہے لیکن پُورا باٹ اُس کی خُوشی ہے۔
2 تکبُّر کے ہمراہ رُسوائی آتی ہے لیکن خاکساروں کے ساتھ حِکمت ہے۔
3 راست بازوں کی راستی اُن کی راہنُما ہو گی لیکن دغابازوں کی کج رَوی اُن کو برباد کرے گی۔
4 قہر کے دِن مال کام نہیں آتا لیکن صداقت مَوت سے رہائی دیتی ہے۔
5 کامِل کی صداقت اُس کی راہنُمائی کرے گی لیکن شرِیر اپنی ہی شرارت سے گِر پڑے گا۔
6 راست بازوں کی صداقت اُن کو رہائی دے گی لیکن دغاباز اپنی ہی بدنیّتی میں پھنس جائیں گے۔
7 مَرنے پر شرِیر کی توقُّع خاک میں مِل جاتی ہے اور ظالِموں کی اُمّید نیست ہو جاتی ہے۔
8 صادِق مُصِیبت سے رہائی پاتا ہے اور شرِیر اُس میں پڑ جاتا ہے۔
9 بے دِین اپنی باتوں سے اپنے پڑوسی کو ہلاک کرتا ہے لیکن صادِق عِلم کے ذرِیعہ سے رہائی پائے گا۔
10 صادِقوں کی خُوش حالی سے شہر خُوش ہوتا ہے اور شرِیروں کی ہلاکت پر خُوشی کی للکار ہوتی ہے۔
11 راست بازوں کی دُعا سے شہر سرفرازی پاتا ہے لیکن شرِیروں کی باتوں سے برباد ہوتا ہے۔
12 اپنے پڑوسی کی تحقِیر کرنے والا بے عقل ہے لیکن صاحبِ فہم خاموش رہتا ہے۔
13 جو کوئی لُتراپن کرتا پِھرتا ہے راز فاش کرتا ہے لیکن جِس میں وفا کی رُوح ہے وہ رازدار ہے۔
14 نیک صلاح کے بغَیر لوگ تباہ ہوتے ہیں لیکن صلاح کاروں کی کثرت میں سلامتی ہے۔
15 جو بیگانہ کا ضامِن ہوتا ہے سخت نُقصان اُٹھائے گا لیکن جِس کو ضمانت سے نفرت ہے وہ بے خطر ہے۔
16 نیک سِیرت عَورت عِزّت پاتی ہے
اور تُند خُو آدمی مال حاصِل کرتے ہیں۔
17 رحم دِل اپنی جان کے ساتھ نیکی کرتا ہے لیکن بے رحم اپنے جِسم کو دُکھ دیتا ہے۔
18 شرِیر کی کمائی باطِل ہے لیکن صداقت بونے والا حقِیقی اجر پاتا ہے۔
19 صداقت پر قائِم رہنے والا زِندگی حاصِل کرتا ہے اور بدی کا پَیرو اپنی مَوت کو پُہنچتا ہے۔
20 کج دِلوں سے خُداوند کو نفرت ہے لیکن کامِل رفتار اُس کی خُوشنُودی ہیں۔
21 یقِیناً شرِیر بے سزا نہ چُھوٹے گا لیکن صادِقوں کی نسل رہائی پائے گی۔
22 بے تِمیز عَورت میں خُوب صُورتی گویا سُؤر کی ناک میں سونے کی نَتھ ہے۔
23 صادِقوں کی تمنّا صِرف نیکی ہے لیکن شرِیروں کی اُمّید غضب ہے۔
24 کوئی تو بِتھراتا ہے پر تَو بھی ترقّی کرتا ہے اور کوئی واجِبی خرچ سے دریغ کرتا ہے پر تَو بھی کنگال ہے۔
25 فیّاض دِل موٹا ہو جائے گا اور سیراب کرنے والا خُود بھی سیراب ہو گا۔
26 جو غلّہ روک رکھتا ہے لوگ اُس پر لَعنت کریں گے لیکن جو اُسے بیچتا ہے اُس کے سر پر برکت ہو گی۔
27 جو دِل سے نیکی کی تلاش میں ہے مقبُولِیت کا طالِب ہے لیکن جو بدی کی تلاش میں ہے وہ اُسی کے آگے آئے گی۔
28 جو اپنے مال پر بھروسا کرتا ہے گِر پڑے گا لیکن صادِق ہرے پتّوں کی طرح سرسبز ہوں گے۔
29 جو اپنے گھرانے کو دُکھ دیتا ہے ہوا کا وارِث ہو گا
اور احمق دانا دِل کا خادِم بنے گا۔
30 صادِق کا پَھل حیات کا درخت ہے اور جو دانِش مند ہے دِلوں کو موہ لیتا ہے۔
31 دیکھ صادِق کو زمِین پر بدلہ دِیا جائے گا تو کِتنا زِیادہ شرِیر اور گُنہگار کو!
1 جو تربِیّت کو دوست رکھتا ہے وہ عِلم کو دوست رکھتا ہے لیکن جو تنبِیہ سے نفرت رکھتا ہے وہ حَیوان ہے۔
2 نیک آدمی خُداوند کا مقبُول ہو گا لیکن بُرے منصُوبے باندھنے والے کو وہ مُجرِم ٹھہرائے گا۔
3 آدمی شرارت سے پایدار نہیں ہو گا لیکن صادِقوں کی جڑ کو کبھی جُنبِش نہ ہو گی۔
4 نیک عَورت اپنے شَوہر کے لِئے تاج ہے لیکن ندامت لانے والی اُس کی ہڈّیوں میں بوسِیدگی کی مانِند ہے۔
5 صادِقوں کے خیالات درُست ہیں لیکن شرِیروں کی مشوَرت مکر ہے۔
6 شرِیروں کی باتیں یہی ہیں کہ خُون کرنے کے لِئے تاک میں بَیٹھیں لیکن صادِقوں کی باتیں اُن کو رہائی دیں گی۔
7 شرِیر پچھاڑ کھاتے اور نیست ہوتے ہیں لیکن صادِقوں کا گھر قائِم رہے گا۔
8 آدمی کی تعرِیف اُس کی عقل مندی کے مُطابِق کی جاتی ہے لیکن بے عقل حِقیر ہو گا۔
9 جو چھوٹا سمجھا جاتا ہے لیکن اُس کے پاس ایک نَوکر ہے اُس سے بِہتر ہے جو اپنے آپ کو بڑا جانتا اور روٹی کا مُحتاج ہے۔
10 صادِق اپنے چَوپائے کی جان کا خیال رکھتا ہے لیکن شرِیروں کی رحمت بھی عَین ظُلم ہے۔
11 جو اپنی زمِین میں کاشت کاری کرتا ہے روٹی سے سیر ہو گا لیکن بطالت کا پَیرو بے عقل ہے۔
12 شرِیر بدکرداروں کے دام کا مُشتاق ہے لیکن صادِقوں کی جڑ پھلتی ہے۔
13 لبوں کی خطاکاری میں شرِیر کے لِئے پھندا ہے لیکن صادِق مُصِیبت سے بچ نِکلے گا۔
14 آدمی کے کلام کا پَھل اُس کو نیکی سے آسُودہ کرے گا اور اُس کے ہاتھوں کے کِئے کی جزا اُس کو مِلے گی۔
15 احمق کی روِش اُس کی نظر میں درُست ہے لیکن دانا نصِیحت کو سُنتا ہے۔
16 احمق کا غضب فوراً ظاہِر ہو جاتا ہے لیکن ہوشیار ندامت کو چِھپاتا ہے۔
17 راست گو صداقت ظاہِر کرتا ہے لیکن جُھوٹا گواہ دغابازی۔
18 بے تامُّل بولنے والے کی باتیں تلوار کی طرح چھیدتی ہیں لیکن دانِش مند کی زُبان صِحت بخش ہے۔
19 سچّے ہونٹ ہمیشہ تک قائِم رہیں گے لیکن جُھوٹی زُبان صِرف دَم بھر کی ہے۔
20 بدی کے منصُوبے باندھنے والوں کے دِل میں دغا ہے لیکن صُلح کی مشوَرت دینے والوں کے لِئے خُوشی ہے
21 صادِق پر کوئی آفت نہیں آئے گی لیکن شرِیر بلا میں مُبتلا ہوں گے۔
22 جُھوٹے لبوں سے خُداوند کو نفرت ہے لیکن راست کار اُس کی خُوشنُودی ہیں۔
23 ہوشیار آدمی عِلم کو چِھپاتا ہے لیکن احمق کا دِل حماقت کی منادی کرتا ہے۔
24 مِحنتی آدمی کا ہاتھ حُکمران ہو گا۔ لیکن سُست آدمی باج گُذار بنے گا۔
25 آدمی کا دِل فِکرمندی سے دَب جاتا ہے لیکن اچھّی بات سے خُوش ہوتا ہے۔
26 صادِق اپنے ہمسایہ کی راہنُمائی کرتا ہے لیکن شرِیروں کی روِش اُن کو گمُراہ کر دیتی ہے۔
27 سُست آدمی شِکار پکڑ کر کباب نہیں کرتا لیکن اِنسان کی گِران بہا دَولت مِحنتی پاتا ہے۔
28 صداقت کی راہ میں زِندگی ہے اور اُس کے راستہ میں ہرگِز مَوت نہیں۔
1 دانِش مند بیٹا اپنے باپ کی تعلِیم کو سُنتا ہے لیکن ٹھٹّھاباز سرزنِش پر کان نہیں لگاتا۔
2 آدمی اپنے کلام کے پَھل سے اچھّا کھائے گا لیکن دغابازوں کی جان کے لِئے سِتم ہے۔
3 اپنے مُنہ کی نِگہبانی کرنے والا اپنی جان کی حِفاظت کرتا ہے لیکن جو اپنے ہونٹ پسارتا ہے ہلاک ہو گا۔
4 سُست آدمی آرزُو کرتا ہے پر کُچھ نہیں پاتا لیکن مِحنتی کی جان فربہ ہو گی۔
5 صادِق کو جُھوٹ سے نفرت ہے لیکن شرِیر نفرت انگیز و رُسوا ہوتا ہے۔
6 صداقت راست رَو کی حِفاظت کرتی ہے لیکن شرارت شرِیر کو گِرا دیتی ہے۔
7 کوئی اپنے آپ کو دَولت مند جتاتا ہے لیکن نادار ہے اور کوئی اپنے آپ کو کنگال بتاتا ہے پر بڑا مال دار ہے۔
8 آدمی کی جان کا کفّارہ اُس کا مال ہے پر کنگال دھمکی کو نہیں سُنتا۔
9 صادِقوں کا چراغ روشن رہے گا لیکن شرِیروں کا دِیا بُجھایا جائے گا۔
10 تکبُّر سے صِرف جھگڑا پَیدا ہوتا ہے لیکن مشوَرت پسند کے ساتھ حِکمت ہے۔
11 جو دَولت بطالت سے حاصِل کی جائے کم ہو جائے گی لیکن محِنت سے جمع کرنے والے کی دَولت بڑھتی رہے گی۔
12 اُمّید کے بر آنے میں تاخِیر دِل کو بِیمار کرتی ہے پر آرزُو کا پُورا ہونا زِندگی کا درخت ہے۔
13 جو کلام کی تحقِیر کرتا ہے اپنے آپ پر ہلاکت لاتا ہے پر جو فرمان سے ڈرتا ہے اجر پائے گا۔
14 دانِش مند کی تعلِیم حیات کا چشمہ ہے جو مَوت کے پھندوں سے چُھٹکارے کا باعِث ہو۔
15 فہم کی درُستی مقبُولِیت بخشتی ہے لیکن دغابازوں کی راہ کٹھن ہے۔
16 ہر ایک ہوشیار آدمی دانائی سے کام کرتا ہے پر احمق اپنی حماقت کو پَھیلا دیتا ہے۔
17 شرِیر قاصِد بلا میں گرِفتار ہوتا ہے پر دِیانت دار ایلچی صِحت بخش ہے۔
18 تربِیّت کو ردّ کرنے والا کنگال اور رُسوا ہو گا پر وہ جو تنبِیہ کا لِحاظ رکھتا ہے عِزّت پائے گا۔
19 جب مُراد بر آتی ہے تب جی بُہت خُوش ہوتا ہے پر بدی کو ترک کرنے سے احمق کو نفرت ہے۔
20 وہ جو داناؤں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہو گا پر احمقوں کا ساتھی ہلاک کِیا جائے گا۔
21 بدی گنُہگاروں کا پِیچھا کرتی ہے پر صادِقوں کو نیک جزا مِلے گی۔
22 نیک آدمی اپنے پوتوں کے لِئے مِیراث چھوڑتا ہے پر گُنہگار کی دَولت صادِقوں کے لِئے فراہم کی جاتی ہے۔
23 کنگالوں کی کھیتی میں بُہت خُوراک ہوتی ہے پر اَیسے لوگ بھی ہیں جو بے اِنصافی سے برباد ہو جاتے ہیں۔
24 وہ جو اپنی چھڑی کو باز رکھتا ہے اپنے بیٹے سے کِینہ رکھتا ہے پر وہ جو اُس سے مُحبّت رکھتا ہے بر وقت اُس کو تنبِیہ کرتا ہے۔
25 صادِق کھا کر سیر ہو جاتا ہے پر شرِیر کا پیٹ نہیں بھرتا۔
1 دانا عَورت اپنا گھر بناتی ہے پر احمق اُسے اپنے ہی ہاتھوں سے برباد کرتی ہے۔
2 راست رَو خُداوند سے ڈرتا ہے پر کج رَو اُس کی حقارت کرتا ہے۔
3 احمق میں سے غرُور پُھوٹ نِکلتا ہے پر دانِش مندوں کے لب اُن کی نِگہبانی کرتے ہیں۔
4 جہاں بَیل نہیں وہاں چَرنی صاف ہے لیکن غّلہ کی افزایش بَیل کے زور سے ہے۔
5 دِیانت دار گواہ جُھوٹ نہیں بولتا لیکن جُھوٹا گواہ جُھوٹی باتیں بیان کرتا ہے۔
6 ٹھٹّھاباز حِکمت کی تلاش کرتا ہے اور نہیں پاتا لیکن صاحبِ فہم کو عِلم آسانی سے حاصِل ہوتا ہے۔
7 احمق سے کنارہ کر کیونکہ تُو اُس میں عِلم کی باتیں نہیں پائے گا۔
8 ہوشیار کی حِکمت یہ ہے کہ اپنی راہ پہچانے لیکن احمقوں کی حماقت دھوکا ہے۔
9 احمق گُناہ کر کے ہنستے ہیں پر راست کاروں میں رضامندی ہے۔
10 اپنی تلخی کو دِل ہی خُوب جانتا ہے اور بیگانہ اُس کی خُوشی میں دخل نہیں رکھتا۔
11 شرِیر کا گھر برباد ہو جائے گا پر راست آدمی کا خَیمہ آباد رہے گا۔
12 اَیسی راہ بھی ہے جو اِنسان کو سِیدھی معلُوم ہوتی ہے پر اُس کی اِنتہا میں مَوت کی راہیں ہیں۔
13 ہنسنے میں بھی دِل غمگِین ہے اور شادمانی کا انجام غم ہے۔
14 برگشتہ دِل اپنی روِش کا اجر پاتا ہے اور نیک آدمی اپنے کام کا۔
15 نادان ہر بات کا یقِین کر لیتا ہے لیکن ہوشیار آدمی اپنی روِش کو دیکھتا بھالتا ہے۔
16 دانا ڈرتا ہے اور بدی سے الگ رہتا ہے پر احمق جھنجُھلاتا ہے اور بیباک رہتا ہے۔
17 زُود رنج بے وقُوفی کرتا ہے اور بُرے منصُوبے باندھنے والا گھِنَونا ہے۔
18 نادان حماقت کی مِیراث پاتے ہیں پر ہوشیاروں کے سر پر عِلم کا تاج ہے۔
19 شرِیر نیکوں کے سامنے جُھکتے ہیں اور خبِیث صادِقوں کے دروازوں پر۔
20 کنگال سے اُس کا ہمسایہ بھی بیزار ہے پر مال دار کے دوست بُہت ہیں۔
21 اپنے ہمسایہ کو حِقیر جاننے والا گُناہ کرتا ہے لیکن کنگال پر رحم کرنے والا مُبارک ہے۔
22 کیا بدی کے مُوجِد گُمراہ نہیں ہوتے؟ پر شفقت اور سچّائی نیکی کے مُوجِد کے لِئے ہیں۔
23 ہر طرح کی محِنت میں نفع ہے پر مُنہ کی باتوں میں محض مُحتاجی ہے۔
24 داناؤں کا تاج اُن کی دَولت ہے پر احمقوں کی حماقت ہی حماقت ہے۔
25 سچّا گواہ جان بچانے والا ہے پر دروغ گو دغابازی کرتا ہے۔
26 خُداوند کے خَوف میں قوّی اُمّید ہے اور اُس کے فرزندوں کو پناہ کی جگہ مِلتی ہے۔
27 خُداوند کا خَوف حیات کا چشمہ ہے جو مَوت کے پھندوں سے چُھٹکارے کا باعِث ہے۔
28 رعایا کی کثرت میں بادشاہ کی شان ہے پر لوگوں کی کمی میں حاکِم کی تباہی ہے۔
29 جو قہر کرنے میں دِھیما ہے بڑا عقل مند ہے پر وہ جو جھکّی ہے حماقت کو بڑھاتا ہے۔
30 مُطمئِن دِل جِسم کی جان ہے لیکن حسد ہڈِّیوں کی بوسِیدگی ہے۔
31 مِسکِین پر ظُلم کرنے والا اُس کے خالِق کی اِہانت کرتا ہے لیکن اُس کی تعظِیم کرنے والا مُحتاجوں پر رحم کرتا ہے۔
32 شرِیر اپنی شرارت میں پست کِیا جاتا ہے لیکن صادِق مَرنے پر بھی اُمیدوار ہے۔
33 حِکمت عقل مند کے دِل میں قائِم رہتی ہے پر احمقوں کا دِلی راز فاش ہو جاتا ہے۔
34 صداقت قَوم کو سرفرازی بخشتی ہے پر گُناہ سے اُمّتوں کی رُسوائی ہے۔
35 عقل مند خادِم پر بادشاہ کی نظرِ عنایت ہے پر اُس کا قہر اُس پر ہے جو رسُوائی کا باعِث ہے۔
1 نرم جواب قہر کو دُور کر دیتا ہے پر کرخت باتیں غضب انگیز ہیں۔
2 داناؤں کی زُبان عِلم کا درُست بیان کرتی ہے۔ پر احمقوں کا مُنہ حماقت اُگلتا ہے۔
3 خُداوند کی آنکھیں ہر جگہ ہیں اور نیکوں اور بدوں کی نِگران ہیں۔
4 صِحت بخش زُبان حیات کا درخت ہے پر اُس کی کج گوئی رُوح کی شِکستگی کا باعِث ہے۔
5 احمق اپنے باپ کی تربِیّت کو حِقیر جانتا ہے پر تنبِیہ کا لِحاظ رکھنے والا ہوشیار ہو جاتا ہے۔
6 صادِق کے گھر میں بڑا خزانہ ہے پر شرِیر کی آمدنی میں پریشانی ہے۔
7 داناؤں کے لب عِلم پَھیلاتے ہیں پر احمقوں کے دِل اَیسے نہیں۔
8 شرِیروں کے ذبِیحہ سے خُداوند کو نفرت ہے پر راست کار کی دُعا اُس کی خُوشنُودی ہے۔
9 شرِیروں کی روِش سے خُداوند کو نفرت ہے پر وہ صداقت کے پَیرو سے مُحبّت رکھتا ہے۔
10 راہ سے بھٹکنے والے کے لِئے سخت تادِیب ہے اور تنبِیہ سے نفرت کرنے والا مَرے گا۔
11 جب پاتال اور جہنّم خُداوند کے حضُور کُھلے ہیں تو بنی آدمؔ کے دِل کا کیا ذِکر؟
12 ٹھٹّھاباز تنبِیہ کو دوست نہیں رکھتا اور داناؤں کی مجلِس میں ہرگِز نہیں جاتا۔
13 خُوش دِلی خندہ رُوئی پَیدا کرتی ہے پر دِل کی غمگِینی سے اِنسان شِکستہ خاطِر ہوتا ہے۔
14 صاحبِ فہم کا دِل عِلم کا طالِب ہے پر احمقوں کی خُوراک حماقت ہے۔
15 مُصِیبت زدہ کے تمام ایّام بُرے ہیں پر خُوش دِل ہمیشہ جشن کرتا ہے۔
16 تھوڑا جو خُداوند کے خَوف کے ساتھ ہو اُس بڑے گنج سے جو پریشانی کے ساتھ ہو بِہتر ہے۔
17 مُحبّت والے گھر میں ذرا سا ساگ پات عداوت والے گھر میں پلے ہُوئے بَیل سے بِہتر ہے۔
18 غضب ناک آدمی فِتنہ برپا کرتا ہے پر جو قہر میں دِھیما ہے جھگڑا مِٹاتا ہے۔
19 کاہِل کی راہ کانٹوں کی آڑ سی ہے پر راست کاروں کی روِش شاہراہ کی مانِند ہے۔
20 دانا بیٹا باپ کو خُوش رکھتا ہے پر احمق اپنی ماں کی تحِقیر کرتا ہے۔
21 بے عقل کے لِئے حماقت شادمانی کا باعِث ہے پر صاحبِ فہم اپنی روِش کو درُست کرتا ہے۔
22 صلاح کے بغَیر اِرادے پُورے نہیں ہوتے پر صلاح کاروں کی کثرت سے قیام پاتے ہیں۔
23 آدمی اپنے مُنہ کے جواب سے مسرُور ہوتا ہے اور باموقع بات کیا خُوب ہے!
24 دانا کے لِئے زِندگی کی راہ اُوپر کو جاتی ہے تاکہ وہ پاتال میں اُترنے سے بچ جائے۔
25 خُداوند مغرُوروں کا گھر ڈھا دیتا ہے پر وہ بیوہ کے سوانے کو قائِم کرتا ہے۔
26 بُرے منصُوبوں سے خُداوند کو نفرت ہے پر پاک لوگوں کا کلام پسندِیدہ ہے۔
27 نفع کا لالچی اپنے گھرانے کو پریشان کرتا ہے پر وہ جِس کو رِشوت سے نفرت ہے زِندہ رہے گا۔
28 صادِق کا دِل سوچ کر جواب دیتا ہے پر شرِیروں کا مُنہ بُری باتیں اُگلتا ہے۔
29 خُداوند شرِیروں سے دُور ہے پر وہ صادِقوں کی دُعا سُنتا ہے۔
30 آنکھوں کا نُور دِل کو خُوش کرتا ہے اور خُوشخبری ہڈِّیوں میں فربہی پَیدا کرتی ہے۔
31 جو زِندگی بخش تنبِیہ پر کان لگاتا ہے داناؤں کے درمیان سکُونت کرے گا۔
32 تربِیّت کو ردّ کرنے والا اپنی ہی جان کا دُشمن ہے پر تنبِیہ پر کان لگانے والا فہم حاصِل کرتا ہے۔
33 خُداوند کا خَوف حِکمت کی تربِیّت ہے اور سرفرازی سے پہلے فروتنی ہے۔
1 دِل کی تدبِیریں اِنسان سے ہیں لیکن زُبان کا جواب خُداوند کی طرف سے ہے۔
2 اِنسان کی نظر میں اُس کی سب روِشیں پاک ہیں لیکن خُداوند رُوحوں کو جانچتا ہے۔
3 اپنے سب کام خُداوند پر چھوڑ دے تو تیرے اِرادے قائِم رہیں گے۔
4 خُداوند نے ہر ایک چِیز خاص مقصد کے لِئے بنائی۔ ہاں شرِیروں کو بھی اُس نے بُرے دِن کے لِئے بنایا۔
5 ہر ایک سے جِس کے دِل میں غرُور ہے خُداوند کو نفرت ہے۔ یقِیناً وہ بے سزا نہ چُھوٹے گا۔
6 شفقت اور سچّائی سے بدی کا کفّارہ ہوتا ہے اور لوگ خُداوند کے خَوف کے سبب سے بدی سے باز آتے ہیں۔
7 جب اِنسان کی روِشیں خُداوند کو پسند آتی ہیں تو وہ اُس کے دُشمنوں کو بھی اُس کے دوست بناتا ہے۔
8 صداقت کے ساتھ تھوڑا سا مال بے اِنصافی کی بڑی آمدنی سے بِہتر ہے۔
9 آدمی کا دِل اپنی راہ ٹھہراتا ہے پر خُداوند اُس کے قدموں کی راہنُمائی کرتا ہے۔
10 کلامِ رباّنی بادشاہ کے لبوں سے نِکلتا ہے اور اُس کا مُنہ عدالت کرنے میں خطا نہیں کرتا۔
11 ٹِھیک ترازُو اور پلڑے خُداوند کے ہیں تَھیلی کے سب باٹ اُس کا کام ہیں۔
12 شرارت کرنے سے بادشاہوں کو نفرت ہے کیونکہ تخت کی پائیداری صداقت سے ہے۔
13 صادِق لب بادشاہوں کی خُوشنُودی ہیں اور وہ سچ بولنے والوں کو دوست رکھتے ہیں۔
14 بادشاہ کا قہر مَوت کا قاصِد ہے پر دانا آدمی اُسے ٹھنڈا کرتا ہے۔
15 بادشاہ کے چِہرہ کے نُور میں زِندگی ہے اور اُس کی نظرِعنایت آخِری برسات کے بادل کی مانِند ہے۔
16 حِکمت کا حصُول سونے سے بُہت بِہتر ہے اور فہم کا حصُول چاندی سے بُہت پسندِیدہ ہے۔
17 راست کار آدمی کی شاہراہ یہ ہے کہ بدی سے بھاگے اور اپنی راہ کا نِگہبان اپنی جان کی حِفاظت کرتا ہے۔
18 ہلاکت سے پہلے تکبُّر اور زوال سے پہلے خُود بِینی ہے۔
19 مِسکِینوں کے ساتھ فروتن بننا مُتکِبّروں کے ساتھ لُوٹ کا مال تقسِیم کرنے سے بِہتر ہے۔
20 جو کلام پر توجُّہ کرتا ہے بھلائی دیکھے گا اور جِس کا توکُّل خُداوند پر ہے مُبارک ہے۔
21 دانا دِل ہوشیار کہلائے گا اور شِیرِین زُبانی سے عِلم کی فراوانی ہوتی ہے۔
22 عقل مند کے لِئے عقل حیات کا چشمہ ہے پر احمقوں کی تربِیّت حماقت ہے۔
23 دانا کا دِل اُس کے مُنہ کی تربِیّت کرتا ہے اور اُس کے لبوں کو عِلم بخشتا ہے۔
24 دِل پسند باتیں شہد کا چھتّا ہیں۔ وہ جی کو مِیٹھی لگتی ہیں اور ہڈِّیوں کے لِئے شِفا ہیں۔
25 اَیسی راہ بھی ہے جو اِنسان کو سِیدھی معلُوم ہوتی ہے پر اُس کی اِنتہا میں مَوت کی راہیں ہیں۔
26 محِنت کرنے والے کی خواہِش اُس سے کام کراتی ہے کیونکہ اُس کا پیٹ اُس کو اُبھارتا ہے۔
27 خبِیث آدمی شرارت کو کھود کر نِکالتا ہے اور اُس کے لبوں میں گویا جلانے والی آگ ہے۔
28 کج رَو آدمی فِتنہ انگیز ہے اور غِیبت کرنے والا دوستوں میں جُدائی ڈالتا ہے۔
29 تُند خُو آدمی اپنے ہمسایہ کو ورغلاتا ہے اور اُس کو بُری راہ پر لے جاتا ہے۔
30 آنکھ مارنے والا کجی اِیجاد کرتا ہے اور لب چبانے والا فساد برپا کرتا ہے۔
31 سفید سر شَوکت کا تاج ہے۔ وہ صداقت کی راہ پر پایا جائے گا۔
32 جو قہر کرنے میں دِھیما ہے پہلوان سے بِہتر ہے اور وہ جو اپنی رُوح پر ضابِط ہے اُس سے جو شہر کو لے لیتا ہے۔
33 قُرعہ گود میں ڈالا جاتا ہے پر اُس کا سارا اِنتظام خُداوند کی طرف سے ہے۔
1 سلامتی کے ساتھ خُشک نوالہ اِس سے بِہتر ہے کہ گھر نِعمت سے پُر ہو اور اُس کے ساتھ جھگڑا ہو۔
2 عقل مند نَوکر اُس بیٹے پر جو رسُوا کرتا ہے حُکمران ہو گا اور بھائیِوں میں شامِل ہو کر مِیراث کا حِصّہ لے گا
3 چاندی کے لِئے کُٹھالی ہے اور سونے کے لِئے بھٹّی پر دِلوں کو خُداوند پرکھتا ہے۔
4 بدکردار جُھوٹے لبوں کی سُنتا ہے اور دروغ گو مُفِسد زُبان کا شنوا ہوتا ہے۔
5 مِسکِین پر ہنسنے والا اُس کے خالِق کی اِہانت کرتا ہے اور جو اَوروں کی مُصِیبت سے خُوش ہوتا ہے بے سزا نہ چُھوٹے گا۔
6 بیٹوں کے بیٹے بُوڑھوں کے لِئے تاج ہیں اور بیٹوں کے فخر کا باعِث اُن کے باپ دادا ہیں۔
7 خُوش گوئی احمق کو نہیں سجتی تو کِس قدر کم دروغ گوئی شرِیف کو سجے گی۔
8 رِشوت جِس کے ہاتھ میں ہے اُس کی نظر میں گران بہا جَوہر ہے اور وہ جِدھر توجُّہ کرتا ہے کامیاب ہوتا ہے۔
9 جو خطا پوشی کرتا ہے دوستی کا جویان ہے پر جو اَیسی بات کو بار بار چھیڑتا ہے دوستوں میں جُدائی ڈالتا ہے۔
10 صاحِبِ فہم پر ایک جِھڑکی احمق پر سَو کوڑوں سے زِیادہ اثر کرتی ہے۔
11 شرِیر محض سرکشی کا جویان ہے۔ اُس کے مُقابلہ میں سنگ دِل قاصِد بھیجا جائے گا۔
12 جِس رِیچھنی کے بچّے پکڑے گئے ہوں آدمی کا اُس سے دو چار ہونا اِس سے بِہتر ہے کہ احمق کی حماقت میں اُس کے سامنے آئے۔
13 جو نیکی کے بدلے میں بدی کرتا ہے اُس کے گھر سے بدی ہرگِز جُدا نہ ہو گی۔
14 جھگڑے کا شرُوع پانی کے پُھوٹ نِکلنے کی مانِند ہے اِس لِئے لڑائی سے پہلے جھگڑے کو چھوڑ دو۔
15 جو شرِیر کو صادِق اور جو صادِق کو شرِیر ٹھہراتا ہے خُداوند کو اُن دونوں سے نفرت ہے۔
16 حِکمت خرِیدنے کو احمق کے ہاتھ میں قِیمت سے کیا فائِدہ ہے حالانکہ اُس کا دِل اُس کی طرف نہیں؟
17 دوست ہر وقت مُحبّت دِکھاتا ہے اور بھائی مُصِیبت کے دِن کے لِئے پَیدا ہُؤا ہے۔
18 بے عقل آدمی ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے اور اپنے ہمسایہ کے رُوبرُو ضامِن ہوتا ہے۔
19 فساد پسند خطا پسند ہے اور اپنے دروازہ کو بُلند کرنے والا ہلاکت کا طالِب۔
20 کج دِلا بھلائی کو نہ دیکھے گا اور جِس کی زُبان کج گو ہے مُصِیبت میں پڑے گا۔
21 بے وُقُوف کے والِد کے لِئے غم ہے کیونکہ احمق کے باپ کو خُوشی نہیں۔
22 شادمان دِل شِفا بخشتا ہے لیکن افسُردہ دِلی ہڈِّیوں کو خُشک کر دیتی ہے۔
23 شرِیر بغل میں رِشوت رکھ لیتا ہے تاکہ عدالت کی راہیں بِگاڑے۔
24 حِکمت صاحِبِ فہم کے رُوبرُو ہے لیکن احمق کی آنکھیں زمِین کے کناروں پر لگی ہیں۔
25 احمق بیٹا اپنے باپ کے لِئے غم اور اپنی ماں کے لِئے تلخی ہے۔
26 صادِق کو سزا دینا اور شرِیفوں کو اُن کی راستی کے سبب سے مارنا خُوب نہیں۔
27 صاحِبِ عِلم کم گو ہے اور صاحِبِ فہم متِین ہے۔ 28 احمق بھی جب تک خاموش ہے عقل مند گِنا جاتا ہے۔ جو اپنے لب بند رکھتا ہے ہوشیار ہے۔
1 جو اپنے آپ کو سب سے الگ رکھتا ہے اپنی خواہِش کا طالِب ہے اور ہر معقُول بات سے برہم ہوتا ہے۔
2 احمق فہم سے خُوش نہیں ہوتا لیکن صِرف اِس سے کہ اپنے دِل کا حال ظاہِر کرے۔
3 شرِیر کے ساتھ حقارت آتی ہے اور رُسوائی کے ساتھ اِہانت۔
4 اِنسان کے مُنہ کی باتیں گہرے پانی کی مانِند ہیں اور حِکمت کا چشمہ بہتا نالا ہے۔
5 شرِیر کی طرف داری کرنا یا عدالت میں صادِق سے بے اِنصافی کرنا خُوب نہیں۔
6 احمق کے ہونٹ فِنتہ انگیزی کرتے ہیں اور اُس کا مُنہ طمانچوں کے لِئے پُکارتا ہے۔
7 احمق کا مُنہ اُس کی ہلاکت ہے اور اُس کے ہونٹ اُس کی جان کے لِئے پھندا ہیں۔
8 غِیبت گو کی باتیں لذِیذ نوالے ہیں اور وہ خُوب ہضم ہو جاتی ہیں۔
9 کام میں سُستی کرنے والا مُسرِف کا بھائی ہے
10 خُداوند کا نام مُحکم بُرج ہے۔ صادِق اُس میں بھاگ جاتا ہے اور امن میں رہتا ہے۔ 11 دَولت مند آدمی کا مال اُس کا مُحکم شہر اور اُس کے تصوُّر میں اُونچی دِیوار کی مانِند ہے۔
12 آدمی کے دِل میں تکُبّر ہلاکت کا پیش رَو ہے اور فروتنی عزِّت کی پیشوا۔
13 جو بات سُننے سے پہلے اُس کا جواب دے یہ اُس کی حماقت اور خجالت ہے۔
14 اِنسان کی رُوح اُس کی ناتوانی میں اُسے سنبھالے گی لیکن افسُردہ دِلی کی کَون برداشت کر سکتا ہے؟
15 ہوشیار کا دِل عِلم حاصِل کرتا ہے اور دانا کے کان عِلم کے طالِب ہیں۔
16 آدمی کا نذرانہ اُس کے لِئے جگہ کر لیتا ہے اور بڑے آدمِیوں کے حضُور اُس کی رسائی کر دیتا ہے۔
17 جو پہلے اپنا دعویٰ بیان کرتا ہے راست معلُوم ہوتا ہے پر دُوسرا آ کر اُس کی حقِیقت ظاہِر کرتا ہے۔
18 قُرعہ جھگڑوں کو مَوقُوف کرتا ہے اور زبردستوں کے درمِیان فَیصلہ کر دیتا ہے۔
19 رنجِیدہ بھائی کو راضی کرنا مُحکم شہر لے لینے سے زِیادہ مُشکِل ہے اور جھگڑے قلعہ کے بینڈوں کی مانِند ہیں۔
20 آدمی کا پیٹ اُس کے مُنہ کے پَھل سے بھرتا ہے اور وہ اپنے لبوں کی پَیداوار سے سیر ہوتا ہے۔ 21 مَوت اور زِندگی زُبان کے قابُو میں ہیں اور جو اُسے دوست رکھتے ہیں اُس کا پَھل کھاتے ہیں۔
22 جِس کو بِیوی مِلی اُس نے تُحفہ پایا اور اُس پر خُداوند کا فضل ہُؤا۔
23 مُحتاج مِنّت سماجت کرتا ہے پر دَولت مند سخت جواب دیتا ہے۔
24 جو بُہتوں سے دوستی کرتا ہے اپنی بربادی کے لِئے کرتا ہے پر اَیسا دوست بھی ہے جو بھائی سے زِیادہ مُحبّت رکھتا ہے۔
1 راست رَو مِسکِین کج گو اور احمق سے بِہتر ہے۔
2 یہ بھی اچھّا نہیں کہ رُوح عِلم سے خالی رہے۔ جو چلنے میں جلد بازی کرتا ہے بھٹک جاتا ہے۔
3 آدمی کی حماقت اُسے گُمراہ کرتی ہے اور اُس کا دِل خُداوند سے بیزار ہوتا ہے۔
4 دَولت بُہت سے دوست پَیدا کرتی ہے پر مِسکِین اپنے ہی دوست سے بیگانہ ہے۔
5 جُھوٹا گواہ بے سزا نہ چُھوٹے گا اور جُھوٹ بولنے والا رہائی نہ پائے گا۔
6 بُہتیرے لوگ فیّاض کی خُوشامد کرتے ہیں اور ہر ایک آدمی اِنعام دینے والے کا دوست ہے۔
7 جب مِسکِین کے سب بھائی ہی اُس سے نفرت کرتے ہیں تو اُس کے دوست کِتنے زِیادہ اُس سے دُور بھاگیں گے! وہ باتوں سے اُن کا پِیچھا کرتا ہے پر اُن کو نہیں پاتا۔
8 جو حِکمت حاصِل کرتا ہے اپنی جان کو عزِیز رکھتا ہے۔ جو فہم کی مُحافظت کرتا ہے فائدہ اُٹھائے گا۔
9 جُھوٹا گواہ بے سزا نہ چُھوٹے گا اور جو جُھوٹ بولتا ہے فنا ہو گا۔
10 جب احمق کے لِئے ناز و نِعمت زیبا نہیں تو خادِم کا شہزادوں پر حُکمران ہونا اَور بھی نامناسِب ہے۔
11 آدمی کی تمِیز اُس کو قہر کرنے میں دِھیما بناتی ہے۔ اور خطا سے درگُذر کرنے میں اُس کی شان ہے۔
12 بادشاہ کا غضب شیر کی گرج کی مانِند ہے اور اُس کی نظرِعنایت گھاس پر شبنم کی مانِند۔
13 احمق بیٹا اپنے باپ کے لِئے بلا ہے اور بِیوی کا جھگڑا رگڑا سدا کا ٹپکا۔
14 گھر اور مال تو باپ دادا سے مِیراث میں مِلتے ہیں لیکن دانِش مند بِیوی خُداوند سے مِلتی ہے۔
15 کاہِلی نِیند میں غرق کر دیتی ہے اور کاہِل آدمی بُھوکا رہے گا۔
16 جو فرمان بجا لاتا ہے اپنی جان کی مُحافظت کرتا ہے پر جو اپنی راہوں سے غافِل ہے مَرے گا۔
17 جو مِسکِینوں پر رحم کرتا ہے خُداوند کو قرض دیتا ہے اور وہ اپنی نیکی کا بدلہ پائے گا۔
18 جب تک اُمّید ہے اپنے بیٹے کی تادِیب کِئے جا اور اُس کی بربادی پر دِل نہ لگا۔
19 شدِید اُلغضب آدمی سزا پائے گا کیونکہ اگر تُو اُسے رہائی دے تو تُجھے بار بار اَیسا ہی کرنا ہو گا۔
20 مشوَرت کو سُن اور تربِیّت پذِیر ہو تاکہ تُو آخِر کار دانا ہو جائے۔
21 آدمی کے دِل میں بُہت سے منصُوبے ہیں لیکن صِرف خُداوند کا اِرادہ ہی قائِم رہے گا۔
22 آدمی کی مقبُولِیت اُس کے اِحسان سے ہے اور کنگال جُھوٹے آدمی سے بِہتر ہے۔
23 خُداوند کا خَوف زِندگی بخش ہے۔ اور خُدا ترس سیر ہو گا اور بدی سے محفُوظ رہے گا۔
24 سُست آدمی اپنا ہاتھ تھالی میں ڈالتا ہے اور اِتنا بھی نہیں کرتا کہ پِھر اُسے اپنے مُنہ تک لائے۔
25 ٹھٹھّا کرنے والے کو مار۔ اِس سے سادہ دِل ہوشیار ہو جائے گا اور صاحِبِ فہم کو تنبِیہ کر۔ وہ عِلم حاصِل کرے گا۔
26 جو اپنے باپ سے بدسلُوکی کرتا اور ماں کو نِکال دیتا ہے خجالت کا باعِث اور رسُوائی لانے والا بیٹا ہے۔
27 اَے میرے بیٹے! اگر تُو عِلم سے برگشتہ ہوتا ہے تو تعلِیم سُننے سے کیا فائدہ؟
28 خبِیث گواہ عدل پر ہنستا ہے اور شرِیر کا مُنہ بدی نِگلتا رہتا ہے۔
29 ٹھٹھّا کرنے والوں کے لِئے سزائیں ٹھہرائی جاتی ہیں اور احمقوں کی پِیٹھ کے لِئے کوڑے ہیں۔
1 مَے مسخرہ اور شراب ہنگامہ کرنے والی ہے اور جو کوئی اِن سے فریب کھاتا ہے دانا نہیں۔
2 بادشاہ کا رُعب شیر کی گرج کی مانِند ہے۔ جو کوئی اُسے غُصہ دِلاتا ہے اپنی جان سے بدی کرتا ہے۔
3 جھگڑے سے الگ رہنے میں آدمی کی عِزّت ہے لیکن ہر ایک احمق جھگڑتا رہتا ہے
4 کاہِل آدمی جاڑے کے باعِث ہل نہیں چلاتا اِس لِئے فصل کاٹنے کے وقت وہ بِھیک مانگے گا اور کُچھ نہ پائے گا۔
5 آدمی کے دِل کی بات گہرے پانی کی مانِند ہے لیکن صاحِبِ فہم آدمی اُسے کھینچ نِکالے گا۔
6 اکثر لوگ اپنا اپنا اِحسان جتاتے ہیں لیکن وفادار آدمی کِس کو مِلے گا؟
7 راست رَو صادِق کے بعد اُس کے بیٹے مُبارک ہوتے ہیں۔
8 بادشاہ جو تختِ عدالت پر بَیٹھتا ہے خُود دیکھ کر ہر طرح کی بدی کو پھٹکتا ہے۔
9 کَون کہہ سکتا ہے کہ مَیں نے اپنے دِل کو صاف کر لِیا ہے اور مَیں اپنے گُناہ سے پاک ہو گیا ہُوں؟
10 دو طرح کے باٹ اور دو طرح کے پَیمانے۔ اِن دونوں سے خُداوند کو نفرت ہے۔
11 بچّہ بھی اپنی حرکات سے پہچانا جاتا ہے کہ اُس کے کام نیک و راست ہیں کہ نہیں۔
12 سُننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھ دونوں کو خُداوند نے بنایا ہے۔
13 خواب دوست نہ ہو۔ مبادا تُو کنگال ہو جائے۔ اپنی آنکھیں کھول کہ تُو روٹی سے سیر ہو گا۔
14 خرِیدار کہتا ہے ردّی ہے ردّی! لیکن جب چل پڑتا ہے تو فخر کرتا ہے۔
15 زر و مرجان کی تو کثرت ہے لیکن بیش بہا سرمایہ عِلم والے ہونٹ ہیں۔
16 جو بیگانہ کا ضامِن ہو اُس کے کپڑے چِھین لے اور جو اجنبی کا ضامِن ہو اُس سے کُچھ گِرَو رکھ لے۔
17 دغا کی روٹی آدمی کو مِیٹھی لگتی ہے لیکن آخِر کو اُس کا مُنہ کنکروں سے بھرا جاتا ہے۔
18 ہر ایک کام مشوَرہ سے ٹِھیک ہوتا ہے اور تُو نیک صلاح لے کر جنگ کر۔
19 جو کوئی لُتراپن کرتا پِھرتا ہے راز فاش کرتا ہے اِس لِئے تُو مُنہ پَھٹ سے کُچھ واسِطہ نہ رکھ۔
20 جو اپنے باپ یا اپنی ماں پر لَعنت کرتا ہے اُس کا چراغ گہری تارِیکی میں بُجھایا جائے گا۔
21 اگرچہ اِبتدا میں مِیراث یک لخت حاصِل ہو تَو بھی اُس کا انجام مُبارک نہ ہو گا۔
22 تُو یہ نہ کہنا کہ مَیں بدی کا بدلہ لُوں گا۔ خُداوند کی آس رکھ اور وہ تُجھے بچائے گا۔
23 دو طرح کے باٹ سے خُداوند کو نفرت ہے اور دغا کے ترازُو ٹھِیک نہیں۔
24 آدمی کی رفتار خُداوند کی طرف سے ہے۔ پس اِنسان اپنی راہ کو کیوں کر جان سکتا ہے؟
25 جلد بازی سے کِسی چِیز کو مُقدّس ٹھہرانا اور مَنّت ماننے کے بعد دریافت کرنا آدمی کے لِئے پھندا ہے۔
26 دانا بادشاہ شرِیروں کو پھٹکتا ہے اور اُن پر داؤنے کا پہیا پِھرواتا ہے۔
27 آدمی کا ضِمیر خُداوند کا چراغ ہے جو اُس کے تمام اندرُونی حال کو دریافت کرتا ہے۔
28 شفقت اور سچّائی بادشاہ کی نِگہبان ہیں بلکہ شفقت ہی سے اُس کا تخت قائِم رہتا ہے۔
29 جوانوں کا زور اُن کی شَوکت ہے اور بُوڑھوں کے سفید بال اُن کی زِینت ہیں۔
30 کوڑوں کے زخم سے بدی دُور ہوتی ہے اور مار کھانے سے دِل صاف ہوتا ہے۔
1 بادشاہ کا دِل خُداوند کے ہاتھ میں ہے۔ وہ اُس کو پانی کے نالوں کی مانِند جِدھر چاہتا ہے پھیرتا ہے۔
2 اِنسان کی ہر ایک روِش اُس کی نظر میں راست ہے پر خُداوند دِلوں کو جانچتا ہے۔
3 صداقت اور عدل خُداوند کے نزدِیک قُربانی سے زِیادہ پسندِیدہ ہیں۔
4 بُلند نظری اور دِل کا تکُبّر اور شرِیروں کی اِقبال مندی گُناہ ہے۔
5 مِحنتی کی تدبِیریں یقِیناً فراوانی کا باعِث ہیں لیکن ہر ایک جلدباز کا انجام مُحتاجی ہے۔
6 دروغ گوئی سے خزانے حاصِل کرنا بے ٹھکانا بُخارات کی مانِند ہے اور اُن کے طالِب مَوت کے طالِب ہیں۔
7 شرِیروں کا ظُلم اُن کو اُڑا لے جائے گا کیونکہ اُنہوں نے اِنصاف کرنے سے اِنکار کِیا ہے۔
8 گُناہ آلُودہ آدمی کی راہ بُہت ٹیڑھی ہے پر جو پاک ہے اُس کا کام ٹِھیک ہے۔
9 گھر کی چھت پر ایک کونے میں رہنا جھگڑالُو بِیوی کے ساتھ کُشادہ گھر میں رہنے سے بِہتر ہے۔
10 شرِیر کی جان بُرائی کی مُشتاق ہے۔ اُس کا ہمسایہ اُس کی نِگاہ میں مقبُول نہیں ہوتا۔
11 جب ٹھٹّھا کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے تو سادہ دِل حِکمت حاصِل کرتا ہے اور جب دانا تربِیّت پاتا ہے تو عِلم حاصِل کرتا ہے۔
12 صادِق شرِیر کے گھر پر غَور کرتا ہے۔ شرِیر کَیسے گِر کر برباد ہو گئے ہیں۔
13 جو مِسکِین کا نالہ سُن کر اپنے کان بند کر لیتا ہے وہ آپ بھی نالہ کرے گا اور کوئی نہ سُنے گا۔
14 پوشِیدگی میں ہدیہ دینا قہر کو ٹھنڈا کرتا ہے اور اِنعام بغل میں دے دینا غضبِ شدِید کو۔
15 اِنصاف کرنے میں صادِق کی شادمانی ہے لیکن بدکرداروں کی ہلاکت۔
16 جو فہم کی راہ سے بھٹکتا ہے مُردوں کے غول میں پڑا رہے گا۔
17 عیّاش کنگال رہے گا۔ جو مَے اور تیل کا مُشتاق ہے مال دار نہ ہو گا۔
18 شرِیر صادِق کا فدِیہ ہو گا اور دغاباز راست بازوں کے بدلہ میں دِیا جائے گا۔
19 بیابان میں رہنا جھگڑالُو اور چڑچڑی بِیوی کے ساتھ رہنے سے بِہتر ہے۔
20 قِیمتی خزانہ اور تیل داناؤں کے گھر میں ہیں لیکن احمق اُن کو اُڑا دیتا ہے۔
21 جو صداقت اور شفقت کی پَیروی کرتا ہے زِندگی اور صداقت و عِزّت پاتا ہے۔
22 دانا آدمی زبردستوں کے شہر پر چڑھ جاتا ہے اور جِس قُوّت پر اُن کا اِعتماد ہے اُسے گِرا دیتا ہے۔
23 جو اپنے مُنہ اور اپنی زُبان کی نِگہبانی کرتا ہے اپنی جان کو مُصِیبتوں سے محفُوظ رکھتا ہے۔
24 مُتکِبّر و مغرُور شخص جو ٹھٹّھاباز کہلاتا ہے بُہت تکُبّر سے کام کرتا ہے۔
25 کاہِل کی تمنا اُسے مار ڈالتی ہے کیونکہ اُس کے ہاتھ مِحنت سے اِنکار کرتے ہیں۔ 26 وہ دِن بھر تمنّا میں رہتا ہے لیکن صادِق دیتا ہے اور دریغ نہیں کرتا۔
27 شرِیر کی قُربانی نفرت انگیز ہے خصُوصاً جب وہ بدنِیتّی سے لاتا ہے۔
28 جُھوٹا گواہ ہلاک ہو گا لیکن جِس شخص نے بات سُنی ہے وہ خاموش نہ رہے گا۔
29 شرِیر اپنے چہرہ کو سخت کرتا ہے لیکن صادِق اپنی راہ پر غَور کرتا ہے۔
30 کوئی حِکمت کوئی فہم اور کوئی مشوَرت نہیں جو خُداوند کے مُقابِل ٹھہر سکے۔
31 جنگ کے دِن کے لِئے گھوڑا تو تیّار کِیا جاتا ہے لیکن فتح یابی خُداوند کی طرف سے ہے۔
1 نیک نام بے قیاس خزانہ سے اور اِحسان سونے چاندی سے بِہتر ہے۔
2 امِیرو غرِیب ایک دُوسرے سے مِلتے ہیں۔ اُن سب کا خالِق خُداوند ہی ہے۔
3 ہوشیار بلا کو دیکھ کر چِھپ جاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جاتے اور نُقصان اُٹھاتے ہیں۔
4 دَولت اور عِزّت و حیات خُداوند کے خَوف اور فروتنی کا اجر ہیں۔
5 کج رَوکی راہ میں کانٹے اور پھندے ہیں جو اپنی جان کی نِگہبانی کرتا ہے اُن سے دُور رہے گا۔
6 لڑکے کی اُس راہ میں تربِیّت کر جِس پر اُسے جانا ہے۔ وہ بُوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مُڑے گا۔
7 مال دار مِسکِین پر حُکمران ہوتا ہے اور قرض لینے والا قرض دینے والے کا نَوکر ہے۔
8 جو بدی بوتا ہے مُصیِبت کاٹے گا اور اُس کے قہر کی لاٹھی ٹُوٹ جائے گی۔
9 جو نیک نظر ہے برکت پائے گا کیونکہ وہ اپنی روٹی میں سے مِسکِینوں کو دیتا ہے۔
10 ٹھٹّھا کرنے والے کو نِکال دے تو فساد جاتا رہے گا۔ ہاں جھگڑا رگڑا اور رُسوائی دُور ہو جائیں گے۔
11 جو پاک دِلی کو چاہتا ہے اُس کے ہونٹوں میں لُطف ہے اور بادشاہ اُس کا دوست دار ہو گا۔
12 خُداوند کی آنکھیں عِلم کی حِفاظت کرتی ہیں۔ وہ دغابازوں کے کلام کو اُلٹ دیتا ہے۔
13 سُست آدمی کہتا ہے باہر شیر کھڑا ہے۔ مَیں گلیوں میں پھاڑا جاؤُں گا۔
14 بیگانہ عَورت کا مُنہ گہرا گڑھا ہے۔ اُس میں وہ گِرتا ہے جِس سے خُداوند کو نفرت ہے۔
15 حماقت لڑکے کے دِل سے وابستہ ہے لیکن تربِیّت کی چھڑی اُس کو اُس سے دُور کر دے گی۔
16 جو اپنے فائِدہ کے لِئے مِسکِین پر ظُلم کرتا ہے اور جو مال دار کو دیتا ہے یقِیناً مُحتاج ہو جائے گا۔
تِیس ضرب الامثال
17 اپنا کان جُھکا اور داناؤں کی باتیں سُن اور میری تعلِیم پر دِل لگا 18 کیونکہ یہ پسندِیدہ ہے کہ تُو اُن کو اپنے دِل میں رکھّے اور وہ تیرے لبوں پر قائِم رہیں۔ 19 تاکہ تیرا توکُل خُداوند پر ہو مَیں نے آج کے دِن تُجھ کو ہاں تُجھ ہی کو جتا دِیا ہے۔ 20 کیا مَیں نے تیرے لِئے مشورَت اور عِلم کی لطِیف باتیں اِس لِئے نہیں لِکھی ہیں کہ 21 سچّائی کی باتوں کی حقِیقت تُجھ پر ظاہِر کر دُوں تاکہ تُو سچی باتیں حاصِل کر کے اپنے بھیجنے والوں کے پاس واپس جائے؟
پہلی مِثل
22 مِسکِین کو اِس لِئے نہ لُوٹ کہ وہ مِسکِین ہے اور مُصِیبت زدہ پر عدالت گاہ میں ظُلم نہ کر 23 کیونکہ خُداوند اُن کی وکالت کرے گا اور اُن کے غارت گروں کی جان کو غارت کرے گا۔
دوسری مِثل
24 غُصّہ ور آدمی سے دوستی نہ کر اور غضب ناک شخص کے ساتھ نہ جا۔ 25 مبادا تُو اُس کی روِشیں سِیکھئے اور اپنی جان کو پھندے میں پھنسائے
تِیسری مِثل
26 تُو اُن میں شامِل نہ ہو جو ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں اور نہ اُن میں جو قرض کے ضامِن ہوتے ہیں۔ 27 کیونکہ اگر تیرے پاس ادا کرنے کو کُچھ نہ ہو تو وہ تیرا بِستر تیرے نِیچے سے کیوں کھینچ لے جائے؟
چوتھی مِثل
28 اُن قدِیم حدُود کو نہ سرکا جو تیرے باپ دادا نے باندھی ہیں۔
پانچویں مِثل
29 تُو کِسی کو اُس کے کام میں مِحنتی دیکھتا ہے؟ وہ بادشاہوں کے حضُور کھڑا ہو گا۔ وہ کم قدر لوگوں کی خِدمت نہ کرے گا۔
چھٹی مِثل
1 جب تُو حاکِم کے ساتھ کھانے بَیٹھے تو خُوب غَور کر کہ تیرے سامنے کَون ہے۔ 2 اگر تُو کھاؤُ ہے تو اپنے گلے پر چُھری رکھ دے۔ 3 اُس کے مزہ دار کھانوں کی تمنّا نہ کر کیونکہ وہ دغابازی کا کھانا ہے۔
ساتویں مِثل
4 مال دار ہونے کے لِئے پریشان نہ ہو۔ اپنی اِس دانِش مندی سے باز آ۔ 5 کیا تُو اُس چِیز پر آنکھ لگائے گا جو ہے ہی نہیں؟ کیونکہ دَولت یقِیناً عُقاب کی طرح پر لگا کر آسمان کی طرف اُڑ جاتی ہے۔
آٹھویں مِثل
6 تُو تنگ چشم کی روٹی نہ کھا اور اُس کے مزہ دار کھانوں کی تمنّا نہ کر 7 کیونکہ جَیسے اُس کے دِل کے اندیشے ہیں وہ وَیسا ہی ہے۔ وہ تُجھ سے کہتا ہے کھا اور پی لیکن اُس کا دِل تیری طرف نہیں۔ 8 جو نوالہ تُو نے کھایا ہے تُو اُسے اُگل دے گا اور تیری مِیٹھی باتیں بے سُود ہوں گی۔
نویں مِثل
9 اپنی باتیں احمق کو نہ سُنا کیونکہ وہ تیرے دانائی کے کلام کی تحِقیر کرے گا۔
دسویں مِثل
10 قدِیم حدُود کو نہ سرکا اور یتیِموں کے کھیتوں میں دخل نہ کر۔ 11 کیونکہ اُن کا رہائی بخشنے والا زبردست ہے۔ وہ خُود ہی تیرے خِلاف اُن کی وکالت کرے گا۔
گیارہویں مِثل
12 تربِیّت پر دِل لگا اور عِلم کی باتیں سُن۔
بارہویں مِثل
13 لڑکے سے تادِیب کو دریغ نہ کر۔ اگر تُو اُسے چھڑی سے مارے گا تو وہ مَر نہ جائے گا۔ 14 تُو اُسے چھڑی سے مارے گا اور اُس کی جان کو پاتال سے بچائے گا۔
تیرہویں مِثل
15 اَے میرے بیٹے! اگر تُو دانا دِل ہے تو میرا دِل۔ ہاں میرا دِل خُوش ہو گا۔ 16 اور جب تیرے لبوں سے سچّی باتیں نِکلیں گی تو میرا دِل شادمان ہو گا۔
چَودھویں مِثل
17 تیرا دِل گُنہگاروں پر رشک نہ کرے بلکہ تُو دِن بھر خُداوند سے ڈرتا رہ۔ 18 کیونکہ اجر یقِینی ہے اور تیری آس نہیں ٹُوٹے گی۔
پندرھویں مِثل
19 اَے میرے بیٹے! تُو سُن اور دانا بن اور اپنے دِل کی راہبری کر۔ 20 تُو شرابِیوں میں شامِل نہ ہو اور نہ حرِیص کبابِیوں میں 21 کیونکہ شرابی اور کھاؤُ کنگال ہو جائیں گے اور نِیند اُن کو چِتھڑے پہنائے گی۔
سولہویں مِثل
22 اپنے باپ کا جِس سے تُو پَیدا ہُؤا شنوا ہو اور اپنی ماں کو اُس کے بڑھاپے میں حِقیر نہ جان۔
23 سچّائی کو مول لے اور اُسے بیچ نہ ڈال حِکمت اور تربِیّت اور فہم کو بھی۔
24 صادِق کا باپ نہایت خُوش ہو گا اور دانِش مند کا باپ اُس سے شادمانی کرے گا۔
25 اپنے ماں باپ کو خُوش کر۔ اپنی والِدہ کو شادمان رکھ۔
سترھویں مِثل
26 اَے میرے بیٹے! اپنا دِل مُجھ کو دے اور میری راہوں سے تیری آنکھیں خُوش ہوں۔ 27 کیونکہ فاحِشہ گہری خندق ہے اور بیگانہ عَورت تنگ گڑھا ہے۔ 28 وہ راہزن کی طرح گھات میں لگی ہے اور بنی آدمؔ میں بدکاروں کا شُمار بڑھاتی ہے۔
اٹھارہویں مِثل
29 کَون افسوس کرتا ہے؟ کَون غَم زدہ ہے؟ کَون جھگڑالُو ہے؟ کَون شاکی ہے؟ کَون بے سبب گھایل ہے؟ اور کِس کی آنکھوں میں سُرخی ہے؟ 30 وُہی جو دیر تک مَے نوشی کرتے ہیں۔ وُہی جو مِلائی ہُوئی مَے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ 31 جب مَے لال لال ہو۔ جب اُس کا عکس جام پر پڑے اور جب وہ روانی کے ساتھ نِیچے اُترے تو اُس پر نظر نہ کر 32 کیونکہ انجام کار وہ سانپ کی طرح کاٹتی اور افعی کی طرح ڈس جاتی ہے۔ 33 تیری آنکھیں عجِیب چِیزیں دیکھیں گی اور تیرے مُنہ سے اُلٹی سِیدھی باتیں نِکلیں گی۔ 34 بلکہ تُو اُس کی مانِند ہو گا جو سمُندر کے درمیان لیٹ جائے یا اُس کی مانِند جو مستُول کے سِرے پر سو رہے۔ 35 تُو کہے گا اُنہوں نے تو مُجھے مارا ہے پر مُجھ کو چوٹ نہیں لگی۔ اُنہوں نے مُجھے پِیٹا ہے پر مُجھے معلُوم بھی نہیں ہُؤا۔ مَیں کب بیدار ہُوں گا؟ مَیں پِھر اُس کا طالِب ہُوں گا۔
اُنیسویں مِثل
1 تُو شرِیروں پر رشک نہ کرنا اور اُن کی صُحبت کی خواہش نہ رکھنا 2 کیونکہ اُن کے دِل ظُلم کی فِکر کرتے ہیں اور اُن کے لب شرارت کا چرچا۔
بیسویں مِثل
3 حِکمت سے گھر تعمِیر کِیا جاتا ہے اور فہم سے اُس کو قِیام ہوتا ہے۔ 4 اور عِلم کے وسِیلہ سے کوٹھریاں نِفیس و لطِیف مال سے معمُور کی جاتی ہیں۔
اِکیسویں مِثل
5 دانا آدمی زورآور ہے بلکہ صاحِبِ عِلم کا زور بڑھتا رہتا ہے 6 کیونکہ تُو نیک صلاح لے کر جنگ کر سکتا ہے اور صلاح کاروں کی کثرت میں سلامتی ہے۔
بائیسویں مِثل
7 حِکمت احمق کے لِئے بُہت بُلند ہے۔ وہ پھاٹک پر مُنہ نہیں کھول سکتا۔
تیئیسویں مِثل
8 جو بدی کے منصُوبے باندھتا ہے فِتنہ انگیز کہلائے گا۔ 9 حماقت کا منصُوبہ بھی گُناہ ہے اور ٹھٹّھا کرنے والے سے لوگوں کو نفرت ہے۔
چوبیسویں مِثل
10 اگر تُو مُصِیبت کے دِن بے دِل ہو جائے تو تیری طاقت بُہت کم ہے۔
پچیسویں مِثل
11 جو قتل کے لِئے گھسِیٹے جاتے ہیں اُن کو چُھڑا۔ جو مارے جانے کو ہیں اُن کو حوالہ نہ کر۔ 12 اگر تُو کہے دیکھو ہم کو یہ معلُوم نہ تھا تو کیا دِلوں کو جانچنے والا یہ نہیں سمجھتا؟ اور کیا تیری جان کا نِگہبان یہ نہیں جانتا؟ اور کیا وہ ہر شخص کو اُس کے کام کے مُطابِق اجر نہ دے گا؟
چھبیسویں مِثل
13 اَے میرے بیٹے! تُو شہد کھا کیونکہ وہ اچھّا ہے اور شہد کا چھتّا بھی کیونکہ وہ تُجھے مِیٹھا لگتا ہے۔ 14 حِکمت بھی تیری جان کے لِئے اَیسی ہی ہو گی۔ اگر وہ تُجھے مِل جائے تو تیرے لِئے اجر ہو گا اور تیری آس نہیں ٹُوٹے گی۔
ستائیسویں مِثل
15 اَے شریر تُو صادِق کے گھر کی گھات میں نہ بَیٹھنا۔ اُس کی آرام گاہ کو غارت نہ کرنا۔ 16 کیونکہ صادِق سات بار گِرتا ہے اور پِھر اُٹھ کھڑا ہوتا ہے لیکن شرِیر بلا میں گِر کر پڑا ہی رہتا ہے۔
اٹھائیسویں مِثل
17 جب تیرا دُشمن گِر پڑے تو خُوشی نہ کرنا اور جب وہ پچھاڑ کھائے تو دِل شاد نہ ہونا 18 مبادا خُداوند اِسے دیکھ کر ناراض ہو اور اپنا قہر اُس پر سے اُٹھا لے۔
انتیسویں مِثل
19 تُو بدکرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہو اور شرِیروں پر رشک نہ کر۔ 20 کیونکہ بدکردار کے لِئے کُچھ اجر نہیں۔ شرِیروں کا چراغ بُجھا دِیا جائے گا۔
تیسویں مِثل
21 اَے میرے بیٹے! خُداوند سے اور بادشاہ سے ڈر اور مُفسِدوں کے ساتھ صُحبت نہ رکھ 22 کیونکہ اُن پر ناگہان آفت آئے گی اور اُن دونوں کی طرف سے آنے والی ہلاکت کو کَون جانتا ہے؟
مزِید ضرب الامثال
23 یہ بھی داناؤں کے اقوال ہیں:-
عدالت میں طرف داری کرنا اچھّا نہیں۔ 24 جو شرِیر سے کہتا ہے تُو صادِق ہے لوگ اُس پر لَعنت کریں گے اور اُمّتیں اُس سے نفرت رکھّیں گی۔ 25 لیکن جو اُس کو ڈانٹتے ہیں خُوش ہوں گے اور اُن کو بڑی برکت مِلے گی۔
26 جو حق بات کہتا ہے لبوں پر بوسہ دیتا ہے۔
27 اپنا کام باہر تیّار کر۔ اُسے اپنے لِئے کھیت میں درُست کر لے اور اُس کے بعد اپنا گھر بنا۔
28 بے سبب اپنے ہمسایہ کے خِلاف گواہی نہ دینا اور اپنے لبوں سے فریب نہ دینا۔ 29 یُوں نہ کہہ مَیں اُس سے وَیسا ہی کرُوں گا جَیسا اُس نے مُجھ سے کِیا۔ مَیں اُس آدمی سے اُس کے کام کے مُطابِق سلُوک کرُوں گا۔
30 مَیں کاہِل کے کھیت کے اور بے عقل کے تاکِستان کے پاس سے گُذرا 31 اور دیکھو وہ سب کا سب کانٹوں سے بھرا تھا اور بِچھُّو بُوٹی سے ڈھکا تھا اور اُس کی سنگِین دِیوار گِرائی گئی تھی۔ 32 تب مَیں نے دیکھا اور اُس پر خُوب غَور کِیا۔ ہاں مَیں نے اُس پر نِگاہ کی اور عِبرت پائی۔ 33 تھوڑی سی نِیند۔ ایک اَور جھپکی۔ ذرا پڑے رہنے کو ہاتھ پر ہاتھ۔ 34 اِسی طرح تیری مُفلسی راہزن کی طرح اور تیری تنگ دستی مُسلّح آدمی کی طرح آ پڑے گی
سُلیماؔن کی مزِید امثال
1 یہ بھی سُلیماؔن کی امثال ہیں جِن کی شاہِ یہُوداؔہ حِزقیاہ کے لوگوں نے نقل کی تھی:-
2 خُدا کا جلال رازداری میں ہے لیکن بادشاہوں کا جلال مُعاملات کی تفتِیش میں۔
3 آسمان کی اُونچائی اور زمِین کی گہرائی اور بادشاہوں کے دِل کی اِنتہا نہیں مِلتی۔
4 چاندی کی مَیل دُور کرنے سے سُنار کے لِئے برتن بن جاتا ہے۔ 5 شرِیروں کو بادشاہ کے حضُور سے دُور کرنے سے اُس کا تخت صداقت پر قائِم ہو جائے گا۔
6 بادشاہ کے حضُور اپنی بڑائی نہ کرنا اور بڑے آدمِیوں کی جگہ کھڑا نہ ہونا 7 کیونکہ یہ بِہتر ہے کہ حاکِم کے رُوبرُو جِس کو تیری آنکھوں نے دیکھا ہے تُجھ سے کہا جائے آگے بڑھ کر بَیٹھ نہ کہ تُو پِیچھے ہٹا دِیا جائے۔
8 جھگڑا کرنے میں جلدی نہ کر۔ آخِر کار جب تیرا ہمسایہ تُجھ کو ذلِیل کرے تب تُو کیا کرے گا؟
9 تُو ہمسایہ کے ساتھ اپنے دعویٰ کا چرچا کر لیکن کِسی دُوسرے کا راز فاش نہ کر۔ 10 مبادا جو کوئی اُسے سُنے تُجھے رُسوا کرے اور تیری بدنامی ہوتی رہے۔
11 بامَوقع باتیں رُوپہلی ٹوکریوں میں سونے کے سیب ہیں۔
12 دانا ملامت کرنے والے کی بات سُننے والے کے کان میں سونے کی بالی اور کُندن کا زیور ہے۔
13 وفادار ایلچی اپنے بھیجنے والوں کے لِئے اَیسا ہے جَیسے فصل کاٹنے کے ایّام میں برف کی ٹھنڈک کیونکہ وہ اپنے مالِکوں کی جان کو تازہ دَم کرتا ہے۔
14 جو کِسی جُھوٹی لیاقت پر فخر کرتا ہے وہ بے بارِش بادل اور ہوا کی مانِند ہے۔
15 تحمُّل کرنے سے حاکِم راضی ہو جاتا ہے اور نرم زُبان ہڈّی کو بھی توڑ ڈالتی ہے۔
16 کیا تُو نے شہد پایا؟ تُو اِتنا کھا جِتنا تیرے لِئے کافی ہے مبادا تُو زِیادہ کھا جائے اور اُگل ڈالے۔ 17 اپنے ہمسایہ کے گھر بار بار جانے سے اپنے پاؤں کو روک مبادا وہ دِق ہو کر تُجھ سے نفرت کرے۔
18 جو اپنے ہمسایہ کے خِلاف جُھوٹی گواہی دیتا ہے وہ گُرز اور تلوار اور تیز تِیر ہے۔
19 مُصِیبت کے وقت بے وفا آدمی پر اِعتماد ٹُوٹا دانت اور اُکھڑا پاؤں ہے۔
20 جو کِسی غمگِین کے سامنے گِیت گاتا ہے۔ وہ گویا جاڑے میں کِسی کے کپڑے اُتارتا اور سجّی پر سِرکہ ڈالتا ہے۔
21 اگر تیرا دُشمن بُھوکا ہو تو اُسے روٹی کِھلا اور اگر وہ پیاسا ہو تو اُسے پانی پِلا 22 کیونکہ تُو اُس کے سر پر انگاروں کا ڈھیر لگائے گا اور خُداوند تُجھ کو اجر دے گا۔
23 شِمالی ہوا مینہ کو لاتی ہے اور غِیبت گو زُبان تُرش رُوئی کو۔
24 گھر کی چھت پر ایک کونے میں رہنا جھگڑالُو بِیوی کے ساتھ کُشادہ مکان میں رہنے سے بِہتر ہے۔
25 وہ خُوشخبری جو دُور کے مُلک سے آئے اَیسی ہے جَیسے تھکے ماندہ کی جان کے لِئے ٹھنڈا پانی۔
26 صادِق کا شرِیر کے آگے گِرنا گویا گدلا چشمہ اور ناپاک سوتا ہے۔
27 بُہت شہد کھانا اچھّا نہیں اور اپنی بزُرگی کا طالِب ہونا زیبا نہیں ہے۔
28 جو اپنے نفس پر ضابِط نہیں وہ بے فصِیل اور مِسمار شُدہ شہر کی مانِند ہے۔
1 جِس طرح ایّامِ گرمی میں برف اور دِرَو کے وقت بارِش اُسی طرح احمق کو عِزّت زیب نہیں دیتی۔
2 جِس طرح گوریّا آوارہ پِھرتی اور ابابِیل اُڑتی رہتی ہے اُسی طرح بے سبب لَعنت بے محلّ ہے۔
3 گھوڑے کے لِئے چابُک اور گدھے کے لِئے لگام لیکن احمق کی پِیٹھ کے لِئے چھڑی ہے۔
4 احمق کو اُس کی حماقت کے مُطابِق جواب نہ دے مبادا تُو بھی اُس کی مانِند ہو جائے۔
5 احمق کو اُس کی حماقت کے مُطابِق جواب دے مبادا وہ اپنی نظر میں دانا ٹھہرے۔
6 جو احمق کے ہاتھ پَیغام بھیجتا ہے اپنے پاؤں پر کُلہاڑا مارتا اور نُقصان کا پیالہ پِیتا ہے۔
7 جِس طرح لنگڑے کی ٹانگ لڑکھڑاتی ہے اُسی طرح احمق کے مُنہ میں تمِثیل ہے۔
8 احمق کی تعظِیم کرنے والا گویا جواہِر کو پتّھروں کے ڈھیر میں رکھتا ہے۔
9 احمق کے مُنہ میں تمِثیل شرابی کے ہاتھ میں چُبھنے والے کانٹے کی مانِند ہے۔
10 جو احمقوں اور راہ گُذروں کو مزدُوری پر لگاتا ہے اُس تِیرانداز کی مانِند ہے جو سب کو زخمی کرتا ہے۔
11 جِس طرح کُتّا اپنے اُگلے ہوئے کو پِھر کھاتا ہے اُسی طرح احمق اپنی حماقت کو دُہراتا ہے۔
12 کیا تُو اُس کو جو اپنی نظر میں دانا ہے دیکھتا ہے؟ اُس کے مُقابلہ میں احمق سے زِیادہ اُمِّید ہے۔
13 سُست آدمی کہتا ہے راہ میں شیر ہے۔ شیرِ بَبر گلیوں میں ہے۔
14 جِس مجھطرح دروازہ اپنی چُولوں پر پِھرتا ہے اُسی طرح سُست آدمی اپنے بِستر پر کروٹ بدلتا رہتا ہے۔
15 سُست آدمی اپنا ہاتھ تھالی میں ڈالتا ہے اور اُسے پِھر مُنہ تک لانا اُس کو تھکا دیتا ہے
16 کاہِل اپنی نظر میں دانا ہے بلکہ دلِیل لانے والے سات شخصوں سے بڑھ کر۔
17 جو راستہ چلتے ہُوئے پرائے جھگڑے میں دخل دیتا ہے اُس کی مانِند ہے جو کُتّے کو کان سے پکڑتا ہے۔
18 جَیسا وہ دِیوانہ جو جلتی لکڑیاں اور مَوت کے تِیر پھینکتا ہے 19 وَیسا ہی وہ شخص ہے جو اپنے ہمسایہ کو دغا دیتا ہے اور کہتا ہے مَیں تو دِل لگی کر رہا تھا۔
20 لکڑی نہ ہونے سے آگ بُجھ جاتی ہے سو جہاں غِیبت گو نہیں وہاں جھگڑا مَوقُوف ہو جاتا ہے۔
21 جَیسے انگاروں پر کوئلے اور آگ پر اِیندھن ہے وَیسے ہی جھگڑالُو جھگڑا برپا کرنے کے لِئے ہے۔
22 غِیبت گو کی باتیں لذِیذ نوالے ہیں اور وہ خُوب ہضم ہو جاتی ہیں۔
23 اُلفتی لب بدخواہ دِل کے ساتھ اُس ٹِھیکرے کی مانِند ہیں جِس پر کھوٹی چاندی منڈھی ہو۔
24 کِینہ ور دِل میں دغا رکھتا ہے لیکن اپنی باتوں سے چِھپاتا ہے۔ 25 جب وہ مِیٹھی مِیٹھی باتیں کرے تو اُس کا یقِین نہ کر کیونکہ اُس کے دِل میں کمال نفرت ہے۔ 26 اگرچہ اُس کی بدخواہی مکر میں چِھپی ہے تَو بھی اُس کی بدی جماعت کے رُوبرُو فاش کی جائے گی۔
27 جو گڑھا کھودتا ہے آپ ہی اُس میں گرے گا اور جو پتھّر ڈھلکاتا ہے وہ پلٹ کر اُسی پر پڑے گا۔
28 جُھوٹی زُبان اُن کا کِینہ رکھتی ہے جِن کو اُس نے گھایل کِیا ہے اور چاپلُوس مُنہ تباہی کرتا ہے۔
1 کل کی بابت گھمنڈ نہ کر کیونکہ تُو نہیں جانتا کہ ایک ہی دِن میں کیا ہو گا۔
2 غَیر تیری سِتایش کرے نہ کہ تیرا ہی مُنہ۔ بیگانہ کرے نہ کہ تیرے ہی لب۔
3 پتھّر بھاری ہے اور ریت وزن دار ہے لیکن احمق کا جُھنجھلانا اِن دونوں سے گِران تر ہے۔
4 غضب سخت بے رحمی اور قہر سَیلاب ہے لیکن حسد کے سامنے کَون کھڑا رہ سکتا ہے؟
5 چِھپی مُحبّت سے کھُلی ملامت بِہتر ہے۔
6 جو زخم دوست کے ہاتھ سے لگیں پُر وفا ہیں لیکن دُشمن کے بوسے بااِفراط ہیں۔
7 آسُودہ جان کو شہد کے چھتّے سے بھی نفرت ہے لیکن بُھوکے کے لِئے ہر ایک کڑوی چِیز مِیٹھی ہے۔
8 اپنے مکان سے آوارہ اِنسان اُس چِڑیا کی مانِند ہے جو اپنے آشیانہ سے بھٹک جائے۔
9 جَیسے تیل اور عِطر سے دِل کو فرحت ہوتی ہے وَیسے ہی دوست کی دِلی مشوَرت کی شِیرینی سے۔
10 اپنے دوست اور اپنے باپ کے دوست کو ترک نہ کر اور اپنی مُصِیبت کے دِن اپنے بھائی کے گھر نہ جا کیونکہ ہمسایہ جو نزدِیک ہو اُس بھائی سے جو دُور ہو بِہتر ہے۔
11 اَے میرے بیٹے! دانا بن اور میرے دِل کو شاد کر تاکہ مَیں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکُوں۔
12 ہوشیار بلا کو دیکھ کر چِھپ جاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جاتے اور نُقصان اُٹھاتے ہیں۔
13 جو بیگانہ کا ضامِن ہو اُس کے کپڑے چھین لے اور جو اجنبی کا ضامِن ہو اُس سے کُچھ گِرَو رکھ لے۔
14 جو صُبح سویرے اُٹھ کر اپنے دوست کے لِئے بُلند آواز سے دُعایِ خَیر کرتا ہے اُس کے لِئے یہ لَعنت محسُوب ہو گی۔
15 جھڑی کے دِن کا لگاتار ٹپکا اور جھگڑالُو بِیوی یکسان ہیں۔ 16 جو اُس کو روکتا ہے ہوا کو روکتا ہے اور اُس کا دہنا ہاتھ تیل کو پکڑتا ہے۔
17 جِس طرح لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے اُسی طرح آدمی کے دوست کے چِہرہ کی آب اُسی سے ہے۔
18 جو انجِیر کے درخت کی نِگہبانی کرتا ہے اُس کا میوہ کھائے گا اور جو اپنے آقا کی خِدمت کرتا ہے عِزّت پائے گا۔
19 جِس طرح پانی میں چِہرہ چِہرہ سے مُشابِہ ہے اُسی طرح آدمی کا دِل آدمی سے۔
20 جِس طرح پاتال اور ہلاکت کو آسُودگی نہیں اُسی طرح اِنسان کی آنکھیں سیر نہیں ہوتِیں۔
21 جَیسے چاندی کے لِئے کُٹھالی اور سونے کے لِئے بھٹّی ہے وَیسے ہی آدمی کے لِئے اُس کی سِتایش ہے۔
22 اگرچہ تُو احمق کو اناج کے ساتھ اُکھلی میں ڈال کر مُوسل سے کُوٹے تَو بھی اُس کی حماقت اُس سے کبھی جُدا نہ ہو گی۔
23 اپنے ریوڑوں کا حال دریافت کرنے میں دِل لگا اور اپنے گلّوں کو اچھّی طرح سے دیکھ 24 کیونکہ دَولت سدا نہیں رہتی اور کیا تاجوری پُشت در پُشت قائِم رہتی ہے؟ 25 سُوکھی گھاس جمع کی جاتی ہے۔ پِھر سبزہ نمایاں ہوتا ہے اور پہاڑوں پر سے چارہ کاٹ کر فراہم کِیا جاتا ہے۔ 26 برّے تیری پوشِش کے لِئے ہیں اور بکریاں تیرے مَیدانوں کی قِیمت ہیں 27 اور بکریوں کا دُودھ تیری اور تیرے خاندان کی خُوراک اور تیری لَونڈیوں کی گُذران کے لِئے کافی ہے۔
1 اگرچہ کوئی شرِیر کا پِیچھا نہ کرے تَو بھی وہ بھاگتا ہے لیکن صادِق شیرِ بَبر کی مانِند دلیر ہے۔
2 مُلک کی خطاکاری کے سبب سے حاکِم بُہت سے ہیں لیکن صاحب عِلم و فہم سے اِنتظام بحال رہے گا۔
3 مِسکِین پر ظُلم کرنے والا کنگال مُوسلا دھار مینہ ہے جو ایک دانہ بھی نہیں چھوڑتا۔
4 شرِیعت کو ترک کرنے والے شرِیروں کی تعرِیف کرتے ہیں لیکن شرِیعت پر عمل کرنے والے اُن کا مُقابلہ کرتے ہیں۔
5 شرِیر عدل سے آگاہ نہیں لیکن خُداوند کے طالِب سب کُچھ سمجھتے ہیں۔
6 راست رَو مِسکِین کج رَو دَولت مند سے بِہتر ہے۔
7 تعلِیم پر عمل کرنے والا دانا بیٹا ہے لیکن مُسرِفوں کا ہم نشِین اپنے باپ کو رُسوا کرتا ہے۔
8 جو ناجائِز سُود اور نفع سے اپنی دَولت بڑھاتا ہے وہ مِسکِینوں پر رحم کرنے والے کے لِئے جمع کرتا ہے۔
9 جو کان پھیر لیتا ہے کہ شرِیعت کو نہ سُنے اُس کی دُعا بھی نفرت انگیز ہے۔
10 جو کوئی صادِق کو گُمراہ کرتا ہے تاکہ وہ بُری راہ پر چلے وہ اپنے گڑھے میں آپ ہی گِرے گا لیکن کامِل لوگ اچھّی چِیزوں کے وارِث ہوں گے۔
11 مال دار اپنی نظر میں دانا ہے لیکن عقل مند مِسکِین اُسے پرکھ لیتا ہے۔
12 جب صادِق فتح یاب ہوتے ہیں تو بڑی دُھوم دھام ہوتی ہے لیکن جب شرِیر برپا ہوتے ہیں تو آدمی ڈھُونڈے نہیں مِلتے۔
13 جو اپنے گُناہوں کو چِھپاتا ہے کامیاب نہ ہو گا لیکن جو اُن کا اِقرار کر کے اُن کو ترک کرتا ہے اُس پر رحمت ہو گی۔
14 مُبارک ہے وہ آدمی جو سدا ڈرتا رہتا ہے لیکن جو اپنے دِل کو سخت کرتا ہے مُصِیبت میں پڑے گا۔
15 مِسکِینوں پر شرِیر حاکِم گرجتے ہُوئے شیر اور شِکار کے طالِب رِیچھ کی مانِند ہے۔
16 بے عقل حاکِم بھی بڑا ظالِم ہے لیکن جو لالچ سے نفرت رکھتا ہے اُس کی عُمر دراز ہو گی۔
17 جِس کے سر پر کِسی کا خُون ہے وہ گڑھے کی طرف بھاگے گا۔ اُسے کوئی نہ روکے۔
18 جو راست رَو ہے رہائی پائے گا لیکن کج رَو ناگہان گِر پڑے گا۔
19 جو اپنی زمِین میں کاشت کاری کرتا ہے روٹی سے سیر ہو گا لیکن بطالت کا پَیرو بُہت کنگال ہو جائے گا۔
20 دِیانت دار آدمی برکتوں سے معمُور ہو گا لیکن جو دَولت مند ہونے کے لِئے جلدی کرتا ہے بے سزا نہ چُھوٹے گا۔
21 طرف داری کرنا خُوب نہیں اور نہ یہ کہ آدمی روٹی کے ٹُکڑے کے لِئے گُناہ کرے۔
22 تنگ چشم دَولت جمع کرنے میں جلدی کرتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اِفلاس اُسے آ دبائے گا۔
23 آدمی کو سرزنِش کرنے والا آخِر کار زُبانی خُوشامد کرنے والے سے زِیادہ مقبُول ٹھہرے گا۔
24 جو کوئی اپنے والِدَین کو لُوٹتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ گُناہ نہیں وہ غارت گر کا ساتھی ہے۔
25 جِس کے دِل میں لالچ ہے وہ جھگڑا برپا کرتا ہے لیکن جِس کا توکُّل خُداوند پر ہے وہ فربہ کِیا جائے گا۔
26 جو اپنے ہی دِل پر بھروسا رکھتا ہے بیوُقُوف ہے لیکن جو دانائی سے چلتا ہے رہائی پائے گا۔
27 جو مِسکِینوں کو دیتا ہے مُحتاج نہ ہو گا لیکن جو آنکھ چُراتا ہے بُہت ملعُون ہو گا۔
28 جب شرِیر برپا ہوتے ہیں تو آدمی ڈھُونڈے نہیں مِلتے لیکن جب وہ فنا ہوتے ہیں تو صادِق ترقّی کرتے ہیں۔
1 جو بار بار تنبِیہ پا کر بھی گردن کشی کرتا ہے ناگہان برباد کِیا جائے گا اور اُس کا کوئی چارہ نہ ہو گا۔
2 جب صادِق اِقبال مند ہوتے ہیں تو لوگ خُوش ہوتے ہیں لیکن جب شرِیر اِقتدار پاتے ہیں تو لوگ آہیں بھرتے ہیں۔
3 جو کوئی حِکمت سے اُلفت رکھتا ہے اپنے باپ کو خُوش کرتا ہے
لیکن جو کسبیوں سے صُحبت رکھتا ہے اپنا مال اُڑاتا ہے۔
4 بادشاہ عدل سے اپنی مُملِکت کو قِیام بخشتا ہے لیکن رِشوت سِتان اُس کو وِیران کرتا ہے۔
5 جو اپنے ہمسایہ کی خُوشامد کرتا ہے اُس کے پاؤں کے لِئے جال بِچھاتا ہے۔
6 بدکردار کے گُناہ میں پھندا ہے لیکن صادِق گاتا اور خُوشی کرتا ہے
7 صادِق مِسکیِنوں کے مُعاملہ کا خیال رکھتا ہے لیکن شرِیر میں اُس کو جاننے کی لِیاقت نہیں۔
8 ٹھٹّھاباز شہر میں آگ لگاتے ہیں لیکن دانا قہر کو دُور کر دیتے ہیں۔
9 اگر دانا احمق سے مُباحثہ کرے تو خواہ وہ قہر کرے خواہ ہنسے کُچھ اِطمِینان نہ ہو گا۔
10 خُون ریز لوگ کامِل آدمی سے کِینہ رکھتے ہیں لیکن راست کار اُس کی جان بچانے کا قصد کرتے ہیں۔
11 احمق اپنا قہر اُگل دیتا ہے لیکن دانا اُس کو روکتا اور پی جاتا ہے۔
12 اگر کوئی حاکِم جُھوٹ پر کان لگاتا ہے تو اُس کے سب خادِم شرِیر ہو جاتے ہیں۔
13 مِسکِین اور زبردست ایک دُوسرے سے مِلتے ہیں اور خُداوند دونوں کی آنکھیں روشن کرتا ہے۔
14 جو بادشاہ دِیانت داری سے مِسکِینوں کی عدالت کرتا ہے اُس کا تخت ہمیشہ قائِم رہتا ہے۔
15 چھڑی اور تنبِیہ حِکمت بخشتی ہیں لیکن جو لڑکا بے تربِیّت چھوڑ دِیا جاتا ہے اپنی ماں کو رُسوا کرے گا۔
16 جب شرِیر اِقبال مند ہوتے ہیں تو بدی زِیادہ ہوتی ہے لیکن صادِق اُن کی تباہی دیکھیں گے۔
17 اپنے بیٹے کی تربِیّت کر اور وہ تُجھے آرام دے گا اور تیری جان کو شادمان کرے گا۔
18 جہاں رویا نہیں وہاں لوگ بے قَید ہو جاتے ہیں لیکن شرِیعت پر عمل کرنے والا مُبارک ہے۔
19 نَوکر باتوں ہی سے نہیں سُدھرتا کیونکہ اگرچہ وہ سمجھتا ہے تَو بھی پروا نہیں کرتا۔
20 کیا تُو بے تامُّل بولنے والے کو دیکھتا ہے؟ اُس کے مُقابلہ میں احمق سے زِیادہ اُمِّید ہے۔
21 جو اپنے خانہ زاد کو لڑکپن سے ناز میں پالتا ہے وہ آخِر کار اُس کا بیٹا بن بَیٹھے گا۔
22 قہر آلُودہ آدمی فِتنہ برپا کرتا ہے اور غضب ناک گُناہ میں زیادتی کرتا ہے۔
23 آدمی کا غُرُور اُس کو پست کرے گا لیکن جو دِل سے فروتن ہے عِزّت حاصِل کرے گا۔
24 جو کوئی چور کا شرِیک ہوتا ہے اپنی جان سے دُشمنی رکھتا ہے۔ وہ حلف اُٹھاتا ہے اور حال بیان نہیں کرتا۔
25 اِنسان کا ڈر پھندا ہے لیکن جو کوئی خُداوند پر توکُّل کرتا ہے محفُوظ رہے گا۔
26 حاکِم کی مِہربانی کے طالِب بُہت ہیں لیکن اِنسان کا فَیصلہ خُداوند کی طرف سے ہے۔
27 صادِق کو بے اِنصاف سے نفرت ہے اور شرِیر کو راست رَو سے۔
اجُور کے مقُولے
1 یاقہ کے بیٹے اجُور کے پَیغام کی باتیں:- اُس آدمی نے اِتی ایل ہاں اِتی ایل اور اُکال سے کہا
2 یقِیناً مَیں ہر ایک اِنسان سے زِیادہ حَیوان ہُوں
اور اِنسان کا سا فہم مُجھ میں نہیں۔
3 مَیں نے حِکمت نہیں سِیکھی
اور نہ مُجھے اُس قدُّوس کا عِرفان حاصِل ہے۔
4 کَون آسمان پر چڑھا اور پِھر نِیچے اُترا؟
کِس نے ہوا کو اپنی مُٹھّی میں جمع کر لِیا؟
کِس نے پانی کو چادر میں باندھا؟
کِس نے زمِین کی حدُود ٹھہرائیں؟
اگر تُو جانتا ہے تو بتا اُس کا کیا نام ہے اور اُس کے بیٹے
کا کیا نام ہے؟
5 خُدا کا ہر ایک سُخن پاک ہے۔ وہ اُن کی سِپر ہے جِن کا توکُّل اُس پر ہے 6 تُو اُس کے کلام میں کُچھ نہ بڑھانا۔ مبادا وہ تُجھ کو تنبِیہ کرے اور تُو جُھوٹا ٹھہرے۔
مزید ضرب الامثال
7 مَیں نے تُجھ سے دو باتوں کی درخواست کی ہے میرے مَرنے سے پہلے اُن کو مُجھ سے دریغ نہ کر۔ 8 بطالت اور دروغ گوئی کو مُجھ سے دُور کر دے اور مُجھ کو نہ کنگال کر نہ دَولت مند۔ میری ضرُورت کے مُطابِق مُجھے روزی دے۔ 9 اَیسا نہ ہو کہ مَیں سیر ہو کر اِنکار کرُوں اور کہُوں خُداوند کَون ہے؟ یا مبادا مُحتاج ہو کر چوری کرُوں اور اپنے خُدا کے نام کی تکفِیر کرُوں۔
10 خادِم پر اُس کے آقا کے حضُور تُہمت نہ لگا تا نہ ہو کہ وہ تُجھ پر لَعنت کرے اور تُو مُجرِم ٹھہرے۔
11 ایک پُشت اَیسی ہے جو اپنے باپ پر لَعنت کرتی ہے اور اپنی ماں کو مُبارک نہیں کہتی۔
12 ایک پُشت اَیسی ہے جو اپنی نِگاہ میں پاک ہے لیکن اُس کی گندگی اُس سے دھوئی نہیں گئی۔
13 ایک پُشت اَیسی ہے کہ واہ وا کیا ہی بُلند نظر ہے! اور اُن کی پلکیں اُوپر کو اُٹھی رہتی ہیں۔
14 ایک پُشت اَیسی ہے جِس کے دانت تلواریں ہیں اور ڈاڑھیں چُھریاں تاکہ زمِین کے مِسکِینوں اور بنی آدمؔ کے کنگالوں کو کھا جائیں۔
15 جونک کی دو بیٹیاں ہیں جو دے! دے! چِلاّتی ہیں۔
تِین ہیں جو کبھی سیر نہیں ہوتِیں بلکہ چار ہیں جو کبھی ”بس“ نہیں کہتِیں۔
16 پاتال
اور بانجھ کا رَحِم
اور زمِین جو سیراب نہیں ہُوئی
وہ آگ جو کبھی ”بس“ نہیں کہتی۔
17 وہ آنکھ جو اپنے باپ کی ہنسی کرتی ہے اور اپنی ماں کی فرمانبرداری کو حقِیر جانتی ہے وادی کے کوّے اُس کو اُچک لے جائیں گے اور گِدھ کے بچّے اُسے کھائیں گے۔
18 تِین چِیزیں میرے نزدِیک بُہت ہی عجِیب ہیں بلکہ چار ہیں جِن کو مَیں نہیں جانتا۔
19 عُقاب کی راہ ہوا میں
اور سانپ کی راہ چٹان پر
اور جہاز کی راہ سمُندر میں
اور مَرد کی روِش جوان عَورت کے ساتھ۔
20 زانِیہ کی راہ اَیسی ہی ہے۔ وہ کھاتی ہے اور اپنا مُنہ پونچھتی ہے اور کہتی ہے مَیں نے کُچھ بُرائی نہیں کی۔
21 تِین چِیزوں سے زمِین لرزان ہے بلکہ چار ہیں جِن کی وہ برداشت نہیں کر سکتی۔
22 غُلام سے جو بادشاہی کرنے لگے
اور احمق سے جب اُس کا پیٹ بھرے
23 اور نامقبُول عَورت سے جب وہ بیاہی جائے
اور لَونڈی سے جو اپنی بی بی کی وارِث ہو۔
24 چار ہیں جو زمِین پر ناچِیز ہیں لیکن بُہت دانا ہیں۔
25 چیونٹیاں کمزور مخلُوق ہیں تَو بھی گرمی میں اپنے
لِئے خُوراک جمع کر رکھتی ہیں
26 اور سافان اگرچہ ناتوان مخلُوق ہیں تَو بھی چٹانوں
کے درمیان اپنے گھر بناتے ہیں
27 اور ٹِڈّیاں جِن کا کوئی بادشاہ نہیں تَو بھی وہ پرے
باندھ کر نِکلتی ہیں
28 اور چِھپکلی جو اپنے ہاتھوں سے پکڑتی ہے اور تَو
بھی شاہی محلّوں میں ہے۔
29 تِین خُوش رفتار ہیں بلکہ چار جِن کا چلنا خُوش نُما ہے۔
30 ایک تو شیرِ بَبر جو سب حَیوانات میں بہادُر ہے
اور کِسی کو پِیٹھ نہیں دِکھاتا۔
31 جنگی گھوڑا اور بکرا اور بادشاہ جِس کا سامنا کوئی
نہ کرے۔
32 اگر تُو نے حماقت سے اپنے آپ کو بڑا ٹھہرایا ہے یا تُو نے کوئی بُرا منصُوبہ باندھا ہے تو ہاتھ اپنے مُنہ پر رکھ 33 کیونکہ یقِیناً دُودھ بِلونے سے مکّھن نِکلتا ہے اور ناک مروڑنے سے لُہو۔ اِسی طرح قہر بھڑکانے سے فساد برپا ہوتا ہے۔
بادشاہ کے لِئے نصِیحت
1 لموایل بادشاہ کے پَیغام کی باتیں جو اُس کی ماں نے اُسے سِکھائِیں:-
2 اَے میرے بیٹے! اَے میرے رَحِم کے بیٹے! تُجھے جِسے مَیں نے نذریں مان کر پایا کیا کہُوں؟ 3 اپنی قُوّت عَورتوں کو نہ دے اور اپنی راہیں بادشاہوں کو بِگاڑنے والیوں کی طرف نہ نِکال۔ 4 بادشاہوں کو اَے لمواؔیل! بادشاہوں کو مَے خواری زیبا نہیں اور شراب کی تلاش حاکِموں کو شایان نہیں۔ 5 مبادا وہ پی کر قوانِین کو بُھول جائیں اور کِسی مظلُوم کی حق تلفی کریں۔ 6 شراب اُس کو پِلاؤ جو مَرنے پر ہے اور مَے اُس کو جو تلخ جان ہے 7 تاکہ وہ پِئے اور اپنی تنگ دستی فراموش کرے اور اپنی تباہ حالی کو پِھر یاد نہ کرے۔
8 اپنا مُنہ گُونگے کے لِئے کھول۔ اُن سب کی وکالت کو جو بیکس ہیں۔ 9 اپنا مُنہ کھول۔ راستی سے فَیصلہ کر اور مِسکِینوں اور مُحتاجوں کا اِنصاف کر۔
سُگھڑ بیوی
10 نیکوکار بِیوی کِس کو مِلتی ہے؟ کیونکہ اُس کی قدر مرجان سے بھی بُہت زیادہ ہے۔
11 اُس کے شَوہر کے دِل کو اُس پر اِعتماد ہے اور اُسے منافِع کی کمی نہ ہو گی۔
12 وہ اپنی عُمر کے تمام ایّام میں اُس سے نیکی ہی کرے گی۔ بدی نہ کرے گی۔
13 وہ اُون اور کتان ڈھُونڈتی ہے اور خُوشی کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے کام کرتی ہے۔
14 وہ سَوداگروں کے جہازوں کی مانِند ہے۔ وہ اپنی خُورِش دُور سے لے آتی ہے۔
15 وہ رات ہی کو اُٹھ بَیٹھتی ہے اور اپنے گھرانے کو کِھلاتی ہے اور اپنی لَونڈِیوں کو کام دیتی ہے
16 وہ کِسی کھیت کی بابت سوچتی ہے اور اُسے خرِید لیتی ہے اور اپنے ہاتھوں کے نفع سے تاکِستان لگاتی ہے۔
17 وہ مضبُوطی سے اپنی کمر باندھتی ہے اور اپنے بازُوؤں کو مضبُوط کرتی ہے۔
18 وہ اپنی سَوداگری کو سُودمند پاتی ہے۔ رات کو اُس کا چراغ نہیں بُجھتا۔
19 وہ تکلے پر اپنے ہاتھ چلاتی ہے اور اُس کے ہاتھ اٹیرن پکڑتے ہیں۔
20 وہ مُفلِسوں کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتی ہے ہاں وہ اپنے ہاتھ مُحتاجوں کی طرف بڑھاتی ہے۔
21 وہ اپنے گھرانے کے لئے برف سے نہیں ڈرتی کیونکہ اُس کے خاندان میں ہر ایک سُرخ پوش ہے۔
22 وہ اپنے لِئے نِگارِین بالاپوش بناتی ہے۔ اُس کی پوشاک مہِین کتانی اور ارغوانی ہے۔
23 اُس کا شَوہر پھاٹک میں مشہُور ہے جب وہ مُلک کے بزُرگوں کے ساتھ بَیٹھتا ہے۔
24 وہ مہِین کتانی کپڑے بنا کر بیچتی ہے اور پٹکے سَوداگروں کے حوالہ کرتی ہے۔
25 عِزّت اور حُرمت اُس کی پوشاک ہیں اور وہ آیندہ ایّام پر ہنستی ہے۔
26 اُس کے مُنہ سے حِکمت کی باتیں نِکلتی ہیں۔ اُس کی زُبان پر شفقت کی تعلِیم ہے۔
27 وہ اپنے گھرانے پر بخُوبی نِگاہ رکھتی ہے اور کاہِلی کی روٹی نہیں کھاتی۔
28 اُس کے بیٹے اُٹھتے ہیں اور اُسے مُبارک کہتے ہیں۔ اُس کا شَوہر بھی اُس کی تعرِیف کرتا ہے
29 کہ بُہتیری بیٹیوں نے فضِیلت دِکھائی ہے لیکن تُو سب پر سبقت لے گئی۔
30 حُسن دھوکا اور جمال بے ثبات ہے لیکن وہ عَورت جو خُداوند سے ڈرتی ہے ستُودہ ہو گی۔
31 اُس کی محِنت کا اجر اُسے دو اور اُس کے کاموں سے مجلِس میں اُس کی سِتایش ہو۔