زبُور

کتابِ زبُور بائبل کا ایک اہم حصہ ہے، جو داؤد کی حمد، دعا، اور خدا کے ساتھ تعلقات کی گہری عکاسی کرتی ہے۔ زبُور کی کتاب میں موجود اشعار اور دعائیں انسان کے دل کی گہرائیوں کو ظاہر کرتی ہیں، جہاں ہر قسم کے جذبات جیسے خوشی، غم، شکایت اور شکرگزاری کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ کتاب خدا کی عظمت، انسان کی عاجزی اور اس کے ساتھ تعلق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ زبُور میں دعا کی طاقت، ایمان کی گہرائی اور خدا کی ہدایت پر بھروسہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

پہلی کِتاب
(زبُور ۱‏—۱۴)
حقیِقی مُبارک حالی
1 مُبارک ہے وہ آدمی جو شرِیروں کی صلاح پر نہیں چلتا
اور خطاکاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا
اور ٹھٹّھابازوں کی مجلِس میں نہیں بَیٹھتا
2 بلکہ خُداوند کی شرِیعت میں اُس کی خُوشنُودی ہے
اور اُسی کی شرِیعت پر دِن رات اُس کا دِھیان رہتا ہے۔
3 وہ اُس درخت کی مانِند ہو گا جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے۔
جو اپنے وقت پر پھلتا ہے
اور جِس کا پتّا بھی نہیں مُرجھاتا۔
سو جو کُچھ وہ کرے باروَر ہو گا۔
4 شرِیر اَیسے نہیں
بلکہ وہ بُھوسے کی مانِند ہیں جِسے ہوا اُڑا لے جاتی ہے۔
5 اِس لِئے شرِیر عدالت میں قائِم نہ رہیں گے
نہ خطاکار صادِقوں کی جماعت میں۔
6 کیونکہ خُداوند صادِقوں کی راہ جانتا ہے
پر شرِیروں کی راہ نابُود ہو جائے گی۔
خُدا کا برگزُیدہ بادشاہ
1 قَومیں کِس لِئے طَیش میں ہیں
اور لوگ کیوں باطِل خیال باندھتے ہیں؟
2 خُداوند اور اُس کے مسِیح کے خِلاف
زمِین کے بادشاہ صف آرائی کر کے
اور حاکِم آپس میں مشوَرہ کر کے کہتے ہیں
3 آؤ ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں
اور اُن کی رسِّیاں اپنے اُوپر سے اُتار پھینکیں۔
4 وہ جو آسمان پر تخت نشِین ہے ہنسے گا۔
خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائے گا۔
5 تب وہ اپنے غضب میں اُن سے کلام کرے گا
اور اپنے قہرِ شدِید میں اُن کو پریشان کر دے گا۔
6 مَیں تو اپنے بادشاہ کو
اپنے کوہِ مُقدّس صِیُّون پر بِٹھا چُکا ہُوں۔
7 مَیں اُس فرمان کو بیان کرُوں گا۔
خُداوند نے مُجھ سے کہا تُو میرا بیٹا ہے۔
آج تُو مُجھ سے پَیدا ہُؤا۔
8 مُجھ سے مانگ اور مَیں قَوموں کو تیری مِیراث کے لِئے
اور زمِین کے اِنتِہائی حِصّے تیری مِلکِیّت کے لِئے تُجھے بخشُوں گا۔
9 تُو اُن کو لوہے کے عصا سے توڑے گا۔
کُمہار کے برتن کی طرح تُو اُن کو چکنا چُور کر ڈالے گا۔
10 پس اب اَے بادشاہو! دانِش مند بنو۔
اَے زمِین کے عدالت کرنے والو تربِیّت پاؤ۔
11 ڈرتے ہُوئے خُداوند کی عِبادت کرو۔
کانپتے ہُوئے خُوشی مناؤ۔
12 بیٹے کو چُومو۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ قہر میں آئے
اور تُم راستہ میں ہلاک ہو جاؤ
کیونکہ اُس کا غضب جلد بھڑکنے کو ہے۔
مُبارک ہیں وہ سب جِن کا توکُّل اُس پر ہے۔
مدد کے لِئے صُبح کی دُعا
داؤُد کا مزمُور جب وہ اپنے بیٹے ابی سلوم کے سامنے سے بھاگا۔
1 اَے خُداوند میرے ستانے والے کِتنے بڑھ گئے!
وہ جو میرے خِلاف اُٹھتے ہیں بُہت ہیں۔
2 بُہت سے میری جان کے بارے میں کہتے ہیں
کہ خُدا کی طرف سے اُس کی کُمک نہ ہو گی۔ (سِلاہ)
3 لیکن تُو اَے خُداوند! ہر طرف میری سِپر ہے۔
میرا فخر اور سرفراز کرنے والا۔
4 مَیں بُلند آواز سے خُداوند کے حضُور فریاد کرتا ہُوں
اور وہ اپنے کوہِ مُقدّس پر سے مُجھے جواب دیتا ہے۔ (سِلاہ)
5 مَیں لیٹ کر سو گیا۔
مَیں جاگ اُٹھا کیونکہ خُداوند مُجھے سنبھالتا ہے۔
6 مَیں اُن دس ہزار آدمِیوں سے نہیں ڈرنے کا
جو گِرداگِرد میرے خِلاف صف بستہ ہیں۔
7 اُٹھ اَے خُداوند! اَے میرے خُدا! مُجھے بچا لے!
کیونکہ تُو نے میرے سب دُشمنوں کو جبڑے پر مارا ہے۔
تُو نے شرِیروں کے دانت توڑ ڈالے ہیں۔
8 نجات خُداوند کی طرف سے ہے۔
تیرے لوگوں پر تیری برکت ہو! (سِلاہ)
مدد کے لِئے شام کی دُعا
مِیر مُغنّی کے لِئے تاردار سازوں کے ساتھ داؤُد کا مزمُور۔
1 جب مَیں پکارُوں تو مُجھے جواب دے۔ اَے میری صداقت کے خُدا!
تنگی میں تُو نے مُجھے کُشادگی بخشی۔ مُجھ پر رحم کر اور میری دُعا سُن لے۔
2 اَے بنی آدمؔ! کب تک میری عِزّت کے بدلے رُسوائی ہو گی؟
تُم کب تک بطالت سے مُحبّت رکھّو گے اور جُھوٹ کے درپَے رہو گے؟ (سِلاؔہ)
3 جان رکھّو کہ خُداوند نے دِین دار کو اپنے لِئے الگ کر رکھّا ہے۔
جب مَیں خُداوند کو پکارُوں گا تو وہ سُن لے گا۔
4 تھرتھراؤ اور گُناہ نہ کرو۔
اپنے اپنے بِستر پر دِل میں سوچو اور خاموش رہو۔ (سِلاہ)
5 صداقت کی قُربانِیاں گُذرانو
اور خُداوند پر توکُّل کرو۔
6 بُہت سے کہتے ہیں کَون ہم کو کُچھ بھلائی دِکھائے گا؟
اَے خُداوند تُو اپنے چہرہ کا نُور ہم پر جلوہ گر فرما۔
7 تُو نے میرے دِل کو اُس سے زِیادہ خُوشی بخشی ہے
جو اُن کو غلّہ اور مَے کی فراوانی سے ہوتی تھی۔
8 مَیں سلامتی سے لیٹ جاؤُں گا اور سو رہُوں گا
کیونکہ اَے خُداوند! فقط تُو ہی مُجھے مُطمئن رکھتا ہے۔
مُحافظت کے لِئے دُعا
مِیر مُغنّی کے لِئے بانسلیوں کے ساتھ داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند میری باتوں پر کان لگا!
میری آہوں پر توجُّہ کر!
2 اَے میرے بادشاہ! اَے میرے خُدا! میری
فریاد کی آواز کی طرف مُتوجِّہ ہو
کیونکہ مَیں تُجھ ہی سے دُعا کرتا ہُوں۔
3 اَے خُداوند! تُو صُبح کو میری آواز سُنے گا۔
مَیں سویرے ہی تُجھ سے دُعا کر کے اِنتظار کرُوں گا
4 کیونکہ تُو اَیسا خُدا نہیں جو شرارت سے خُوش ہو۔
بدی تیرے ساتھ نہیں رہ سکتی۔
5 گُھمنڈی تیرے حضُور کھڑے نہ ہوں گے۔
تُجھے سب بدکرداروں سے نفرت ہے۔
6 تُو اُن کو جو جُھوٹ بولتے ہیں ہلاک کرے گا۔
خُداوند کو خُون خوار اور دغاباز آدمی سے کراہِیت ہے۔
7 لیکن مَیں تیری شفقت کی کثرت سے تیرے گھر میں آؤُں گا۔
مَیں تیرا رُعب مان کر تیری مُقدّس ہَیکل کی طرف رُخ کر کے سِجدہ کرُوں گا۔
8 اَے خُداوند! میرے دُشمنوں کے سبب سے مُجھے اپنی صداقت میں چلا۔
میرے آگے آگے اپنی راہ کو صاف کر دے
9 کیونکہ اُن کے مُنہ میں ذرا سچّائی نہیں۔
اُن کا باطِن محض شرارت ہے۔
اُن کا گلا کُھلی قبر ہے۔
وہ اپنی زُبان سے خُوشامد کرتے ہیں۔
10 اَے خُدا! تُو اُن کو مُجرِم ٹھہرا۔
وہ اپنے ہی مشوَروں سے تباہ ہوں۔
اُن کو اُن کے گُناہوں کی کثرت کے سبب سے خارِج کر دے
کیونکہ اُنہوں نے تُجھ سے سرکشی کی ہے۔
11 لیکن وہ سب جو تُجھ پر بھروسا رکھتے ہیں شادمان ہوں۔
وہ سدا خُوشی سے للکاریں کیونکہ تُو اُن کی حِمایت کرتا ہے۔
اور جو تیرے نام سے مُحبّت رکھتے ہیں تُجھ میں شاد رہیں
12 کیونکہ تُو صادِق کو برکت بخشے گا۔
اَے خُداوند! تُو اُسے کرم سے سِپر کی طرح ڈھانک لے گا۔
مُصیِبت میں مدد کے لِئے فریاد
مِیر مُغنّی کے لِئے تاردار سازوں کے ساتھ شمِینیؔت کے سُر پر داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! تُو مُجھے اپنے قہر میں نہ جِھڑک
اور اپنے غَیظ و غضب میں مُجھے تنبِیہ نہ دے۔
2 اَے خُداوند! مُجھ پر رحم کر کیونکہ مَیں پژمُردہ ہو گیا ہُوں۔
اَے خُداوند مُجھے شِفا دے کیونکہ میری ہڈِّیوں میں بے قراری ہے۔
3 میری جان بھی نِہایت بے قرار ہے
اور تُو اَے خُداوند! کب تک؟
4 لَوٹ اَے خُداوند! میری جان کو چُھڑا۔
اپنی شفقت کی خاطِر مُجھے بچا لے۔
5 کیونکہ مَوت کے بعد تیری یاد نہیں ہوتی
قبر میں کَون تیری شُکرگُذاری کرے گا؟
6 مَیں کراہتے کراہتے تھک گیا۔
مَیں اپنا پلنگ آنسُوؤں سے بِھگوتا ہُوں۔
ہر رات میرا بِستر تَیرتا ہے۔
7 میری آنکھ غم کے مارے بَیٹھی جاتی ہے
اور میرے سب مُخالِفوں کے سبب سے دُھندلانے لگی۔
8 اَے سب بدکردارو! میرے پاس سے دُور ہو
کیونکہ خُداوند نے میرے رونے کی آواز سُن لی ہے۔
9 خُداوند نے میری مِنّت سُن لی۔
خُداوند میری دُعا قبُول کرے گا۔
10 میرے سب دُشمن شرمِندہ اور نِہایت بے قرار ہوں گے۔
وہ لَوٹ جائیں گے۔ وہ دفعتہ شرمِندہ ہوں گے۔
عَدل و اِنصاف کے لِئے دُعا
داؤُد کا شِگایُون جِسے اُس نے بِنیمنی کُوش کی باتوں کے سبب سے خُداوند کے حضُور گایا۔
1 اَے خُداوند میرے خُدا! میرا توکُّل تُجھ پر ہے۔
سب پِیچھا کرنے والوں سے مُجھے بچا اور چُھڑا۔
2 اَیسا نہ ہو کہ وہ شیرِ بَبر کی طرح میری جان کو پھاڑے۔
وہ اُسے ٹُکڑے ٹُکڑے کر دے اور کوئی چُھڑانے والا نہ ہو۔
3 اَے خُداوند میرے خُدا! اگر مَیں نے یہ کِیا ہو۔
اگر میرے ہاتھوں سے بدی ہُوئی ہو۔
4 اگر مَیں نے اپنے میل رکھنے والے سے بھلائی کے بدلے بُرائی کی ہو
(بلکہ مَیں نے تو اُسے جو ناحق میرا مُخالِف تھا بچایا ہے)
5 تو دُشمن میری جان کا پِیچھا کر کے اُسے آ پکڑے
بلکہ وہ میری زِندگی کو پامال کر کے مِٹّی میں
اور میری عِزّت کو خاک میں مِلا دے۔ (سِلاہ)
6 اَے خُداوند! اپنے قہر میں اُٹھ۔
میرے مُخالِفوں کے غضب کے مُقابلہ میں تُو کھڑا ہو جا
اور میرے لِئے جاگ۔ تُو نے اِنصاف کا حُکم تو دے دِیا ہے۔
7 تیرے چَوگِرد قَوموں کا اِجتماع ہو
اور تُو اُن کے اُوپر عالمِ بالا کو لَوٹ جا۔
8 خُداوند قَوموں کا اِنصاف کرتا ہے۔
اَے خُداوند! اُس صداقت و راستی کے مُطابِق
جو مُجھ میں ہے میری عدالت کر۔
9 کاش کہ شرِیروں کی بدی کا خاتِمہ ہو جائے پر صادِق کو تُو قیام بخش
کیونکہ خُدایِ صادِق دِلوں اور گُردوں کو جانچتا ہے۔
10 میری سِپر خُدا کے ہاتھ میں ہے
جو راست دِلوں کو بچاتا ہے۔
11 خُدا صادِق مُنصف ہے
بلکہ اَیسا خُدا جو ہر روز قہر کرتا ہے۔
12 اگر آدمی باز نہ آئے تُو وہ اپنی تلوار تیز کرے گا۔
اُس نے اپنی کمان پر چِلّہ چڑھا کر اُسے تیّار کر لِیا ہے۔
13 اُس نے اُس کے لِئے مَوت کے ہتھیار بھی تیّار کِئے ہیں۔
وہ اپنے تِیروں کو آتِشی بناتا ہے۔
14 دیکھو اُسے بدی کا دردِ زِہ لگا ہے!
بلکہ وہ شرارت سے باردار ہُؤا اور اُس سے جُھوٹ پَیدا ہُوا۔
15 اُس نے گڑھا کھود کر اُسے گہرا کِیا
اور اُس خندق میں جو اُس نے بنائی تھی خُود گِرا۔
16 اُس کی شرارت اُلٹی اُسی کے سر پر آئے گی۔
اُس کا ظُلم اُسی کی کھوپڑی پر نازِل ہو گا۔
17 خُداوند کی صداقت کے مُطابِق مَیں اُس کا شُکر کرُوں گا
اور خُداوند تعالیٰ کے نام کی تعرِیف گاؤُں گا۔
خُدا کی تمجِید اور اِنسان کا وقار
مِیر مُغنّی کے لِئے گِتّیت کے سُر پر داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند ہمارے رب!
تیرا نام تمام زمِین پر کَیسا بزُرگ ہے!
تُو نے اپنا جلال آسمان پر قائِم کِیا ہے۔
2 تُو نے اپنے مُخالِفوں کے سبب سے
بچّوں اور شِیرخواروں کے مُنہ سے قُدرت کو قائِم کِیا
تاکہ تُو دُشمن اور اِنتقام لینے والے کو خاموش کر دے۔
3 جب مَیں تیرے آسمان پر جو تیری دست کاری ہے
اور چاند اور سِتاروں پر جِن کو تُو نے مُقرّر کِیا
غَور کرتا ہُوں
4 تو پِھر اِنسان کیا ہے کہ تُو اُسے یاد رکھّے
اور آدمؔ زاد کیا ہے کہ تُو اُس کی خبر لے؟
5 کیونکہ تُو نے اُسے خُدا سے کُچھ ہی کمتر بنایا ہے
اور جلال اور شَوکت سے اُسے تاج دار کرتا ہے۔
6 تُو نے اُسے اپنی دست کاری پر تسلُّط بخشا ہے۔
تُو نے سب کُچھ اُس کے قدموں کے نِیچے کر دِیا ہے۔
7 سب بھیڑ بکرِیاں گائے بَیل
بلکہ سب جنگلی جانُور
8 ہوا کے پرِندے اور سمُندر کی مچھلِیاں
اور جو کُچھ سمُندروں کے راستوں میں چلتا پِھرتا ہے۔
9 اَے خُداوند ہمارے رب!
تیرا نام تمام زمِین پر کَیسا بزُرگ ہے؟
عَدل و اِنصاف کے لِئے خُدا کی شُکرگُذاری
مِیر مُغنّی کے لِئے موت لبِّین کے سُر پر داؤُد کا مزمُور۔
1 مَیں اپنے پُورے دِل سے خُداوند کی شُکرگُذاری کرُوں گا۔
مَیں تیرے سب عجِیب کاموں کا بیان کرُوں گا۔
2 مَیں تُجھ میں خُوشی مناؤُں گا اور مسرُور ہُوں گا۔
اَے حق تعالیٰ! مَیں تیری سِتایش کرُوں گا۔
3 جب میرے دُشمن پِیچھے ہٹتے ہیں
تو تیری حضُوری کے سبب سے لغزِش کھاتے اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔
4 کیونکہ تُو نے میرے حق کی اور میرے مُعاملہ کی تائِید کی ہے۔
تُو نے تخت پر بَیٹھ کر صداقت سے اِنصاف کِیا۔
5 تُو نے قَوموں کو جِھڑکا۔
تُو نے شرِیروں کو ہلاک کِیا ہے۔
تُو نے اُن کا نام ابدُالآباد کے لِئے مِٹا ڈالا ہے۔
6 دُشمن تمام ہُوئے۔ وہ ہمیشہ کے لِئے برباد ہو گئے
اور جِن شہروں کو تُو نے ڈھا دِیا
اُن کی یادگار تک مِٹ گئی۔
7 لیکن خُداوند ابد تک تخت نشِین ہے۔
اُس نے اِنصاف کے لِئے اپنا تخت تیّار کِیا ہے
8 اور وُہی صداقت سے جہان کی عدالت کرے گا۔
وہ راستی سے قَوموں کا اِنصاف کرے گا۔
9 خُداوند مظلُوموں کے لِئے اُونچا بُرج ہو گا۔
مُصِیبت کے ایّام میں اُونچا بُرج
10 اور وہ جو تیرا نام جانتے ہیں تُجھ پر توکُّل کریں گے
کیونکہ اَے خُداوند! تُو نے اپنے طالِبوں کو ترک نہیں کِیا ہے۔
11 خُداوند کی سِتایش کرو جو صِیُّون میں رہتا ہے۔
لوگوں کے درمِیان اُس کے کاموں کو بیان کرو
12 کیونکہ خُون کی پُرسِش کرنے والا اُن کو یاد رکھتا ہے۔
وہ غرِیبوں کی فریاد کو نہیں بُھولتا۔
13 اَے خُداوند مُجھ پر رحم کر!
تُو جو مَوت کے پھاٹکوں سے مُجھے اُٹھاتا ہے
میرے اُس دُکھ کو دیکھ
جو میرے نفرت کرنے والوں کی طرف سے ہے۔
14 تاکہ مَیں تیری کامِل سِتایش کا اِظہار کرُوں۔
صِیُّون کی بیٹی کے پھاٹکوں پر
مَیں تیری نجات سے شادمان ہُوں گا۔
15 قَومیں خُود اُس گڑھے میں گِری ہیں جِسے اُنہوں نے کھودا تھا۔
جو جال اُنہوں نے لگایا تھا اُس میں اُن ہی کا پاؤں پھنسا۔
16 خُداوند کی شُہرت پَھیل گئی۔ اُس نے اِنصاف کِیا ہے۔
شرِیر اپنے ہی ہاتھ کے کاموں میں پھنس گیا ہے
(ہگِاّیون سِلاہ)۔
17 شرِیر پاتال میں جائیں گے۔
یعنی وہ سب قَومیں جو خُدا کو بُھول جاتی ہیں۔
18 کیونکہ مِسکیِن سدا بُھولے بسرے نہ رہیں گے۔
نہ غرِیبوں کی اُمّید ہمیشہ کے لِئے ٹُوٹے گی۔
19 اُٹھ اَے خُداوند! اِنسان غالِب نہ ہونے پائے۔
قَوموں کی عدالت تیرے حضُور ہو۔
20 اَے خُداوند! اُن کو خَوف دِلا۔
قَومیں اپنے آپ کو بشر ہی جانیں۔ (سِلاہ)
عَدل و اِنصاف کے لِئے دُعا
1 اَے خُداوند! تُو کیوں دُور کھڑا رہتا ہے؟
مُصِیبت کے وقت تُو کیوں چِھپ جاتا ہے؟
2 شرِیر کے غرُور کے سبب سے غرِیب کا تُندی سے پِیچھا کِیا جاتا ہے۔
جو منصُوبے اُنہوں نے باندھے ہیں وہ اُن ہی میں گرِفتار ہو جائیں۔
3 کیونکہ شرِیر اپنی نفسانی خواہِش پر فخر کرتا ہے
اور لالچی خُداوند کو ترک کرتا بلکہ اُس کی اِہانت کرتا ہے۔
4 شرِیر اپنے تکبُّر میں کہتا ہے کہ وہ بازپُرس نہیں کرے گا۔
اُس کا خیال سراسر یِہی ہے کہ کوئی خُدا نہیں۔
5 اُس کی راہیں ہمیشہ اُستوار ہیں۔
تیرے احکام اُس کی نظر سے بعید و بُلند ہیں۔
وہ اپنے سب مُخالِفوں پر پُھنکارتا ہے۔
6 وہ اپنے دِل میں کہتا ہے مَیں جُنبِش نہیں کھانے کا۔
پُشت در پُشت مُجھ پر کبھی مُصِیبت نہ آئے گی۔
7 اُس کا مُنہ لَعنت و دغا اور ظُلم سے پُر ہے۔
شرارت اور بدی اُس کی زُبان پر ہیں۔
8 وہ دیہات کی کمِین گاہوں میں بَیٹھتا ہے۔
وہ پوشِیدہ مقاموں میں بے گُناہ کو قتل کرتا ہے۔
اُس کی آنکھیں بیکس کی گھات میں لگی رہتی ہیں۔
9 وہ پوشِیدہ مقام میں شیرِ بَبر کی طرح دبک کر بَیٹھتا ہے۔
وہ غرِیب کے پکڑنے کو گھات لگائے رہتا ہے۔
وہ غرِیب کو اپنے جال میں پھنسا کر پکڑ لیتا ہے۔
10 وہ دبکتا ہے۔ وہ جُھک جاتا ہے
اور بیکس اُس کے پہلوانوں کے ہاتھ سے مارے جاتے ہیں۔
11 وہ اپنے دِل میں کہتا ہے خُدا بُھول گیا ہے۔
وہ اپنا مُنہ چِھپاتا ہے۔ وہ ہرگز نہیں دیکھے گا۔
12 اُٹھ اَے خُداوند! اَے خُدا اپنا ہاتھ بُلند کر!
غرِیبوں کو نہ بُھول۔
13 شرِیر کِس لِئے خُدا کی اِہانت کرتا ہے
اور اپنے دِل میں کہتا ہے کہ تُو بازپرس نہ کرے گا؟
14 تُو نے دیکھ لِیا ہے کیونکہ تُو شرارت اور بُغض دیکھتا
ہے تاکہ اپنے ہاتھ سے بدلہ دے۔
بیکس اپنے آپ کو تیرے سپُرد کرتا ہے۔
تُو ہی یتِیم کا مددگار رہا ہے۔
15 شرِیر کا بازُو توڑ دے۔
اور بدکار کی شرارت کو جب تک نابُود نہ ہو ڈھُونڈ ڈھُونڈ کر نِکال۔
16 خُداوند ابدُالآباد بادشاہ ہے۔
قَومیں اُس کے مُلک میں سے نابُود ہو گئِیں۔
17 اَے خُداوند! تُو نے حلِیموں کا مُدّعا سُن لِیا ہے۔
تُو اُن کے دِل کو تیّار کرے گا۔ تُو کان لگا کر سُنے گا
18 کہ یتِیم اور مظلُوم کا اِنصاف کرے
تاکہ اِنسان جو خاک سے ہے پِھر نہ ڈرائے۔
خُداوند پر اِعتماد
میر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 میرا توکُّل خُداوند پر ہے۔
تُم کیونکر میری جان سے کہتے ہو
کہ چڑیا کی طرح اپنے پہاڑ پر اُڑ جا؟
2 کیونکہ دیکھو! شرِیر کمان کھینچتے ہیں۔
وہ تِیر کو چِلّے پر رکھتے ہیں
تاکہ اندھیرے میں راست دِلوں پر چلائیں۔
3 اگر بُنیاد ہی اُکھاڑ دی جائے
تو صادِق کیا کر سکتا ہے؟
4 خُداوند اپنی مُقدّس ہَیکل میں ہے۔
خُداوند کا تخت آسمان پر ہے۔
اُس کی آنکھیں بنی آدمؔ کو دیکھتی اور اُس کی پلکیں اُن
کو جانچتی ہیں۔
5 خُداوند صادِق کو پرکھتا ہے
پر شرِیر اور ظُلم دوست سے اُس کی رُوح کو
نفرت ہے۔
6 وہ شرِیروں پر پھندے برسائے گا۔
آگ اور گندھک اور لُو اُن کے پِیالے کا حِصّہ ہو گا۔
7 کیونکہ خُداوند صادِق ہے۔ وہ صداقت کو پسند
کرتا ہے۔
راست باز اُس کا دِیدار حاصِل کریں گے۔
مدد کے لِئے اِلتجا
میر مُغنّی کے لِئے شمِینیت کے سُر پر داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! بچا لے کیونکہ کوئی دِین دار نہیں رہا
اور امانت دار لوگ بنی آدمؔ میں سے مِٹ گئے۔
2 وہ اپنے اپنے ہمسایہ سے جُھوٹ بولتے ہیں۔
وہ خُوشامدی لبوں سے دو رنگی باتیں کرتے ہیں۔
3 خُداوند سب خُوشامدی لبوں کو
اور بڑے بول بولنے والی زُبان کو کاٹ ڈالے گا۔
4 وہ کہتے ہیں ہم اپنی زُبان سے جِیتیں گے۔
ہمارے ہونٹ ہمارے ہی ہیں۔ ہمارا مالِک
کَون ہے؟
5 غرِیبوں کی تباہی اور مِسکِینوں کی آہ کے سبب سے
خُداوند فرماتا ہے کہ اب مَیں اُٹھُوں گا
اور جِس پر وہ پُھنکارتے ہیں اُسے امن و امان
میں رکھُّوں گا۔
6 خُداوند کا کلام پاک ہے۔
اُس چاندی کی مانِند جو بھٹّی میں مِٹّی پر تائی گئی
اور سات بار صاف کی گئی ہو۔
7 تُو ہی اَے خُداوند! اُن کی حِفاظت کرے گا۔
تُو ہی اُن کو اِس پُشت سے ہمیشہ تک بچائے
رکھّے گا۔
8 جب بنی آدمؔ میں پاجی پن کی قدر ہوتی ہے
تو شرِیر ہر طرف چلتے پِھرتے ہیں۔
مدد کے لِئے دُعا
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند کب تک؟ کیا تُو ہمیشہ مُجھے بُھولا رہے گا؟
تُو کب تک اپنا چہرہ مُجھ سے چِھپائے رکھّے گا؟
2 کب تک مَیں جی ہی جی میں منصُوبہ باندھتا رہُوں
اور سارے دِن اپنے دِل میں غَم کِیا کرُوں؟
کب تک میرا دُشمن مُجھ پر سربُلند رہے گا؟
3 اَے خُداوند میرے خُدا! میری طرف توجُّہ کر
اور مُجھے جواب دے۔
میری آنکھیں روشن کر۔ اَیسا نہ ہو کہ مُجھے مَوت
کی نِیند آ جائے۔
4 اَیسا نہ ہو کہ میرا دُشمن کہے کہ مَیں اِس پر غالِب آ گیا۔
نہ ہو کہ جب مَیں جُنبِش کھاؤُں تو میرے مخالِف
خُوش ہوں۔
5 لیکن مَیں نے تُو تیری رحمت پر توکُّل کِیا ہے۔
میرا دِل تیری نجات سے خُوش ہو گا۔
6 مَیں خُداوند کا گِیت گاؤُں گا
کیونکہ اُس نے مُجھ پر اِحسان کِیا ہے۔
اِنسان کی بدخَصلتی
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 احمق نے اپنے دِل میں کہا ہے کہ کوئی خُدا نہیں۔
وہ بِگڑ گئے۔ اُنہوں نے نفرت انگیز کام کِئے ہیں۔
کوئی نیکوکار نہیں۔
2 خُداوند نے آسمان پر سے بنی آدمؔ پر نِگاہ کی
تاکہ دیکھے کہ کوئی دانِش مند
کوئی خُدا کا طالِب ہے یا نہیں۔
3 وہ سب کے سب گُمراہ ہُوئے۔ وہ باہم نجِس
ہو گئے۔
کوئی نیکوکار نہیں۔ ایک بھی نہیں۔
4 کیا اُن سب بدکرداروں کو کُچھ عِلم نہیں
جو میرے لوگوں کو اَیسے کھا جاتے ہیں جَیسے روٹی
اور خُداوند کا نام نہیں لیتے؟
5 وہاں اُن پر بڑا خَوف چھا گیا
کیونکہ خُدا صادِق پُشت کے ساتھ ہے۔
6 تُم غرِیب کی مشوَرت کی ہنسی اُڑاتے ہو۔
اِس لِئے کہ خُداوند اُس کی پناہ ہے
7 کاش کہ اِسرائیلؔ کی نجات صِیُّون میں سے ہوتی!
جب خُداوند اپنے لوگوں کو اسِیری سے لَوٹا
لائے گا
تو یعقُوب خُوش اور اِسرائیل شادمان ہو گا۔
خُدا کیا تقاضا کرتا ہے
داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند تیرے خَیمہ میں کَون رہے گا؟
تیرے کوہِ مُقدّس پر کَون سکُونت کرے گا؟
2 وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا
اور دِل سے سچ بولتا ہے۔
3 وہ جو اپنی زُبان سے بُہتان نہیں باندھتا
اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا
اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سُنتا۔
4 وہ جِس کی نظر میں رذِیل آدمی حقِیر ہے
پر جو خُداوند سے ڈرتے ہیں اُن کی عِزّت
کرتا ہے۔
وہ جو قَسم کھا کر بدلتا نہیں خواہ نُقصان ہی اُٹھائے۔
5 وہ جو اپنا رُوپیہ سُود پر نہیں دیتا
اور بے گُناہ کے خِلاف رِشوت نہیں لیتا۔
اَیسے کام کرنے والا کبھی جُنبِش نہ کھائے گا۔
اِعتماد کی دُعا
داؤُد کا مِکتام۔
1 اَے خُدا! میری حِفاظت کر کیونکہ مَیں تُجھ ہی
میں پناہ لیتا ہُوں۔
2 مَیں نے خُداوند سے کہا ہے تُو ہی رب ہے۔
تیرے سِوا میری بھلائی نہیں۔
3 زمِین کے مُقدّس لوگ وہ برگُزیدہ ہیں
جِن میں میری پُوری خُوشنُودی ہے۔
4 غَیر معبُودوں کے پِیچھے دَوڑنے والوں کا غَم بڑھ
جائے گا۔
مَیں اُن کے سے خُون والے تپاون نہیں تپاؤُں گا
اور اپنے ہونٹوں سے اُن کے نام نہیں لُوں گا۔
5 خُداوند ہی میری مِیراث اور میرے پیالے کا
حِصّہ ہے۔
تُو میرے بخرے کا محافِظ ہے۔
6 جرِیب میرے لِئے دِل پسند جگہوں میں پڑی
بلکہ میری مِیراث خُوب ہے!
7 مَیں خُداوند کی حمد کرُوں گا جِس نے مُجھے نصِیحت
دی ہے
بلکہ میرا دِل رات کو میری تربیت کرتا ہے۔
8 مَیں نے خُداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھّا ہے۔
چُونکہ وہ میرے دہنے ہاتھ ہے اِس لِئے مُجھے
جُنبِش نہ ہو گی۔
9 اِسی سبب سے میرا دِل خُوش اور میری رُوح
شادمان ہے۔
میرا جِسم بھی امن و امان میں رہے گا۔
10 کیونکہ تُو نہ میری جان کو پاتال میں رہنے دے گا
نہ اپنے مُقدّس کو سڑنے دے گا۔
11 تُو مُجھے زِندگی کی راہ دِکھائے گا۔
تیرے حضُور میں کامِل شادمانی ہے۔
تیرے دہنے ہاتھ میں دائِمی خُوشی ہے۔
ایک بے قصُور آدمی کی دُعا
داؤُد کی دُعا۔
1 اَے خُداوند! حق کو سُن۔ میری فریاد پر توجُّہ کر۔
میری دُعا پر جو بے رِیا لبوں سے نِکلتی ہے
کان لگا۔
2 میرا فَیصلہ تیرے حضُور سے صادِر ہو۔
تیری آنکھیں راستی کو دیکھیں۔
3 تُو نے میرے دِل کو آزما لِیا ہے۔ تُو نے رات کو
میری نِگرانی کی۔
تُو نے مُجھے پرکھّا اور کُچھ کھوٹ نہ پایا۔
مَیں نے ٹھان لِیا ہے کہ میرا مُنہ خطا نہ کرے۔
4 اِنسانی کاموں میں تیرے لبوں کے کلام کی مدد سے
مَیں ظالِموں کی راہوں سے باز رہا ہُوں۔
5 میرے قدم تیرے راستوں پر قائِم رہے ہیں۔
میرے پاؤں پِھسلے نہیں۔
6 اَے خُدا! مَیں نے تُجھ سے دُعا کی ہے کیونکہ تُو مُجھے
جواب دے گا۔
میری طرف کان جُھکا اور میری عرض سُن لے۔
7 تُو جو اپنے دہنے ہاتھ سے اپنے توکُّل کرنے
والوں کو
اُن کے مُخالِفوں سے بچاتا ہے اپنی عجِیب
شفقت دِکھا!
8 مُجھے آنکھ کی پُتلی کی طرح محفُوظ رکھ۔
مُجھے اپنے پروں کے سایہ میں چِھپا لے۔
9 اُن شرِیروں سے جو مُجھ پر ظُلم کرتے ہیں۔
میرے جانی دُشمنوں سے جو مُجھے گھیرے
ہُوئے ہیں۔
10 اُنہوں نے اپنے دِلوں کو سخت کِیا ہے۔
وہ اپنے مُنہ سے بڑا بول بولتے ہیں۔
11 اُنہوں نے قدم قدم پر ہم کو گھیرا ہے۔
وہ تاک لگائے ہیں کہ ہم کو زمِین پر پٹک دیں۔
12 وہ اُس بَبر کی مانِند ہے جو پھاڑنے پر حرِیص ہو۔
وہ گویا جوان بَبر ہے جو پوشِیدہ جگہوں میں دبکا
ہُؤا ہے۔
13 اُٹھ اَے خُداوند!
اُس کا سامنا کر۔ اُسے پٹک دے۔
اپنی تلوار سے میری جان کو شرِیر سے بچا لے۔
14 اپنے ہاتھ سے اَے خُداوند! مُجھے لوگوں سے بچا۔
یعنی دُنیا کے لوگوں سے جِن کا بخرہ اِسی زِندگی
میں ہے
اور جِن کا پیٹ تُو اپنے ذخِیرہ سے بھرتا ہے۔
اُن کی اَولاد بھی حسبِ مُراد ہے۔
وہ اپنا باقی مال اپنے بچّوں کے لِئے چھوڑ جاتے ہیں
15 پر مَیں تو صداقت میں تیرا دِیدار حاصِل کرُوں گا۔
مَیں جب جاگوں گا تو تیری شباہت سے سیر
ہُوں گا۔
داؤُد کا فتح کا گِیت
مِیر مُغنّی کے لِئے خُداوند کے بندہ داؤُد کامزمُور۔ اِس گِیت کے الفاظ اُس نے خُداوند سے اُس روز کہے جب خُداوند نے اُسے اُس کے سب دُشمنوں اور ساؤُؔل کے ہاتھ سے بچایا۔ چُنانچہ اُس نے کہا:۔
1 اَے خُداوند! اَے میری قُوّت! مَیں تُجھ سے مُحبّت
رکھتا ہُوں۔
2 خُداوند میری چٹان اور میرا قلعہ اور میرا
چُھڑانے والا ہے۔
میرا خُدا۔ میری چٹان جِس پر مَیں بھروسا
رکھُّوں گا۔
میری سِپر اور میری نجات کا سِینگ۔ میرا
اُونچا بُرج۔
3 مَیں خُداوند کو جو سِتایش کے لائِق ہے پکارُوں گا۔
یُوں مَیں اپنے دُشمنوں سے بچایا جاؤُں گا۔
4 مَوت کی رسِّیوں نے مُجھے گھیر لِیا
اور بے دِینی کے سَیلابوں نے مُجھے ڈرایا۔
5 پاتال کی رسِّیاں میرے چَوگِرد تِھیں
مَوت کے پھندے مُجھ پر آ پڑے تھے۔
6 اپنی مُصِیبت میں مَیں نے خُداوند کو پُکارا
اور اپنے خُدا سے فریاد کی۔
اُس نے اپنی ہَیکل میں سے میری آواز سُنی
اور میری فریاد جو اُس کے حضُور تھی اُس کے کان
میں پُہنچی۔
7 تب زمِین ہِل گئی اور کانپ اُٹھی۔
پہاڑوں کی بُنیادوں نے جُنبِش کھائی
اور ہِل گئِیں اِس لِئے کہ وہ غضب ناک ہُؤا۔
8 اُس کے نتھنوں سے دُھؤاں اُٹھا
اور اُس کے مُنہ سے آگ نِکل کر بھسم
کرنے لگی۔
کوئِلے اُس سے دہک اُٹھے۔
9 اُس نے آسمانوں کو بھی جُھکا دِیا اور نِیچے اُتر آیا
اور اُس کے پاؤں تلے گہری تارِیکی تھی۔
10 وہ کرُّوبی پر سوار ہو کر اُڑا۔
بلکہ وہ تیزی سے ہوا کے بازُوؤں پر اُڑا۔
11 اُس نے ظُلمت یعنی ابر کی تارِیکی اور آسمان کے
دلدار بادلوں کو
اپنے چَوگِرد اپنے چِھپنے کی جگہ اور اپنا
شامیانہ بنایا۔
12 اُس کی حضُوری کی جھلک سے اُس کے دلدار بادل
پھٹ گئے۔
اَولے اور انگارے۔
13 اور خُداوند آسمان میں گرجا۔
حق تعالیٰ نے اپنی آواز سُنائی۔
اَولے اور انگارے۔
14 اُس نے اپنے تِیر چلا کر اُن کو پراگندہ کِیا۔
بلکہ تابڑ توڑ بِجلی سے اُن کو شِکست دی۔
15 تب تیری ڈانٹ سے اَے خُداوند!
تیرے نتھنوں کے دَم کے جھوکے سے
پانی کی تھاہ دِکھائی دینے لگی
اور جہان کی بُنیادیں نمُودار ہُوئِیں۔
16 اُس نے اُوپر سے ہاتھ بڑھا کر مُجھے تھام لِیا
اور مُجھے بُہت پانی میں سے کھینچ کر باہر نِکالا۔
17 اُس نے میرے زورآور دُشمن اور میرے عداوت
رکھنے والوں سے
مُجھے چُھڑا لِیا کیونکہ وہ میرے لِئے نہایت
زبردست تھے۔
18 وہ میری مُصِیبت کے دِن مُجھ پر آ پڑے
پر خُداوند میرا سہارا تھا۔
19 وہ مُجھے کُشادہ جگہ میں نِکال بھی لایا۔
اُس نے مُجھے چُھڑایا۔ اِس لِئے کہ وہ مُجھ سے
خُوش تھا۔
20 خُداوند نے میری راستی کے مُوافِق مُجھے جزا دی
اور میرے ہاتھوں کی پاکِیزگی کے مُطابِق مُجھے
بدلہ دِیا۔
21 کیونکہ مَیں خُداوند کی راہوں پر چلتا رہا
اور شرارت سے اپنے خُدا سے الگ نہ ہُؤا
22 کیونکہ اُس کے سب فَیصلے میرے سامنے رہے
اور مَیں اُس کے آئِین سے برگشتہ نہ ہُؤا۔
23 مَیں اُس کے حضُور کامِل بھی رہا
اور اپنے کو اپنی بدکاری سے باز رکھّا۔
24 خُداوند نے مُجھے میری راستی کے مُوافِق
اور میرے ہاتھوں کی پاکِیزگی کے مُطابِق جو
اُس کے سامنے تھی بدلہ دِیا۔
25 رحم دِل کے ساتھ تُو رحِیم ہو گا
اور کامِل آدمی کے ساتھ کامِل۔
26 نیکوکار کے ساتھ نیک ہو گا
اور کج رَو کے ساتھ ٹیڑھا۔
27 کیونکہ تُو مُصِیبت زدہ لوگوں کو بچائے گا
لیکن مغرُوروں کی آنکھوں کو نِیچا کرے گا۔
28 اِس لِئے کہ تُو میرے چراغ کو رَوشن کرے گا۔
خُداوند میرا خُدا میرے اندھیرے کو اُجالا کر
دے گا۔
29 کیونکہ تیری بدَولت مَیں فَوج پر دھاوا کرتا ہُوں
اور اپنے خُدا کی بدَولت دِیوار پھاند جاتا ہُوں۔
30 لیکن خُدا کی راہ کامِل ہے۔
خُداوند کا کلام تایا ہُؤا ہے۔
وہ اُن سب کی سِپر ہے جو اُس پر بھروسا
رکھتے ہیں۔
31 کیونکہ خُداوند کے سِوا اَور کَون خُدا ہے
اور ہمارے خُدا کو چھوڑ کر اَور کَون چٹان ہے؟
32 خُدا ہی مُجھے قُوّت سے کمربستہ کرتا ہے
اور میری راہ کو کامِل کرتا ہے۔
33 وُہی میرے پاؤں ہرنیوں کے سے بنا دیتا ہے
اور مُجھے میری اُونچی جگہوں میں قائِم کرتا ہے۔
34 وہ میرے ہاتھوں کو جنگ کرنا سِکھاتا ہے
یہاں تک کہ میرے بازُو پِیتل کی کمان کو جُھکا
دیتے ہیں۔
35 تُو نے مُجھ کو اپنی نجات کی سِپر بخشی
اور تیرے دہنے ہاتھ نے مُجھے سنبھالا
اور تیری نرمی نے مُجھے بزُرگ بنایا ہے۔
36 تُو نے میرے نِیچے میرے قدم کُشادہ کر دِئے۔
اور میرے پاؤں نہیں پِھسلے۔
37 مَیں اپنے دُشمنوں کا پِیچھا کر کے اُن کو جا لُوں گا
اور جب تک وہ فنا نہ ہو جائیں واپس نہیں
آؤُں گا۔
38 مَیں اُن کو اَیسا چھیدُوں گا کہ وہ اُٹھ نہ سکیں گے۔
وہ میرے پاؤں کے نِیچے گِر پڑیں گے۔
39 کیونکہ تُو نے لڑائی کے لِئے مُجھے قُوّت سے
کمربستہ کِیا
اور میرے مُخالِفوں کو میرے سامنے زیر کِیا۔
40 تُو نے میرے دُشمنوں کی پُشت میری طرف
پھیر دی
تاکہ مَیں اپنے عداوت رکھنے والوں کو کاٹ
ڈالُوں۔
41 اُنہوں نے دُہائی دی پر کوئی نہ تھا جو بچائے۔
خُداوند کو بھی پُکارا پر اُس نے اُن کو جواب نہ دِیا۔
42 تب مَیں نے اُن کو کُوٹ کُوٹ کر ہوا میں اُڑتی
ہُوئی گرد کی مانِند کر دِیا۔
مَیں نے اُن کو گلی کُوچوں کی کِیچڑ کی طرح
نِکال پھینکا۔
43 تُو نے مُجھے قَوم کے جھگڑوں سے بھی چُھڑایا۔
تُو نے مُجھے قَوموں کا سردار بنایا ہے۔
جِس قَوم سے مَیں واقِف بھی نہیں وہ میری
مُطِیع ہوگی۔
44 میرا نام سُنتے ہی وہ میری فرمانبرداری کریں گے۔
پردیسی میرے تابِع ہو جائیں گے۔
45 پردیسی مُرجھا جائیں گے
اور اپنے قلعوں سے تھرتھراتے ہُوئے نِکلیں گے۔
46 خُداوند زِندہ ہے۔ میری چٹان مُبارک ہو۔
اور میرا نجات دینے والا خُدا مُمتاز ہو!
47 وُہی خُدا جو میرا اِنتقام لیتا ہے
اور اُمّتوں کو میرے سامنے زیر کرتا ہے
48 وہ مُجھے میرے دُشمنوں سے چُھڑاتا ہے
بلکہ تُو مُجھے میرے مُخالِفوں پر سرفراز کرتا ہے۔
تُو مُجھے تُند خُو آدمی سے رہائی دیتا ہے۔
49 اِس لِئے اَے خُداوند! مَیں قَوموں کے درمیان
تیری شُکرگُذاری
اور تیرے نام کی مدح سرائی کرُوں گا۔
50 وہ اپنے بادشاہ کو بڑی نجات عِنایت کرتا ہے
اور اپنے ممسُوح داؤُد اور اُس کی نسل پر
ہمیشہ شفقت کرتا ہے۔
مخلُوقات میں خُدا کا جلال
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 آسمان خُدا کا جلال ظاہِر کرتا ہے
اور فضا اُس کی دست کاری دِکھاتی ہے۔
2 دِن سے دِن بات کرتا ہے
اور رات کو رات حِکمت سِکھاتی ہے۔
3 نہ بولنا ہے نہ کلام۔
نہ اُن کی آواز سنائی دیتی ہے۔
4 اُن کا سُر ساری زمِین پر
اور اُن کا کلام دُنیا کی اِنتہا تک پُہنچا ہے۔
اُس نے آفتاب کے لِئے اُن میں خَیمہ لگایا ہے
5 جو دُلہے کی مانِند اپنے خلوت خانہ سے نِکلتا ہے
اور پہلوان کی طرح اپنی دَوڑ میں دَوڑنے کو
خُوش ہے۔
6 وہ آسمان کی اِنتہا سے نِکلتا ہے
اور اُس کی گشت اُس کے کناروں تک ہوتی ہے
اور اُس کی حرارت سے کوئی چِیز بے بہرہ نہیں۔
خُداوند کی شرِیعت
7 خُداوند کی شرِیعت کامِل ہے۔ وہ جان کو بحال
کرتی ہے۔
خُداوند کی شہادت برحق ہے۔ نادان کو دانِش بخشتی ہے۔
8 خُداوند کے قوانِین راست ہیں۔ وہ دِل کو فرحت
پُہنچاتے ہیں۔
خُداوند کا حُکم بے عَیب ہے۔ وہ آنکھوں کو رَوشن
کرتا ہے۔
9 خُداوند کا خَوف پاک ہے۔ وہ ابد تک قائِم رہتا ہے۔
خُداوند کے احکام برحق اور بالکُل راست ہیں۔
10 وہ سونے سے بلکہ بُہت کُندن سے زِیادہ پسندِیدہ ہیں۔
وہ شہد سے بلکہ چھتّے کے ٹپکوں سے بھی
شِیرِین ہیں۔
11 نیز اُن سے تیرے بندے کو آگاہی مِلتی ہے۔
اُن کو ماننے کا اجر بڑا ہے۔
12 کَون اپنی بُھول چُوک کو جان سکتا ہے؟
تُو مُجھے پوشِیدہ عَیبوں سے پاک کر۔
13 تُو اپنے بندے کو بے باکی کے گُناہوں سے بھی
باز رکھ۔
وہ مُجھ پر غالِب نہ آئِیں تو مَیں کامِل ہُوں گا۔
اور بڑے گُناہ سے بچا رہُوں گا۔
14 میرے مُنہ کا کلام اور میرے دِل کا خیال تیرے
حضُور مقبُول ٹھہرے۔
اَے خُداوند! اَے میری چٹان اور میرے فِدیہ
دینے والے!
فتح یابی کے لِئے دُعا
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 مُصِیبت کے دِن خُداوند تیری سُنے۔
یعقُوبؔ کے خُدا کا نام تُجھے بُلندی پر قائِم کرے!
2 وہ مَقدِس سے تیرے لِئے کُمک بھیجے
اور صِیُّون سے تُجھے تقوِیت بخشے!
3 وہ تیرے سب ہدیوں کو یاد رکھّے
اور تیری سوختنی قُربانی کو قبُول کرے! (سِلاہ)
4 وہ تیرے دِل کی آرزُو بر لائے
اور تیری سب مشوَرت پُوری کرے!
5 ہم تیری نجات پر شادیانہ بجائیں گے
اور اپنے خُدا کے نام پر جھنڈے کھڑے
کریں گے۔
خُداوند تیری تمام درخواستیں پُوری کرے!
6 اب مَیں جان گیا کہ خُداوند اپنے ممسُوح کو بچا
لیتا ہے۔
وہ اپنے دہنے ہاتھ کی نجات بخش قُوّت سے
اپنے مُقدّس آسمان پر سے اُسے جواب دے گا۔
7 کِسی کو رتھوں کا اور کِسی کو گھوڑوں کا بھروسا ہے
پر ہم تو خُداوند اپنے خُدا ہی کا نام لیں گے۔
8 وہ تو جُھکے اور گِر پڑے
پر ہم اُٹھے اور سیدھے کھڑے ہیں۔
9 اَے خُداوند! بچا لے۔
جِس دِن ہم پُکاریں تو بادشاہ ہمیں جواب دے۔
فتح یابی کے لِئے شُکرگُذاری
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! تیری قُوّت سے بادشاہ خُوش ہو گا
اور تیری نجات سے اُسے نہایت شادمانی ہو گی۔
2 تُو نے اُس کے دِل کی آرزُو پُوری کی ہے
اور اُس کے مُنہ کی درخواست کو نامنظُور نہیں
کِیا۔ (سِلاہ)
3 کیونکہ تُو اُسے عُمدہ برکتیں بخشنے میں پیش
قدمی کرتا
اور خالِص سونے کا تاج اُس کے سر پر رکھتا ہے۔
4 اُس نے تُجھ سے زِندگی چاہی اور تُو نے بخشی۔
بلکہ عُمر کی درازی ہمیشہ کے لِئے۔
5 تیری نجات کے سبب سے اُس کی شوکت عظیِم ہے۔
تُو اُسے حشمت و جلال سے آراستہ کرتا ہے۔
6 کیونکہ تُو ہمیشہ کے لِئے اُسے برکتوں سے مالا مال
کرتا ہے
اور اپنے حضُور اُسے خُوش و خُرّم رکھتا ہے۔
7 کیونکہ بادشاہ کا توکُّل خُداوند پر ہے
اور حق تعالیٰ کی شفقت کی بدَولت اُسے ہرگز
جُنبِش نہ ہو گی۔
8 تیرا ہاتھ تیرے سب دُشمنوں کو ڈھُونڈ نِکالے گا۔
تیرا دہنا ہاتھ تُجھ سے کِینہ رکھنے والوں کا پتہ لگا
لے گا۔
9 تُو اپنے قہر کے وقت اُن کو جلتے تنُور کی مانِند کر دے گا۔
خُداوند اپنے غضب میں اُن کو نِگل جائے گا
اور آگ اُن کو کھا جائے گی۔
10 تُو اُن کے پَھل کو زمِین پر سے نابُود کر دے گا
اور اُن کی نسل کو بنی آدمؔ میں سے۔
11 کیونکہ اُنہوں نے تُجھ سے بدی کرنا چاہا۔
اُنہوں نے اَیسا منصُوبہ باندھا جِسے وہ پُورا نہیں
کر سکتے۔
12 کیونکہ تُو اُن کا مُنہ پھیر دے گا۔
تُو اُن کے مُقابلہ میں اپنے چِلّے چڑھائے گا۔
13 اَے خُداوند! تُو اپنی ہی قُوّت میں سربُلند ہو!
اور ہم گا کر تیری قُدرت کی سِتایش کریں گے۔
جانکنی میں پُکار اور سِتایش کا گِیت
مِیر مُغنّی کے لِئے ایّلت ہَشّحرَ کے سُر پر داؤُد کامزمُور۔
1 اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! تُو نے مُجھے
کیوں چھوڑ دیا؟
تُو میری مدد اور میرے نالہ و فریاد سے کیوں دُور
رہتا ہے؟
2 اَے میرے خُدا! مَیں دِن کو پُکارتا ہُوں پر تُو
جواب نہیں دیتا
اور رات کو بھی اور خاموش نہیں ہوتا۔
3 لیکن تُو قُدُّوس ہے۔
تُو جو اِسرائیل کی حمد و ثنا پر تخت نشِین ہے۔
4 ہمارے باپ دادا نے تُجھ پر توکُّل کِیا۔
اُنہوں نے توکُّل کِیا اور تُو نے اُن کو چُھڑایا۔
5 اُنہوں نے تُجھ سے فریاد کی اور رہائی پائی۔
اُنہوں نے تُجھ پر توکُّل کِیا اور شرمِندہ نہ ہُوئے۔
6 پر مَیں تو کِیڑا ہُوں۔ اِنسان نہیں۔
آدمِیوں میں انگُشت نُما ہُوں اور لوگوں
میں حقِیر۔
7 وہ سب جو مُجھے دیکھتے ہیں میرا مضحکہ اُڑاتے ہیں۔
وہ مُنہ چڑاتے۔ وہ سر ہِلا ہِلا کر کہتے ہیں
8 اپنے کو خُداوند کے سپُرد کر دے۔ وُہی اُسے
چُھڑائے۔
جب کہ وہ اُس سے خُوش ہے تو وُہی اُسے چُھڑائے۔
9 پر تُو ہی مُجھے پیٹ سے باہر لایا۔
جب مَیں شِیرخوار ہی تھا تُو نے مُجھے توکُّل
کرنا سِکھایا۔
10 مَیں پَیدایش ہی سے تُجھ پر چھوڑا گیا۔
میری ماں کے پیٹ ہی سے تُو میرا خُدا ہے۔
11 مُجھ سے دُور نہ رہ کیونکہ مُصِیبت قرِیب ہے۔
اِس لِئے کہ کوئی مددگار نہیں۔
12 بُہت سے سانڈوں نے مُجھے گھیر لِیا ہے۔
بسن کے زورآور سانڈ مُجھے گھیرے ہُوئے ہیں۔
13 وہ پھاڑنے اور گرجنے والے بَبر کی طرح
مُجھ پر اپنا مُنہ پسارے ہُوئے ہیں۔
14 مَیں پانی کی طرح بہہ گیا۔
میری سب ہڈّیاں اُکھڑ گئیِں۔
میرا دِل موم کی مانِند ہو گیا۔
وہ میرے سِینہ میں پِگھل گیا۔
15 میری قُوّت ٹِھیکرے کی مانِند خُشک ہو گئی
اور میری زُبان میرے تالُو سے چِپک گئی
اور تُو نے مُجھے مَوت کی خاک میں مِلا دِیا۔
16 کیونکہ کُتّوں نے مُجھے گھیر لِیا ہے۔
بدکاروں کی گروہ مُجھے گھیرے ہُوئے ہے۔
وہ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں چھیدتے ہیں۔
17 مَیں اپنی سب ہڈّیاں گِن سکتا ہُوں۔
وہ مُجھے تاکتے اور گُھورتے ہیں۔
18 وہ میرے کپڑے آپس میں بانٹتے ہیں
اور میری پوشاک پر قُرعہ ڈالتے ہیں
19 لیکن تُو اَے خُداوند! دُور نہ رہ۔
اَے میرے چارہ ساز! میری مدد کے لِئے
جلدی کر۔
20 میری جان کو تلوار سے بچا۔
میری جان کو کُتّے کے قابُو سے۔
21 مُجھے بَبر کے مُنہ سے بچا۔
بلکہ تُو نے سانڈوں کے سِینگوں میں سے مُجھے
چُھڑایا ہے۔
22 مَیں اپنے بھائِیوں سے تیرے نام کا اِظہار
کرُوں گا۔
جماعت میں تیری سِتایش کرُوں گا۔
23 اَے خُداوند سے ڈرنے والو! اُس کی سِتایش کرو۔
اَے یعقُوبؔ کی اَولاد! سب اُس کی تمجِید کرو
اور اَے اِسرائیلؔ کی نسل! سب اُس کا ڈر مانو۔
24 کیونکہ اُس نے نہ تو مُصِیبت زدہ کی مُصِیبت کو حقِیر
جانا نہ اُس سے نفرت کی۔
نہ اُس سے اپنا مُنہ چِھپایا
بلکہ جب اُس نے خُدا سے فریاد کی تو اُس نے سُن لی۔
25 بڑے مجمع میں میری ثنا خوانی کا باعث تُو ہی ہے۔
مَیں اُس سے ڈرنے والوں کے رُوبرُو اپنی نذریں
ادا کرُوں گا
26 حلِیم کھائیں گے اور سیر ہوں گے۔
خُداوند کے طالِب اُس کی سِتایش کریں گے۔
تُمہارا دِل ابد تک زِندہ رہے!
27 ساری دُنیا خُداوند کو یاد کرے گی اور اُس کی طرف
رجُوع لائے گی
اور قَوموں کے سب گھرانے تیرے حضُور سِجدہ
کریں گے۔
28 کیونکہ سلطنت خُداوند کی ہے۔
وُہی قَوموں پر حاکِم ہے۔
29 دُنیا کے سب آسُودہ حال لوگ کھائیں گے اور سِجدہ
کریں گے۔
وہ سب جو خاک میں مِل جاتے ہیں اُس کے
حضُور جُھکیں گے۔
بلکہ وہ بھی جو اپنی جان کو جِیتا نہیں رکھ سکتا۔
30 ایک نسل اُس کی بندگی کرے گی۔
دُوسری پُشت کو خُداوند کی خبر دی جائے گی۔
31 وہ آئیں گے اور اُس کی صداقت کو ایک قَوم پر
جو پَیدا ہو گی یہ کہہ کر ظاہِر کریں گے کہ اُس نے
یہ کام کِیا ہے۔
خُداوند ہمارا چَوپان
داؤُد کا مزمُور
1 خُداوند میرا چَوپان ہے۔ مُجھے کمی نہ ہو گی۔
2 وہ مُجھے ہری ہری چراگاہوں میں بِٹھاتا ہے۔
وہ مُجھے راحت کے چشموں کے پاس لے
جاتا ہے۔
3 وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔
وہ مُجھے اپنے نام کی خاطِر صداقت کی راہوں پر
لے چلتا ہے۔
4 بلکہ خواہ مَوت کے سایہ کی وادی میں سے میرا
گُذر ہو
مَیں کِسی بلا سے نہیں ڈرُوں گا کیونکہ تُو میرے
ساتھ ہے۔
تیرے عصا اور تیری لاٹھی سے مُجھے تسلّی ہے۔
5 تُو میرے دُشمنوں کے رُوبرُو میرے آگے دسترخوان
بِچھاتا ہے۔
تُو نے میرے سر پر تیل ملا ہے۔ میرا پِیالہ لبریز
ہوتا ہے۔
6 یقیناً بھلائی اور رحمت عُمر بھر میرے ساتھ ساتھ
رہیں گی
اور مَیں ہمیشہ خُداوند کے گھر میں سکُونت
کرُوں گا۔
عظیِم بادشاہ
داؤُد کا مزمُور۔
1 زمِین اور اُس کی معمُوری خُداوند ہی کی ہے۔
جہان اور اُس کے باشِندے بھی۔
2 کیونکہ اُس نے سمُندروں پر اُس کی بُنیاد رکھّی
اور سَیلابوں پر اُسے قائِم کِیا۔
3 خُداوند کے پہاڑ پر کَون چڑھے گا
اور اُس کے مُقدّس مقام پر کَون کھڑا ہو گا؟
4 وُہی جِس کے ہاتھ صاف ہیں اور جِس کا دِل
پاک ہے۔
جِس نے بطالت پر دِل نہیں لگایا
اور مکر سے قَسم نہیں کھائی۔
5 وہ خُداوند کی طرف سے برکت پائے گا۔
ہاں اپنے نجات دینے والے خُدا کی طرف
سے صداقت۔
6 یہی اُس کے طالِبوں کی پُشت ہے۔
یہی تیرے دِیدار کے خواہاں ہیں۔ یعنی
یعقُوب۔ (سِلاہ)
7 اَے پھاٹکو! اپنے سر بُلند کرو۔
اَے ابدی دروازو! اُونچے ہو جاؤ
اور جلال کا بادشاہ داخِل ہو گا۔
8 یہ جلال کا بادشاہ کَون ہے؟
خُداوند جو قوی اور قادِر ہے۔
خُداوند جو جنگ میں زورآور ہے۔
9 اَے پھاٹکو! اپنے سر بُلند کرو۔
اَے ابدی دروازو! اُن کو بُلند کرو
اور جلال کا بادشاہ داخِل ہو گا۔
10 یہ جلال کا بادشاہ کَون ہے؟
لشکروں کا خُداوند۔
وُہی جلال کا بادشاہ ہے۔ (سِلاہ)
راہنُمائی اور مُحافظت کی دُعا
داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! مَیں اپنی جان تیری طرف اُٹھاتا ہُوں۔
2 اَے میرے خُدا! مَیں نے تُجھ پر توکُّل کِیا ہے۔
مُجھے شرمِندہ نہ ہونے دے۔
میرے دُشمن مُجھ پر شادیانہ نہ بجائیں۔
3 بلکہ جو تیرے مُنتظِر ہیں
اُن میں سے کوئی شرمِندہ نہ ہو گا۔
پر جو ناحق بے وفائی کرتے ہیں
وُہی شرمِندہ ہوں گے۔
4 اَے خُداوند! اپنی راہیں مُجھے دِکھا۔
اپنے راستے مُجھے بتا دے۔
5 مُجھے اپنی سچّائی پر چلا اور تعلِیم دے۔
کیونکہ تُو میرا نجات دینے والا خُدا ہے۔
مَیں دِن بھر تیرا ہی مُنتظِر رہتا ہُوں۔
6 اَے خُداوند اپنی رحمتوں اور شفقتوں کو یاد فرما
کیونکہ وہ ازل سے ہیں۔
7 میری جوانی کی خطاؤں اور میرے گُناہوں کو
یاد نہ کر۔
اَے خُداوند! اپنی نیکی کی خاطِر
اپنی شفقت کے مُطابِق مُجھے یاد فرما۔
8 خُداوند نیک اور راست ہے۔
اِس لِئے وہ گُنہگاروں کو راہِ حق کی تعلِیم دے گا۔
9 وہ حلِیموں کو اِنصاف کی ہِدایت کرے گا۔
ہاں وہ حلِیموں کو اپنی راہ بتائے گا۔
10 جو خُداوند کے عہد اور اُس کی شہادتوں کو مانتے ہیں
اُن کے لِئے اُس کی سب راہیں شفقت اور سچّائی ہیں۔
11 اَے خُداوند! اپنے نام کی خاطِر
میری بدکاری مُعاف کر دے کیونکہ وہ بڑی ہے۔
12 وہ کَون ہے جو خُداوند سے ڈرتا ہے؟
خُداوند اُس کو اُسی راہ کی تعلِیم دے گا
جو اُسے پسند ہے۔
13 اُس کی جان راحت میں رہے گی
اور اُس کی نسل زمِین کی وارِث ہو گی۔
14 خُداوند کے راز کو وُہی جانتے ہیں
جو اُس سے ڈرتے ہیں
اور وہ اپنا عہد اُن کو بتائے گا۔
15 میری آنکھیں ہمیشہ خُداوند کی طرف لگی رہتی ہیں
کیونکہ وُہی میرا پاؤں دام سے چُھڑائے گا۔
16 میری طرف مُتوجِّہ ہو اور مُجھ پر رحم کر
کیونکہ مَیں بیکس اور مُصِیبت زدہ ہُوں۔
17 میرے دِل کے دُکھ بڑھ گئے۔
تُو مُجھے میری تکلِیفوں سے رہائی دے۔
18 تُو میری مُصِیبت اور جانفشانی کو دیکھ
اور میرے سب گُناہ مُعاف فرما۔
19 میرے دُشمنوں کو دیکھ کیونکہ وہ بُہت ہیں
اور اُن کو مُجھ سے سخت عداوت ہے۔
20 میری جان کی حِفاظت کر اور مُجھے چُھڑا۔
مُجھے شرمِندہ نہ ہونے دے
کیونکہ میرا توکُّل تُجھ ہی پر ہے۔
21 دِیانت داری اور راست بازی مُجھے سلامت رکھّیں
کیونکہ مُجھے تیری ہی آس ہے۔
22 اَے خُدا! اِسرائیل کو
اُس کے سب دُکھوں سے چُھڑا لے۔
راست آدمی کی دُعا
داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند میرا اِنصاف کر کیونکہ مَیں راستی سے چلتا
رہا ہُوں
اور مَیں نے خُداوند پر بے لغزِش توکُّل کِیا ہے۔
2 اَے خُداوند! مُجھے جانچ اور آزما۔
میرے دِل و دِماغ کو پرکھ۔
3 کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سامنے ہے
اور مَیں تیری سچّائی کی راہ پر چلتا رہا ہُوں۔
4 مَیں بے ہُودہ لوگوں کے ساتھ نہیں بَیٹھا۔
مَیں رِیاکاروں کے ساتھ کہیں نہیں جاؤُں گا۔
5 بدکرداروں کی جماعت سے مُجھے نفرت ہے۔
مَیں شرِیروں کے ساتھ نہیں بَیٹھُوں گا۔
6 مَیں بے گُنا ہی میں اپنے ہاتھ دھوؤُں گا
اور اَے خُداوند! مَیں تیرے مذبح کا طواف کرُوں گا
7 تاکہ شُکرگُذاری کی آواز بُلند کرُوں
اور تیرے سب عجِیب کاموں کو بیان کرُوں۔
8 اَے خُداوند! مَیں تیری سکُونت گاہ
اور تیرے جلال کے خَیمہ کو عزِیز رکھتا ہُوں۔
9 میری جان کو گُنہگاروں کے ساتھ
اور میری زِندگی کو خُونی آدمیوں کے ساتھ نہ مِلا۔
10 جِن کے ہاتھوں میں شرارت ہے
اور جِن کا دہنا ہاتھ رِشوتوں سے بھرا ہے۔
11 پر مَیں تو راستی سے چلتا رہُوں گا۔
مُجھے چُھڑا لے اور مُجھ پر رحم کر۔
12 میرا پاؤں ہموار جگہ پر قائِم ہے۔
مَیں جماعتوں میں خُداوند کو مُبارک کہُوں گا۔
حمد و سِتایش کی دُعا
داؤُد کا مزمُور۔
1 خُداوند میری رَوشنی اور میری نجات ہے۔ مُجھے
کِس کی دہشت؟
خُداوند میری زِندگی کا پُشتہ ہے۔ مُجھے کِس
کی ہَیبت؟
2 جب شریر یعنی میرے مُخالِف اور میرے دُشمن
میرا گوشت کھانے کو مُجھ پر چڑھ آئے تُو وہ ٹھوکر
کھا کر گِر پڑے۔
3 خواہ میرے خِلاف لشکر خَیمہ زن ہو
میرا دِل نہیں ڈرے گا۔
خواہ میرے مُقابلہ میں جنگ برپا ہو
تَو بھی مَیں خاطِر جمع رہُوں گا۔
4 مَیں نے خُداوند سے ایک درخواست کی ہے۔ مَیں
اِسی کا طالِب رہُوں گا
کہ مَیں عُمر بھر خُداوند کے گھر میں رہُوں
تاکہ خُداوند کے جمال کو دیکھُوں اور اُس کی
ہَیکل میں اِستِفسار کِیا کرُوں۔
5 کیونکہ مُصِیبت کے دِن وہ مُجھے اپنے شامیانہ میں
پوشِیدہ رکھّے گا
وہ مُجھے اپنے خَیمہ کے پردہ میں چِھپا لے گا۔
وہ مُجھے چٹان پر چڑھا دے گا۔
6 اب مَیں اپنے چاروں طرف کے دُشمنوں پر سرفراز
کِیا جاؤُں گا۔
مَیں اُس کے خَیمہ میں خُوشی کی قُربانِیاں
گُذرانُوں گا۔
مَیں گاؤُں گا۔ مَیں خُداوند کی مدح سرائی
کرُوں گا۔
7 اَے خُداوند! میری آواز سُن۔ مَیں پُکارتا ہُوں۔
مُجھ پر رحم کر اور مُجھے جواب دے۔
8 جب تُو نے فرمایا کہ میرے دِیدار کے طالِب ہو تو
میرے دِل نے تُجھ سے کہا
اَے خُداوند مَیں تیرے دِیدار کا طالِب رہُوں گا۔
9 مُجھ سے رُوپوش نہ ہو۔
اپنے بندہ کو قہر سے نہ نِکال۔
تُو میرا مددگار رہا ہے۔
نہ مُجھے ترک کر نہ مُجھے چھوڑ اَے میرے نجات
دینے والے خُدا!
10 جب میرا باپ اور میری ماں مُجھے چھوڑ دیں
تو خُداوند مُجھے سنبھال لے گا۔
11 اَے خُداوند مُجھے اپنی راہ بتا
اور میرے دُشمنوں کے سبب سے
مُجھے ہموار راستہ پر چلا۔
12 مُجھے میرے مُخالِفوں کی مرضی پر نہ چھوڑ
کیونکہ جُھوٹے گواہ اور بے رحمی سے پُھنکارنے
والے میرے خِلاف اُٹھے ہیں۔
13 اگر مُجھے یقِین نہ ہوتا کہ زِندوں کی زمِین میں
خُداوند کے اِحسان کو دیکھُوں گا تو مُجھے غش
آ جاتا۔
14 خُداوند کی آس رکھ۔
مضبُوط ہو اور تیرا دِل قوی ہو۔
ہاں خُداوند ہی کی آس رکھ۔
مدد کے لِئے اِلتجا
داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! مَیں تُجھ ہی کو پکارُوں گا۔
اَے میری چٹان! تُو میری طرف سے کان بند
نہ کر۔
اَیسا نہ ہو کہ اگر تُو میری طرف سے خاموش رہے
تو مَیں اُن کی مانِند بن جاؤُں جو پاتال میں
جاتے ہیں۔
2 جب مَیں تُجھ سے فریاد کرُوں اور اپنے ہاتھ
تیری مُقدّس ہَیکل کی طرف اُٹھاؤُں تو میری
مِنّت کی آواز کو سُن لے۔
3 مُجھے اُن شرِیروں اور بدکرداروں کے ساتھ گھسِیٹ
نہ لے جا
جو اپنے ہمسایوں سے صُلح کی باتیں کرتے ہیں
مگر اُن کے دِلوں میں بدی ہے۔
4 اُن کے افعال و اعمال کی بُرائی کے مُوافِق اُن کو
بدلہ دے۔
اُن کے ہاتھوں کے کاموں کے مُطابِق اُن سے
سلُوک کر۔
اُن کے کِئے کا عِوض اُن کو دے۔
5 وہ خُداوند کے کاموں
اور اُس کی دست کاری پر دِھیان نہیں کرتے۔
اِس لِئے وہ اُن کو گِرا دے گا اور پِھر نہیں
اُٹھائے گا۔
6 خُداوند مُبارک ہو۔
اِس لِئے کہ اُس نے میری مِنّت کی آواز سُن لی۔
7 خُداوند میری قُوّت اور میری سِپر ہے۔
میرے دِل نے اُس پر توکُّل کِیا ہے اور مُجھے مدد
مِلی ہے
اِسی لِئے میرا دِل نہایت شادمان ہے
اور مَیں گِیت گا کر اُس کی سِتایش کرُوں گا۔
8 خُداوند اُن کی قُوّت ہے۔
وہ اپنے ممسُوح کے لِئے نجات کا قلعہ ہے۔
9 اپنی اُمّت کو بچا اور اپنی مِیراث کو برکت دے۔
اُن کی پاسبانی کر اور اُن کو ہمیشہ تک سنبھالے رہ۔
طُوفان میں خُداوند کی آواز
داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے فرِشتگان خُداوند کی۔
خُداوند ہی کی تمِجید و تعظِیم کرو۔
2 خُداوند کی اَیسی تمِجید کرو
جو اُس کے نام کے شایاں ہے۔
پاک آرایش کے ساتھ خُداوند کو سِجدہ کرو۔
3 خُداوند کی آواز بادلوں پر ہے۔
خُدایِ ذُوالجلال گرجتا ہے۔
خُداوند دلدار بادلوں پر ہے۔
4 خُداوند کی آواز میں قُدرت ہے۔
خُداوند کی آواز میں جلال ہے۔
5 خُداوند کی آواز دیوداروں کو توڑ ڈالتی ہے۔
بلکہ خُداوند لُبنان کے دیوداروں کو
ٹُکڑے ٹُکڑے کر دیتا ہے۔
6 وہ اُن کو بچھڑے کی مانِند۔
لُبنان اور سِریُون کو جنگلی بچھڑے کی مانِند
کُداتا ہے۔
7 خُداوند کی آواز آگ کے شُعلوں کو چِیرتی ہے۔
8 خُداوند کی آواز بیابان کو ہلا دیتی ہے۔
خُداوند قادِس کے بیابان کو ہِلا ڈالتا ہے۔
9 خُداوند کی آواز سے ہرنیوں کے حمل گِر جاتے ہیں۔
اور وہ جنگلوں کو بے برگ کر دیتی ہے۔
اُس کی ہَیکل میں ہر ایک جلال ہی جلال پُکارتا ہے۔
10 خُداوند طُوفان کے وقت تخت نشِین تھا۔
بلکہ خُداوند ہمیشہ تک تخت نشِین ہے۔
11 خُداوند اپنی اُمّت کو زور بخشے گا۔
خُداوند اپنی اُمّت کو سلامتی کی برکت دے گا۔
شُکرگُذاری کی دُعا
داؤُد کا مزمُور۔ ہَیکل کی تقدِیس کے وقت کا گِیت۔
1 اَے خُداوند! مَیں تیری تمِجید کرُوں گا
کیونکہ تُو نے مُجھے سرفراز کِیا ہے
اور میرے دُشمنوں کو مُجھ پر خُوش ہونے نہ دِیا۔
2 اَے خُداوند میرے خُدا!
مَیں نے تُجھ سے فریاد کی
اور تُو نے مُجھے شِفا بخشی۔
3 اَے خُداوند! تُو میری جان کو پاتال سے نِکال لایا ہے۔
تُو نے مُجھے زِندہ رکھّا ہے
کہ گور میں نہ جاؤُں۔
4 خُداوند کی سِتایش کرو اَے اُس کے مُقدّسو!
اور اُس کے قُدس کو یاد کر کے شُکرگُذاری کرو
5 کیونکہ اُس کا قہر دم بھر کا ہے۔
اُس کا کرم عُمر بھر کا۔
رات کو شاید رونا پڑے
پر صُبح کو خُوشی کی نَوبت آتی ہے۔
6 مَیں نے اپنی اِقبال مندی کے وقت یہ کہا تھا
کہ مُجھے کبھی جُنبش نہ ہو گی۔
7 اَے خُداوند! تُو نے اپنے کرم سے میرے پہاڑ کو قائِم رکھّا تھا۔
جب تُو نے اپنا چہرہ چِھپایا
تو مَیں گھبرا اُٹھا۔
8 اَے خُداوند! مَیں نے تُجھ سے فریاد کی۔
مَیں نے خُداوند سے مِنّت کی۔
9 جب مَیں گور میں جاؤُں تو میری مَوت سے کیا فائِدہ؟
کیا خاک تیری سِتایش کرے گی؟
کیا وہ تیری سچّائی کو بیان کرے گی؟
10 سُن لے اَے خُداوند! اور مُجھ پر رحم کر۔
اَے خُداوند! تُو میرا مددگار ہو۔
11 تُو نے میرے ماتم کو ناچ سے بدل دِیا۔
تُو نے میرا ٹاٹ اُتار ڈالا
اور مُجھے خُوشی سے کمربستہ کِیا
12 تاکہ میری رُوح تیری مدح سرائی کرے
اور چُپ نہ رہے۔
اَے خُداوند میرے خُدا!
مَیں ہمیشہ تیرا شُکر کرتا رہُوں گا۔
خُدا پر توکُّل کی دُعا
مِیر مغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! میرا توکُّل تُجھ پر ہے۔
مُجھے کبھی شرمِندہ نہ ہونے دے۔
اپنی صداقت کی خاطِر مُجھے رہائی دے۔
2 اپنا کان میری طرف جُھکا۔ جلد مُجھے چُھڑا۔
تُو میرے لِئے مضبُوط چٹان
میرے بچانے کو پناہ گاہ ہو۔
3 کیونکہ تُو ہی میری چٹان اور میرا قلعہ ہے۔
اِس لِئے اپنے نام کی خاطِر میری رہبری اور رہنُمائی کر۔
4 مُجھے اُس جال سے نِکال لے
جو اُنہوں نے چِھپ کر میرے لِئے بچھایا ہے
کیونکہ تُو ہی میرا مُحکم قلعہ ہے۔
5 مَیں اپنی رُوح تیرے ہاتھ میں سَونپتا ہُوں۔
اَے خُداوند! سچّائی کے خُدا!
تُو نے میرا فِدیہ دِیا ہے۔
6 مُجھے اُن سے نفرت ہے
جو جُھوٹے معبُودوں کو مانتے ہیں۔
میرا توکُّل تو خُداوند ہی پر ہے۔
7 مَیں تیری رحمت سے خُوش و خُرّم رہُوں گا
کیونکہ تُو نے میرا دُکھ دیکھ لِیا ہے۔
تُو میری جان کی مُصِیبتوں سے واقِف ہے۔
8 تُو نے مُجھے دُشمن کے ہاتھ میں اسِیر نہیں چھوڑا۔
تُو نے میرے پاؤں کُشادہ جگہ میں رکھّے ہیں۔
9 اَے خُداوند! مُجھ پر رحم کر
کیونکہ مَیں مُصِیبت میں ہُوں۔
میری آنکھ بلکہ میری جان اور میرا جِسم
سب رنج کے مارے گُھلے جاتے ہیں۔
10 کیونکہ میری جان غم میں اور میری عُمر کراہنے میں
فنا ہُوئی۔
میرا زور میری بدکاری کے باعِث سے جاتا رہا
اور میری ہڈّیاں گُھل گئِیں۔
11 مَیں اپنے سب مُخالِفوں کے سبب سے
اپنے ہمسایوں کے لِئے از بس انگُشت نُما
اور اپنے جان پہچانوں کے لِئے خَوف کا باعِث ہُوں۔
جِنہوں نے مُجھ کو باہر دیکھا مُجھ سے دُور بھاگے۔
12 مَیں مُردہ کی مانِند دِل سے بُھلا دِیا گیا ہُوں۔
مَیں ٹُوٹے برتن کی مانِند ہُوں۔
13 کیونکہ مَیں نے بہتوں سے اپنی بدنامی سُنی ہے۔
ہر طرف خَوف ہی خَوف ہے۔
جب اُنہوں نے مِل کر میرے خِلاف مشوَرہ کِیا
تُو میری جان لینے کا منصُوبہ باندھا۔
14 لیکن اَے خُداوند! میرا توکُّل تُجھ پر ہے۔
مَیں نے کہا تُو میرا خُدا ہے۔
15 میرے ایّام تیرے ہاتھ میں ہیں۔
مُجھے میرے دُشمنوں اور ستانے والوں کے ہاتھ سے چُھڑا۔
16 اپنے چہرے کو اپنے بندہ پر جلوہ گر فرما۔
اپنی شفقت سے مُجھے بچا لے۔
17 اَے خُداوند! مُجھے شرمِندہ نہ ہونے دے
کیونکہ مَیں نے تُجھ سے دُعا کی ہے۔
شرِیر شرمِندہ ہو جائیں
اور پاتال میں خاموش ہوں۔
18 جُھوٹے ہونٹ بند ہو جائیں
جو صادِقوں کے خِلاف غرُور اور حقارت سے
تکبُّر کی باتیں بولتے ہیں۔
19 آہ! تُو نے اپنے ڈرنے والوں کے لِئے
کَیسی بڑی نِعمت رکھ چھوڑی ہے۔
جِسے تُو نے بنی آدمؔ کے سامنے
اپنے توکُّل کرنے والوں کے لِئے تیّار کِیا۔
20 تُو اُن کو اِنسان کی بندِشوں سے
اپنی حضُوری کے پردہ میں چِھپا لے گا۔
تُو اُن کو زُبان کے جھگڑوں سے
شامیانہ میں پوشِیدہ رکھّے گا۔
21 خُداوند مُبارک ہو۔
کیونکہ اُس نے مُجھ کو مُحکم شہر میں
اپنی عجِیب شفقت دِکھائی۔
22 مَیں نے تو جلد بازی سے کہا تھا
کہ مَیں تیرے سامنے سے کاٹ ڈالا گیا۔
تَو بھی جب مَیں نے تُجھ سے فریاد کی
تو تُو نے میری مِنّت کی آواز سُن لی
23 خُداوند سے مُحبّت رکھّو اَے اُس کے سب مُقدّسو!
خُداوند اِیمان داروں کو سلامت رکھتا ہے
اور مغرُوروں کو خُوب ہی بدلہ دیتا ہے۔
24 اَے خُداوند پر آس رکھنے والو!
سب مضبُوط ہو اور تُمہارا دِل قوی رہے۔
گُناہ کا اِقرار اور مُعافی
داؤُد کا مزمُور مشکِیل۔
1 مُبارک ہے وہ جِس کی خطا بخشی گئی اور جِس کا گُناہ ڈھانکا گیا۔
2 مُبارک ہے وہ آدمی جِس کی بدکاری کو خُداوند حِساب میں نہیں لاتا
اور جِس کے دِل میں مکر نہیں۔
3 جب مَیں خاموش رہا تو دِن بھر کے کراہنے سے
میری ہڈّیاں گُھل گئِیں۔
4 کیونکہ تیرا ہاتھ رات دِن مُجھ پر بھاری تھا
میری تراوت گرمیوں کی خُشکی سے بدل گئی۔ (سِلاہ)
5 مَیں نے تیرے حضُور اپنے گُناہ کو مان لِیا اور اپنی بدکاری کو نہ چِھپایا۔
مَیں نے کہا مَیں خُداوند کے حضُور اپنی خطاؤں کا اِقرار کرُوں گا
اور تُو نے میرے گُناہ کی بدی کو مُعاف کِیا۔
(سِلاہ)
6 اِسی لِئے ہر دِین دار تُجھ سے اَیسے وقت میں دُعا کرے جب تُو مِل سکتا ہے۔
یقینا جب سَیلاب آئے تو اُس تک نہیں پُہنچے گا۔
7 تُو میرے چِھپنے کی جگہ ہے۔ تُو مُجھے دُکھ سے بچائے رکھّے گا۔
تُو مُجھے رہائی کے نغموں سے گھیر لے گا۔ (سِلاہ)
8 مَیں تُجھے تعلِیم دُوں گا اور جِس راہ پر تُجھے چلنا ہو گا تُجھے بتاؤُں گا۔
مَیں تُجھے صلاح دُوں گا۔ میری نظر تُجھ پر ہو گی۔
9 تُم گھوڑے یا خچّر کی مانِند نہ بنو جِن میں سمجھ نہیں۔
جِن کو قابُو میں رکھنے کا ساز دہانہ اور لگام ہے
ورنہ وہ تیرے پاس آنے کے بھی نہیں۔
10 شرِیر پر بُہت سی مُصِیبتیں آئیں گی
پر جِس کا توکُّل خُداوند پر ہے رحمت اُسے گھیرے رہے گی۔
11 اَے صادِقو! خُداوند میں خُوش و خُرَّم رہو
اور اَے راست دِلو! خُوشی سے للکارو۔
سِتایش کا گِیت
1 اَے صادِقو! خُداوند میں شادمان رہو۔
حمد کرنا راست بازوں کو زیبا ہے۔
2 سِتار کے ساتھ خُداوند کا شُکر کرو۔
دس تار کی بربط کے ساتھ اُس کی سِتایش کرو۔
3 اُس کے لِئے نیا گِیت گاؤ۔
بُلند آواز کے ساتھ اچھّی طرح بجاؤ
4 کیونکہ خُداوند کا کلام راست ہے
اور اُس کے سب کام باوفا ہیں۔
5 وہ صداقت اور اِنصاف کو پسند کرتا ہے۔
زمِین خُداوند کی شفقت سے معمُور ہے۔
6 آسمان خُداوند کے کلام سے
اور اُس کا سارا لشکر اُس کے مُنہ کے دَم سے بنا۔
7 وہ سمُندر کا پانی تُودے کی مانِند جمع کرتا ہے۔
وہ گہرے سمُندروں کو مخزنوں میں رکھتا ہے۔
8 ساری زمِین خُداوند سے ڈرے۔
جہان کے سب باشِندے اُس کا خَوف رکھّیں
9 کیونکہ اُس نے فرمایا اور ہو گیا۔
اُس نے حُکم دِیا اور واقِع ہُؤا۔
10 خُداوند قَوموں کی مشوَرت کو باطِل کر دیتا ہے۔
وہ اُمّتوں کے منصُوبوں کو ناچِیز بنا دیتا ہے۔
11 خُداوند کی مصلحت ابد تک قائِم رہے گی
اور اُس کے دِل کے خیال نسل در نسل۔
12 مُبارک ہے وہ قَوم جِس کا خُدا خُداوند ہے
اور وہ اُمّت جِس کو اُس نے اپنی ہی مِیراث کے لِئے برگُزِیدہ کِیا۔
13 خُداوند آسمان پر سے دیکھتا ہے۔
سب بنی آدمؔ پر اُس کی نِگاہ ہے
14 اپنی سکُونت گاہ سے
وہ زمِین کے سب باشِندوں کو دیکھتا ہے۔
15 وُہی ہے جو اُن سب کے دِلوں کو بناتا
اور اُن کے سب کاموں کا خیال رکھتا ہے۔
16 کِسی بادشاہ کو فَوج کی کثرت نہ بچائے گی
اور کِسی زبردست آدمی کو اُس کی بڑی طاقت رہائی نہ دے گی۔
17 بچ نِکلنے کے لِئے گھوڑا بیکار ہے۔
وہ اپنی شہہ زوری سے کِسی کو نہ بچائے گا
18 دیکھو! خُداوند کی نِگاہ اُن پر ہے
جو اُس سے ڈرتے ہیں۔
جو اُس کی شفقت کے اُمیدوار ہیں
19 تاکہ اُن کی جان مَوت سے بچائے
اور قحط میں اُن کو جِیتا رکھّے۔
20 ہماری جان کو خُداوند کی آس ہے۔
وُہی ہماری کُمک اور ہماری سِپر ہے۔
21 ہمارا دِل اُس میں شادمان رہے گا
کیونکہ ہم نے اُس کے پاک نام پر توکُّل کِیا ہے۔
22 اَے خُداوند! جَیسی تُجھ پر ہماری آس ہے
وَیسی ہی تیری رحمت ہم پر ہو!
خُدا کی شفقت کے لِئے اُس کی حمد و ثنا
داؤُد کا مزمُور۔ اُس وقت کا جب اُس نے اَبی مَلِک کے سامنے اپنی وضع بدلی۔ جِس نے اُسے نِکال دِیا اور وہ چلا گیا۔
1 مَیں ہر وقت خُداوند کو مُبارک کہُوں گا۔
اُس کی سِتایش ہمیشہ میری زُبان پر رہے گی۔
2 میری رُوح خُداوند پر فخر کرے گی۔
حلِیم یہ سُن کر خُوش ہوں گے۔
3 میرے ساتھ خُداوند کی بڑائی کرو۔
ہم مِل کر اُس کے نام کی تمجِید کریں۔
4 مَیں خُداوند کا طالِب ہُؤا۔ اُس نے مُجھے جواب دِیا
اور میری ساری دہشت سے مُجھے رہائی بخشی۔
5 اُنہوں نے اُس کی طرف نظر کی اور مُنوّر ہو گئے
اور اُن کے مُنہ پر کبھی شرمِندگی نہ آئے گی۔
6 اِس غرِیب نے دُہائی دی۔ خُداوند نے اِس کی سُنی
اور اِسے اِس کے سب دُکھوں سے بچا لِیا۔
7 خُداوند سے ڈرنے والوں کی چاروں طرف
اُس کا فرِشتہ خَیمہ زن ہوتا ہے
اور اُن کو بچاتا ہے۔
8 آزما کر دیکھو کہ خُداوند کَیسا مہربان ہے۔
مُبارک ہے وہ آدمی جو اُس پر توکُّل کرتا ہے
9 خُداوند سے ڈرو اَے اُس کے مُقدّسو!
کیونکہ جو اُس سے ڈرتے ہیں اُن کو کُچھ کمی نہیں۔
10 بَبر کے بچّے تو حاجتمند اور بُھوکے ہوتے ہیں
پر خُداوند کے طالِب کِسی نِعمت کے مُحتاج نہ ہوں گے۔
11 اَے بچّو! آؤ میری سُنو۔
مَیں تُم کو خُدا ترسی سِکھاؤُں گا۔
12 وہ کَون آدمی ہے جو زِندگی کا مُشتاق ہے
اور بڑی عُمر چاہتا ہے تاکہ بھلائی دیکھے؟
13 اپنی زُبان کو بدی سے باز رکھ
اور اپنے ہونٹوں کو دغا کی بات سے۔
14 بدی کو چھوڑ اور نیکی کر۔
صُلح کا طالِب ہو اور اُسی کی پَیروی کر۔
15 خُداوند کی نِگاہ صادِقوں پر ہے
اور اُس کے کان اُن کی فریاد پر لگے رہتے ہیں۔
16 خُداوند کا چہرہ بدکاروں کے خِلاف ہے
تاکہ اُن کی یاد زمِین پر سے مِٹا دے۔
17 صادِق چِلّائے اور خُداوند نے سُنا
اور اُن کو اُن کے سب دُکھوں سے چُھڑایا
18 خُداوند شِکستہ دِلوں کے نزدِیک ہے
اور خستہ جانوں کو بچاتا ہے۔
19 صادِق کی مُصِیبتیں بُہت ہیں
لیکن خُداوند اُس کو اُن سب سے رہائی بخشتا ہے
20 وہ اُس کی سب ہڈِّیوں کو محفُوظ رکھتا ہے۔
اُن میں سے ایک بھی توڑی نہیں جاتی۔
21 بدی شرِیر کو ہلاک کر دے گی
اور صادِق سے عداوت رکھنے والے مُجرِم ٹھہریں گے۔
22 خُداوند اپنے بندوں کی جان کا فِدیہ دیتا ہے
اور جو اُس پر توکُّل کرتے ہیں اُن میں سے کوئی
مُجرِم نہ ٹھہرے گا۔
مدد کے لِئے اِلتجا
داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! جو مُجھ سے جھگڑتے ہیں
تُو اُن سے جھگڑ۔
جو مُجھ سے لڑتے ہیں تُو اُن سے لڑ۔
2 ڈھال اور سِپر لے کر
میری کُمک کے لِئے کھڑا ہو۔
3 بھالا بھی نِکال اور میرا پِیچھا کرنے والوں کا راستہ
بند کر دے۔
میری جان سے کہہ مَیں تیری نجات ہُوں۔
4 جو میری جان کے خواہاں ہیں وہ شرمِندہ اور رُسوا ہوں۔
جو میرے نُقصان کا منصُوبہ باندھتے ہیں وہ پسپا اور پریشان ہوں۔
5 وہ اَیسے ہو جائیں جَیسے ہوا کے آگے بُھوسا
اور خُداوند کا فرِشتہ اُن کو ہانکتا رہے۔
6 اُن کی راہ اندھیری اور پِھسلنی ہو جائے۔
اور خُداوند کا فرِشتہ اُن کو رگیدتا جائے۔
7 کیونکہ اُنہوں نے بے سبب میرے لِئے گڑھے میں
جال بِچھایا
اور ناحق میری جان کے لِئے گڑھا کھودا ہے۔
8 اُس پر ناگہان تباہی آ پڑے
اور جِس جال کو اُس نے بِچھایا ہے اُس میں آپ
ہی پھنسے
اور اُسی ہلاکت میں گرِفتار ہو۔
9 لیکن میری جان خُداوند میں خُوش رہے گی
اور اُس کی نجات سے شادمان ہو گی۔
10 میری سب ہڈِّیاں کہیں گی اَے خُداوند! تُجھ سا
کَون ہے
جو غرِیب کو اُس کے ہاتھ سے جو اُس سے
زورآور ہے
اور مسکِین و مُحتاج کو غارت گر سے چُھڑاتا ہے؟
11 جُھوٹے گواہ اُٹھتے ہیں
اور جو باتیں مَیں نہیں جانتا وہ مُجھ سے پُوچھتے ہیں۔
12 وہ مُجھ سے نیکی کے بدلے بدی کرتے ہیں۔
یہاں تک کہ میری جان بیکس ہو جاتی ہے۔
13 لیکن مَیں نے تو اُن کی بِیماری میں جب وہ بِیمار
تھے ٹاٹ اوڑھا
اور روزے رکھ رکھ کر اپنی جان کو دُکھ دِیا
اور میری دُعا میرے ہی سِینہ میں واپس آئی۔
14 مَیں نے تو اَیسا کِیا گویا وہ میرا دوست یا میرا
بھائی تھا۔
مَیں نے سر جُھکا کر غم کِیا جَیسے کوئی اپنی ماں کے
لِئے ماتم کرتا ہو۔
15 پر جب مَیں لنگڑانے لگا تو وہ خُوش ہو کر اِکٹّھے ہو گئے۔
کمِینے میرے خِلاف اِکٹّھے ہُوئے اور مُجھے
معلُوم نہ تھا۔
اُنہوں نے مُجھے پھاڑا اور باز نہ آئے۔
16 ضِیافتوں کے بدتمِیز مسخروں کی طرح
اُنہوں نے مُجھ پر دانت پِیسے۔
17 اَے خُداوند! تُو کب تک دیکھتا رہے گا؟
میری جان کو اُن کی غارت گری سے۔
میری جان کو شیروں سے چُھڑا۔
18 مَیں بڑے مجمع میں تیری شُکرگُذاری کرُوں گا۔
مَیں بُہت سے لوگوں میں تیری سِتایش کرُوں گا۔
19 جو ناحق میرے دُشمن ہیں مُجھ پر شادیانہ نہ بجائیں
اور جو مُجھ سے بے سبب عداوت رکھتے ہیں چشمک
زنی نہ کریں۔
20 کیونکہ وہ سلامتی کی باتیں نہیں کرتے۔
بلکہ مُلک کے امن پسند لوگوں کے خِلاف مکر
کے منصُوبے باندھتے ہیں۔
21 یہاں تک کہ اُنہوں نے خُوب مُنہ پھاڑا
اور کہا اہا ہاہا! ہم نے اپنی آنکھ سے دیکھ لِیا ہے۔
22 اَے خُداوند! تُو نے خُود یہ دیکھا ہے۔ خاموش نہ رہ۔
اَے خُداوند! مُجھ سے دُور نہ رہ۔
23 اُٹھ! میرے اِنصاف کے لِئے جاگ
اور میرے مُعاملہ کے لِئے اَے میرے خُدا! اَے
میرے خُداوند!
24 اپنی صداقت کے مُطابِق میری عدالت کر۔ اَے
خُداوند میرے خُدا!
اور اُن کو مُجھ پر شادیانہ بجانے نہ دے۔
25 وہ اپنے دِل میں یہ نہ کہنے پائیں اہا! ہم تو یہی
چاہتے تھے۔
وہ یہ نہ کہیں کہ ہم اُسے نِگل گئے۔
26 جو میرے نُقصان سے خُوش ہوتے ہیں وہ باہم
شرمِندہ اور پریشان ہوں۔
جو میرے مُقابلہ میں تکبُّر کرتے ہیں وہ شرمِندگی
اور رُسوائی سے مُلبّس ہوں۔
27 جو میرے سچّے مُعاملہ کی تائِید کرتے ہیں وہ خُوشی
سے للکاریں اور شاد ہوں۔
وہ سدا یہ کہیں خُداوند کی تمجِید ہو
جِس کی خُوشنُودی اپنے بندہ کی اِقبال مندی میں ہے۔
28 تب میری زُبان سے تیری صداقت کا ذِکر ہو گا
اور دِن بھر تیری تعرِیف ہو گی۔
اِنسان کی بدذاتی
مِیر مُغنّی کے لِئے خُداوند کے بندہ داؤُد کامزمُور۔
1 شرِیر کی بدی سے میرے دِل میں خیال آتا ہے
کہ خُدا کا خَوف اُس کے پیشِ نظر نہیں۔
2 کیونکہ وہ اپنے آپ کو اپنی نظر میں اِس خیال سے
تسلّی دیتا ہے
کہ اُس کی بدی نہ تو فاش ہو گی نہ مکرُوہ سمجھی
جائے گی۔
3 اُس کے مُنہ میں بدی اور فریب کی باتیں ہیں۔
وہ دانِش اور نیکی سے دست بردار ہو گیا ہے۔
4 وہ اپنے بِستر پر بدی کے منصُوبے باندھتا ہے۔
وہ اَیسی راہ اِختیار کرتا ہے جو اچھّی نہیں۔
وہ بدی سے نفرت نہیں کرتا۔
خُدا کی شفقت
5 اَے خُداوند! آسمان میں تیری شفقت ہے۔
تیری وفاداری افلاک تک بُلند ہے۔
6 تیری صداقت خُدا کے پہاڑوں کی مانِند ہے
تیرے احکام نِہایت عمِیق ہیں۔
اَے خُداوند! تُو اِنسان اور حَیوان دونوں کو محفُوظ
رکھتا ہے۔
7 اَے خُدا! تیری شفقت کیا ہی بیش قِیمت ہے۔
بنی آدمؔ تیرے بازُوؤں کے سایہ میں پناہ
لیتے ہیں۔
8 وہ تیرے گھر کی نِعمتوں سے خُوب آسُودہ ہوں گے۔
تُو اُن کو اپنی خُوشنُودی کے دریا میں سے پِلائے گا۔
9 کیونکہ زِندگی کا چشمہ تیرے پاس ہے۔
تیرے نُور کی بدَولت ہم رَوشنی دیکھیں گے۔
10 تیرے پہچاننے والوں پر تیری شفقت دائِمی ہو
اور راست دِلوں پر تیری صداقت۔
11 مغرُور آدمی مُجھ پر لات نہ اُٹھانے پائے
اور شرِیر کا ہاتھ مُجھے ہانک نہ دے۔
12 بدکردار وہاں گِرے پڑے ہیں۔
وہ گِرا دِیئے گئے ہیں اور پِھر اُٹھ نہ سکیں گے۔
بدکرداروں کا اور نیکوکاروں کا انجام
داؤُد کا مزمُور۔
1 تُو بدکرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہو
اور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر
2 کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد کاٹ ڈالے جائیں گے
اور سبزہ کی طرح مُرجھا جائیں گے۔
3 خُداوند پر توکُّل کر اور نیکی کر۔
مُلک میں آباد رہ اور اُس کی وفاداری سے پرورِش پا۔
4 خُداوند میں مسرُور رہ
اور وہ تیرے دِل کی مُرادیں پُوری کرے گا۔
5 اپنی راہ خُداوند پر چھوڑ دے
اور اُس پر توکُّل کر۔ وُہی سب کُچھ کرے گا۔
6 وہ تیری راست بازی کو نُور کی طرح
اور تیرے حق کو دوپہر کی طرح رَوشن کرے گا۔
7 خُداوند میں مُطمِئن رہ اور صبر سے اُس کی آس رکھ۔
اُس آدمی کے سبب سے جو اپنی راہ میں
کامیاب ہوتا
اور بُرے منصُوبوں کو انجام دیتا ہے بیزار نہ ہو۔
8 قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے۔
بیزار نہ ہو۔ اِس سے بُرائی ہی نِکلتی ہے۔
9 کیونکہ بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے
لیکن جِن کو خُداوند کی آس ہے مُلک کے وارِث
ہوں گے
10 کیونکہ تھوڑی دیر میں شرِیر نابُود ہو جائے گا۔
تُو اُس کی جگہ کو غَور سے دیکھے گا پر وہ نہ ہو گا۔
11 لیکن حلِیم مُلک کے وارِث ہوں گے
اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔
12 شرِیر راست باز کے خِلاف بندِشیں باندھتا ہے
اور اُس پر دانت پِیستا ہے۔
13 خُداوند اُس پر ہنسے گا
کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اُس کا دِن آتا ہے۔
14 شرِیروں نے تلوار نِکالی اور کمان کھینچی ہے
تاکہ غرِیب اور مُحتاج کو گِرا دیں
اور راست رَو کو قتل کریں۔
15 اُن کی تلوار اُن ہی کے دِل کو چھیدے گی
اور اُن کی کمانیں توڑی جائیں گی
16 صادِق کا تھوڑا سا مال
بُہت سے شرِیروں کی دَولت سے بِہتر ہے
17 کیونکہ شرِیروں کے بازُو توڑے جائیں گے
لیکن خُداوند صادِقوں کو سنبھالتا ہے۔
18 کامِل لوگوں کے ایّام کو خُداوند جانتا ہے۔
اُن کی مِیراث ہمیشہ کے لِئے ہو گی۔
19 وہ آفت کے وقت شرمِندہ نہ ہوں گے۔
اور کال کے دِنوں میں آسُودہ رہیں گے۔
20 لیکن شرِیر ہلاک ہوں گے۔
خُداوند کے دُشمن چراگاہوں کی سرسبزی کی مانِند
ہوں گے۔
وہ فنا ہو جائیں گے۔ وہ دُھوئیں کی طرح جاتے
رہیں گے۔
21 شرِیر قرض لیتا ہے اور ادا نہیں کرتا
لیکن صادِق رحم کرتا ہے اور دیتا ہے
22 کیونکہ جِن کو وہ برکت دیتا ہے وہ زمِین کے
وارِث ہوں گے
اور جِن پر وہ لَعنت کرتا ہے وہ کاٹ ڈالے
جائیں گے۔
23 اِنسان کی روِشیں خُداوند کی طرف سے قائِم ہیں
اور وہ اُس کی راہ سے خُوش ہے۔
24 اگر وہ گِر بھی جائے تُو پڑا نہ رہے گا
کیونکہ خُداوند اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھالتا ہے۔
25 مَیں جوان تھا اور اب بُوڑھا ہُوں
تَو بھی مَیں نے صادِق کو بیکس
اور اُس کی اَولاد کو ٹُکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔
26 وہ دِن بھر رحم کرتا ہے اور قرض دیتا ہے
اور اُس کی اَولاد کو برکت مِلتی ہے۔
27 بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر
اور ہمیشہ تک آباد رہ۔
28 کیونکہ خُداوند اِنصاف کو پسند کرتا ہے
اور اپنے مُقدّسوں کو ترک نہیں کرتا۔
وہ ہمیشہ کے لِئے محفُوظ ہیں۔
پر شرِیروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔
29 صادِق زمِین کے وارِث ہوں گے
اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔
30 صادِق کے مُنہ سے دانائی نِکلتی ہے
اور اُس کی زُبان سے اِنصاف کی باتیں۔
31 اُس کے خُدا کی شرِیعت اُس کے دِل میں ہے۔
وہ اپنی روِش میں پِھسلے گا نہیں۔
32 شرِیر صادِق کی تاک میں رہتا ہے
اور اُسے قتل کرنا چاہتا ہے۔
33 خُداوند اُسے اُس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑے گا
اور جب اُس کی عدالت ہو تو اُسے مُجرِم نہ
ٹھہرائے گا۔
34 خُداوند کی آس رکھ اور اُسی کی راہ پر چلتا رہ
اور وہ تُجھے سرفراز کر کے زمِین کا وارِث بنائے گا۔
جب شرِیر کاٹ ڈالے جائیں گے تو تُو دیکھے گا۔
35 مَیں نے شرِیر کو بڑے اِقتدار میں اور اَیسا
پَھیلتے دیکھا
جَیسے کوئی ہرا درخت اپنی اصلی زمِین میں
پَھیلتا ہے۔
36 لیکن جب کوئی اُدھر سے گُذرا اور دیکھا تو وہ تھا
ہی نہیں
بلکہ مَیں نے اُسے ڈھُونڈا پر وہ نہ مِلا۔
37 کامِل آدمی پر نِگاہ کر اور راست باز کو دیکھ
کیونکہ صُلح دوست آدمی کے لِئے اجر ہے۔
38 لیکن خطاکار اِکٹھے مَر مِٹیں گے۔
شرِیروں کا انجام ہلاکت ہے
39 لیکن صادِقوں کی نجات خُداوند کی طرف سے ہے۔
مُصِیبت کے وقت وہ اُن کا مُحکم قلعہ ہے۔
40 اور خُداوند اُن کی مدد کرتا اور اُن کو بچاتا ہے۔
وہ اُن کو شرِیروں سے چُھڑاتا اور بچا لیتا ہے۔
اِس لِئے کہ اُنہوں نے اُس میں پناہ لی ہے۔
دُکھی آدمی کی فریاد
یادگار کے لِئیداؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند اپنے قہر میں مُجھے جِھڑک نہ دے
اور اپنے غضب میں مُجھے تنبِیہہ نہ کر۔
2 کیونکہ تیرے تِیر مُجھ میں لگے ہیں
اور تیرا ہاتھ مُجھ پر بھاری ہے۔
3 تیرے قہر کے سبب سے میرے جِسم میں صِحت نہیں
اور میرے گُناہ کے باعِث میری ہڈِّیوں کو
آرام نہیں۔
4 کیونکہ میری بدی میرے سر سے گُذر گئی
اور وہ بڑے بوجھ کی مانِند میرے لِئے نِہایت
بھاری ہے۔
5 میری حماقت کے سبب سے
میرے زخموں سے بدبُو آتی ہے۔ وہ سڑ گئے ہیں۔
6 مَیں پُر درد اور بُہت جُھکا ہُؤا ہُوں۔
مَیں دِن بھر ماتم کرتا پِھرتا ہُوں
7 کیونکہ میری کمر میں سوزِش ہی سوزِش ہے
اور میرے جِسم میں کُچھ صِحت نہیں۔
8 مَیں نحیِف اور نِہایت کُچلا ہُؤا ہُوں
اور دِل کی بے چینی کے سبب سے کراہتا رہا۔
9 اَے خُداوند! میری ساری تمنّا تیرے سامنے ہے
اور میرا کراہنا تُجھ سے چِھپا نہیں۔
10 میرا دِل دھڑکتا ہے۔ میری طاقت گھٹی جاتی ہے۔
میری آنکھوں کی رَوشنی بھی مُجھ سے جاتی رہی۔
11 میرے عزِیز اور دوست میری بلا میں الگ ہو گئے
اور میرے رِشتہ دار دُور جا کھڑے ہُوئے۔
12 میری جان کے خواہاں میرے لِئے جال بِچھاتے ہیں
اور میرے نُقصان کے طالِب شرارت کی
باتیں بولتے
اور دِن بھر مکر و فریب کے منصُوبے باندھتے ہیں۔
13 پر مَیں بہرے کی مانِند سُنتا ہی نہیں۔
مَیں گُونگے کی مانِند مُنہ نہیں کھولتا
14 بلکہ مَیں اُس آدمی کی مانِند ہُوں جِسے سُنائی
نہیں دیتا
اور جِس کے مُنہ میں ملامت کی باتیں نہیں۔
15 کیونکہ اَے خُداوند! مُجھے تُجھ سے اُمّید ہے۔
اَے خُداوند میرے خُدا! تُو جواب دے گا۔
16 کیونکہ مَیں نے کہا کہ کہیں وہ مُجھ پر شادیانہ
نہ بجائیں۔
جب میرا پاؤں پِھسلتا ہے تُو وہ میرے خِلاف تکبُّر
کرتے ہیں۔
17 کیونکہ مَیں گِرنے ہی کو ہُوں
اور میرا غم برابر میرے سامنے ہے۔
18 اِس لِئے کہ مَیں اپنی بدی کو ظاہِر کرُوں گا
اور اپنے گُناہ کے باعِث غمگِین رہُوں گا۔
19 لیکن میرے دُشمن چُست اور زبردست ہیں
اور مُجھ سے ناحق عداوت رکھنے والے بُہت ہو
گئے ہیں۔
20 جو نیکی کے بدلے بدی کرتے ہیں
وہ بھی میرے مُخالِف ہیں کیونکہ مَیں نیکی کی
پَیروی کرتا ہُوں۔
21 اَے خُداوند! مُجھے چھوڑ نہ دے۔
اَے میرے خُدا! مُجھ سے دُور نہ ہو۔
22 اَے خُداوند! اَے میری نجات!
میری مدد کے لِئے جلدی کر۔
دُکھی آدمی کا اِقرار
مِیر مُغنّی کے لِئے یدُو تُوؔن کے واسطے داؤُد کا مزمُور۔
1 مَیں نے کہا مَیں اپنی راہ کی نِگرانی کرُوں گا
تاکہ میری زُبان سے خطا نہ ہو۔
جب تک شرِیر میرے سامنے ہے
مَیں اپنے مُنہ کو لگام دِیئے رہُوں گا۔
2 مَیں گُونگا بن کر خاموش رہا اور نیکی کی طرف سے
بھی خاموشی اِختیار کی
اور میرا غم بڑھ گیا۔
3 میرا دِل اندر ہی اندر جل رہا تھا۔
سوچتے سوچتے آگ بھڑک اُٹھی۔
تب مَیں اپنی زُبان سے کہنے لگا
4 اَے خُداوند! اَیسا کر کہ مَیں اپنے انجام سے
واقِف ہو جاؤُں
اور اِس سے بھی کہ میری عُمر کی مِیعاد کیا ہے۔
مَیں جان لُوں کہ کَیسا فانی ہُوں۔
5 دیکھ! تُو نے میری عُمر بالِشت بھر کی رکھّی ہے
اور میری زِندگی تیرے حضُور بے حقِیقت ہے۔
یقِیناً ہر اِنسان بہترین حالت میں بھی بِالکُل
بے ثبات ہے (سِلاہ)
6 در حقِیقت اِنسان سایہ کی طرح چلتا پِھرتا ہے۔
یقِیناً وہ فضُول گھبراتے ہیں۔
وہ ذخِیرہ کرتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اُسے کَون
لے گا۔
7 اَے خُداوند! اب مَیں کِس بات کے لِئے
ٹھہرا ہُوں؟
میری اُمّید تُجھ ہی سے ہے۔
8 مُجھ کو میری سب خطاؤں سے رہائی دے۔
احمقوں کو مُجھ پر انگُشت نُمائی نہ کرنے دے۔
9 مَیں گُونگا بنا۔ مَیں نے مُنہ نہ کھولا۔
کیونکہ تُو ہی نے یہ کِیا ہے۔
10 مُجھ سے اپنی بلا دُور کر دے۔
مَیں تو تیرے ہاتھ کی مار سے فنا ہُؤا جاتا ہُوں۔
11 جب تُو اِنسان کو بدی پر ملامت کر کے تنبِیہہ کرتا ہے
تو اُس کے حسُن کو پتنگے کی طرح فنا کر دیتا ہے۔
یقِیناً ہر اِنسان بے ثبات ہے۔ (سِلاہ)
12 اَے خُداوند! میری دُعا سُن اور میری فریاد پر کان لگا۔
میرے آنسُوؤں کو دیکھ کر خاموش نہ رہ
کیونکہ مَیں تیرے حضُور پردیسی اور مُسافر ہُوں۔
جَیسے میرے سب باپ دادا تھے۔
13 آہ! مُجھ سے نظر ہٹا لے تاکہ تازہ دَم ہو جاؤُں۔
اِس سے پہلے کہ رِحلت کرُوں اور نابُود ہو جاؤُں۔
حمد و سِتایش کا گیت
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 مَیں نے صبر سے خُداوند پر آس رکھّی۔
اُس نے میری طرف مائِل ہو کر میری فریاد سُنی۔
2 اُس نے مُجھے ہولناک گڑھے اور دلدل کی کِیچڑ میں سے نِکالا
اور اُس نے میرے پاؤں چٹان پر رکھّے اور میری روِش قائِم کی
3 اُس نے ہمارے خُدا کی سِتایش کا نیا گِیت میرے مُنہ میں ڈالا۔
بہتیرے دیکھیں گے اور ڈریں گے
اور خُداوند پر توکُّل کریں گے۔
4 مُبارک ہے وہ آدمی جو خُداوند پر توکُّل کرتا ہے
اور مغرُوروں اور دروغ دوستوں کی طرف مائِل نہیں ہوتا۔
5 اَے خُداوند میرے خُدا! جو عجِیب کام تُو نے کِئے
اور تیرے خیال جو ہماری طرف ہیں وہ بُہت سے ہیں۔
مَیں اُن کو تیرے حضُور ترتِیب نہیں دے سکتا۔
اگر مَیں اُن کا ذِکر اور بیان کرنا چاہُوں۔
تو وہ شُمار سے باہر ہیں۔
6 قُربانی اور نذر کو تُو پسند نہیں کرتا۔
تُو نے میرے کان کھول دِیئے ہیں۔
سوختنی قُربانی اور خطا کی قُربانی تُو نے طلب نہیں کی۔
7 تب مَیں نے کہا دیکھ! مَیں آیا ہُوں۔
کِتاب کے طُومار میں میری بابت لِکھا ہے۔
8 اَے میرے خُدا! میری خُوشی تیری مرضی پُوری کرنے میں ہے
بلکہ تیری شرِیعت میرے دِل میں ہے۔
9 مَیں نے بڑے مجمع میں صداقت کی بشارت دی ہے۔
دیکھ! مَیں اپنا مُنہ بند نہیں کرُوں گا۔
اَے خُداوند! تُو جانتا ہے۔
10 مَیں نے تیری صداقت اپنے دِل میں چِھپا نہیں رکھّی۔
مَیں نے تیری وفاداری اور نجات کا اِظہار کِیا ہے۔
مَیں نے تیری شفقت اور سچّائی بڑے مجمع سے نہیں چِھپائی۔
11 اَے خُداوند! تُو مُجھ پر رحم کرنے میں دریغ نہ کر۔
تیری شفقت اور سچّائی برابر میری حِفاظت کریں۔
مدد کے لِئے دُعا
12 کیونکہ بے شُمار بُرائیوں نے مُجھے گھیر لِیا ہے۔
میری بدی نے مُجھے آ پکڑا ہے۔ اَیسا کہ مَیں
آنکھ نہیں اُٹھا سکتا۔
وہ میرے سر کے بالوں سے بھی زِیادہ ہیں۔ سو
میرا جی چُھوٹ گیا۔
13 اَے خُداوند! مِہربانی کر کے مُجھے چُھڑا۔
اَے خُداوند! میری مدد کے لِئے جلدی کر۔
14 جو میری جان کو ہلاک کرنے کے درپَے ہیں
وہ سب شرمِندہ اور خِجل ہوں۔
جو میرے نُقصان سے خُوش ہیں
وہ پسپا اور رُسوا ہوں۔
15 جو مُجھ پر اہا ہاہا کرتے ہیں
وہ اپنی رُسوائی کے سبب سے تباہ ہو جائیں۔
16 تیرے سب طالِب تُجھ میں خُوش و خُرّم ہوں۔
تیری نجات کے عاشِق ہمیشہ کہا کریں
خُداوند کی تمجِید ہو!
17 پر مَیں مِسکِین اور مُحتاج ہُوں۔
خُداوند میری فِکر کرتا ہے۔
میرا مددگار اور چُھڑانے والا تُو ہی ہے۔
اَے میرے خُدا! دیر نہ کر۔
بِیماری میں فریاد
مِیرمغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 مُبارک ہے وہ جو غرِیب کا خیال رکھتا ہے۔
خُداوند مُصِیبت کے دِن اُسے چُھڑائے گا۔
2 خُداوند اُسے محفُوظ اور جِیتا رکھّے گا اور وہ زمِین
پر مُبارک ہو گا۔
تُو اُسے اُس کے دُشمنوں کی مرضی پر نہ چھوڑ۔
3 خُداوند اُسے بِیماری کے بِستر پر سنبھالے گا۔
تُو اُس کی بِیماری میں اُس کے پُورے بِستر کو
ٹِھیک کرتا ہے۔
4 مَیں نے کہا اَے خُداوند! مُجھ پر رحم کر۔
میری جان کو شِفا دے کیونکہ مَیں تیرا گُنہگار
ہُوں۔
5 میرے دُشمن یہ کہہ کر میری بُرائی کرتے ہیں
کہ وہ کب مَرے گا اور اُس کا نام کب مِٹے گا؟
6 جب وہ مُجھ سے مِلنے کو آتا ہے تو جُھوٹی باتیں
بکتا ہے۔
اُس کا دِل اپنے اندر بدی سمیٹتا ہے۔
وہ باہر جا کر اُسی کا ذِکر کرتا ہے۔
7 مُجھ سے عداوت رکھنے والے سب مِل کر میری
غِیبت کرتے ہیں۔
وہ میرے خِلاف میرے نُقصان کے منصُوبے
باندھتے ہیں۔
8 وہ کہتے ہیں اِسے تو بُرا روگ لگ گیا ہے۔
اب جو وہ پڑا ہے تو پِھر اُٹھنے کا نہیں۔
9 بلکہ میرے دِلی دوست نے جِس پر مُجھے بھروسا تھا
اور جو میری روٹی کھاتا تھا
مُجھ پر لات اُٹھائی ہے۔
10 پر تُو اَے خُداوند! مُجھ پر رحم کر کے مُجھے اُٹھا کھڑا کر
تاکہ مَیں اُن کو بدلہ دُوں۔
11 اِس سے مَیں جان گیا کہ تو مُجھ سے خُوش ہے
کہ میرا دُشمن مُجھ پر فتح نہیں پاتا۔
12 مُجھے تو تُو ہی میری راستی میں قیام بخشتا ہے
اور مُجھے ہمیشہ اپنے حضُور قائِم رکھتا ہے۔
13 خُداوند اِسرائیلؔ کا خُدا
ازل سے ابد تک مُبارک ہو!
آمیِن ثُمَّ آمیِن۔
دُوسری کِتاب
( زبُور ۴۲‏—۷۲ )
جَلاوطن آدمی کی پُکار
مِیر مُغنّی کے لِئے بنی قورح کا مشکِیل۔
1 جَیسے ہرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے
وَیسے ہی اَے خُدا! میری رُوح تیرے لِئے
ترستی ہے۔
2 میری رُوح خُدا کی۔ زِندہ خُدا کی پِیاسی ہے۔
مَیں کب جا کر خُدا کے حضُور حاضر ہُوں گا؟
3 میرے آنسُو دِن رات میری خُوراک ہیں۔
جِس حال کہ وہ مُجھ سے برابر کہتے ہیں تیرا خُدا
کہاں ہے؟
4 اِن باتوں کو یاد کر کے میرا دِل بھر آتا ہے
کہ مَیں کِس طرح بِھیڑ یعنی عِید منانے والی
جماعت کے ہمراہ
خُوشی اور حمد کرتا ہُؤا اُن کو خُدا کے گھر میں لے
جاتا تھا۔
5 اَے میری جان! تُو کیوں گِری جاتی ہے؟
تُو اندر ہی اندر کیوں بے چَین ہے؟
خُدا سے اُمّید رکھ کیونکہ اُس کے نجات بخش
دِیدار کی خاطِر
مَیں پِھر اُس کی سِتایش کرُوں گا۔
6 اَے میرے خُدا! میری جان میرے اندر گِری
جاتی ہے۔
اِس لِئے مَیں تُجھے یَردؔن کی سرزمِین سے
اور حرمُون اور کوہِ مِصغار پر سے یاد کرتا ہُوں۔
7 تیرے آبشاروں کی آواز سے گہراؤ گہراؤ کو
پُکارتا ہے۔
تیری سب مَوجیں اور لہریں مُجھ پر سے گُذر گئِیں
8 تَو بھی دِن کو خُداوند اپنی شفقت دِکھائے گا
اور رات کو مَیں اُس کا گِیت گاؤُں گا
بلکہ اپنی حیات کے خُدا سے دُعا کرُوں گا۔
9 مَیں خُدا سے جو میری چٹان ہے کہُوں گا
تُو مُجھے کیوں بُھول گیا؟
مَیں دُشمن کے ظُلم کے سبب سے کیوں ماتم کرتا
پِھرتا ہُوں؟
10 میرے مُخالِفوں کی ملامت گویا میری ہڈِّیوں میں
تلوار ہے
کیونکہ وہ مُجھ سے برابر کہتے ہیں تیرا خُدا
کہاں ہے؟
11 اَے میری جان! تُو کیوں گِری جاتی ہے؟
تُو اندر ہی اندر کیوں بے چَین ہے؟
خُدا سے اُمّید رکھ کیونکہ وہ میرے چہرے کی رَونق
اور میرا خُدا ہے۔
مَیں پِھر اُس کی سِتایش کرُوں گا۔
جَلاوطن آدمی کی پُکار
1 اَے خُدا میرا اِنصاف کر اور بے دِین قَوم کے
مُقابلہ میں میری وکالت کر
اور دغاباز اور بے اِنصاف آدمی سے مُجھے چُھڑا۔
2 کیونکہ تُو ہی میری قُوّت کا خُدا ہے۔ تُو نے کیوں
مُجھے ترک کر دِیا؟
مَیں دُشمن کے ظُلم کے سبب سے کیوں ماتم کرتا
پِھرتا ہُوں؟
3 اپنے نُور اور اپنی سچّائی کو بھیج۔ وُہی میری
رہبری کریں۔
وُہی مُجھ کو تیرے کوہِ مُقدّس
اور تیرے مسکنوں تک پُہنچائیں۔
4 تب مَیں خُدا کے مذبح کے پاس جاؤُں گا۔
خُدا کے حضُور جو میری کمال خُوشی ہے۔
اَے خُدا! میرے خُدا! مَیں سِتار بجا کر تیری
سِتایش کرُوں گا۔
5 اَے میری جان! تُو کیوں گِری جاتی ہے؟
تُو اندر ہی اندر کیوں بے چَین ہے؟
خُدا سے اُمّید رکھ! کیونکہ وہ میرے چہرے کی
رَونق اور میرا خُدا ہے۔
مَیں پِھر اُس کی سِتایش کرُوں گا۔
مُحافظت کے لِئے دُعا
مِیر مُغنّی کے لِئے بنی قورح کا مزمُور۔ مشکِیل۔
1 اَے خُدا! ہم نے اپنے کانوں سے سُنا۔ ہمارے
باپ دادا نے ہم سے بیان کِیا
کہ تُو نے اُن کے دِنوں میں قدِیم زمانہ میں کیا
کیا کام کِئے۔
2 تُو نے قَوموں کو اپنے ہاتھ سے نِکال دِیا اور اِن
کو بسایا۔
تُو نے اُمّتوں کو تباہ کِیا اور اِن کو چاروں
طرف پَھیلایا۔
3 کیونکہ نہ تو یہ اپنی تلوار سے اِس مُلک پر قابِض ہُوئے
اور نہ اِن کے بازُو نے اِن کو بچایا
بلکہ تیرے دہنے ہاتھ اور تیرے بازُو اور تیرے
چہرے کے نُور نے اِن کو فتح بخشی
کیونکہ تُو اِن سے خُوشنُود تھا۔
4 اَے خُدا! تُو میرا بادشاہ ہے۔
یعقُوبؔ کے حق میں نجات کا حُکم صادِر فرما۔
5 تیری بَدولت ہم اپنے مُخالِفوں کو گِرا دیں گے۔
تیرے نام سے ہم اپنے خِلاف اُٹھنے والوں کو
پامال کریں گے۔
6 کیونکہ نہ تو مَیں اپنی کمان پر بھروسا کرُوں گا
اور نہ میری تلوار مُجھے بچائے گی۔
7 لیکن تُو نے ہم کو ہمارے مُخالِفوں سے بچایا ہے
اور ہم سے عداوت رکھنے والوں کو شرمِندہ کِیا۔
8 ہم دِن بھر خُدا پر فخر کرتے رہے ہیں
اور ہمیشہ ہم تیرے ہی نام کا شُکریہ ادا کرتے رہیں
گے۔ (سِلاؔہ)
9 لیکن تُو نے تو اب ہم کو ترک کر دِیا اور ہم کو رُسوا کِیا
اور ہمارے لشکروں کے ساتھ نہیں جاتا۔
10 تُو ہم کو مخالِف کے آگے پسپا کرتا ہے
اور ہم سے عداوت رکھنے والے لُوٹ مار
کرتے ہیں۔
11 تُو نے ہم کو ذبح ہونے والی بھیڑوں کی مانِند کر دِیا
اور قَوموں کے درمیان ہم کو پراگندہ کِیا۔
12 تُو اپنے لوگوں کو مُفت بیچ ڈالتا ہے
اور اُن کی قِیمت سے تیری دَولت نہیں بڑھتی۔
13 تُو ہم کو ہمارے پڑوسیوں کی ملامت کا نِشانہ
اور ہمارے آس پاس کے لوگوں کے تمسخُر اور
مذاق کا باعِث بناتا ہے۔
14 تُو ہم کو قَوموں کے درمیان ضربُ المثل
اور اُمّتوں میں سر ہلانے کا باعِث ٹھہراتا ہے۔
15 میری رُسوائی دِن بھر میرے سامنے رہتی ہے
اور میرے مُنہ پر شرمِندگی چھا گئی۔
16 ملامت کرنے والے اور کُفر بکنے والے کی باتوں
کے سبب سے
اور مُخالِف اور اِنتِقام لینے والے کے باعِث۔
17 یہ سب کُچھ ہم پر بِیتا تَو بھی ہم تُجھ کو نہیں بُھولے
نہ تیرے عہد سے بے وفائی کی
18 نہ ہمارے دِل برگشتہ ہُوئے
نہ ہمارے قدم تیری راہ سے مُڑے
19 جو تُو نے ہم کو گِیدڑوں کی جگہ میں خُوب کُچلا
اور مَوت کے سایہ میں ہم کو چِھپایا۔
20 اگر ہم اپنے خُدا کے نام کو بُھولے
یا ہم نے کِسی اجنبی معبُود کے آگے اپنے ہاتھ
پَھیلائے ہوں
21 تو کیا خُدا اِسے دریافت نہ کر لے گا؟
کیونکہ وہ دِلوں کے بھید جانتا ہے۔
22 بلکہ ہم تو دِن بھر تیری ہی خاطِر جان سے مارے
جاتے ہیں
اور گویا ذبح ہونے والی بھیڑیں سمجھے جاتے ہیں۔
23 اَے خُداوند! جاگ تُو کیوں سوتا ہے؟
اُٹھ! ہمیشہ کے لِئے ہم کو ترک نہ کر۔
24 تُو اپنا مُنہ کیوں چِھپاتا ہے
اور ہماری مُصِیبت اور مظلُومی کو بُھولتا ہے؟
25 کیونکہ ہماری جان خاک میں مِل گئی۔
ہمارا جِسم مِٹّی ہو گیا۔
26 ہماری مدد کے لِئے اُٹھ۔
اور اپنی شفقت کی خاطِر ہمارا فِدیہ دے۔
شاہی شادی کا نغمہ
مِیر مُغنّی کے لِئے شوشنِیم کے سُر پر بنی قورح کا مزمُور۔
مشکِیل۔ عرُوسی سرُود۔
1 میرے دِل میں ایک نفِیس مضمُون جوش مار رہا ہے۔
مَیں وُہی مضامِین سناؤُں گا جو مَیں نے بادشاہ
کے حق میں قلم بند کِئے ہیں۔
میری زُبان ماہِر کاتب کا قلم ہے۔
2 تُو بنی آدمؔ میں سب سے حسِین ہے۔
تیرے ہونٹوں میں لطافت بھری ہے
اِس لِئے خُدا نے تُجھے ہمیشہ کے لِئے مُبارک کِیا۔
3 اَے زبردست! تُو اپنی تلوار کو
جو تیری حشمت و شَوکت ہے اپنی کمر سے حمائِل کر
4 اور سچّائی اور حِلم اور صداقت کی خاطِر
اپنی شان و شَوکت میں اِقبال مندی سے
سوار ہو
اور تیرا دہنا ہاتھ تُجھے مُہیب کام دِکھائے گا۔
5 تیرے تِیر تیز ہیں۔
وہ بادشاہ کے دُشمنوں کے دِل میں لگے ہیں۔
اُمّتیں تیرے سامنے زیر ہوتی ہیں۔
6 اَے خُدا! تیرا تخت ابدُالآباد ہے۔
تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے۔
7 تُو نے صداقت سے مُحبّت رکھّی اور بدکاری
سے نفرت
اِسی لِئے خُدا تیرے خُدا نے شادمانی کے تیل سے
تُجھ کو تیرے ہمسروں سے زِیادہ مَسح کِیا ہے۔
8 تیرے ہر لِباس سے مُر اور عُود اور تج کی خُوشبُو
آتی ہے۔
ہاتھی دانت کے محلّوں میں سے تاردار سازوں
نے تُجھے خُوش کِیا ہے۔
9 تیری مُعزّز خواتِین میں شہزادِیاں ہیں۔
ملِکہ تیرے دہنے ہاتھ اوفِیر کے سونے سے آراستہ
کھڑی ہے۔
10 اَے بیٹی! سُن۔ غَور کر اور کان لگا۔
اپنی قَوم اور اپنے باپ کے گھر کو بُھول جا
11 اور بادشاہ تیرے حسُن کا مُشتاق ہو گا۔
کیونکہ وہ تیرا خُداوند ہے تُو اُسے سِجدہ کر
12 اور صُور کی بیٹی ہدیہ لے کر حاضر ہو گی۔
قَوم کے دَولت مند تیری رضا جوئی کریں گے۔
13 بادشاہ کی بیٹی محلّ میں سر تا پا حسُن افروز ہے۔
اُس کا لِباس زربفت کا ہے۔
14 وہ بیل بُوٹے دار لِباس میں بادشاہ کے حضُور
پُہنچائی جائے گی۔
اُس کی کُنواری سہیلیاں جو اُس کے پِیچھے پِیچھے
چلتی ہیں تیرے سامنے حاضِر کی
جائیں گی۔
15 وہ اُن کو خُوشی اور خُرمی سے لے آئیں گے۔
وہ بادشاہ کے محلّ میں داخِل ہوں گی۔
16 تیرے بیٹے تیرے باپ دادا کے جانشِین ہوں گے
جِن کو تُو تمام رُویِ زمِین پر سردار مُقرّر کرے گا۔
17 مَیں تیرے نام کی یاد کو نسل در نسل قائِم رکھُّوں گا۔
اِس لِئے اُمّتیں ابدُالآباد تیری شُکرگُذاری
کریں گی۔
خُدا ہمارے ساتھ ہے
مِیر مُغنّی کے لِئے بنی قورح کا مزمُور علاموؔت کے سُر پر۔
ایک گِیت۔
1 خُدا ہماری پناہ اور قُوّت ہے۔
مُصِیبت میں مُستعِد مددگار۔
2 اِس لِئے ہم کو کُچھ خَوف نہیں خواہ زمِین اُلٹ جائے
اور پہاڑ سمُندر کی تہہ میں ڈال دیئے جائیں۔
3 خواہ اُس کا پانی شور مچائے اور مَوجزن ہو
اور پہاڑ اُس کی طُغیانی سے ہِل جائیں۔ (سِلاہ)
4 ایک اَیسا دریا ہے جِس کی شاخوں سے خُدا کے شہر کو
یعنی حق تعالیٰ کے مُقدّس مسکن کو فرحت
ہوتی ہے۔
5 خُدا اُس میں ہے۔ اُسے کبھی جُنِبش نہ ہو گی۔
خُدا صُبح سویرے اُس کی کُمک کرے گا۔
6 قَومیں جُھنجلائِیں۔ سلطنتوں نے جُنبش کھائی۔
وہ بول اُٹھا۔ زمِین پِگھل گئی۔
7 لشکروں کا خُداوند ہمارے ساتھ ہے۔
یعقُوب کا خُدا ہماری پناہ ہے۔ (سِلاہ)
8 آؤ! خُداوند کے کاموں کو دیکھو
کہ اُس نے زمِین پر کیا کیا وِیرانِیاں کی ہیں۔
9 وہ زمِین کی اِنتہا تک جنگ مَوقُوف کراتا ہے۔
وہ کمان کو توڑتا اور نیزے کے ٹُکڑے کر ڈالتا ہے۔
وہ رتھوں کو آگ سے جلا دیتا ہے۔
10 خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ مَیں خُدا ہُوں۔
مَیں قَوموں کے درمیان سربُلند ہُوں گا۔ مَیں
ساری زمِین پر سربُلند ہُوں گا۔
11 لشکروں کا خُداوند ہمارے ساتھ ہے۔
یعقُوب کا خُدا ہماری پناہ ہے۔ (سِلاہ)
سب سے اعلیٰ فرمانروا
مِیر مُغنّی کے لِئے بنی قورح کا مزمُور۔
1 اَے سب اُمّتو! تالِیاں بجاؤ۔
خُدا کے لِئے خُوشی کی آواز سے للکارو۔
2 کیونکہ خُداوند تعالیٰ مُہِیب ہے۔
وہ تمام رُویِ زمِین کا شہنشاہ ہے۔
3 وہ اُمّتوں کو ہمارے سامنے زیر کرے گا
اور قَومیں ہمارے قدموں تلے ہو جائیں گی۔
4 وہ ہمارے لِئے ہماری مِیراث کو چُنے گا۔
جو اُس کے محبُوب یعقُوب کی حشمت ہے۔
(سِلاہ)
5 خُدا نے بُلند آواز کے ساتھ۔
خُداوند نے نرسِنگے کی آواز کے ساتھ صعُود فرمایا۔
6 مدح سرائی کرو۔ خُدا کی مدح سرائی کرو۔
مدح سرائی کرو۔ ہمارے بادشاہ کی مدح سرائی کرو۔
7 کیونکہ خُدا ساری زمِین کا بادشاہ ہے۔
عقل سے مدح سرائی کرو۔
8 خُدا قَوموں پر سلطنت کرتا ہے۔
خُدا اپنے مُقدّس تخت پر بَیٹھا ہے۔
9 اُمّتوں کے سردار اِکٹّھے ہُوئے ہیں
تاکہ ابرہامؔ کے خُدا کی اُمّت بن جائیں
کیونکہ زمِین کی سِپریں خُدا کی ہیں۔
وہ نہایت بُلند ہے۔
صیُّون - خُدا کا شہر
ایک گِیت۔ بنی قورح کا مزمُور۔
1 ہمارے خُدا کے شہر میں۔ اپنے کوہِ مُقدّس پر
خُداوند بزُرگ اور بے حد سِتایش کے لائِق ہے۔
2 شِمال کی جانِب کوہِ صِیُّون
جو بڑے بادشاہ کا شہر ہے
وہ بُلندی میں خُوش نُما اور تمام زمِین کا فخر ہے۔
3 اُس کے محلّوں میں خُدا پناہ مانا جاتا ہے۔
4 کیونکہ دیکھو! بادشاہ اِکٹّھے ہُوئے۔
وہ مِل کر گُذرے۔
5 وہ دیکھ کر دنگ ہو گئے۔
وہ گھبرا کر بھاگے۔
6 وہاں کپکپی نے اُن کو آ دبایا
اور اَیسے درد نے جَیسا دردِ زِہ۔
7 تُو پُوربی ہوا سے
ترسِیس کے جہازوں کو توڑ ڈالتا ہے۔
8 لشکروں کے خُداوند کے شہر میں یعنی اپنے خُدا
کے شہر میں
جَیسا ہم نے سُنا تھا وَیسا ہی ہم نے دیکھا۔
خُدا اُسے ہمیشہ برقرار رکھّے گا۔ (سِلاہ)
9 اَے خُدا! تیری ہَیکل کے اندر
ہم نے تیری شفقت پر غَور کِیا ہے۔
10 اَے خُدا! جَیسا تیرا نام ہے
وَیسی ہی تیری سِتایش زمِین کی اِنتہا تک ہے۔
تیرا دہنا ہاتھ صداقت سے معمُور ہے۔
11 تیرے احکام کے سبب سے
کوہِ صِیُّون شادمان ہو
یہُوداؔہ کی بیٹیاں خُوشی منائیں!
12 صِیُّون کے گِرد پِھرو اور اُس کا طواف کرو۔
اُس کے بُرجوں کو گِنو
13 اُس کی شہر پناہ کو خُوب دیکھ لو۔
اُس کے محلّوں پر غَور کرو
تاکہ تُم آنے والی نسل کو اُس کی خبر دے سکو
14 کیونکہ یہی خُدا ابدُالآباد ہمارا خُدا ہے۔
یہی مَوت تک ہمارا ہادی رہے گا۔
دَولت پر بھروسا کرنا حماقت ہے
مِیر مُغنّی کے لِئے بنی قورح کا مزمُور۔
1 اَے سب اُمّتو! یہ سُنو۔
اَے جہان کے سب باشِندو کان لگاؤ۔
2 کیا ادنیٰ کیا اعلیٰ۔
کیا امِیر کیا فقِیر۔
3 میرے مُنہ سے حِکمت کی باتیں نِکلیں گی
اور میرے دِل کا خیال پُر خِرد ہو گا۔
4 مَیں تمثِیل کی طرف کان لگاؤُں گا۔
مَیں اپنا مُعمّا سِتار پر بیان کرُوں گا۔
5 مَیں مُصِیبت کے دِنوں میں کیوں ڈرُوں
جب میرا تعاقُب کرنے والی بدی مُجھے گھیرے ہو؟
6 جو اپنی دَولت پر بھروسا رکھتے
اور اپنے مال کی کثرت پر فخر کرتے ہیں
7 اُن میں سے کوئی کِسی طرح اپنے بھائی کا فِدیہ
نہیں دے سکتا
نہ خُدا کو اُس کا مُعاوضہ دے سکتا ہے
8 (کیونکہ اُن کی جان کا فِدیہ گِراں بہا ہے۔
وہ ابد تک ادا نہ ہو گا)
9 تاکہ وہ ابد تک جِیتا رہے
اور قبر کو نہ دیکھے۔
10 کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ دانِش مند مَر جاتے ہیں۔
بیوُقُوف و حَیوان خصلت باہم ہلاک ہوتے ہیں
اور اپنی دَولت اَوروں کے لِئے چھوڑ جاتے ہیں۔
11 اُن کا دِلی خیال یہ ہے کہ اُن کے گھر ہمیشہ تک
اور اُن کے مسکن پُشت در پُشت بنے رہیں گے۔
وہ اپنی زمِین اپنے ہی نام سے نامزد کرتے ہیں۔
12 پر اِنسان عِزّت کی حالت میں قائِم نہیں رہتا۔
وہ جانوروں کی مانِند ہے جو فنا ہو جاتے ہیں۔
13 اُن کا یہ طرِیق اُن کی حماقت ہے۔
تَو بھی اُن کے بعد لوگ اُن کی باتوں کو پسند کرتے
ہیں۔ (سِلاہ)
14 وہ گویا پاتال کا ریوڑ ٹھہرائے گئے ہیں۔
مَوت اُن کی پاسبان ہو گی۔
دِیانت دار صُبح کو اُن پر مُسلّط ہو گا
اور اُن کا حُسن پاتال کا لُقمہ ہو کر بے ٹِھکانا ہو گا۔
15 لیکن خُدا میری جان کو پاتال کے اِختیار سے
چُھڑا لے گا
کیونکہ وُہی مُجھے قبُول کرے گا۔ (سِلاہ)
16 جب کوئی مال دار ہو جائے۔
جب اُس کے گھر کی حشمت بڑھے تو تُو خَوف نہ کر
17 کیونکہ وہ مَر کر کُچھ ساتھ نہ لے جائے گا۔
اُس کی حشمت اُس کے ساتھ نہ جائے گی۔
18 خواہ جِیتے جی وہ اپنی جان کو مُبارک کہتا رہا ہو
(اور جب تُو اپنا بھلا کرتا ہے تو لوگ تیری تعرِیف
کرتے ہیں)
19 تَو بھی وہ اپنے باپ دادا کی گروہ سے جا مِلے گا۔
وہ رَوشنی کو ہرگِز نہ دیکھیں گے۔
20 آدمی جو عِزّت کی حالت میں رہتا ہے پر خِرد
نہیں رکھتا
جانوروں کی مانِند ہے جو فنا ہو جاتے ہیں۔
حقیِقی عِبادت
آسف کا مزمُور۔
1 رب خُداوند خُدا نے کلام کِیا
اور مشرِق سے مغرِب تک دُنیا کو بُلایا۔
2 صِیُّون سے جو حُسن کا کمال ہے
خُدا جلوہ گر ہُؤا ہے۔
3 ہمارا خُدا آئے گا اور خاموش نہیں رہے گا۔
آگ اُس کے آگے آگے بھسم کرتی جائے گی
اور اُس کی چاروں طرف بڑی آندھی چلے گی۔
4 اپنی اُمّت کی عدالت کرنے کے لئے
وہ آسمان و زمِین کو طلب کرے گا
5 کہ میرے مُقدّسوں کو میرے حضُور جمع کرو
جِنہوں نے قُربانی کے ذرِیعہ سے میرے ساتھ
عہد باندھا ہے
6 اور آسمان اُس کی صداقت بیان کریں گے
کیونکہ خُدا آپ ہی اِنصاف کرنے والا
ہے۔ (سِلاہ)
7 اَے میری اُمّت سُن۔ مَیں کلام کرُوں گا
اور اَے اِسرائیل! مَیں تُجھ پر گواہی دُوں گا۔
خُدا۔ تیرا خُدا مَیں ہی ہُوں۔
8 مَیں تُجھے تیری قُربانِیوں کے سبب سے ملامت
نہیں کرُوں گا
اور تیری سوختنی قُربانِیاں برابر میرے سامنے
رہتی ہیں۔
9 نہ مَیں تیرے گھر سے بَیل لُوں گا
نہ تیرے باڑے سے بکرے
10 کیونکہ جنگل کا ایک ایک جانور
اور ہزاروں پہاڑوں کے چَوپائے میرے
ہی ہیں۔
11 مَیں پہاڑوں کے سب پرِندوں کو جانتا ہُوں
اور مَیدان کے درِندے میرے ہی ہیں۔
12 اگر مَیں بُھوکا ہوتا تو تُجھ سے نہ کہتا
کیونکہ دُنیا اور اُس کی معمُوری میری ہی ہے۔
13 کیا مَیں سانڈوں کا گوشت کھاؤُں گا۔
یا بکروں کا خُون پِیؤُں گا؟
14 خُدا کے لِئے شُکرگُذاری کی قُربانی گُذران
اور حق تعالیٰ کے لِئے اپنی مَنّتیں پُوری کر
15 اور مُصِیبت کے دِن مُجھ سے فریاد کر۔
مَیں تُجھے چُھڑاؤُں گا اور تُو میری تمجِید کرے گا۔
16 لیکن خُدا شرِیر سے کہتا ہے
تُجھے میرے آئِین بیان کرنے سے کیا واسطہ
اور تُو میرے عہد کو اپنی زُبان پر کیوں لاتا ہے؟
17 جب کہ تُجھے تربِیّت سے عداوت ہے
اور میری باتوں کو پِیٹھ پِیچھے پھینک دیتا ہے۔
18 تُو چور کو دیکھ کر اُس سے مِل گیا
اور زانِیوں کا شرِیک رہا ہے۔
19 تیرے مُنہ سے بدی نِکلتی ہے
اور تیری زُبان فریب گھڑتی ہے۔
20 تُو بَیٹھا بَیٹھا اپنے بھائی کی غِیبت کرتا ہے
اور اپنی ہی ماں کے بیٹے پر تُہمت لگاتا ہے۔
21 تُو نے یہ کام کِئے اور مَیں خاموش رہا۔
تُو نے گُمان کِیا کہ مَیں بِالکل تُجھ ہی سا ہُوں
لیکن مَیں تُجھے ملامت کر کے اِن کو تیری آنکھوں کے
سامنے ترتِیب دُوں گا۔
22 اب اَے خُدا کو بُھولنے والو! اِسے سوچ لو۔
اَیسا نہ ہو کہ مَیں تُم کو پھاڑ ڈالُوں اور کوئی چُھڑانے
والا نہ ہو۔
23 جو شُکرگُذاری کی قُربانی گُذرانتا ہے وہ میری
تمجِید کرتا ہے
اور جو اپنا چال چلن درُست رکھتا ہے
اُس کو مَیں خُدا کی نجات دِکھاؤُں گا۔
مُعافی کے لِئے اِلتجا
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔ اُس کے بت سبع کے
پاس جانے کے بعد جب ناتن نبی اُس کے پاس آیا۔
1 اَے خُدا! اپنی شفقت کے مُطابِق مُجھ پر رحم کر۔
اپنی رحمت کی کثرت کے مُطابِق میری خطائیں
مِٹا دے۔
2 میری بدی کو مُجھ سے دھو ڈال
اور میرے گُناہ سے مُجھے پاک کر۔
3 کیونکہ مَیں اپنی خطاؤں کو مانتا ہُوں
اور میرا گُناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔
4 مَیں نے فقط تیرا ہی گُناہ کِیا ہے
اور وہ کام کِیا ہے جو تیری نظر میں بُرا ہے
تاکہ تُو اپنی باتوں میں راست ٹھہرے
اور اپنی عدالت میں بے عَیب رہے۔
5 دیکھ! مَیں نے بدی میں صُورت پکڑی
اور مَیں گُناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا۔
6 دیکھ تُو باطِن کی سچّائی پسند کرتا ہے
اور باطِن ہی میں مُجھے دانائی سِکھائے گا۔
7 زُوفے سے مُجھے صاف کر تو مَیں پاک ہُوں گا۔
مُجھے دھو اور مَیں برف سے زِیادہ سفید ہُوں گا۔
8 مُجھے خُوشی اور خُرّمی کی خبر سُنا
تاکہ وہ ہڈّیاں جو تُو نے توڑ ڈالی ہیں
شادمان ہوں۔
9 میرے گُناہوں کی طرف سے اپنا مُنہ پھیر لے
اور میری سب بدکاری مِٹا ڈال۔
10 اَے خُدا! میرے اندر پاک دِل پَیدا کر
اور میرے باطِن میں ازسرِنو مُستقِیم رُوح ڈال۔
11 مُجھے اپنے حضُور سے خارِج نہ کر
اور اپنی پاک رُوح کو مُجھ سے جُدا نہ کر۔
12 اپنی نجات کی شادمانی مُجھے پِھر عِنایت کر
اور مُستعِد رُوح سے مُجھے سنبھال۔
13 تب مَیں خطاکاروں کو تیری راہیں سِکھاؤُں گا
اور گُنہگار تیری طرف رجُوع کریں گے۔
14 اَے خُدا! اَے میرے نجات بخش خُدا مُجھے خُون
کے جُرم سے چُھڑا
تو میری زُبان تیری صداقت کا گِیت گائے گی۔
15 اَے خُداوند! میرے ہونٹوں کو کھول دے
تو میرے مُنہ سے تیری سِتایش نِکلے گی
16 کیونکہ قُربانی میں تیری خُوشنُودی نہیں ورنہ مَیں دیتا۔
سوختنی قُربانی سے تُجھے کُچھ خُوشی نہیں۔
17 شِکستہ رُوح خُدا کی قُربانی ہے۔
اَے خُدا تُو شِکستہ اور خستہ دِل کو حقِیر نہ جانے گا۔
18 اپنے کرم سے صِیُّون کے ساتھ بھلائی کر۔
یروشلِیم کی فصِیل کو تعمِیر کر۔
19 تب تُو صداقت کی قُربانیوں اور سوختنی قُربانی اور
پُوری سوختنی قُربانی سے خُوش ہو گا
اور وہ تیرے مذبح پر بچھڑے چڑھائیں گے۔
خُدا کا قَہر اور فضل
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مشکِیل جب ادُومی دوئیگ نے
جا کر ساؤُؔل کو بتایا کہ داؤُد اخِیملک کے گھر میں داخِل
ہُؤاہے۔
1 اَے زبردست! تُو شرارت پر کیوں فخر کرتا ہے؟
خُدا کی شفقت دائِمی ہے۔
2 تیری زُبان محض شرارت اِیجاد کرتی ہے۔
اَے دغاباز! وہ تیز اُسترے کی مانِند ہے۔
3 تُو بدی کو نیکی سے زِیادہ پسند کرتا ہے
اور جُھوٹ کو صداقت کی بات سے۔ (سِلاہ)
4 اَے دغاباز زُبان!
تُو مُہلِک باتوں کو پسند کرتی ہے۔
5 خُدا بھی تُجھے ہمیشہ کے لِئے ہلاک کر ڈالے گا۔
وہ تُجھے پکڑ کر تیرے خَیمہ سے نِکال پھینکے گا
اور زِندوں کی زمِین سے تُجھے اُکھاڑ ڈالے
گا۔ (سِلاہ)
6 صادِق بھی اِس بات کو دیکھ کر ڈر جائیں گے
اور اُس پر ہنسیں گے
7 کہ دیکھو یہ وُہی آدمی ہے جِس نے خُدا کو اپنی
پناہ گاہ نہ بنایا
بلکہ اپنے مال کی فراوانی پر بھروسا کِیا
اور شرارت میں پکّا ہو گیا
8 لیکن مَیں تو خُدا کے گھر میں زَیتُون کے ہرے
درخت کی مانِند ہُوں۔
میرا توکُّل ابدُالآباد خُدا کی شفقت پر ہے۔
9 مَیں ہمیشہ تیری شُکرگُذاری کرتا رہُوں گا کیونکہ تُو
ہی نے یہ کِیا ہے
اور مُجھے تیرے ہی نام کی آس ہو گی کیونکہ وہ
تیرے مُقدّسوں کے نزدِیک خُوب ہے۔
اِنسان کی بدخَصلتی
مِیر مُغنّی کے لِئے محلَت کے سُر پر داؤُد کا مشکِیل۔
1 احمق نے اپنے دِل میں کہا ہے کہ کوئی خُدا نہیں۔
وہ بگڑ گئے۔
اُنہوں نے نفرت انگیز بدی کی ہے۔
کوئی نیکوکار نہیں۔
2 خُدا نے آسمان پر سے بنی آدمؔ پر نِگاہ کی
تاکہ دیکھے کہ کوئی دانِش مند۔
کوئی خُدا کا طالِب ہے یا نہیں۔
3 وہ سب کے سب پِھر گئے ہیں۔
وہ باہم نِجس ہو گئے۔
کوئی نیکوکار نہیں۔ ایک بھی نہیں۔
4 کیا اُن سب بدکرداروں کو کُچھ عِلم نہیں
جو میرے لوگوں کو اَیسے کھاتے ہیں جَیسے روٹی
اور خُدا کا نام نہیں لیتے؟
5 وہاں اُن پر بڑا خَوف چھا گیا
گو خَوف کی کوئی بات نہ تھی
کیونکہ خُدا نے اُن کی ہڈِّیاں جو تیرے خِلاف خَیمہ زن تھے بکھیر دِیں۔
تُو نے اُن کو شرمِندہ کر دِیا۔
اِس لِئے کہ خُدا نے اُن کو ردّ کر دِیا ہے۔
6 کاش کہ اِسرائیل کی نجات صِیُّون میں سے ہوتی!
جب خُدا اپنے لوگوں کو اسِیری سے لَوٹا لائے گا
تو یعقُوب خُوش اور اِسرائیل شادمان ہو گا۔
دُشمنوں سے حِفاظت کی مُناجات
مِیر مُغنّی کے لِئے تاردار سازوں کے ساتھ داؤُد کا مشکِیل۔
اُس وقت کا جب زیفِیون نے جا کر ساؤُل سے کہا
کیا داؤُد ہمارے ہاں چِھپا ہُؤا نہیں؟
1 اَے خُدا! اپنے نام کے وسِیلہ سے مُجھے بچا
اور اپنی قُدرت سے میرا اِنصاف کر۔
2 اَے خُدا! میری دُعا سُن لے۔
میرے مُنہ کی باتوں پر کان لگا۔
3 کیونکہ بیگانے میرے خِلاف اُٹھے ہیں
اور تُند خُو لوگ میری جان کے خواہاں ہُوئے ہیں۔
اُنہوں نے خُدا کو اپنے رُوبرُو نہیں رکھّا۔ (سِلاہ)
4 دیکھو! خُدا میرا مددگار ہے۔
خُداوند میری جان کو سنبھالنے والوں میں ہے۔
5 وہ بُرائی کو میرے دُشمنوں ہی پر لَوٹا دے گا۔
تُو اپنی سچّائی کی رُو سے اُن کو فنا کر۔
6 مَیں تیرے حضُور رضا کی قُربانی چڑھاؤُں گا۔
اَے خُداوند! مَیں تیرے نام کی شُکرگُذاری کرُوں گا
کیونکہ وہ خُوب ہے۔
7 کیونکہ اُس نے مُجھے سب مُصِیبتوں سے چُھڑایا ہے
اور میری آنکھ نے میرے دُشمنوں کو دیکھ لِیا ہے۔
اُس آدمی کی دُعا جِس کے دوست نے اُسے دھوکا دِیا
مِیر مُغنّی کے لِئے تاردار سازوں کے ساتھ داؤُد کا
مشکِیل۔
1 اَے خُدا! میری دُعا پر کان لگا
اور میری مِنّت سے مُنہ نہ پھیر۔
2 میری طرف مُتوجِّہ ہو اور مُجھے جواب دے۔
مَیں غم سے بے قرار ہو کر کراہتا ہُوں۔
3 دُشمن کے آوازہ سے
اور شرِیر کے ظُلم کے باعِث
کیونکہ وہ مُجھ پر بدی لادتے
اور قہر میں مُجھے ستاتے ہیں۔
4 میرا دِل مُجھ میں بیتاب ہے
اور مَوت کا ہول مُجھ پر چھا گیا ہے۔
5 خَوف اور کپکپی مُجھ پر طاری ہے۔
ہَیبت نے مُجھے دبا لِیا ہے
6 اور مَیں نے کہا کاش کہ کبُوتر کی طرح میرے
پَر ہوتے
تو مَیں اُڑ جاتا اور آرام پاتا!
7 پِھر تو مَیں دُور نِکل جاتا
اور بیابان میں بسیرا کرتا۔ (سِلاہ)
8 مَیں آندھی کے جھوکے اور طُوفان سے
کِسی پناہ کی جگہ میں بھاگ جاتا۔
9 اَے خُداوند! اُن کو ہلاک کر اور اُن کی زُبان میں
تفرقہ ڈال
کیونکہ مَیں نے شہر میں ظُلم اور جھگڑا دیکھا ہے۔
10 دِن رات وہ اُس کی فصِیل پر گشت لگاتے ہیں۔
بدی اور فساد اُس کے اندر ہیں۔
11 شرارت اُس کے بِیچ میں بسی ہُوئی ہے۔
سِتم اور فریب اُس کے کُوچوں سے دُور
نہیں ہوتے۔
12 جِس نے مُجھے ملامت کی وہ دُشمن نہ تھا
ورنہ مَیں اُس کو برداشت کر لیتا
اور جِس نے میرے خِلاف تکبُّر کِیا وہ مُجھ سے
عداوت رکھنے والا نہ تھا
نہیں تو مَیں اُس سے چِھپ جاتا
13 بلکہ وہ تو تُو ہی تھا جو میرا ہمسر۔
میرا رفِیق اور دِلی دوست تھا۔
14 ہماری باہمی گُفتگُو شِیرین تھی
اور ہجُوم کے ساتھ خُدا کے گھر میں پِھرتے تھے۔
15 اُن کو مَوت اچانک آ دبائے۔
وہ جِیتے جی پاتال میں اُتر جائیں
کیونکہ شرارت اُن کے مسکنوں میں اور اُن کے
اندر ہے۔
16 پر مَیں تو خُدا کو پُکارُوں گا
اور خُداوند مُجھے بچا لے گا۔
17 صُبح و شام اور دوپہر کو مَیں فریاد کرُوں گا اور کراہتا
رہُوں گا
اور وہ میری آواز سُن لے گا۔
18 اُس نے اُس لڑائی سے جو میرے خِلاف تھی
میری جان کو سلامت چُھڑا لِیا۔
کیونکہ مُجھ سے جھگڑا کرنے والے بُہت تھے۔
19 خُدا جو قدِیم سے ہے
سُن لے گا اور اُن کو جواب دے گا۔ (سِلاہ)
یہ وہ ہیں جِن کے لِئے اِنقلاب نہیں
اور جو خُدا سے نہیں ڈرتے۔
20 اُس شخص نے اَیسوں پر ہاتھ بڑھایا ہے جو اُس
سے صُلح رکھتے تھے۔
اُس نے اپنے عہد کو توڑ دِیا ہے۔
21 اُس کا مُنہ مکھّن کی مانِند چِکنا تھا
پر اُس کے دِل میں جنگ تھی۔
اُس کی باتیں تیل سے زِیادہ مُلائِم
پر ننگی تلواریں تِھیں۔
22 اپنا بوجھ خُداوند پر ڈال دے۔ وہ تُجھے سنبھالے گا۔
وہ صادِق کو کبھی جُنبش نہ کھانے دے گا۔
23 لیکن اَے خُدا! تُو اُن کو ہلاکت کے گڑھے میں
اُتارے گا۔
خُونی اور دغاباز اپنی آدھی عُمر تک بھی جِیتے نہ
رہیں گے
پر مَیں تُجھ پر توکُّل کرُوں گا۔
خُدا پر توکُّل کی دُعا
مِیر مُغنّی کے لِئے یونت اَیلیم رخوقِیم کے سُرپر داؤُد کا
مزمُور۔ مِکتام۔ اُس وقت کا جب فلِستِیوں نے اُسے
جات میں پکڑ لِیا۔
1 اَے خُدا! مُجھ پر رحم فرما کیونکہ اِنسان مُجھے نِگلنا
چاہتا ہے۔
وہ دِن بھر لڑ کر مُجھے ستاتا ہے۔
2 میرے دُشمن دِن بھر مُجھے نِگلنا چاہتے ہیں
کیونکہ جو غرُور کر کے مُجھ سے لڑتے ہیں وہ
بُہت ہیں۔
3 جِس وقت مُجھے ڈر لگے گا
مَیں تُجھ پر توکُّل کرُوں گا۔
4 میرا فخر خُدا پر اور اُس کے کلام پر ہے۔
میرا توکُّل خُدا پر ہے۔ مَیں ڈرنے
کا نہیں۔
بشر میرا کیا کر سکتا ہے؟
5 وہ دِن بھر میری باتوں کو مروڑتے رہتے ہیں۔
اُن کے خیال سراسر یِہی ہیں کہ مُجھ سے
بدی کریں۔
6 وہ اِکٹّھے ہو کر چِھپ جاتے ہیں۔
وہ میرے نقشِ قدم کو دیکھتے بھالتے ہیں
کیونکہ وہ میری جان کی گھات میں ہیں۔
7 کیا وہ بدکاری کر کے بچ جائیں گے؟
اَے خُدا قہر میں اُمّتوں کو گِرا دے۔
8 تُو میری آوارگی کا حِساب رکھتا ہے۔
میرے آنسُوؤں کو اپنے مشکِیزہ میں رکھ لے۔
کیا وہ تیری کِتاب میں مندرج نہیں ہیں؟
9 تب تو جِس دِن مَیں فریاد کرُوں گا میرے دُشمن
پسپا ہوں گے۔
مُجھے یہ معلُوم ہے کہ خُدا میری طرف ہے۔
10 میرا فخر خُدا پر اور اُس کے کلام پر ہے۔
میرا فخر خُداوند پر اور اُس کے کلام پر ہے۔
11 میرا توکُّل خُدا پر ہے۔ مَیں ڈرنے کا نہیں۔
اِنسان میرا کیا کر سکتا ہے؟
12 اَے خُدا! تیری مَنّتیں مُجھ پر ہیں۔
مَیں تیرے حضُور شُکرگُذاری کی قُربانِیاں
گُذرانوں گا۔
13 کیونکہ تُو نے میری جان کو مَوت سے چُھڑایا۔
کیا تُو نے میرے پاؤں کو پِھسلنے سے
نہیں بچایا
تاکہ مَیں خُدا کے سامنے
زِندوں کے نُور میں چلُوں؟
مدد کے لِئے اِلتجا
مِیر مُغنّی کے لِئے التشخیت کے سُر پر داؤُد کا مزمُور۔
مِکتام۔ اُس وقت کا جب وہ مغارہ میں ساؤُؔل سے بھاگا۔
1 مُجھ پر رحم کر اَے خُدا! مُجھ پر رحم کر
کیونکہ میری جان تیری پناہ لیتی ہے۔
مَیں تیرے پروں کے سایہ میں پناہ لُوں گا
جب تک یہ آفتیں گُذر نہ جائیں۔
2 مَیں خُدا تعالیٰ سے فریاد کرُوں گا۔
خُدا سے جو میرے لِئے سب کُچھ کرتا ہے۔
3 وہ میری نجات کے لِئے آسمان سے بھیجے گا۔
جب وہ جو مُجھے نِگلنا چاہتا ہے ملامت کرتا
ہو۔ (سِلاہ)
خُدا اپنی شفقت اور سچّائی کو بھیجے گا۔
4 میری جان بَبروں کے درمیان ہے۔
مَیں آتش مِزاج لوگوں میں پڑا ہُوں۔
یعنی اَیسے لوگوں میں جِن کے دانت برچِھیاں
اور تِیر ہیں۔
جِن کی زُبان تیز تلوار ہے۔
5 اَے خُدا تُو آسمان پر سرفراز ہو!
تیرا جلال ساری زمِین پر ہو!
6 اُنہوں نے میرے پاؤں کے لِئے جال لگایا ہے۔
میری جان عاجِز آ گئی۔
اُنہوں نے میرے آگے گڑھا کھودا۔
وہ خُود اُس میں گِر پڑے۔ (سِلاہ)
7 میرا دِل قائِم ہے۔ اَے خُدا! میرا دِل قائِم ہے۔
مَیں گاؤُں گا بلکہ مَیں مدح سرائی کرُوں گا۔
8 اَے میری شَوکت! بیدار ہو۔ اَے بربط اور
سِتار جاگو۔
مَیں خُود صُبح سویرے جاگ اُٹُھوں گا۔
9 اَے خُداوند! مَیں لوگوں میں تیرا شُکر کرُوں گا۔
مَیں اُمّتوں میں تیری مدح سرائی کرُوں گا۔
10 کیونکہ تیری شفقت آسمان کے
اور تیری سچّائی افلاک کے برابر بُلند ہے۔
11 اَے خُدا تُو آسمان پر سرفراز ہو!
تیرا جلال ساری زمِین پر ہو!
خُدا سے درخواست کہ شرِیروں کو سزا دے
مِیر مُغنّی کے لِئے التشخیت کے سُر پر داؤُد کا مزمُور۔ مِکتاؔم۔
1 اَے بزُرگو! کیا تُم در حقِیقت راست گوئی کرتے ہو؟
اَے بنی آدمؔ! کیا تُم ٹِھیک عدالت کرتے ہو؟
2 بلکہ تُم تو دِل ہی دِل میں شرارت کرتے ہو
اور زمِین پر اپنے ہاتھوں سے ظُلم پَیمائی کرتے ہو۔
3 شرِیر پَیدایش ہی سے کج رَوی اِختیار کرتے ہیں۔
وہ پَیدا ہوتے ہی جُھوٹ بول کر گُمراہ ہو جاتے ہیں۔
4 اُن کا زہر سانپ کا سا زہر ہے۔
وہ بہرے افعی کی مانِند ہیں جو کان بند کر لیتا ہے۔
5 جو منتر پڑھنے والوں کی آواز ہی نہیں سُنتا
خواہ وہ کتنی ہی ہوشیاری سے منتر پڑھیں۔
6 اَے خُدا! تُو اُن کے دانت اُن کے مُنہ میں توڑ دے۔
اَے خُداوند! بَبر کے بچّوں کی داڑھیں توڑ ڈال۔
7 وہ گُھل کر بہتے پانی کی مانِند ہو جائیں۔
جب وہ اپنے تِیر چلائے تو وہ گویا کُند پَیکان ہوں۔
8 وہ اَیسے ہو جائیں جَیسے گھونگا جو گل کر فنا ہو جاتا ہے
اور جَیسے عَورت کا اِسقاط جِس نے سُورج کو دیکھا ہی نہیں۔
9 اِس سے پہلے کہ تُمہاری ہانڈِیوں کو کانٹوں کی آنچ لگے
وہ ہرے اور جلتے دونوں کو یکساں بگولے سے اُڑا لے جائے گا۔
10 صادِق اِنتقام کو دیکھ کر خُوش ہو گا۔
وہ شرِیر کے خُون سے اپنے پاؤں تر کرے گا۔
11 تب لوگ کہیں گے یقِیناً صادِق کے لِئے اجر ہے۔
بے شک خُدا ہے جو زمِین پر عدالت کرتا ہے۔
سلامتی کے لِئے اِلتجا
مِیر مُغنّی کے لِئے التشخیت کے سُرپر داؤُد کا مزمُور۔
مِکتام۔ اُس وقت کا جب ساؤُؔل نے لوگ بھیجے اور اُنہوں
نے اُس کے گھر پر پہرا لگا دِیا تاکہ اُسے مار ڈالیں۔
1 اَے میرے خُدا! مُجھے میرے دُشمنوں سے چُھڑا۔
مُجھے میرے خِلاف اُٹھنے والوں پر سرفراز کر۔
2 مُجھے بدکرداروں سے چُھڑا
اور خُون خوار آدمِیوں سے مُجھے بچا۔
3 کیونکہ دیکھ! وہ میری جان کی گھات میں ہیں۔
اَے خُداوند! میری خطا یا میرے گُناہ کے بغَیر زبردست لوگ
میرے خِلاف اِکٹّھے ہوتے ہیں۔
4 وہ مُجھ بے قصُور پر دَوڑ دَوڑ کر تیّار ہوتے ہیں
میری کُمک کے لِئے جاگ اور دیکھ!
5 اَے خُداوند لشکروں کے خُدا۔ اِسرائیل کے خُدا!
سب قَوموں کے مُحاسبہ کے لِئے اُٹھ۔
کِسی دغاباز خطاکار پر رحم نہ کر۔ (سِلاہ)
6 وہ شام کو لَوٹتے اور کُتّے کی طرح بھَونکتے ہیں
اور شہر کے گِرد پِھرتے ہیں۔
7 دیکھ! وہ اپنے مُنہ سے ڈکارتے ہیں۔
اُن کے لبوں کے اندر تلواریں ہیں۔
کیونکہ وہ کہتے ہیں کون سُنتا ہے؟
8 پر اَے خُداوند! تُو اُن پر ہنسے گا۔
تُو تمام قَوموں کو ٹھٹھّوں میں اُڑائے گا۔
9 اَے میری قُوّت! مُجھے تیری ہی آس ہو گی
کیونکہ خُدا میرا اُونچا بُرج ہے۔
10 میرا خُدا اپنی شفقت سے میرا پیش رَو ہو گا۔
خُدا مُجھے میرے دُشمنوں کی پستی دِکھائے گا۔
11 اُن کو قتل نہ کر مبادا میرے لوگ بُھول جائیں۔
اَے خُداوند! اَے ہماری سِپر!
اپنی قُدرت سے اُن کو پراگندہ کر کے پست کر دے۔
12 وہ اپنے مُنہ کے گُناہ اور اپنے ہونٹوں کی باتوں
اور اپنی لعن طعن اور جُھوٹ بولنے کے باعِث
اپنے غرُور میں پکڑے جائیں۔
13 قہر میں اُن کو فنا کر دے۔
فنا کر دے تاکہ وہ نابُود ہو جائیں
اور وہ زمِین کی اِنتہا تک جان لیں
کہ خُدا یعقُوب پر حُکمران ہے۔ (سِلاہ)
14 پِھر شام کو وہ لَوٹیں اور کُتّے کی طرح بَھونکیں
اور شہر کے گِرد پِھریں۔
15 وہ کھانے کی تلاش میں مارے مارے پِھریں
اور اگر آسُودہ نہ ہوں تو ساری رات ٹھہرے رہیں۔
16 لیکن مَیں تیری قُدرت کا گِیت گاؤُں گا
بلکہ صُبح کو بُلند آواز سے تیری شفقت کا گِیت گاؤُں گا
کیونکہ تُو میرا اُونچا بُرج ہے
اور میری مُصِیبت کے دِن میری پناہ گاہ۔
17 اَے میری قُوّت! مَیں تیری مدح سرائی کرُوں گا
کیونکہ خُدا میرا شفِیق خُدا میرا اُونچا بُرج ہے۔
رہائی کے لِئے اِلتجا
مِیر مُغنّی کے لِئے تعلِیم کے لِئے داؤُد کا مِکتام۔ سوسن
عیدُوت کے سُر پر اُس وقت کا جب وہ مسوپتامیہ اور
اَرامِ ضوباہ سے لڑا اور یوآب نے لَوٹ کر وادیِ شور
میں بارہ ہزار ادُومِیوں کو مارا۔
1 اَے خُدا! تُو نے ہمیں ردّ کِیا۔
تُو نے ہمیں شِکستہ حال کر دِیا۔
تُو ناراض رہا ہے۔ ہمیں پِھر بحال کر۔
2 تُو نے زمِین کو لرزا دِیا۔ تُو نے اُسے پھاڑ ڈالا ہے۔
اُس کے رخنے بند کر دے کیونکہ وہ لرزان ہے۔
3 تُو نے اپنے لوگوں کو سختِیاں دِکھائیں۔
تُو نے ہم کو لڑکھڑا دینے والی مَے پِلائی۔
4 جو تُجھ سے ڈرتے ہیں تُو نے اُن کو ایک جھنڈا
دِیا ہے۔
تاکہ وہ حق کی خاطر بُلند کِیا جائے۔ (سِلاہ)
5 اپنے دہنے ہاتھ سے بچا اور ہمیں جواب دے۔
تاکہ تیرے محبُوب بچائے جائیں۔
6 خُدا نے اپنی قُدُّوسِیّت میں فرمایا ہے مَیں خُوشی
کرُوں گا۔
مَیں سِکم کو تقسیم کرُوں گا اور سُکّات کی وادی کو
بانٹُوں گا۔
7 جِلعاد میرا ہے منَسّی بھی میرا ہے۔
اِفرائِیم میرے سر کا خود ہے۔
یہُوداؔہ میرا عصا ہے۔
8 موآؔب میری چلپچی ہے۔
ادوؔم پر مَیں جُوتا پھینکُوں گا۔
اَے فِلستِین! میرے سبب سے للکار۔
9 مُجھے اُس مُحکم شہر میں کَون پُہنچائے گا؟
کَون مُجھے ادوؔم تک لے گیا ہے؟
10 اَے خُدا! کیا تُو نے ہمیں ردّ نہیں کر دِیا؟
اَے خُدا! تُو ہمارے لشکروں کے ساتھ نہیں جاتا۔
11 مُخالِف کے مُقابلہ میں ہماری کُمک کر
کیونکہ اِنسانی مدد عبث ہے۔
12 خُدا کی مدد سے ہم بہادری کریں گے
کیونکہ وُہی ہمارے مُخالِفوں کو پامال کرے گا۔
مُحافظت کے لِئے درخواست
مِیر مُغنّی کے لِئے تاردار ساز کے ساتھ داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُدا میری فریاد سُن!
میری دُعا پر توجُّہ کر۔
2 مَیں اپنی افسُردہ دِلی میں زمِین کی اِنتِہا سے تُجھے
پکارُوں گا۔
تُو مُجھے اُس چٹان پر لے چل جو مُجھ سے اُونچی ہے
3 کیونکہ تُو میری پناہ رہا ہے
اور دُشمن سے بچنے کے لِئے اُونچا بُرج۔
4 مَیں ہمیشہ تیرے خَیمہ میں رہُوں گا۔
مَیں تیرے پروں کے سایہ میں پناہ لُوں
گا۔ (سِلاہ)
5 کیونکہ اَے خُدا تُو نے میری مَنّتیں قبُول کی ہیں۔
تُو نے مُجھے اُن لوگوں کی سی مِیراث بخشی ہے جو
تیرے نام سے ڈرتے ہیں۔
6 تُو بادشاہ کی عُمر دراز کرے گا۔
اُس کی عُمر بُہت سی پُشتوں کے برابر ہو گی۔
7 وہ خُدا کے حضُور ہمیشہ قائِم رہے گا۔
تو شفقت اور سچّائی کو اُس کی حِفاظت کے لِئے مُہیّا کر۔
8 یُوں مَیں ہمیشہ تیری مدح سرائی کرُوں گا
تاکہ روزانہ اپنی مَنّتیں پُوری کرُوں۔
خُدا کی مُحافظت پر اِعتماد
مِیر مُغنّی کے لِئے یدُوتون کے طَور پر داؤُد کا مزمُور۔
1 میری جان کو خُدا ہی کی آس ہے۔
میری نجات اُسی سے ہے۔
2 وُہی اکیلا میری چٹان اور میری نجات ہے۔
وُہی میرا اُونچا بُرج ہے۔ مُجھے زِیادہ جُنبِش
نہ ہو گی۔
3 تُم کب تک اَیسے شخص پر حملہ کرتے رہو گے
جو جُھکی ہُوئی دِیوار اور ہِلتی باڑ کی مانِند ہے
تاکہ سب مِل کر اُسے قتل کرو؟
4 وہ اُس کو اُس کے مرتبہ سے گِرا دینے ہی کا مشوَرہ
کرتے رہتے ہیں۔
وہ جُھوٹ سے خُوش ہوتے ہیں۔
وہ اپنے مُنہ سے تو برکت دیتے ہیں پر دِل میں
لَعنت کرتے ہیں۔ (سِلاہ)
5 اَے میری جان! خُدا ہی کی آس رکھ
کیونکہ اُسی سے مُجھے اُمّید ہے۔
6 وُہی اکیلا میری چٹان اور میری نجات ہے۔
وُہی میرا اُونچا بُرج ہے۔ مُجھے جُنبِش نہ ہو گی۔
7 میری نجات اور میری شَوکت خُدا کی طرف
سے ہے۔
خُدا ہی میری قُوّت کی چٹان اور میری پناہ ہے۔
8 اَے لوگو! ہر وقت اُس پر توکُّل کرو۔
اپنے دِل کا حال اُس کے سامنے کھول دو۔
خُدا ہماری پناہ گاہ ہے۔ (سِلاہ)
9 یقِیناً ادنیٰ لوگ بے ثبات ہیں اور اعلیٰ آدمی جُھوٹے۔
وہ ترازُو میں ہلکے نِکلیں گے۔
وہ سب کے سب بے ثباتی سے بھی ہیچ ہیں۔
10 ظُلم پر تکیہ نہ کرو۔
لُوٹ مار کرنے پر نہ پُھولو۔
اگر مال بڑھ جائے تو اُس پر دِل نہ لگاؤ۔
11 خُدا نے ایک بار فرمایا۔
مَیں نے یہ دو بار سُنا
کہ قُدرت خُدا ہی کی ہے۔
12 شفقت بھی اَے خُداوند! تیری ہی ہے
کیونکہ تُو ہر شخص کو اُس کے عمل کے مُطابِق بدلہ
دیتا ہے۔
خُدا کے لِئے اِشتیاق
داؤُد کا مزمُور۔ جب وہ دشتِ یہُوداؔہ میں تھا۔
1 اَے خُدا! تُو میرا خُدا ہے۔ مَیں دِل سے تیرا
طالِب ہُوں گا۔
خُشک اور پیاسی زمِین میں جہاں پانی نہیں
میری جان تیری پِیاسی اور میرا جِسم تیرا
مُشتاق ہے۔
2 اِس طرح مَیں نے مَقدِس میں تُجھ پر نِگاہ کی
تاکہ تیری قُدرت اور حشمت کو دیکُھوں
3 کیونکہ تیری شفقت زِندگی سے بہتر ہے۔
میرے ہونٹ تیری تعرِیف کریں گے۔
4 اِسی طرح مَیں عُمر بھر تُجھے مُبارک کہُوں گا
اور تیرا نام لے کر اپنے ہاتھ اُٹھایا کرُوں گا۔
5 میری جان گویا گُودے اور چربی سے سیر ہو گی
اور میرا مُنہ مسرُور لبوں سے تیری تعرِیف کرے گا
6 جب مَیں بِستر پر تُجھے یاد کرُوں گا
اور رات کے ایک ایک پہر میں تُجھ پر دِھیان
کرُوں گا
7 اِس لِئے کہ تُو میرا مددگار رہا ہے
اور مَیں تیرے پروں کے سایہ میں خُوشی مناؤُں گا۔
8 میری جان کو تیری ہی دُھن ہے۔
تیرا دہنا ہاتھ مُجھے سنبھالتا ہے
9 پر جو میری جان کی ہلاکت کے درپَے ہیں
وہ زمِین کے اسفل میں چلے جائیں گے۔
10 وہ تلوار کے حوالہ ہوں گے۔
وہ گیدڑوں کا لُقمہ بنیں گے
11 لیکن بادشاہ خُدا میں شادمان ہو گا۔
جو اُس کی قَسم کھاتا ہے وہ فخر کرے گا
کیونکہ جُھوٹ بولنے والوں کا مُنہ بند کر دِیا
جائے گا۔
مُحافظت کے لِئے درخواست
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُدا! میری فریاد کی آواز سُن لے۔
میری جان کو دُشمن کے خَوف سے بچائے رکھ۔
2 شرِیروں کے خُفیہ مشوَرہ سے
اور بدکرداروں کے ہنگامہ سے مُجھے چِھپا لے
3 جِنہوں نے اپنی زُبان تلوار کی طرح تیز کی
اور تلخ باتوں کے تِیروں کا نشانہ لِیا ہے
4 تاکہ اُن کو خُفیہ مقاموں میں کامِل آدمی پر چلائیں۔
وہ اُن کو ناگہان اُس پر چلاتے ہیں اور
ڈرتے نہیں۔
5 وہ بُرے کام کا مُصمّم اِرادہ کرتے ہیں۔
وہ پھندے لگانے کی صلاح کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ہم کو کَون دیکھے گا؟
6 وہ شرارتوں کو کھوج کھوج کر نِکالتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ہم نے خُوب کھوج لگایا۔
اُن میں سے ہر ایک کا باطِن اور دِل عمِیق ہے۔
7 لیکن خُدا اُن پر تِیر چلائے گا۔
وہ ناگہان تِیر سے زخمی ہو جائیں گے
8 اور اُن ہی کی زُبان اُن کو تباہ کرے گی۔
جِتنے اُن کو دیکھیں گے سب سر ہِلائیں گے
9 اور سب لوگ ڈر جائیں گے
اور خُدا کے کام کا بیان کریں گے
اور اُس کے طریقِ عمل کو بخُوبی سمُجھ لیں گے۔
10 صادِق خُداوند میں شادمان ہو گا اور اُس پر توکُّل
کرے گا
اور جِتنے راست دِل ہیں سب فخر کریں گے۔
سِتایش اور شُکرگُذاری
مِیر مُغنّی کے لِئے مزمُور۔ داؤُد کا گِیت۔
1 اَے خُدا! صِیُّون میں تعرِیف تیری مُنتظِر ہے
اور تیرے لِئے مَنّت پُوری کی جائے گی۔
2 اَے دُعا کے سُننے والے!
سب بشر تیرے پاس آئیں گے۔
3 بد اعمال مُجھ پر غالِب آ جاتے ہیں
پر ہماری خطاؤں کا کفّارہ تُو ہی دے گا۔
4 مُبارک ہے وہ آدمی جِسے تُو برگُزِیدہ کرتا اور اپنے
پاس آنے دیتا ہے
تاکہ وہ تیری بارگاہوں میں رہے۔
ہم تیرے گھر کی خُوبی سے
یعنی تیری مُقدّس ہَیکل سے آسُودہ ہوں گے۔
5 اَے ہمارے نجات دینے والے خُدا!
تُو جو زمِین کے سب کناروں کا
اور سمُندر پر دُور دُور رہنے والوں کا تکیہ ہے!
خَوفناک باتوں کے ذرِیعہ سے تُو ہمیں صداقت
سے جواب دے گا
6 تُو قُدرت سے کمربستہ ہو کر
اپنی قُوّت سے پہاڑوں کو اِستحکام بخشتا ہے۔
7 تُو سمُندر کے اور اُس کی مَوجوں کے شور کو
اور اُمّتوں کے ہنگامہ کو مَوقُوف کر دیتا ہے۔
8 زمِین کی اِنتِہا کے رہنے والے تیرے مُعجزوں سے
ڈرتے ہیں۔
تُو مطلعِ صُبح کو اور شام کو شادمانی بخشتا ہے۔
9 تُو زمِین پر توجُّہ کر کے اُسے سیراب کرتا ہے۔
تُو اُسے خُوب مالا مال کر دیتا ہے۔
خُدا کا دریا پانی سے بھرا ہے۔
جب تُو زمِین کو یُوں تیّار کر لیتا ہے تُو اُن کے
لِئے اناج مُہیّا کرتا ہے۔
10 تُو اُس کی ریگھارِیوں کو خُوب سیراب کرتا
اور اُس کی مینڈوں کو بِٹھا دیتا ہے۔
تُو اُسے بارِش سے نرم کرتا ہے
اور اُس کی پَیداوار میں برکت دیتا ہے۔
11 تُو سال کو اپنے لُطف کا تاج پہناتا ہے
اور تیری راہوں سے رَوغن ٹپکتا ہے۔
12 وہ بِیابان کی چراگاہوں پر ٹپکتا ہے
اور پہاڑِیاں خُوشی سے کمربستہ ہیں۔
13 چراگاہوں میں جُھنڈ کے جُھنڈ پَھیلے ہُوئے ہیں۔
وادِیاں اناج سے ڈھکی ہُوئی ہیں۔
وہ خُوشی کے مارے للکارتی اور گاتی ہیں۔
سِتایش اور شُکرگُذاری کا گِیت
مِیر مُغنّی کے لِئے گِیت یعنی مزمُور۔
1 اَے ساری زمِین! خُدا کے حضُور خُوشی کا نعرہ مار۔
2 اُس کے نام کے جلال کا گِیت گاؤ۔
سِتایش کرتے ہُوئے اُس کی تمِجید کرو۔
3 خُدا سے کہو تیرے کام کیا ہی مُہِیب ہیں؟
تیری بڑی قُدرت کے باعِث تیرے دُشمن
عاجِزی کریں گے۔
4 ساری زمِین تُجھے سِجدہ کرے گی
اور تیرے حضُور گائے گی۔
وہ تیرے نام کے گِیت گائیں گے۔ (سِلاہ)
5 آؤ اور خُدا کے کاموں کو دیکھو۔
بنی آدمؔ کے ساتھ وہ اپنے سلُوک میں مُہِیب ہے۔
6 اُس نے سمُندر کو خُشک زمِین بنا دِیا۔
وہ دریا میں سے پَیدل گُذر گئے۔
وہاں ہم نے اُس میں خُوشی منائی۔
7 وہ اپنی قُدرت سے ابد تک سلطنت کرے گا۔
اُس کی آنکھیں قَوموں کو دیکھتی رہتی ہیں۔
سرکش لوگ تکبُّر نہ کریں۔ (سِلاہ)
8 اَے لوگو! ہمارے خُدا کو مُبارک کہو
اور اُس کی تعرِیف میں آواز بُلند کرو۔
9 وُہی ہماری جان کو زِندہ رکھتا ہے
اور ہمارے پاؤں کو پِھسلنے نہیں دیتا۔
10 کیونکہ اَے خُدا! تُو نے ہمیں آزما لِیا ہے۔
تُو نے ہمیں اَیسا تایا جَیسے چاندی تائی جاتی ہے۔
11 تُو نے ہمیں جال میں پھنسایا
اور ہماری کمر پر بھاری بوجھ رکھّا۔
12 تُو نے سواروں کو ہمارے سروں پر سے گُذارا۔
ہم آگ میں سے اور پانی میں سے ہو کر گُذرے
لیکن تُو ہم کو فراوانی کی جگہ میں نِکال لایا۔
13 مَیں سوختنی قُربانِیاں لے کر تیرے گھر میں داخِل
ہُوں گا۔
اور اپنی مَنّتیں تیرے حضُور ادا کرُوں گا۔
14 جو مُصِیبت کے وقت میرے لبوں سے نِکلیں
اور مَیں نے اپنے مُنہ سے مانیں۔
15 مَیں موٹے موٹے جانوروں کی سوختنی قُربانِیاں
مینڈھوں کی خُوشبُو کے ساتھ چڑھاؤُں گا۔
مَیں بَیل اور بکرے گُذرانُوں گا۔ (سِلاہ)
16 اَے خُدا سے ڈرنے والو! سب آؤ۔ سُنو
اور مَیں بتاؤُں گا کہ اُس نے میری جان کے لِئے
کیا کیا کِیا ہے۔
17 مَیں نے اپنے مُنہ سے اُس کو پُکارا۔
اُس کی تمجِید میری زُبان سے ہُوئی۔
18 اگر مَیں بدی کو اپنے دِل میں رکھتا
تُو خُداوند میری نہ سُنتا
19 لیکن خُدا نے یقِیناً سُن لِیا ہے۔
اُس نے میری دُعا کی آواز پر کان لگایا ہے۔
20 خُدا مُبارک ہو
جِس نے نہ تو میری دُعا کو ردّ کِیا
اور نہ اپنی شفقت کو مُجھ سے باز رکھّا۔
شُکرگُذاری کا گِیت
مِیر مُغنّی کے لِئے تاردار سازوں کے ساتھ مزمُور
یعنی گِیت۔
1 خُدا ہم پر رحم کرے اور ہم کو برکت بخشے
اور اپنے چہرہ کو ہم پر جلوہ گر فرمائے۔ (سِلاہ)
2 تاکہ تیری راہ زمِین پر ظاہِر ہو جائے
اور تیری نجات سب قَوموں پر۔
3 اَے خُدا! لوگ تیری تعرِیف کریں۔
سب لوگ تیری تعرِیف کریں۔
4 اُمّتیں خُوش ہوں اور خُوشی سے للکاریں
کیونکہ تُو راستی سے لوگوں کی عدالت کرے گا
اور زمِین کی اُمّتوں پر حُکُومت کرے گا۔ (سِلاؔہ)
5 اَے خُدا! لوگ تیری تعرِیف کریں۔
سب لوگ تیری تعرِیف کریں۔
6 زمِین نے اپنی پَیداوار دے دی۔
خُدا یعنی ہمارا خُدا ہم کو برکت دے گا۔
7 خُدا ہم کو برکت دے گا
اور زمِین کی اِنتہا تک سب لوگ اُس کا ڈر
مانیں گے۔
فتح مندی کا قومی نغمہ
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور یعنی گِیت۔
1 خُدا اُٹھے۔ اُس کے دُشمن پراگندہ ہوں۔
اُس سے عداوت رکھنے والے اُس کے
سامنے سے بھاگ جائیں
2 جَیسے دُھواں اُڑ جاتا ہے وَیسے ہی تُو اُن کو اُڑا دے۔
جَیسے موم آگ کے سامنے پِگھل جاتا ہے
وَیسے ہی شرِیر خُدا کے حضُور فنا ہو جائیں
3 لیکن صادِق خُوشی منائیں۔ وہ خُدا کے حضُور
شادمان ہوں
بلکہ وہ خُوشی سے پُھولے نہ سمائیں۔
4 خُدا کے لِئے گاؤ۔ اُس کے نام کی مدح سرائی کرو۔
صحرا کے سوار کے لِئے شاہراہ تیّار کرو۔
اُس کا نام یاہ ہے اور تُم اُس کے حضُور شادمان ہو۔
5 خُدا اپنے مُقدّس مکان میں
یتیِموں کا باپ اور بیواؤں کا دادرس ہے۔
6 خُدا تنہا کو خاندان بخشتا ہے۔
وہ قَیدِیوں کو آزاد کر کے اِقبال مند کرتا ہے۔
لیکن سرکش خُشک زمِین میں رہتے ہیں۔
7 اَے خُدا! جب تُو اپنے لوگوں کے آگے آگے چلا۔
جب تُو بِیابان میں سے گُذرا (سِلاہ)
8 تو زمِین کانپ اُٹھی۔
خُدا کے حضُور آسمان گِر پڑے۔
بلکہ کوہِ سِینا بھی خُدا کے حضُور۔ اِسرائیل کے
خُدا کے حضُور کانپ اُٹھا۔
9 اَے خُدا تُو نے خُوب مینہ برسایا۔
تُو نے اپنی خُشک مِیراث کو تازگی بخشی۔
10 تیرے لوگ اُس میں بسنے لگے۔
اَے خُدا! تُو نے اپنے فَیض سے غرِیبوں کے
لِئے اُسے تیّار کِیا۔
11 خُداوند حُکم دیتا ہے۔
خُوشخبری دینے والِیاں فَوج کی فَوج ہیں۔
12 لشکروں کے بادشاہ بھاگتے ہیں۔ وہ بھاگ
جاتے ہیں
اور عَورت گھر میں بَیٹھی بَیٹھی لُوٹ کا مال
بانٹتی ہے۔
13 جب تُم بھیڑ سالوں میں پڑے رہتے ہو
تو اُس کبُوتر کی مانِند ہو گے جِس کے بازُو گویا
چاندی سے
اور پَر خالِص سونے سے منڈھے ہُوئے ہوں۔
14 جب قادرِ مُطلِق نے بادشاہوں کو اُس میں
پراگندہ کِیا
تو اَیسا حال ہو گیا گویا سلمون پر برف پڑ رہی تھی۔
15 بسن کا پہاڑ خُدا کا پہاڑ ہے۔
بسن کا پہاڑ اُونچا پہاڑ ہے۔
16 اَے اُونچے پہاڑو! تُم اُس پہاڑ کو کیوں تاکتے ہو
جِسے خُدا نے اپنی سکُونت کے لِئے پسند کِیا ہے؟
بلکہ خُداوند اُس میں ابد تک رہے گا۔
17 خُدا کے رتھ بِیس ہزار بلکہ ہزارہا ہزار ہیں۔
خُداوند جَیسا کوہِ سِینا میں وَیسا ہی اُن کے
درمیان مَقدِس میں ہے۔
18 تُو نے عالمِ بالا کو صعُود فرمایا۔ تُو قَیدِیوں کو ساتھ
لے گیا۔
تُجھے لوگوں سے بلکہ سرکشوں سے بھی ہدئیے مِلے
تاکہ خُداوند خُدا اُن کے ساتھ رہے۔
19 خُداوند مُبارک ہو جو ہر روز ہمارا بوجھ اُٹھاتا ہے۔
وُہی ہمارا نجات دینے والا خُدا ہے۔ (سِلاہ)
20 خُدا ہمارے لِئے چُھڑانے والا خُدا ہے
اور مَوت سے بچنے کی راہیں بھی خُداوند خُدا
کی ہیں۔
21 لیکن خُداوند اپنے دُشمنوں کے سر کو
اور متواتر گُناہ کرنے والے کی بال دار کھوپڑی
کو چِیر ڈالے گا۔
22 خُداوند نے فرمایا مَیں اُن کو بسن سے نِکال
لاؤُں گا۔
مَیں اُن کو سمُندر کی تہہ سے نِکال لاؤُں گا
23 تاکہ تُو اپنا پاؤں خُون سے تر کرے۔
اور تیرے دُشمن تیرے کُتّوں کے مُنہ کا نوالہ بنیں۔
24 اَے خُدا! لوگوں نے تیری آمد دیکھی۔
مَقدِس میں میرے خُدا میرے بادشاہ کی آمد۔
25 گانے والے آگے آگے اور بجانے والے پِیچھے
پِیچھے چلے۔
دف بجانے والی جوان لڑکیاں بِیچ میں۔
26 تُم جو اِسرائیل کے چشمہ سے ہو خُداوند کو
مُبارک کہو۔
ہاں مجمع میں خُدا کو مُبارک کہو۔
27 وہاں چھوٹا بِنیمِین اُن کا حاکِم ہے۔
یہُوداؔہ کے اُمرا اور اُن کے مُشِیر۔
زبُولُون کے اُمرا اور نفتالی کے اُمرا ہیں۔
28 تیرے خُدا نے تیری پائیداری کا حُکم دِیا ہے۔
اَے خُدا! جو کُچھ تُو نے ہمارے لِئے کِیا ہے
اُسے پائیداری بخش۔
29 تیری ہَیکل کے سبب سے جو یروشلِیم میں ہے
بادشاہ تیرے پاس ہدئیے لائیں گے۔
30 تُو نَیستان کے جنگلی جانوروں کو دھمکا دے۔
سانڈوں کے غول کو اور قَوموں کے بچھڑوں کو
جو چاندی کے سِکّوں کو پامال کرتے ہیں۔
اُس نے جنگجُو قَوموں کو پراگندہ کر دِیا ہے۔
31 اُمرا مِصرؔ سے آئیں گے۔
کُوش خُدا کی طرف اپنے ہاتھ بڑھانے میں
جلدی کرے گا۔
32 اَے زمِین کی ممُلِکتو! خُدا کے لِئے گاؤ۔
خُداوند کی مدح سرائی کرو۔ (سِلاہ)
33 اُس کی جو قدِیم فلکُ الافلاک پر سوار ہے۔
دیکھو! وہ اپنی آواز بُلند کرتا ہے۔ اُس کی آواز
میں قُدرت ہے۔
34 خُدا ہی کی تعظِیم کرو۔
اُس کی حشمت اِسرائیل میں ہے
اور اُس کی قُدرت افلاک پر۔
35 اَے خُدا! تُو اپنے مَقدِسوں میں مُہِیب ہے۔
اِسرائیل کا خُدا ہی اپنے لوگوں کو زور اور توانائی
بخشتا ہے۔
خُدا مُبارک ہو۔
مدد کے لِئے پُکار
میر مُغنّی کے لِئے شوشنِیم کے سُر پر داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُدا! مُجھ کو بچا لے۔
کیونکہ پانی میری جان تک آ پُہنچا ہے۔
2 مَیں گہری دلدل میں دھسا جاتا ہُوں
جہاں کھڑا نہیں رہا جاتا۔
مَیں گہرے پانی میں آ پڑا ہُوں
جہاں سَیلاب میرے سر پر سے گُذرتے ہیں۔
3 مَیں چِلّاتے چِلّاتے تھک گیا۔
میرا گلا سُوکھ گیا۔
میری آنکھیں اپنے خُدا کے اِنتظار میں پتھرا گئِیں۔
4 مُجھ سے بے سبب عداوت رکھنے والے
میرے سر کے بالوں سے زِیادہ ہیں۔
میری ہلاکت کے خواہاں
اور ناحق دُشمن زبردست ہیں
پس جو مَیں نے چِھینا نہیں مُجھے دینا پڑا۔
5 اَے خُدا! تُو میری حماقت سے واقِف ہے
اور میرے گُناہ تُجھ سے پوشِیدہ نہیں ہیں۔
6 اَے خُداوند لشکروں کے خُدا!
تیری آس رکھنے والے
میرے سبب سے شرمِندہ نہ ہوں۔
اَے اِسرائیل کے خُدا!
تیرے طالِب میرے سبب سے رُسوا نہ ہوں۔
7 کیونکہ تیرے نام کی خاطِر
مَیں نے ملامت اُٹھائی ہے۔
شرمِندگی میرے مُنہ پر چھا گئی ہے۔
8 مَیں اپنے بھائیوں کے نزدِیک بیگانہ بنا ہُوں
اور اپنی ماں کے فرزندوں کے نزدِیک اجنبی
9 کیونکہ تیرے گھر کی غَیرت مُجھے کھا گئی
اور تُجھ کو ملامت کرنے والوں کی ملامتیں
مُجھ پر آ پڑیں۔
10 میرے روزہ رکھنے سے میری جان نے زاری کی
اور یہ بھی میری ملامت کا باعِث ہُؤا۔
11 جب مَیں نے ٹاٹ اوڑھا
تُو اُن کے لِئے ضربُ المثل ٹھہرا۔
12 پھاٹک پر بَیٹھنے والوں میں میرا ہی ذِکر رہتا ہے
اور مَیں نشہ بازوں کا گِیت ہُوں۔
13 لیکن اَے خُداوند تیری خُوشنُودی کے وقت
میری دُعا تُجھ ہی سے ہے۔
اَے خُدا! اپنی شفقت کی فراوانی سے
اپنی نجات کی سچّائی میں جواب دے۔
14 مُجھے دلدل میں سے نِکال لے اور دھسنے نہ دے۔
مُجھ سے عداوت رکھنے والوں اور گہرے پانی سے
مُجھے بچا لے۔
15 مَیں سَیلاب میں ڈُوب نہ جاؤُں
اور گہراؤ مُجھے نِگل نہ جائے
اور پاتال مُجھ پر اپنا مُنہ بند نہ کر لے۔
16 اَے خُداوند! مُجھے جواب دے
کیونکہ تیری شفقت خُوب ہے۔
اپنی رحمتوں کی کثرت کے مُطابِق
میری طرف متوجُّہ ہو۔
17 اپنے بندہ سے رُوپوشی نہ کر
کیونکہ مَیں مُصِیبت میں ہُوں۔
جلد مُجھے جواب دے۔
18 میری جان کے پاس آ کر اُسے چُھڑا لے۔
میرے دُشمنوں کے رُوبرُو میرا فِدیہ دے۔
19 تُو میری ملامت اور شرمِندگی
اور رُسوائی سے اور رُسوائی سے واقِف ہے۔
میرے دُشمن سب کے سب تیرے سامنے ہیں۔
20 ملامت نے میرا دِل توڑ دِیا۔
مَیں بُہت اُداس ہُوں اور مَیں اِسی اِنتظار میں رہا
کہ کوئی ترس کھائے پر کوئی نہ تھا
اور تسلّی دینے والوں کا مُنتظِر رہا پر کوئی نہ مِلا۔
21 اُنہوں نے مُجھے کھانے کو اِندراین بھی دِیا
اور میری پیاس بُجھانے کو اُنہوں نے مُجھے
سِرکہ پِلایا۔
22 اُن کا دسترخوان اُن کے لِئے پھندا ہو جائے
اور جب وہ امن سے ہوں تو جال بن جائے۔
23 اُن کی آنکھیں تارِیک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ
نہ سکیں
اور اُن کی کمریں ہمیشہ کانپتی رہیں۔
24 اپنا غضب اُن پر اُنڈیل دے
اور تیرا شدِید قہر اُن پر آ پڑے۔
25 اُن کا مسکن اُجڑ جائے۔
اُن کے خَیموں میں کوئی نہ بسے۔
26 کیونکہ وہ اُس کو جِسے تُو نے مارا ہے ستاتے ہیں۔
اور جِن کو تُو نے زخمی کِیا ہے اُن کے دُکھ کا چرچا
کرتے ہیں۔
27 اُن کے گُناہ پر گُناہ بڑھا
اور وہ تیری صداقت میں داخِل نہ ہوں۔
28 اُن کے نام کِتابِ حیات سے مِٹا دِئیے جائیں
اور صادِقوں کے ساتھ مندرج نہ ہوں۔
29 لیکن مَیں تو غرِیب اور غمگِین ہُوں۔
اَے خُدا! تیری نجات مُجھے سر بُلند کرے۔
30 مَیں گِیت گا کر خُدا کے نام کی تعرِیف کرُوں گا
اور شُکرگُذاری کے ساتھ اُس کی تمجِید کرُوں گا۔
31 یہ خُداوند کو بَیل سے زِیادہ پسند ہو گا
بلکہ سِینگ اور کُھر والے بچھڑے سے زِیادہ۔
32 حلِیم اِسے دیکھ کر خُوش ہُوئے ہیں۔
اَے خُدا کے طالِبو! تُمہارے دِل زِندہ رہیں
33 کیونکہ خُداوند مُحتاجوں کی سُنتا ہے
اور اپنے قَیدِیوں کو حقِیر نہیں جانتا۔
34 آسمان اور زمِین اُس کی تعرِیف کریں
اور سمُندر اور جو کُچھ اُن میں چلتا پِھرتا ہے
35 کیونکہ خُدا صِیُّون کو بچائے گا اور یہُوداؔہ کے
شہروں کو بنائے گا
اور وہ وہاں بسیں گے اور اُس کے وارِث
ہوں گے۔
36 اُس کے بندوں کی نسل بھی اُس کی مالِک ہو گی
اور اُس کے نام سے مُحبّت رکھنے والے اُس میں
بسیں گے۔
مدد کے لِئے پُکار
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔ یادگار کے لِئے۔
1 اَے خُدا! مُجھے چُھڑانے کے لِئے۔
اَے خُداوند! میری مدد کے لِئے جلدی کر۔
2 جو میری جان کو ہلاک کرنے کے درپَے ہیں وہ سب
شرمِندہ اور خجِل ہوں۔
جو میرے نُقصان سے خُوش ہیں وہ پسپا اور
رُسوا ہوں۔
3 اہا ہاہا کرنے والے
اپنی رُسوائی کی وجہ سے پسپا ہوں۔
4 تیرے سب طالِب تُجھ میں خُوش و خُرّم ہوں۔
تیری نجات کے عاشق ہمیشہ کہا کریں
خُدا کی تمجِید ہو۔
5 پر مَیں غرِیب اور مُحتاج ہُوں۔
اَے خُدا میرے پاس جلد آ۔
میرا مددگار اور چُھڑانے والا تُو ہی ہے۔
اَے خُداوند دیر نہ کر!
عُمر رسِیدہ آدمی کی دُعا
1 اَے خُداوند تُو ہی میری پناہ ہے۔
مُجھے کبھی شرمِندہ نہ ہونے دے۔
2 اپنی صداقت میں مُجھے رہائی دے اور چُھڑا۔
میری طرف کان لگا اور مُجھے بچا لے۔
3 تُو میرے لِئے سکُونت کی چٹان ہو جہاں مَیں
برابر جا سکُوں۔
تُو نے میرے بچانے کا حُکم دے دیا ہے
کیونکہ میری چٹان اور میرا قلعہ تُو ہی ہے۔
4 اَے میرے خُدا! مُجھے شرِیر کے ہاتھ سے۔
ناراست اور بے درد آدمی کے ہاتھ سے چُھڑا۔
5 کیونکہ اَے خُداوند خُدا! تُو ہی میری اُمّید ہے۔
لڑکپن سے میرا توکُّل تُجھ ہی پر ہے۔
6 تُو پَیدایش ہی سے مُجھے سنبھالتا آیا ہے۔
تُو میری ماں کے بطن ہی سے میرا شفِیق رہا ہے۔
سو مَیں سدا تیری سِتایش کرتا رہُوں گا۔
7 مَیں بُہتوں کے لِئے حیرت کا باعِث ہُوں
لیکن تُو میری مُحکم پناہ گاہ ہے۔
8 میرا مُنہ تیری سِتایش سے
اور تیری تعظِیم سے دِن بھر پُر رہے گا۔
9 بڑھاپے کے وقت مُجھے ترک نہ کر۔
میری ضعِیفی میں مُجھے چھوڑ نہ دے۔
10 کیونکہ میرے دُشمن میرے بارے میں باتیں
کرتے ہیں
اور جو میری جان کی گھات میں ہیں وہ آپس
میں مشوَرہ کرتے ہیں
11 اور کہتے ہیں کہ خُدا نے اُسے چھوڑ دِیا ہے۔
اُس کا پِیچھا کرو اور پکڑ لو کیونکہ چُھڑانے والا
کوئی نہیں۔
12 اَے خُدا مُجھ سے دُور نہ رہ!
اَے میرے خُدا! میری مدد کے لِئے جلدی کر۔
13 میری جان کے مُخالِف شرمِندہ اور فنا ہو جائیں۔
میرا نُقصان چاہنے والے ملامت اور رُسوائی سے
مُلبّس ہوں۔
14 لیکن مَیں ہمیشہ اُمّید رکھُّوں گا
اور تیری تعرِیف اَور بھی زِیادہ کِیا کرُوں گا۔
15 میرا مُنہ تیری صداقت کا
اور تیری نجات کا بیان دِن بھر کرے گا۔
کیونکہ مُجھے اُن کا شُمار معلُوم نہیں۔
16 مَیں خُداوند خُدا کی قُدرت کے کاموں کا اِظہار
کرُوں گا۔
مَیں صِرف تیری ہی صداقت کا ذِکر کرُوں گا۔
17 اَے خُدا! تُو مُجھے بچپن سے سِکھاتا آیا ہے
اور مَیں اب تک تیرے عجائِب کا بیان کرتا
رہا ہُوں۔
18 اَے خُدا! جب مَیں بُڈھا اور سر سفید ہو جاؤُں
تو مُجھے ترک نہ کرنا
جب تک کہ مَیں تیری قُدرت آیندہ پُشت پر
اور تیرا زور ہر آنے والے پر ظاہِر نہ کر دُوں۔
19 اَے خُدا! تیری صداقت بھی بُہت بُلند ہے۔
اَے خُدا! تیری مانِند کَون ہے
جِس نے بڑے بڑے کام کِئے ہیں؟
20 تُو جِس نے ہم کو بُہت اور سخت تکلِیفیں دِکھائی ہیں
پِھر ہم کو زِندہ کرے گا
اور زمِین کے اسفل سے ہمیں پِھر اُوپر لے
آئے گا۔
21 تُو میری عظمت کو بڑھا
اور پِھر کر مُجھے تسلّی دے۔
22 اَے میرے خُدا! مَیں بربط پر
تیری ہاں تیری سچّائی کی حمد کرُوں گا۔
اَے اِسرائیل کے قدُّوس!
مَیں سِتار کے ساتھ تیری مدح سرائی کرُوں گا۔
23 جب مَیں تیری مدح سرائی کرُوں گا تو میرے
ہونٹ نہایت شادمان ہوں گے
اور میری جان بھی جِس کا تُو نے فِدیہ دِیا ہے 24 اور میری زُبان دِن بھر تیری صداقت کا ذِکر
کرے گی
کیونکہ میرا نُقصان چاہنے والے شرمِندہ اور پشیمان
ہُوئے ہیں۔
بادشاہ کے لِئے دُعا
سُلیماؔن کا مزمُور۔
1 اَے خُدا! بادشاہ کو اپنے احکام
اور شاہزادہ کو اپنی صداقت عطا فرما۔
2 وہ صداقت سے تیرے لوگوں کی
اور اِنصاف سے تیرے غرِیبوں کی عدالت
کرے گا۔
3 اِن لوگوں کے لِئے پہاڑوں سے سلامتی کے
اور پہاڑِیوں سے صداقت کے پَھل پَیدا
ہوں گے۔
4 وہ اِن لوگوں کے غرِیبوں کی عدالت کرے گا۔
وہ مُحتاجوں کی اَولاد کو بچائے گا
اور ظالِم کو ٹُکڑے ٹُکڑے کر ڈالے گا۔
5 جب تک سُورج اور چاند قائِم ہیں۔
لوگ نسل در نسل تُجھ سے ڈرتے رہیں گے۔
6 وہ کٹی ہُوئی گھاس پر مینہ کی مانِند
اور زمِین کو سیراب کرنے والی بارِش کی طرح
نازِل ہو گا۔
7 اُس کے ایاّم میں صادِق برومند ہوں گے
اور جب تک چاند قائِم ہے خُوب امن رہے گا۔
8 اُس کی سلطنت سمُندر سے سمُندر تک
اور دریایِ فرات سے زمِین کی اِنتہا تک ہو گی۔
9 بیابان کے رہنے والے اُس کے آگے جُھکیں گے
اور اُس کے دُشمن خاک چاٹیں گے۔
10 ترسِیس کے اور جزِیروں کے بادشاہ نذریں
گُذرانیں گے۔
سبا اور سیبا کے بادشاہ ہدئے لائیں گے۔
11 بلکہ سب بادشاہ اُس کے سامنے سرنِگُوں ہوں گے۔
کُل قَومیں اُس کی مُطِیع ہوں گی۔
12 کیونکہ وہ مُحتاج کو جب وہ فریاد کرے۔
اور غرِیب کو جِس کا کوئی مددگار نہیں چُھڑائے گا۔
13 وہ غرِیب اور مُحتاج پر ترس کھائے گا۔
اور مُحتاجوں کی جان کو بچائے گا۔
14 وہ فِدیہ دے کر اُن کی جان کو ظُلم اور جبر سے
چُھڑائے گا
اور اُن کا خُون اُس کی نظر میں بیش قِیمت ہو گا۔
15 وہ جِیتے رہیں گے اور سبا کا سونا اُس کو دِیا جائے گا۔
لوگ برابر اُس کے حق میں دُعا کریں گے۔
وہ دِن بھر اُسے دُعا دیں گے۔
16 زمِین میں پہاڑوں کی چوٹِیوں پر اناج کی
اِفراط ہوگی۔
اُن کا پَھل لُبنان کے درختوں کی طرح
جُھومے گا
اور شہر والے زمِین کی گھاس کی مانِند ہرے بھرے
ہوں گے۔
17 اُس کا نام ہمیشہ قائِم رہے گا۔
جب تک سُورج ہے اُس کا نام رہے گا۔
اور لوگ اُس کے وسِیلہ سے برکت پائیں گے۔
سب قَومیں اُسے خُوش نصِیب کہیں گی۔
18 خُداوند خُدا اِسرائیل کا خُدا مُبارک ہو۔
وُہی عجِیب و غرِیب کام کرتا ہے۔
19 اُس کا جلِیل نام ہمیشہ کے لِئے مُبارک ہو
اور ساری زمِین اُس کے جلال سے معمُور ہو۔
آمِین ثُمَّ آمِین!
20 داؤُد بِن یسّی کی دُعائیں تمام ہُوئِیں۔
تِیسری کِتاب
( زبُور ۷۳‏—۸۹ )
خُدا کا عَدل
آسف کا مزمُور۔
1 بیشک خُدا اِسرائیل پر
یعنی پاک دِلوں پر مہربان ہے۔
2 لیکن میرے پاؤں تو پِھسلنے کو تھے۔
میرے قدم قریباً لغزِش کھا چُکے تھے۔
3 کیونکہ جب مَیں شرِیروں کی اِقبال مندی دیکھتا
تو مغرُوروں پر حسد کرتا تھا۔
4 اِس لِئے کہ اُن کی مَوت میں جان کنی نہیں
بلکہ اُن کی قُوّت بنی رہتی ہے۔
5 وہ اَور آدمِیوں کی طرح مُصِیبت میں نہیں پڑتے
نہ اَور لوگوں کی طرح اُن پر آفت آتی ہے۔
6 اِس لِئے غرُور اُن کے گلے کا ہار ہے۔
گویا وہ ظُلم سے مُلبّس ہیں۔
7 اُن کی آنکھیں چربی سے اُبھری ہُوئی ہیں۔
اُن کے دِل کے خیالات حد سے بڑھ گئے ہیں۔
8 وہ ٹھٹھّا مارتے اور شرارت سے ظُلم کی باتیں
کرتے ہیں۔
وہ بڑا بول بولتے ہیں۔
9 اُن کے مُنہ آسمان پر ہیں
اور اُن کی زُبانیں زمِین کی سَیر کرتی ہیں۔
10 اِس لِئے اُس کے لوگ اِس طرف رجُوع ہوتے ہیں
اور جی بھر کر پِیتے ہیں۔
11 وہ کہتے ہیں خُدا کو کَیسے معلُوم ہے؟
کیا حق تعالیٰ کو کُچھ عِلم ہے؟
12 اِن شرِیروں کو دیکھو!
یہ سدا چَین سے رہتے ہُوئے دَولت
بڑھاتے ہیں۔
13 یقِیناً مَیں نے عبث اپنے دِل کو صاف
اور اپنے ہاتھوں کو پاک کِیا۔
14 کیونکہ مُجھ پر دِن بھر آفت رہتی ہے۔
اور مَیں ہر صُبح تنبِیہ پاتا ہُوں۔
15 اگر مَیں کہتا کہ یُوں کہُوں گا
تو تیرے فرزندوں کی نسل سے بے وفائی کرتا۔
16 جب مَیں سوچنے لگا کہ اِسے کَیسے سمجھُوں
تو یہ میری نظر میں دُشوار تھا۔
17 جب تک کہ مَیں نے خُدا کے مَقدِس میں جا کر
اُن کے انجام کو نہ سوچا۔
18 یقِیناً تُو اُن کو پِھسلنی جگہوں میں رکھتا ہے
اور ہلاکت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
19 وہ دَم بھر میں کَیسے اُجڑ گئے!
وہ حادِثوں سے بالکُل فنا ہو گئے۔
20 جَیسے جاگ اُٹھنے والا خواب کو
وَیسے ہی تُو اَے خُداوند! جاگ کر اُن کی صُورت
کو ناچِیز جانے گا۔
21 کیونکہ میرا دِل رنجِیدہ ہُؤا
اور میرا جِگر چِھد گیا تھا۔
22 مَیں بے عقل اور جاہِل تھا۔
مَیں تیرے سامنے جانور کی مانِند تھا۔
23 تَو بھی مَیں برابر تیرے ساتھ ہُوں۔
تُو نے میرا دہنا ہاتھ پکڑ رکھّا ہے۔
24 تُو اپنی مصلحت سے میری رہنُمائی کرے گا
اور آخِر کار مُجھے جلال میں قبُول فرمائے گا
25 آسمان پر تیرے سوا میرا کَون ہے؟
اور زمِین پر تیرے سوا مَیں کِسی کا مُشتاق نہیں۔
26 گو میرا جِسم اور میرا دِل زائل ہو جائیں
تَو بھی خُدا ہمیشہ میرے دِل کی قُوّت اور میرا
بخرہ ہے۔
27 کیونکہ دیکھ! وہ جو تُجھ سے دُور ہیں فنا ہو جائیں گے۔
تُو نے اُن سب کو جِنہوں نے تُجھ سے بے وفائی
کی ہلاک کر دِیا ہے۔
28 لیکن میرے لِئے یِہی بھلا ہے کہ خُدا کی نزدِیکی
حاصِل کرُوں۔
مَیں نے خُداوند خُدا کو اپنی پناہ گاہ بنا لِیا ہے۔
تاکہ تیرے سب کاموں کا بیان کرُوں۔
قَومی رہائی کے لِئے مُناجات
آسف کا مشکِیل۔
1 اَے خُدا! تُو نے ہم کو ہمیشہ کے لِئے کیوں ترک
کر دِیا؟
تیری چراگاہ کی بھیڑوں پر تیرا قہر کیوں بھڑک
رہا ہے؟
2 اپنی جماعت کو جِسے تُو نے قدِیم سے خرِیدا ہے۔
جِس کا تُو نے فِدیہ دِیا تاکہ تیری مِیراث کا
قبِیلہ ہو
اور کوہِ صِیُّون کو جِس پر تُو نے سکُونت کی ہے
یاد کر۔
3 اپنے قدم دائِمی کھنڈروں کی طرف بڑھا
یعنی اُن سب خرابِیوں کی طرف جو دُشمن نے
مَقدِس میں کی ہیں
4 تیرے مجمع میں تیرے مُخالِف گرجتے رہے ہیں۔
نِشان کے لِئے اُنہوں نے اپنے ہی جھنڈے
کھڑے کِئے ہیں۔
5 وہ اُن آدمِیوں کی مانِند تھے
جو گُنجان درختوں پر کُلہاڑے چلاتے ہیں
6 اور اب وہ اُس کی ساری نقش کاری کو
کُلہاڑی اور ہتھوڑوں سے بالکل توڑے
ڈالتے ہیں۔
7 اُنہوں نے تیرے مَقدِس میں آگ لگا دی ہے
اور تیرے نام کے مسکن کو زمِین تک مِسمار کر
کے ناپاک کِیا ہے۔
8 اُنہوں نے اپنے دِل میں کہا ہے ہم اُن کو بِالکل
وِیران کر ڈالیں۔
اُنہوں نے اِس مُلک میں خُدا کے سب عِبادت
خانوں کو جِلا دِیا ہے۔
9 ہمارے نِشان نظر نہیں آتے
اور کوئی نبی نہیں رہا
اور ہم میں کوئی نہیں جانتا کہ یہ حال کب تک
رہے گا۔
10 اَے خُدا! مُخالِف کب تک طَعنہ زنی کرتا رہے گا؟
کیا دُشمن ہمیشہ تیرے نام پر کُفر بکتا رہے گا؟
11 تُو اپنا ہاتھ کیوں روکتا ہے؟
اپنا دہنا ہاتھ بغل سے نِکال اور فنا کر۔
12 خُدا قدِیم سے میرا بادشاہ ہے
جو زمِین پر نجات بخشتا ہے۔
13 تُو نے اپنی قُدرت سے سمُندر کے دو حِصّے کر دِئے۔
تُو پانی میں اژدہاؤں کے سرکُچلتا ہے۔
14 تُو نے لوِیاتان کے سر کے ٹُکڑے کِئے
اور اُسے بیابان کے رہنے والوں کی
خُوراک بنایا۔
15 تُو نے چشمے اور سَیلاب جاری کِئے۔
تُو نے بڑے بڑے دریاؤں کو خُشک کر ڈالا۔
16 دِن تیرا ہے۔ رات بھی تیری ہی ہے۔
نُور اور آفتاب کو تُو ہی نے تیّار کِیا۔
17 زمِین کی تمام حدُود تُو ہی نے ٹھہرائی ہیں۔
گرمی اور سردی کے مَوسم تُو ہی نے بنائے۔
18 اَے خُداوند! اِسے یاد رکھ کہ دُشمن نے طَعنہ زنی
کی ہے
اور بیوقُوف قَوم نے تیرے نام کی تکفِیر کی ہے۔
19 اپنی فاختہ کی جان کو جنگلی جانور کے حوالہ نہ کر۔
اپنے غرِیبوں کی جان کو ہمیشہ کے لِئے بُھول
نہ جا۔
20 اپنے عہد کا خیال فرما
کیونکہ زمِین کے تارِیک مقام ظُلم کے مسکنوں
سے بھرے ہیں
21 مظلُوم شرمِندہ ہو کر نہ لَوٹے۔
غرِیب اور مُحتاج تیرے نام کی تعرِیف کریں۔
22 اُٹھ اَے خُدا! آپ ہی اپنی وکالت کر۔
یاد کر کہ احمق دِن بھر تُجھ پر کَیسی طَعنہ زنی کرتا ہے۔
23 اپنے دُشمنوں کی آواز کو بُھول نہ جا۔
تیرے مُخالِفوں کا ہنگامہ برپا ہوتا رہتا ہے
خُدا مُنصِف ہے
مِیر مُغنّی کے لِئے التشخیت کے سُر پر آسف کا مزمُور
یعنی گِیت۔
1 اَے خُدا! ہم تیرا شُکر کرتے ہیں۔
ہم تیرا شُکر کرتے ہیں کیونکہ تیرا نام نزدِیک ہے۔
لوگ تیرے عجِیب کاموں کا ذِکر کرتے ہیں۔
2 جب میرا مُعیّن وقت آئے گا
تو مَیں راستی سے عدالت کرُوں گا۔
3 زمِین اور اُس کے سب باشِندے گُداز ہو
گئے ہیں۔
مَیں نے اُس کے سُتُونوں کو قائِم کر دِیا
ہے (سِلاہ)۔
4 مَیں نے مغرُوروں سے کہا غرُور نہ کرو
اور شرِیروں سے کہ سِینگ اُونچا نہ کرو۔
5 اپنا سِینگ اُونچا نہ کرو۔
گردن کشی سے بات نہ کرو۔
6 کیونکہ سرفرازی نہ تو مشرِق سے نہ مغرِب سے
اور نہ جنُوب سے آتی ہے۔
7 بلکہ خُدا ہی عدالت کرنے والا ہے۔
وہ کِسی کو پست کرتا ہے اور کِسی کو سرفرازی
بخشتا ہے۔
8 کیونکہ خُداوند کے ہاتھ میں پیالہ ہے اور مَے
جھاگ والی ہے۔
وہ مِلی ہُوئی شراب سے بھرا ہے اور خُداوند اُسی
میں سے اُنڈیلتا ہے۔
بیشک اُس کی تلچھٹ زمِین کے سب شرِیر نچوڑ
نچوڑ کر پِئیں گے۔
9 لیکن مَیں تو ہمیشہ ذِکر کرتا رہُوں گا۔
مَیں یعقُوب کے خُدا کی مدح سرائی کرُوں گا
10 اور مَیں شرِیروں کے سب سِینگ کاٹ ڈالُوں گا۔
لیکن صادِقوں کے سِینگ اُونچے کِئے جائیں گے۔
خُدا فاتح ہے
مِیر مُغنّی کے لِئے تاردار سازوں کے ساتھ آسف کا
مزمُور یعنی گِیت۔
1 خُدا یہُوداؔہ میں مشہُور ہے۔
اُس کا نام اِسرائیل میں بزُرگ ہے۔
2 سالم میں اُس کا خَیمہ ہے
اور صِیُّون میں اُس کا مسکن۔
3 وہاں اُس نے برقِ کمان کو
اور ڈھال اور تلوار اور سامانِ جنگ کو توڑ
ڈالا (سِلاہ)۔
4 تُو جلالی ہے اور شِکار کے پہاڑوں سے شان دار ہے۔
5 مضبُوط دِل لُٹ گئے۔ وہ گہری نِیند میں پڑے ہیں
اور زبردست لوگوں میں سے کِسی کا ہاتھ کام
نہ آیا۔
6 اَے یعقُوب کے خُدا! تیری جِھڑکی سے
رتھ اور گھوڑے دونوں پر مَوت کی نِیند طاری ہے۔
7 فقط تُجھ ہی سے ڈرنا چاہئے
اور تیرے قہر کے وقت کَون تیرے حضُور کھڑا رہ
سکتا ہے؟
8 تُو نے آسمان پر سے فَیصلہ سُنایا۔
زمِین ڈر کر چُپ ہو گئی۔
9 جب خُدا عدالت کرنے کو اُٹھا
تاکہ زمِین کے سب حلِیموں کو بچا لے۔ (سِلاہ)
10 بیشک اِنسان کا غضب تیری سِتایش کا باعِث ہو گا
اور تُو غضب کے بقِیہّ سے کمربستہ ہو گا۔
11 خُداوند اپنے خُدا کے لِئے مَنّت مانو اور پُوری کرو
اور سب جو اُس کے گِرد ہیں وہ اُسی کے لِئے جِس
سے ڈرنا و اجِب ہے ہدئے لائیں۔
12 وہ اُمرا کی رُوح کو قبض کرے گا۔
وہ زمِین کے بادشاہوں کے لِئے مُہِیب ہے۔
مُصِیبت کے وقت تسلّی
مِیر مُغنّی کے لِئے یدُوتوؔن کے طَور پر آسف کا مزمُور۔
1 مَیں بُلند آواز سے خُدا کے حضُور فریاد کرُوں گا۔
خُدا ہی کے حضُور بُلند آواز سے
اور وہ میری طرف کان لگائے گا
2 اپنی مُصِیبت کے دِن مَیں نے خُداوند کو ڈھُونڈا۔
میرے ہاتھ رات کو پَھیلے رہے اور ڈِھیلے نہ ہُوئے۔
میری جان کو تسکِین نہ ہُوئی۔
3 مَیں خُدا کو یاد کرتا ہُوں اور بے چَین ہُوں۔
مَیں واوَیلا کرتا ہُوں اور میری جان نِڈھال ہے۔ (سِلاہ)
4 تُو میری آنکھیں کُھلی رکھتا ہے۔
مَیں اَیسا بیتاب ہُوں کہ بول نہیں سکتا۔
5 مَیں گُذشتہ ایاّم پر
یعنی قدِیم زمانہ کے برسوں پر سوچتا رہا۔
6 مُجھے رات کو اپنا گِیت یاد آتا ہے۔
مَیں اپنے دِل ہی میں سوچتا ہُوں۔
میری رُوح بڑی تفتِیش میں لگی ہے۔
7 کیا خُداوند ہمیشہ کے لِئے چھوڑ دے گا؟
کیا وہ پِھر کبھی مِہربان نہ ہو گا؟
8 کیا اُس کی شفقت ہمیشہ کے لِئے جاتی رہی؟
کیا اُس کا وعدہ ابد تک باطِل ہو گیا؟
9 کیا خُدا کرم کرنا بُھول گیا؟
کیا اُس نے قہر سے اپنی رحمت روک لی؟ (سِلاہ)
10 پِھر مَیں نے کہا یہ میری ہی کمزوری ہے۔
مَیں تو حق تعالیٰ کی قُدرت کے زمانہ کو یاد
کرُوں گا۔
11 مَیں خُداوند کے کاموں کا ذِکر کرُوں گا
کیونکہ مُجھے تیرے قدِیم عجائِب یاد آئیں گے۔
12 مَیں تیری ساری صنعت پر دِھیان کرُوں گا
اور تیرے کاموں کو سوچُوں گا۔
13 اَے خُدا! تیری راہ مَقدِس میں ہے۔
کَون سا دیوتا خُدا کی مانِند بڑا ہے؟
14 تُو وہ خُدا ہے جو عجِیب کام کرتا ہے۔
تُو نے قَوموں کے درمیان اپنی قُدرت ظاہِر کی۔
15 تُو نے اپنے ہی بازُو سے اپنی قَوم
بنی یعقوُب اور بنی یُوسفؔ کو فِدیہ دے کر چُھڑایا
ہے۔ (سِلاہ)
16 اَے خُدا! سمُندروں نے تُجھے دیکھا۔
سمُندر تُجھے دیکھ کر ڈر گئے۔
گہراؤ بھی کانپ اُٹھے۔
17 بدلِیوں نے پانی برسایا۔
افلاک سے آواز آئی۔
تیرے تِیر بھی چاروں طرف چلے۔
18 بگُولے میں تیرے رَعد کی آواز تھی۔
برق نے جہان کو رَوشن کر دِیا۔
زمِین لرزی اور کانپی۔
19 تیری راہ سمُندر میں ہے۔
تیرے راستے بڑے سمُندروں میں ہیں
اور تیرے نقشِ قدم نا معلُوم ہیں
20 تُو نے مُوسیٰ اور ہارُون کے وسِیلہ سے
گلّہ کی طرح اپنے لوگوں کی راہنُمائی کی۔
خُدا اور اُس کے لوگ
آسف کا مشکِیل۔
1 اَے میرے لوگو! میری شرِیعت کو سُنو۔
میرے مُنہ کی باتوں پر کان لگاؤ۔
2 مَیں تمثِیل میں کلام کرُوں گا
اور قدِیم مُعمّے کہُوں گا۔
3 جِن کو ہم نے سُنا اور جان لِیا
اور ہمارے باپ دادا نے ہم کو بتایا
4 اور جِن کو ہم اُن کی اَولاد سے پوشِیدہ نہیں
رکھّیں گے
بلکہ آیندہ پُشت کو بھی خُداوند کی تعرِیف
اور اُس کی قُدرت اور عجائِب جو اُس نے کِئے
بتائیں گے۔
5 کیونکہ اُس نے یعقُوب میں ایک شہادت قائِم کی
اور اِسرائیل میں شرِیعت مقرّر کی
جِن کی بابت اُس نے ہمارے باپ دادا کو حُکم دِیا
کہ وہ اپنی اَولاد کو اُن کی تعلِیم دیں۔
6 تاکہ آیندہ پُشت یعنی وہ فرزند جو پَیدا ہوں گے
اُن کو جان لیں
اور وہ بڑے ہو کر اپنی اَولاد کو سِکھائیں
7 کہ وہ خُدا پر آس رکھّیں
اور اُس کے کاموں کو بُھول نہ جائیں
بلکہ اُس کے حُکموں پر عمل کریں
8 اور اپنے باپ دادا کی طرح
سرکش اور باغی نسل نہ بنیں۔
اَیسی نسل جِس نے اپنا دِل درُست نہ کِیا
اور جِس کی رُوح خُدا کے حضُور وفادار نہ رہی۔
9 بنی اِفرائِیم مُسلّح ہو کر اور کمانیں رکھتے ہُوئے
لڑائی کے دِن پِھر گئے۔
10 اُنہوں نے خُدا کے عہد کو قائِم نہ رکھّا
اور اُس کی شرِیعت پر چلنے سے اِنکار کِیا
11 اور اُس کے کاموں کو اور اُس کے عجائِب کو
جو اُس نے اُن کو دِکھائے تھے بُھول گئے۔
12 اُس نے مُلکِ مِصرؔ میں۔ ضُعن کے عِلاقہ میں
اُن کے باپ دادا کے سامنے عجِیب و غرِیب
کام کِئے۔
13 اُس نے سمُندر کے دو حِصّے کر کے اُن کو پار اُتارا
اور پانی کو تُودہ کی طرح کھڑا کر دِیا۔
14 اُس نے دِن کو بادل سے اُن کی راہبری کی
اور رات بھر آگ کی رَوشنی سے۔
15 اُس نے بیابان میں چٹانوں کو چِیرا
اور اُن کو گویا بحر سے خُوب پِلایا۔
16 اُس نے چٹان میں سے ندِیاں جاری کِیں
اور دریاؤں کی طرح پانی بہایا۔
17 تَو بھی وہ اُس کے خِلاف گُناہ کرتے ہی گئے
اور بیابان میں حق تعالیٰ سے سرکشی کرتے رہے
18 اور اُنہوں نے اپنی خواہش کے مُطابِق کھانا مانگ کر
اپنے دِل میں خُدا کو آزمایا
19 بلکہ وہ خُدا کے خِلاف بکنے لگے
اور کہا کیا خُدا بیابان میں دسترخوان بِچھا سکتا ہے؟
20 دیکھو! اُس نے چٹان کو مارا تو پانی پُھوٹ نِکلا
اور ندِیاں بہنے لگِیں۔
کیا وہ روٹی بھی دے سکتا ہے؟
کیا وہ اپنے لوگوں کے لِئے گوشت مُہیّا کر
دے گا؟
21 پس خُداوند سُن کر غضب ناک ہُؤا
اور یعقُوب کے خِلاف آگ بھڑک اُٹھی
اور اِسرائیل پر قہر ٹُوٹ پڑا۔
22 اِس لِئے کہ وہ خُدا پر اِیمان نہ لائے
اور اُس کی نجات پر بھروسا نہ کِیا۔
23 تَو بھی اُس نے افلاک کو حُکم دِیا
اور آسمان کے دروازے کھولے
24 اور کھانے کے لِئے اُن پر مَنّ برسایا
اور اُن کو آسمانی خُوراک بخشی۔
25 اِنسان نے فرِشتوں کی غِذا کھائی۔
اُس نے کھانا بھیج کر اُن کو آسُودہ کِیا۔
26 اُس نے آسمان میں پُروا چلائی
اور اپنی قُدرت سے دکھنّا بہائی۔
27 اُس نے اُن پر گوشت کو خاک کی مانِند برسایا
اور پرِندوں کو سمُندر کی ریت کی مانِند
28 جِن کو اُس نے اُن کی خَیمہ گاہ میں
اُن کے مسکنوں کے آس پاس گِرایا۔
29 پس وہ کھا کر خُوب سیر ہُوئے۔
اور اُس نے اُن کی خواہش پُوری کی۔
30 وہ اپنی خواہش سے باز نہ آئے
اور اُن کا کھانا اُن کے مُنہ ہی میں تھا
31 کہ خُدا کا غضب اُن پر ٹُوٹ پڑا
اور اُن کے سب سے موٹے تازہ آدمی قتل کِئے
اور اِسرائیلی جوانوں کو مار گِرایا۔
32 باوجُود اِن سب باتوں کے وہ گُناہ کرتے ہی رہے
اور اُس کے عجِیب و غرِیب کاموں پر اِیمان
نہ لائے۔
33 اِس لِئے اُس نے اُن کے دِنوں کو بطالت سے
اور اُن کے برسوں کو دہشت سے تمام کر دِیا۔
34 جب وہ اُن کو قتل کرنے لگا تو وہ اُس کے
طالِب ہُوئے
اور رجُوع ہو کر دِل و جان سے خُدا کو
ڈُھونڈنے لگے
35 اور اُن کو یاد آیا کہ خُدا اُن کی چٹان
اور حق تعالیٰ اُن کا فِدیہ دینے والا ہے۔
36 لیکن اُنہوں نے اپنے مُنہ سے اُس کی خُوشامد کی
اور اپنی زُبان سے اُس سے جُھوٹ بولا
37 کیونکہ اُن کا دِل اُس کے حضُور درُست نہ تھا
اور وہ اُس کے عہد میں وفادار نہ نِکلے۔
38 لیکن وہ رحِیم ہو کر بدکاری مُعاف کرتا ہے اور
ہلاک نہیں کرتا
بلکہ بارہا اپنے قہر کو روک لیتا ہے
اور اپنے پُورے غضب کو بھڑکنے نہیں دیتا
39 اور اُسے یاد رہتا ہے کہ یہ محض بشر ہیں
یعنی ہوا جو چلی جاتی ہے اور پِھر نہیں آتی۔
40 کِتنی بار اُنہوں نے بیابان میں اُس سے سرکشی کی
اور صحرا میں اُسے آزُردہ کِیا!
41 اور وہ پِھر خُدا کو آزمانے لگے
اور اُنہوں نے اِسرائیل کے قدُوُّس کو ناراض کِیا۔
42 اُنہوں نے اُس کے ہاتھ کو یاد نہ رکھّا۔
نہ اُس دِن کو جب اُس نے فِدیہ دے کر اُن کو
مُخالِف سے رہائی بخشی۔
43 اُس نے مِصرؔ میں اپنے نِشان دِکھائے
اور ضُعن کے عِلاقہ میں اپنے عجائِب
44 اور اُن کے دریاؤں کو خُون بنا دِیا
اور وہ اپنی ندیوں سے پی نہ سکے۔
45 اُس نے اُن پر مچھّروں کے غول بھیجے جو اُن کو
کھا گئے۔
اور مینڈک جِنہوں نے اُن کو تباہ کر دِیا۔
46 اُس نے اُن کی پَیداوار کِیڑوں کو
اور اُن کی مِحنت کا پَھل ٹِڈّیوں کو دے دِیا۔
47 اُس نے اُن کی تاکوں کو اَولوں سے
اور اُن کے گُولر کے درختوں کو پالے سے مارا۔
48 اُس نے اُن کے چَوپایوں کو اَولوں کے حوالہ کِیا
اور اُن کی بھیڑ بکرِیوں کو بِجلی کے۔
49 اُس نے عذاب کے فرِشتوں کی فَوج بھیج کر
اپنے قہر کی شِدّت
غَیظ و غضب اور بلا کو اُن پر نازِل کِیا۔
50 اُس نے اپنے قہر کے لِئے راستہ بنایا
اور اُن کی جان مَوت سے نہ بچائی
بلکہ اُن کی زِندگی وبا کے حوالہ کی۔
51 اُس نے مِصرؔ کے سب پہلوٹھوں کو
یعنی حام کے مسکنوں میں اُن کی قُوّت کے پہلے
پَھل کو مارا۔
52 لیکن وہ اپنے لوگوں کو بھیڑوں کی مانِند لے چلا
اور بیابان میں گلّہ کی مانِند اُن کی رہنُمائی کی۔
53 اور وہ اُن کو سلامت لے گیا اور وہ نہ ڈرے۔
لیکن اُن کے دُشمنوں کو سمُندر نے چِھپا لِیا۔
54 اور وہ اُن کو اپنے مَقدِس کی سرحد تک لایا۔
یعنی اُس پہاڑ تک جِسے اُس کے دہنے ہاتھ نے
حاصِل کِیا تھا۔
55 اُس نے اَور قَوموں کو اُن کے سامنے سے نِکال دِیا
جِن کی مِیراث جرِیب ڈال کر اُن کو بانٹ دی
اور جِن کے خَیموں میں اِسرائیل کے قبِیلوں
کو بسایا۔
56 تَو بھی اُنہوں نے خُدا تعالیٰ کو آزمایا اور اُس سے
سرکشی کی
اور اُس کی شہادتوں کو نہ مانا
57 بلکہ برگشتہ ہو کر اپنے باپ دادا کی طرح بے وفائی کی
اور دھوکا دینے والی کمان کی طرح ایک طرف کو
جُھک گئے۔
58 کیونکہ اُنہوں نے اپنے اُونچے مقاموں کے باعِث
اُس کا قہر بھڑکایا
اور اپنی کھودی ہُوئی مُورتوں سے اُسے غَیرت
دِلائی۔
59 خُدا یہ سُن کر غضب ناک ہُؤا
اور اِسرائیل سے سخت نفرت کی۔
60 سو اُس نے سَیلا کے مسکن کو ترک کر دِیا
یعنی اُس خَیمہ کو جو بنی آدمؔ کے درمیان کھڑا
کِیا تھا
61 اور اُس نے اپنی قُوّت کو اسِیری میں
اور اپنی حشمت کو مُخالِف کے ہاتھ میں دے دِیا۔
62 اُس نے اپنے لوگوں کو تلوار کے حوالہ کر دِیا
اور وہ اپنی مِیراث سے غضب ناک ہو گیا۔
63 آگ اُن کے جوانوں کو کھا گئی
اور اُن کی کُنواریوں کے سُہاگ نہ گائے گئے۔
64 اُن کے کاہِن تلوار سے مارے گئے
اور اُن کی بیواؤں نے نَوحہ نہ کِیا۔
65 تب خُداوند گویا نِیند سے جاگ اُٹھا۔
اُس زبردست آدمی کی طرح جو مَے کے سبب
سے للکارتا ہو
66 اور اُس نے اپنے مُخالِفوں کو مار کر پسپا کر دِیا۔
اُس نے اُن کو ہمیشہ کے لِئے رُسوا کِیا۔
67 اور اُس نے یُوسفؔ کے خَیمہ کو چھوڑ دِیا
اور اِفرائِیم کے قبِیلہ کو نہ چُنا۔
68 بلکہ یہُوداؔہ کے قبِیلہ کو چُنا۔
اُسی کوہِ صِیُّون کو جِس سے اُس کو مُحبّت تھی
69 اور اپنے مَقدِس کو پہاڑوں کی مانِند تعمِیر کِیا
اور زمِین کی مانِند جِسے اُس نے ہمیشہ کے لِئے
قائِم کِیا ہے
70 اُس نے اپنے بندہ داؤُد کو بھی چُنا
اور بھیڑسالوں میں سے اُسے لے لِیا۔
71 وہ اُسے بچّے والی بھیڑوں کی چَوپانی سے ہٹا لایا
تاکہ اُس کی قَوم یعقُوب اور اُس کی مِیراث
اِسرائیل کی گلّہ بانی کرے۔
72 سو اُس نے خلُوصِ دِل سے اُن کی پاسبانی کی
اور اپنے ماہِر ہاتھوں سے اُن کی راہنُمائی کرتا رہا۔
قَومی رہائی کے لِئے مُناجات
آسف کا مزمُور۔
1 اَے خُدا! قَومیں تیری مِیراث میں گُھس آئی ہیں۔
اُنہوں نے تیری مُقدّس ہَیکل کو ناپاک
کِیا ہے۔
اُنہوں نے یروشلِیم کو کھنڈر بنا دِیا ہے۔
2 اُنہوں نے تیرے بندوں کی لاشوں کو آسمان کے
پرِندوں کی
اور تیرے مُقدّسوں کے گوشت کو زمِین کے
درِندوں کی خُوراک بنا دِیا ہے۔
3 اُنہوں نے اُن کا خُون یروشلِیم کے گِرد پانی کی
طرح بہایا
اور کوئی اُن کو دفن کرنے والا نہ تھا۔
4 ہم اپنے پڑوسِیوں کی ملامت کا نِشانہ ہیں۔
اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے تمسخُر اور مذاق
کا باعِث۔
5 اَے خُداوند! کب تک؟ کیا تُو ہمیشہ کے لِئے ناراض
رہے گا؟
کیا تیری غَیرت آگ کی طرح بھڑکتی رہے گی؟
6 اپنا قہر اُن قَوموں پر جو تُجھے نہیں پہچانتیں
اور اُن مُملکتوں پر جو تیرا نام نہیں لیتِیں
اُنڈیل دے۔
7 کیونکہ اُنہوں نے یعقُوب کو کھا لِیا
اور اُس کے مسکن کو اُجاڑ دِیا ہے۔
8 ہمارے باپ دادا کے گُناہوں کو ہمارے خِلاف
یاد نہ کر۔
تیری رحمت جلد ہم تک پُہنچے
کیونکہ ہم بُہت پست ہو گئے ہیں۔
9 اَے ہمارے نجات دینے والے خُدا! اپنے نام
کے جلال کی خاطِر ہماری مدد کر۔
اپنے نام کی خاطِر ہم کو چُھڑا اور ہمارے گُناہوں کا
کفّارہ دے۔
10 قَومیں کیوں کہیں کہ اُن کا خُدا کہاں ہے؟
تیرے بندوں کے بہائے ہُوئے خُون کا بدلہ
ہماری آنکھوں کے سامنے قَوموں پر واضِح
ہو جائے۔
11 قَیدی کی آہ تیرے حضُور تک پُہنچے۔
اپنی بڑی قُدرت سے مَرنے والوں کو بچا لے۔
12 اَے خُداوند! ہمارے پڑوسِیوں کی طعنہ زنی جو وہ
تُجھ پر کرتے رہے ہیں
اُلٹی سات گُنا اُن ہی کے دامن میں ڈال دے۔
13 تب ہم جو تیرے لوگ اور تیری چراگاہ کی
بھیڑیں ہیں
ہمیشہ تیری شُکرگُذاری کریں گے۔
ہم پُشت در پُشت تیری سِتایش کریں گے۔
قَوم کی بحالی کے لِئے اِلتجا
مِیر مُغنّی کے لِئے شوشنِّیم عیدوت کے سُر پر آسف
کا مزمُور۔
1 اَے اِسرائیل کے چَوپان!
تُو جو گلّہ کی مانِند یُوسفؔ کو لے چلتا ہے کان لگا!
تُو جو کرُّوبیوں پر بَیٹھا ہے جلوہ گر ہو!
2 اِفرائِیمؔ و بِنیمِینؔ اور منَسّیؔ کے سامنے اپنی قُوّت کو
بیدار کر
اور ہمیں بچانے کو آ۔
3 اَے خُدا! ہم کو بحال کر
اور اپنا چہرہ چمکا تو ہم بچ جائیں گے۔
4 اَے خُداوند لشکروں کے خُدا!
تُو کب تک اپنے لوگوں کی دُعا سے ناراض رہے گا؟
5 تُو نے اُن کو آنسُوؤں کی روٹی کِھلائی
اور پِینے کو کثرت سے آنسُو ہی دِئے۔
6 تُو ہم کو ہمارے پڑوسِیوں کے لِئے جھگڑے کا
باعِث بناتا ہے
اور ہمارے دُشمن آپس میں ہنستے ہیں۔
7 اَے لشکروں کے خُدا! ہم کو بحال کر
اور اپنا چہرہ چمکا تو ہم بچ جائیں گے۔
8 تُو مصر سے ایک تاک لایا۔
تُو نے قَوموں کو خارِج کر کے اُسے لگایا۔
9 تُو نے اُس کے لِئے جگہ تیّار کی۔
اُس نے گہری جڑ پکڑی اور زمِین کو بھر دِیا۔
10 پہاڑ اُس کے سایہ میں چِھپ گئے
اور اُس کی ڈالِیاں خُدا کے دیوداروں کی
مانِند تِھیں۔
11 اُس نے اپنی شاخیں سمُندر تک پَھیلائیں
اور اپنی ٹہنیاں دریایِ فرات تک۔
12 پِھر تُو نے اُس کی باڑوں کو کیوں توڑ ڈالا
کہ سب آنے جانے والے اُس کا پَھل
توڑتے ہیں؟
13 جنگلی سُورئ اُسے برباد کرتا ہے
اور جنگلی جانور اُسے کھا جاتے ہیں۔
14 اَے لشکروں کے خُدا! ہم تیری مِنّت کرتے ہیں۔
پِھر مُتوجّہ ہو۔
آسمان پر سے نِگاہ کر اور دیکھ اور اِس تاک کی
نِگہبانی فرما۔
15 اور اُس پَودا کی بھی جِسے تیرے دہنے ہاتھ نے
لگایا ہے
اور اُس شاخ کی جِسے تُو نے اپنے لِئے مضبُوط
کِیا ہے۔
16 یہ آگ سے جلی ہُوئی ہے۔ یہ کٹی پڑی ہے۔
وہ تیرے مُنہ کی جِھڑکی سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔
17 تیرا ہاتھ تیری دہنی طرف کے اِنسان پر ہو۔
اُس اِبنِ آدمؔ پر جِسے تُو نے اپنے لِئے مضبُوط
کِیا ہے۔
18 پِھر ہم تُجھ سے برگشتہ نہ ہوں گے۔
تُو ہم کو پِھر زِندہ کر اور ہم تیرا نام لِیا کریں گے۔
19 اَے خُداوند لشکروں کے خُدا! ہم کو بحال کر۔
اپنا چہرہ چمکا تو ہم بچ جائیں گے۔
عِید کے لِئے گِیت
مِیر مُغنّی کے لِئے گِتّیت کے سُر پر آسف کا مزمُور۔
1 خُدا کے حضُور جو ہماری قُوّت ہے بُلند آواز
سے گاؤ۔
یعقُوب کے خُدا کے حضُور خُوشی کا نعرہ مارو۔
2 نغمہ چھیڑو اور دَف لاؤ
اور دِل نواز سِتار اور بربط۔
3 نئے چاند اور پُورے چاند کے وقت
ہماری عِید کے دِن نرسِنگا پُھونکو
4 کیونکہ یہ اِسرائیل کے لِئے آئِین
اور یعقُوب کے خُدا کا حُکم ہے۔
5 اِس کو اُس نے یُوسفؔ میں شہادت ٹھہرایا۔
جب وہ مُلکِ مِصرؔ کے خِلاف نِکلا
مَیں نے اُس کا کلام سُنا جِس کو مَیں جانتا نہ تھا۔
6 مَیں نے اُس کے کندھے پر سے بوجھ اُتار دِیا۔
اُس کے ہاتھ ٹوکری ڈھونے سے چُھوٹ گئے۔
7 تُو نے مُصِیبت میں پُکارا اور مَیں نے تُجھے چُھڑایا۔
مَیں نے رَعد کے پردہ میں سے تُجھے جواب دِیا۔
مَیں نے تُجھے مرِیبہ کے چشمہ پر آزمایا۔ (سِلاہ)
8 اَے میرے لوگو! سُنو۔ مَیں تُم کو آگاہ کرتا ہُوں۔
اَے اِسرائیل! کاش کہ تُو میری سُنتا!
9 تیرے درمیان کوئی غَیر معبُود نہ ہو
اور تُو کِسی غَیر معبُود کو سِجدہ نہ کرنا۔
10 خُداوند تیرا خُدا مَیں ہُوں
جو تُجھے مُلکِ مِصرؔ سے نِکال لایا۔
تُو اپنا مُنہ خُوب کھول اور مَیں اُسے بھر دُوں گا۔
11 پر میرے لوگوں نے میری بات نہ سُنی
اور اِسرائیل مُجھ سے رضامند نہ ہُؤا
12 پس مَیں نے اُن کو اُن کے دِل کی ہٹ پر چھوڑ دِیا
تاکہ وہ اپنے ہی مشوَروں پر چلیں۔
13 کاش کہ میرے لوگ میری سُنتے
اور اِسرائیل میری راہوں پر چلتا!
14 مَیں جلد اُن کے دُشمنوں کو مغلُوب کر دیتا
اور اُن کے مُخالِفوں پر اپنا ہاتھ چلاتا۔
15 خُداوند سے عداوت رکھنے والے اُس کے تابِع
ہو جاتے
اور اِن کا زمانہ ہمیشہ تک بنا رہتا۔
16 وہ اِن کو اچھّے سے اچھّا گیہُوں کھِلاتا
اور مَیں تُجھے چٹان میں کے شہد سے سیر کرتا۔
خُدا سب سے اعلےٰ فرمانروا ہے
آسف کا مزمُور۔
1 خُدا کی جماعت میں خُدا مَوجُود ہے۔
وہ اِلہٰوں کے درمیان عدالت کرتا ہے۔
2 تُم کب تک بے اِنصافی سے عدالت کرو گے
اور شرِیروں کی طرف داری کرو گے؟ (سِلاہ)
3 غرِیب اور یتِیم کا اِنصاف کرو۔
غم زدہ اور مُفلِس کے ساتھ اِنصاف سے پیش آؤ۔
4 غرِیب اور مُحتاج کو بچاؤ۔
شرِیروں کے ہاتھ سے اُن کو چُھڑاؤ۔
5 وہ نہ تو کُچھ جانتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔
وہ اندھیرے میں اِدھر اُدھر چلتے ہیں۔
زمِین کی سب بُنیادیں ہل گئی ہیں۔
6 مَیں نے کہا تھا کہ تُم اِلہٰ ہو
اور تُم سب حق تعالیٰ کے فرزند ہو۔
7 تَو بھی تُم آدمِیوں کی طرح مَرو گے
اور اُمرا میں سے کِسی کی طرح گِر جاؤ گے۔
8 اَے خُدا! اُٹھ۔ زمِین کی عدالت کر۔
کیونکہ تُو ہی سب قَوموں کا مالِک ہو گا۔
اِسرائیلؔ کے دُشمنوں کی شِکست کے لِئے اِلتجا
گِیت۔ آسف کا مزمُور۔
1 اَے خُدا! خاموش نہ رہ۔
اَے خُدا چُپ چاپ نہ ہو اور خاموشی اِختیار نہ کر!
2 کیونکہ دیکھ تیرے دُشمن اُودھم مچاتے ہیں
اور تُجھ سے عداوت رکھنے والوں نے سر
اُٹھایا ہے۔
3 کیونکہ وہ تیرے لوگوں کے خِلاف مکّاری سے
منصُوبہ باندھتے ہیں
اور اُن کے خِلاف جو تیری پناہ میں ہیں مشوَرہ
کرتے ہیں۔
4 اُنہوں نے کہا آؤ ہم اِن کو کاٹ ڈالیں کہ اِن کی
قَوم ہی نہ رہے
اور اِسرائیل کے نام کا پِھر ذِکر نہ ہو۔
5 کیونکہ اُنہوں نے ایکا کر کے آپس میں مشوَرہ کِیا ہے۔
وہ تیرے خِلاف عہد باندھتے ہیں۔
6 یعنی ادوؔم کے اہلِ خَیمہ اور اسمٰعیلی
موآب اور ہاجری۔
7 جبل اور عمُّون اور عمالِیق۔
فلِستِین اور صُور کے باشِندے۔
8 اسُور بھی اِن سے مِلا ہُؤا ہے۔
اُنہوں نے بنی لُوط کی کُمک کی ہے۔ (سِلاہ)
9 تُو اُن سے اَیسا کر جَیسا مِدیان سے
اور جَیسا وادیِ قِیسُوؔن میں سِیسرا اور یابِین سے
کِیا تھا۔
10 جو عَین دور میں ہلاک ہُوئے۔
وہ گویا زمِین کی کھاد ہو گئے۔
11 اُن کے سرداروں کو عوریب اور زئیب کی مانِند
بلکہ اُن کے شاہزادوں کو زِبح اور ضِلمُنع کی مانِند
بنا دے
12 جِنہوں نے کہا ہے آؤ
ہم خُدا کی بستِیوں پر قبضہ کر لیں۔
13 اَے میرے خُدا! اُن کو بگُولے کی گرد کی مانِند بنا دے
اور جَیسے ہوا کے آگے ڈنٹھل۔
14 اُس آگ کی طرح جو جنِگل کو جلا دیتی ہے۔
اُس شُعلہ کی طرح جو پہاڑوں میں آگ لگا
دیتا ہے۔
15 تُو اِسی طرح اپنی آندھی سے اُن کا پِیچھا کر
اور اپنے طُوفان سے اُن کو پریشان کر دے۔
16 اَے خُداوند! اُن کے چِہروں پر رُسوائی طاری کر
تاکہ وہ تیرے نام کے طالِب ہوں۔
17 وہ ہمیشہ شرمِندہ اور پریشان رہیں۔
بلکہ وہ رُسوا ہو کر ہلاک ہو جائیں۔
18 تاکہ وہ جان لیں کہ تُو ہی جِس کا نام یہوواؔہ ہے
تمام زمِین پر بُلند و بالا ہے۔
خُدا کے مَسکن کے لِئے اِشتیاق
مِیر مُغنّی کے لِئے گِتّیت کے سُر پر بنی قورح کا مزمُور۔
1 اَے لشکروں کے خُداوند!
تیرے مسکن کیا ہی دِلکش ہیں!
2 میری جان خُداوند کی بارگاہوں کی مُشتاق ہے بلکہ
گُداز ہو چلی۔
میرا دِل اور میرا جِسم زِندہ خُدا کے لِئے خُوشی سے
للکارتے ہیں۔
3 اَے لشکروں کے خُداوند! اَے میرے بادشاہ اور
میرے خُدا!
تیرے مذبحوں کے پاس گورَیّا نے اپنا آشیانہ
اور ابابِیل نے اپنے لِئے گھونسلا بنا لِیا
جہاں وہ اپنے بچّوں کو رکھّے۔
4 مُبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں رہتے ہیں۔
وہ سدا تیری تعرِیف کریں گے۔ (سِلاہ)
5 مُبارک ہے وہ آدمی جِس کی قُوّت تُجھ سے ہے۔
جِس کے دِل میں صِیُّوؔن کی شاہراہیں ہیں۔
6 وہ وادیِ بُکا سے گُذر کر اُسے چشموں کی جگہ بنا
لیتے ہیں۔
بلکہ پہلی بارِش اُسے برکتوں سے معمُور کر
دیتی ہے۔
7 وہ طاقت پر طاقت پاتے ہیں۔
اُن میں سے ہر ایک صِیُّون میں خُدا کے حضُور
حاضِر ہوتا ہے۔
8 اَے خُداوند لشکروں کے خُدا! میری دُعا سُن۔
اَے یعقُوب کے خُدا! کان لگا۔ (سِلاہ)
9 اَے خُدا! اَے ہماری سِپر! دیکھ
اور اپنے ممسُوح کے چِہرہ پر نظر کر۔
10 کیونکہ تیری بارگاہوں میں ایک دِن ہزار سے
بِہتر ہے۔
مَیں اپنے خُدا کے گھر کا دربان ہونا
شرارت کے خَیموں میں بسنے سے زِیادہ پسند
کرُوں گا۔
11 کیونکہ خُداوند خُدا آفتاب اور سِپر ہے۔
خُداوند فضل اور جلال بخشے گا۔
وہ راست رَو سے کوئی نِعمت باز نہ رکھّے گا۔
12 اَے لشکروں کے خُداوند!
مُبارک ہے وہ آدمی جِس کا توکُّل تُجھ پر ہے۔
قَوم کی فلاح وبہبُود کے لِئے دُعا
مِیر مُغنّی کے لِئے بنی قورح کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! تُو اپنے مُلک پر مہربان رہا ہے۔
تُو یعقُوب کو اسِیری سے واپس لایا ہے۔
2 تُو نے اپنے لوگوں کی بدکاری مُعاف کر دی ہے۔
تُو نے اُن کے سب گُناہ ڈھانک دِئے
ہیں۔ (سِلاہ)
3 تُو نے اپنا غضب بِالکل اُٹھا لِیا۔
تُو اپنے قہر شدِید سے باز آیا ہے۔
4 اَے ہمارے نجات دینے والے خُدا! ہم کو بحال کر۔
اپنا غضب ہم سے دُور کر۔
5 کیا تُو سدا ہم سے ناراض رہے گا؟
کیا تُو اپنے قہر کو پُشت در پُشت جاری رکھّے گا؟
6 کیا تُو ہم کو پِھر زِندہ نہ کرے گا
تاکہ تیرے لوگ تُجھ میں شادمان ہوں؟
7 اَے خُداوند! تُو اپنی شفقت ہم کو دِکھا
اور اپنی نجات ہم کو بخش۔
8 مَیں سنُوں گا کہ خُداوند خُدا کیا فرماتا ہے
کیونکہ وہ اپنے لوگوں اور اپنے مُقدّسوں سے
سلامتی کی باتیں کرے گا۔
پر وہ پِھر حماقت کی طرف رجُوع نہ کریں۔
9 یقِیناً اُس کی نجات اُس سے ڈرنے والوں کے
قرِیب ہے
تاکہ جلال ہمارے مُلک میں بسے۔
10 شفقت اور راستی باہم مِل گئی ہیں۔
صداقت اور سلامتی نے ایک دُوسرے کا بوسہ
لِیا ہے۔
11 راستی زمِین سے نِکلتی ہے
اور صداقت آسمان پر سے جھانکتی ہے
12 جو کُچھ اچھّا ہے وُہی خُداوند عطا فرمائے گا
اور ہماری زمِین اپنی پَیداوار دے گی۔
13 صداقت اُس کے آگے آگے چلے گی
اور اُس کے نقشِ قدم کو ہماری راہ بنائے گی۔
مدد کے لِئے پُکار
داؤُد کی دُعا۔
1 اَے خُداوند! اپنا کان جُھکا اور مُجھے جواب دے۔
کیونکہ مَیں مِسکِین اور مُحتاج ہُوں۔
2 میری جان کی حِفاظت کر کیونکہ مَیں دِین دار ہُوں۔
اَے میرے خُدا! اپنے بندہ کو جِس کا توکُّل تُجھ
پر ہے بچا لے۔
3 یا رب! مُجھ پر رحم کر
کیونکہ مَیں دِن بھر تُجھ سے فریاد کرتا ہُوں۔
4 یا رب! اپنے بندہ کی جان کو شاد کر دے
کیونکہ مَیں اپنی جان تیری طرف اُٹھاتا ہُوں۔
5 اِس لِئے کہ تُو یا رب! نیک اور مُعاف کرنے کو
تیّار ہے
اور اپنے سب دُعا کرنے والوں پر شفقت میں
غنی ہے۔
6 اَے خُداوند! میری دُعا پر کان لگا۔
اور میری مِنّت کی آواز پر توجُّہ فرما۔
7 مَیں اپنی مُصِیبت کے دِن تُجھ سے دُعا کرُوں گا۔
کیونکہ تُو مُجھے جواب دے گا۔
8 یا رب! معبُودوں میں تُجھ سا کوئی نہیں
اور تیری صنعتیں بے مِثال ہیں۔
9 یا رب! سب قَومیں جِن کو تُو نے بنایا آ کر تیرے
حضُور سِجدہ کریں گی
اور تیرے نام کی تمجِید کریں گی۔
10 کیونکہ تُو بزُرگ ہے اور عجِیب و غرِیب کام کرتا ہے۔
تُو ہی واحِد خُدا ہے۔
11 اَے خُداوند! مُجھ کو اپنی راہ کی تعلِیم دے۔ مَیں
تیری راستی میں چلُوں گا۔
میرے دِل کو یکسُوئی بخش تاکہ تیرے نام کا
خَوف مانُوں۔
12 یا رب! میرے خُدا! مَیں پُورے دِل سے تیری
تعرِیف کرُوں گا۔
مَیں ابد تک تیرے نام کی تمجِید کرُوں گا۔
13 کیونکہ مُجھ پر تیری بڑی شفقت ہے
اور تُو نے میری جان کو پاتال کی تہہ سے
نِکالا ہے۔
14 اَے خُدا! مغرُور میرے خِلاف اُٹھے ہیں
اور تُند خُو جماعت میری جان کے پِیچھے پڑی ہے
اور اُنہوں نے تُجھے اپنے سامنے نہیں رکھّا۔
15 لیکن تُو یا رب! رحِیم و کرِیم خُدا ہے۔
قہر کرنے میں دِھیما اور شفقت و راستی میں غنی۔
16 میری طرف متوجُّہ ہو اور مُجھ پر رحم کر۔
اپنے بندہ کو اپنی قُوّت بخش
اور اپنی لَونڈی کے بیٹے کو بچا لے۔
17 مُجھے بھلائی کا کوئی نِشان دِکھا۔
تاکہ مُجھ سے عداوت رکھنے والے اِسے دیکھ کر
شرمِندہ ہوں۔
کیونکہ تُو نے اَے خُداوند! میری مدد کی اور مُجھے
تسلّی دی ہے۔
یروشلیِم کی تعرِیف میں
بنی قورح کا مزمُور یعنی گِیت۔
1 اُس کی بُنیاد مُقدّس پہاڑوں میں ہے۔
2 خُداوند صِیُّون کے پھاٹکوں کو
یعقُوب کے سب مسکنوں سے زِیادہ عزِیز
رکھتا ہے۔
3 اَے خُدا کے شہر!
تیری بڑی بڑی خُوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔
(سِلاہ)
4 مَیں رہب اور بابل کا یُوں ذِکر کرُوں گا کہ وہ میرے
جاننے والوں میں ہیں۔
فلِستِین اور صُور اور کُوش کو دیکھو۔
یہ وہاں پَیدا ہُؤا تھا۔
5 بلکہ صِیُّون کے بارے میں کہا جائے گا کہ فُلاں فُلاں
آدمی اُس میں پَیدا ہُوئے
اور حق تعالیٰ خُود اُس کو قِیام بخشے گا۔
6 خُداوند قَوموں کے شُمار کے وقت درج کرے گا۔
کہ یہ شخص وہاں پَیدا ہُؤا تھا۔ (سِلاہ)
7 گانے والے اور ناچنے والے یِہی کہیں گے
کہ میرے سب چشمے تُجھ ہی میں ہیں۔
مدد کے لِئے پُکار
گِیت بنی قورح کا مزمُور۔ مِیر مُغنّی کے لِئے مَحلَت
لعِنّوت کے سُر پر ہیمان اِزراخی کا مشکِیل۔
1 اَے خُداوند میرے نجات دینے والے خُدا!
مَیں نے رات دِن تیرے حضُور فریاد کی ہے۔
2 میری دُعا تیرے حضُور پُہنچے۔
میری فریاد پر کان لگا۔
3 کیونکہ میرا دِل دُکھوں سے بھرا ہے
اور میری جان پاتال کے نزدِیک پُہنچ گئی ہے۔
4 مَیں گور میں اُترنے والوں کے ساتھ گِنا جاتا ہُوں۔
مَیں اُس شخص کی مانِند ہُوں جو بِالکُل بیکس ہو۔
5 گویا مقتُولوں کی مانِند جو قبر میں پڑے ہیں
مُردوں کے درمیان ڈال دِیا گیا ہُوں
جِن کو تُو پِھر کبھی یاد نہیں کرتا
اور وہ تیرے ہاتھ سے کاٹ ڈالے گئے۔
6 تُو نے مُجھے گہراؤ میں۔ اندھیری جگہ میں۔
پاتال کی تہہ میں رکھّا ہے۔
7 مُجھ پر تیرا قہر بھاری ہے۔
تُو نے اپنی سب مَوجوں سے مُجھے دُکھ دِیا
ہے۔ (سِلاہ)
8 تُو نے میرے جان پہچانوں کو مُجھ سے دُور کر دِیا۔
تُو نے مُجھے اُن کے نزدِیک گِھنونا بنا دِیا۔
مَیں بند ہُوں اور نِکل نہیں سکتا۔
9 میری آنکھ دُکھ سے دُھندلا چلی۔
اَے خُداوند! مَیں نے ہر روز تُجھ سے دُعا
کی ہے۔
مَیں نے اپنے ہاتھ تیری طرف پَھیلائے ہیں۔
10 کیا تُو مُردوں کو عجائِب دِکھائے گا؟
کیا وہ جو مَر گئے ہیں اُٹھ کر تیری تعرِیف کریں
گے؟ (سِلاہ)
11 کیا تیری شفقت کا چرچا گور میں ہو گا
یا تیری وفاداری کا جہنم میں؟
12 کیا تیرے عجائِب کو اندھیرے میں پہچانیں گے
اور تیری صداقت کو فراموشی کی سرزمِین میں؟
13 پر اَے خُداوند! مَیں نے تو تیری دُہائی دی ہے
اور صُبح کو میری دُعا تیرے حضُور پُہنچے گی۔
14 اَے خُداوند! تُو کیوں میری جان کو ترک
کرتا ہے؟
تُو اپنا چہرہ مُجھ سے کیوں چِھپاتا ہے؟
15 مَیں لڑکپن ہی سے مُصِیبت زدہ اور قرِیبُ المَوت
ہُوں۔
مَیں تیرے ڈر کے مارے حواس باختہ ہو گیا۔
16 تیرا قہرِ شدِید مُجھ پر آ پڑا۔
تیری دہشت نے میرا کام تمام کر دِیا۔
17 اُس نے دِن بھر سَیلاب کی طرح میرا اِحاطہ کِیا۔
اُس نے مُجھے بِالکُل گھیر لِیا۔
18 تُو نے دوست و احباب کو مُجھ سے دُور کِیا
اور میرے جان پہچانوں کو اندھیرے میں ڈال دِیا ہے۔
قَومی مُصِیبت کے مَوقع کے لِئے گِیت
ایتان اِزراخی کا مشکِیل۔
1 مَیں ہمیشہ خُداوند کی شفقت کے گِیت گاؤُں گا۔
مَیں پُشت در پُشت اپنے مُنہ سے تیری وفاداری
کا اِعلان کرُوں گا۔
2 کیونکہ مَیں نے کہا کہ شفقت ابد تک بنی رہے گی۔
تُو اپنی وفاداری کو آسمان میں قائِم رکھّے گا۔
3 مَیں نے اپنے برگُزِیدہ کے ساتھ عہد باندھا ہے۔
مَیں نے اپنے بندہ داؤُد سے قَسم کھائی ہے۔
4 مَیں تیری نسل کو ہمیشہ کے لِئے قائِم کرُوں گا
اور تیرے تخت کو پُشت در پُشت بنائے رکھُّوں
گا۔ (سِلاہ)
5 اَے خُداوند! آسمان تیرے عجائِب کی تعرِیف
کرے گا۔
مُقدّسوں کے مجمع میں تیری وفاداری کی
تعرِیف ہو گی
6 کیونکہ افلاک پر خُداوند کا نظِیر کَون ہے؟
فرِشتگان میں کَون خُداوند کی مانِند ہے؟
7 اَیسا معبُود جو مُقدّسوں کی محفِل میں نہایت تعظِیم کے
لائِق ہے
اور اپنے سب اِردگِرد والوں سے زیادہ
مُہِیب ہے۔
8 اَے خُداوند لشکروں کے خُدا!
اَے یاہ! تُجھ سا زبردست کَون ہے؟
تیری وفاداری تیرے چَوگِرد ہے۔
9 سمُندر کے جوش و خروش پر تُو حُکمرانی کرتا ہے۔
تُو اُس کی اُٹھتی لہروں کو تھما دیتا ہے۔
10 تُو نے رہب کو مقتُول کی مانِند ٹُکڑے ٹُکڑے کِیا۔
تُو نے اپنے قوّی بازُو سے اپنے دُشمنوں کو
پراگندہ کر دِیا۔
11 آسمان تیرا ہے۔ زمِین بھی تیری ہے۔
جہان اور اُس کی معمُوری کو تُو ہی نے قائِم
کِیا ہے۔
12 شِمال اور جنُوب کا پَیدا کرنے والا تُو ہی ہے۔
تبُور اور حرمُوؔن تیرے نام سے خُوشی مناتے ہیں۔
13 تیرا بازُو قُدرت والا ہے۔
تیرا ہاتھ قوّی اور تیرا دہنا ہاتھ بُلند ہے۔
14 صداقت اور عدل تیرے تخت کی بُنیاد ہیں۔
شفقت اور وفاداری تیرے آگے آگے
چلتی ہیں۔
15 مُبارک ہے وہ قَوم جو خُوشی کی للکار کو پہچانتی ہے۔
وہ اَے خُداوند! جو تیرے چہرہ کے نُور میں
چلتے ہیں۔
16 وہ دِن بھر تیرے نام سے خُوشی مناتے ہیں
اور تیری صداقت سے سرفراز ہوتے ہیں۔
17 کیونکہ اُن کی قُوّت کی شان تُو ہی ہے
اور تیرے کرم سے ہمارا سِینگ بُلند ہو گا۔
18 کیونکہ ہماری سِپر خُداوند کی طرف سے ہے
اور ہمارا بادشاہ اِسرائیل کے قُدُّوس کی
طرف سے۔
داؤُد کے ساتھ خُدا کا وعدہ
19 اُس وقت تُو نے رویا میں اپنے مُقدّسوں سے کلام کِیا
اور فرمایا کہ مَیں نے ایک زبردست کو مددگار بنایا ہے
اور قَوم میں سے ایک کو چُن کر سرفراز کِیا ہے۔
20 میرا بندہ داؤُد مُجھے مِل گیا۔
اپنے مُقدّس تیل سے مَیں نے اُسے مَسح کِیا ہے۔
21 میرا ہاتھ اُس کے ساتھ رہے گا۔
میرا بازُو اُسے تقوِیت دے گا۔
22 دُشمن اُس پر جبر نہ کرنے پائے گا
اور شرارت کا فرزند اُسے نہ ستائے گا
23 مَیں اُس کے مُخالِفوں کو اُس کے سامنے مغلُوب
کرُوں گا
اور اُس سے عداوت رکھنے والوں کو مارُوں گا
24 پر میری وفاداری اور شفقت اُس کے ساتھ
رہیں گی
اور میرے نام سے اُس کا سِینگ بُلند ہو گا۔
25 مَیں اُس کا ہاتھ سمُندر تک بڑھاؤُں گا
اور اُس کے دہنے ہاتھ کو دریاؤں تک۔
26 وہ مُجھے پُکار کر کہے گا تُو میرا باپ
میرا خُدا اور میری نجات کی چٹان ہے۔
27 اور مَیں اُس کو اپنا پہلوٹھا بناؤُں گا
اور دُنیا کا شاہنشاہ۔
28 مَیں اپنی شفقت کو اُس کے لِئے ابد تک قائِم
رکھُّوں گا
اور میرا عہد اُس کے ساتھ لاتبدیل رہے گا۔
29 مَیں اُس کی نسل کو ہمیشہ تک قائِم رکھُّوں گا
اور اُس کے تخت کو جب تک آسمان ہے۔
30 اگر اُس کے فرزند میری شرِیعت کو ترک کر دیں
اور میرے احکام پر نہ چلیں۔
31 اگر وہ میرے آئِین کو توڑیں
اور میرے فرمان کو نہ مانیں
32 تو مَیں اُن کو چھڑی سے خطا کی
اور کوڑوں سے بدکاری کی سزا دُوں گا۔
33 لیکن مَیں اپنی شفقت اُس پر سے ہٹا نہ لُوں گا
اور اپنی وفاداری کو باطِل ہونے نہ دُوں گا۔
34 مَیں اپنے عہد کو نہ توڑُوں گا
اور اپنے مُنہ کی بات کو نہ بدلُوں گا۔
35 مَیں ایک بار اپنی قُدُّوسی کی قَسم کھا چُکا ہُوں۔
مَیں داؤُد سے جُھوٹ نہ بولُوں گا۔
36 اُس کی نسل ہمیشہ قائِم رہے گی
اور اُس کا تخت آفتاب کی مانِند میرے حضُور
قائِم رہے گا۔
37 وہ ہمیشہ چاند کی طرح
اور آسمان کے سچّے گواہ کی مانِند قائِم رہے
گا۔ (سِلاہ)
بادشاہ کی شِکست پر نَوحہ
38 لیکن تُو نے تو ترک کر دِیا اور چھوڑ دِیا۔
تُو اپنے ممسُوح سے ناراض ہُؤا ہے۔
39 تُو نے اپنے خادِم کے عہد کو ردّ کر دِیا۔
تُو نے اُس کے تاج کو خاک میں مِلا دِیا۔
40 تُو نے اُس کی سب باڑوں کو توڑ ڈالا۔
تُو نے اُس کے قلعوں کو کھنڈر بنا دِیا۔
41 سب آنے جانے والے اُسے لُوٹتے ہیں۔
وہ اپنے پڑوسِیوں کی ملامت کا نِشانہ بن گیا۔
42 تُو نے اُس کے مُخالِفوں کے دہنے ہاتھ کو
بُلند کِیا۔
تُو نے اُس کے سب دُشمنوں کو خُوش کِیا۔
43 بلکہ تُو اُس کی تلوار کی دھار کو موڑ دیتا ہے
اور لڑائی میں اُس کے پاؤں کو جمنے نہیں دِیا۔
44 تُو نے اُس کی رَونق اُڑا دی
اور اُس کا تخت خاک میں مِلا دِیا۔
45 تُو نے اُس کی جوانی کے دِن گھٹا دِئے۔
تُو نے اُسے شرم آلُود کر دِیا ہے۔ (سِلاہ)
رہائی کے لِئے اِلتجا
46 اَے خُداوند! کب تک؟ کیا تُو ہمیشہ تک پوشِیدہ
رہے گا؟
تیرے قہر کی آگ کب تک بھڑکتی رہے گی؟
47 یاد رکھ میرا قِیام ہی کیا ہے۔
تُو نے کَیسی بطالت کے لِئے کُل بنی آدمؔ
کو پَیدا کِیا!
48 وہ کَون سا آدمی ہے جو جِیتا ہی رہے گا اور مَوت کو نہ
دیکھے گا
اور اپنی جان کو پاتال کے ہاتھ سے بچا لے
گا؟ (سِلاہ)
49 یا رب! تیری وہ پہلی شفقت کیا ہُوئی
جِس کی بابت تُو نے داؤُد سے اپنی وفاداری کی
قَسم کھائی تھی؟
50 یا رب! اپنے بندوں کی رُسوائی کو یاد کر
مَیں تو سب زبردست قَوموں کی طَعنہ زنی اپنے
سِینہ میں لِئے پِھرتا ہُوں
51 اَے خُداوند! تیرے دُشمنوں نے کَیسے طَعنے مارے۔
تیرے ممسُوح کے قدم قدم پر کَیسی طَعنہ زنی
کی ہے۔
52 خُداوند ابدُلآباد مُبارک ہو!
آمِین ثُمَّ آمِین۔
چَوتھی کِتاب
( زبُور ۹۰‏—۱۰۶ )
خُدا اور بنی نَوع اِنسان کے بارے میں
مَردِ خُدا مُوسیٰ کی دُعا۔
1 یا رب! پُشت در پُشت
تُو ہی ہماری پناہ گاہ رہا ہے۔
2 اِس سے پیشتر کہ پہاڑ پَیدا ہُوئے
یا زمِین اور دُنیا کو تُو نے بنایا۔
ازل سے ابد تک تُو ہی خُدا ہے۔
3 تُو اِنسان کو پِھر خاک میں مِلا دیتا ہے
اور فرماتا ہے اَے بنی آدمؔ! لَوٹ آؤ۔
4 کیونکہ تیری نظر میں ہزار برس اَیسے ہیں
جَیسے کل کا دِن جو گُذر گیا
اور جَیسے رات کا ایک پہر۔
5 تُو اُن کو گویا سَیلاب سے بہا لے جاتا ہے۔
وہ نِیند کی ایک جھپکی کی مانِند ہیں۔
وہ صُبح کو اُگنے والی گھاس کی مانِند ہیں۔
6 وہ صُبح کو لہلہاتی اور بڑھتی ہے۔
وہ شام کو کٹتی اور سُوکھ جاتی ہے۔
7 کیونکہ ہم تیرے قہر سے فنا ہو گئے۔
اور تیرے غضب سے پریشان ہُوئے۔
8 تُو نے ہماری بدکرداری کو اپنے سامنے رکھّا
اور ہمارے پوشِیدہ گُناہوں کو اپنے چہرہ کی
رَوشنی میں۔
9 کیونکہ ہمارے تمام دِن تیرے قہر میں گُذرے۔
ہماری عُمر خیال کی طرح جاتی رہتی ہے۔
10 ہماری عُمر کی مِیعاد ستّر برس ہے۔
یا قُوّت ہو تو اَسّی برس۔
تَو بھی اُن کی رَونق محض مشقّت اور غم ہے
کیونکہ وہ جلد جاتی رہتی ہے اور ہم اُڑ جاتے ہیں۔
11 تیرے قہر کی شِدّت کو کَون جانتا ہے
اور تیرے خَوف کے مُطابِق تیرے غضب کو؟
12 ہم کو اپنے دِن گِننا سِکھا۔
اَیسا کہ ہم دانا دِل حاصِل کریں۔
13 اَے خُداوند! باز آ۔ کب تک؟
اور اپنے بندوں پر رحم فرما۔
14 صُبح کو اپنی شفقت سے ہم کو آسُودہ کر
تاکہ ہم عُمر بھر خُوش و خُرّم رہیں۔
15 جِتنے دِن تُو نے ہم کو دُکھ دِیا
اور جِتنے برس ہم مُصِیبت میں رہے اُتنی ہی خُوشی
ہم کو عنایت کر۔
16 تیرا کام تیرے بندوں پر
اور تیرا جلال اُن کی اَولاد پر ظاہِر ہو۔
17 اور رب ہمارے خُدا کا کرم ہم پر سایہ کرے۔
ہمارے ہاتھوں کے کام کو ہمارے لِئے قِیام بخش۔
ہاں ہمارے ہاتھوں کے کام کو قِیام بخش دے۔
خُدا ہماری پناہ
1 جو حق تعالیٰ کے پردہ میں رہتا ہے۔
وہ قادرِ مُطلق کے سایہ میں سکُونت کرے گا۔
2 مَیں خُداوند کے بارے میں کہُوں گا وُہی میری پناہ
اور میرا گڑھ ہے۔
وہ میرا خُدا ہے جِس پر میرا توکُّل ہے۔
3 کیونکہ وہ تُجھے صیّاد کے پھندے سے
اور مُہلِک وبا سے چُھڑائے گا۔
4 وہ تُجھے اپنے پروں سے چِھپا لے گا
اور تُجھے اُس کے بازُوؤں کے نِیچے پناہ مِلے گی۔
اُس کی سچّائی ڈھال اور سِپر ہے۔
5 تُو نہ رات کی ہَیبت سے ڈرے گا۔
نہ دِن کو اُڑنے والے تِیر سے۔
6 نہ اُس وبا سے جو اندھیرے میں چلتی ہے
نہ اُس ہلاکت سے جو دوپہر کو وِیران کرتی ہے۔
7 تیرے آس پاس ایک ہزار گِر جائیں گے
اور تیرے دہنے ہاتھ کی طرف دس ہزار
لیکن وہ تیرے نزدِیک نہ آئے گی۔
8 لیکن تُو اپنی آنکھوں سے نِگاہ کرے گا
اور شرِیروں کے انجام کو دیکھے گا۔
9 پر تُو اَے خُداوند! میری پناہ ہے!
تُو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن بنا لِیا ہے۔
10 تُجھ پر کوئی آفت نہیں آئے گی
اور کوئی وبا تیرے خَیمہ کے نزدِیک نہ پُہنچے گی۔
11 کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرِشتوں کو حُکم دے گا
کہ تیری سب راہوں میں تیری حِفاظت کریں۔
12 وہ تُجھے اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے
تاکہ اَیسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھّر سے
ٹھیس لگے۔
13 تُو شیرِ بَبر اور افعی کو رَوندے گا۔
تُو جوان شیر اور اژدہا کو پامال کرے گا۔
14 چُونکہ اُس نے مُجھ سے دِل لگایا ہے اِس لِئے مَیں
اُسے چُھڑاؤُں گا۔
مَیں اُسے سرفراز کرُوں گا کیونکہ اُس نے میرا
نام پہچانا ہے۔
15 وہ مُجھے پُکارے گا اور مَیں اُسے جواب دُوں گا۔
مَیں مُصِیبت میں اُس کے ساتھ رہُوں گا۔
مَیں اُسے چُھڑاؤُں گا اور عِزّت بخشُوں گا۔
16 مَیں اُسے عُمر کی درازی سے آسُودہ کرُوں گا
اور اپنی نجات اُسے دِکھاؤُں گا۔
حمد و سِتایش کا گِیت
مزمُور۔ سبت کے دِن کے لِئے گِیت۔
1 کیا ہی بھلا ہے خُداوند کا شُکر کرنا
اور تیرے نام کی مدح سرائی کرنا اَے حق تعالیٰ!
2 صُبح کو تیری شفقت کا اِظہار کرنا
اور رات کو تیری وفاداری کا۔
3 دس تار والے ساز اور بربط پر
اور سِتار پر گُونجتی آواز کے ساتھ۔
4 کیونکہ اَے خُداوند! تُو نے مُجھے اپنے کام سے
خُوش کِیا۔
مَیں تیری صنعت کاری کے سبب سے شادیانہ
بجاؤُں گا۔
5 اَے خُداوند! تیری صنعتیں کَیسی بڑی ہیں!
تیرے خیال بُہت عمِیق ہیں۔
6 حَیوان خصلت نہیں جانتا
اور احمق اِس کو نہیں سمجھتا ہے۔
7 جب شرِیر گھاس کی طرح اُگتے ہیں
اور سب بدکردار پُھولتے پَھلتے ہیں
تو یہ اِسی لِئے ہے کہ وہ ہمیشہ کے لِئے فنا ہوں۔
8 لیکن تُو اَے خُداوند! ابدُالآباد بُلند ہے۔
9 کیونکہ دیکھ! اَے خُداوند! تیرے دُشمن۔
دیکھ! تیرے دُشمن ہلاک ہو جائیں گے۔
سب بدکردار پراگندہ کر دِئے جائیں گے۔
10 لیکن تُو نے میرے سِینگ کو جنگلی سانڈ کے سِینگ
کی مانِند بُلند کِیا ہے۔
مُجھ پر تازہ تیل ملا گیا ہے۔
11 میری آنکھ نے میرے دُشمنوں کو دیکھ لِیا۔
میرے کانوں نے میرے مُخالِف بدکاروں کا
حال سُن لِیا ہے۔
12 صادِق کھجُور کے درخت کی مانِند سرسبز ہو گا۔
وہ لُبنان کے دیودار کی طرح بڑھے گا۔
13 جو خُداوند کے گھر میں لگائے گئے ہیں
وہ ہمارے خُدا کی بارگاہوں میں سرسبز
ہوں گے۔
14 وہ بُڑھاپے میں بھی برومند ہوں گے۔
وہ تر و تازہ اور سرسبز رہیں گے
15 تاکہ واضِح کریں کہ خُداوند راست ہے۔
وُہی میری چٹان ہے اور اُس میں ناراستی نہیں۔
خُدا بادشاہ ہے
1 خُداوند سلطنت کرتا ہے۔ وہ شَوکت سے
مُلبّس ہے۔
خُداوند قُدرت سے مُلبّس ہے۔ وہ اُس سے
کمربستہ ہے۔
اِس لِئے جہان قائِم ہے اور اُسے جُنبش نہیں۔
2 تیرا تخت قدِیم سے قائِم ہے۔
تُو ازل سے ہے۔
3 سَیلابوں نے اَے خُداوند!
سَیلابوں نے شور مچا رکھّا ہے۔
سَیلاب مَوجزن ہیں۔
4 بحروں کی آواز سے۔
سمُندر کی زبردست مَوجوں سے بھی
خُداوند بُلند و قادِر ہے۔
5 تیری شہادتیں بِالکُل سچّی ہیں۔
اَے خُداوند! ابدُالآباد کے لِئے
قُدُوسِیت تیرے گھر کو زیبا ہے۔
خُدا سب کا اِنصاف کرنے والا ہے
1 اَے خُداوند! اَے اِنتقام لینے والے خُدا!
اَے اِنتقام لینے والے خُدا! جلوہ گر ہو۔
2 اَے جہان کا اِنصاف کرنے والے! اُٹھ۔
مغرُوروں کو بدلہ دے۔
3 اَے خُداوند! شرِیر کب تک۔
شرِیر کب تک شادیانہ بجایا کریں گے؟
4 وہ بکواس کرتے اور بڑا بول بولتے ہیں۔
سب بدکردار لاف زنی کرتے ہیں۔
5 اَے خُداوند! وہ تیرے لوگوں کو پِیسے ڈالتے ہیں
اور تیری مِیراث کو دُکھ دیتے ہیں۔
6 وہ بیوہ اور پردیسی کو قتل کرتے
اور یتِیم کو مار ڈالتے ہیں
7 اور کہتے ہیں کہ خُداوند نہیں دیکھے گا
اور یعقُوب کا خُدا خیال نہیں کرے گا۔
8 اَے قَوم کے حَیوانو! ذرا خیال کرو!
اَے احمقو! تُمہیں کب عقل آئے گی؟
9 جِس نے کان دِیا کیا وہ خُود نہیں سُنتا؟
جِس نے آنکھ بنائی کیا وہ دیکھ نہیں سکتا؟
10 کیا وہ جو قَوموں کو تنبِیہ کرتا ہے
اور اِنسان کو دانِش سِکھاتا ہے سزا نہ دے گا؟
11 خُداوند اِنسان کے خیالوں کو جانتا ہے
کہ وہ باطِل ہیں۔
12 اَے خُداوند! مُبارک ہے وہ آدمی جِسے تُو تنبِیہ کرتا
اور اپنی شرِیعت کی تعلِیم دیتا ہے۔
13 تاکہ اُس کو مُصِیبت کے دِنوں میں آرام بخشے۔
جب تک شرِیر کے لِئے گڑھا نہ کھودا جائے۔
14 کیونکہ خُداوند اپنے لوگوں کو ترک نہیں کرے گا
اور وہ اپنی مِیراث کو نہیں چھوڑے گا۔
15 کیونکہ عدل صداقت کی طرف رجُوع کرے گا
اور سب راست دِل اُس کی پَیروی کریں گے۔
16 شرِیروں کے مُقابلہ میں کَون میرے لِئے اُٹھے گا؟
بدکرداروں کے خِلاف کَون میرے لِئے
کھڑا ہو گا؟
17 اگر خُداوند میرا مددگار نہ ہوتا۔
تو میری جان کب کی عالمِ خاموشی میں جا
بسی ہوتی۔
18 جب مَیں نے کہا میرا پاؤں پِھسل چلا
تو اَے خُداوند! تیری شفقت نے مُجھے
سنبھال لِیا۔
19 جب میرے دِل میں فِکروں کی کثرت ہوتی ہے
تو تیری تسلّی میری جان کو شاد کرتی ہے۔
20 کیا شرارت کے تخت سے تُجھے کُچھ واسطہ ہو گا
جو قانُون کی آڑ میں بدی گھڑتا ہے؟
21 وہ صادِق کی جان لینے کو اِکٹھے ہوتے ہیں
اور بے گُناہ پر قتل کا فتویٰ دیتے ہیں۔
22 لیکن خُداوند میرا اُونچا بُرج
اور میرا خُدا میری پناہ کی چٹان رہا ہے۔
23 وہ اُن کی بدکاری اُن ہی پر لائے گا
اور اُن ہی کی شرارت میں اُن کو کاٹ ڈالے گا۔
خُداوند ہمارا خُدا اُن کو کاٹ ڈالے گا۔
حمد و ثنا کا گِیت
1 آؤ ہم خُداوند کے حضُور نغمہ سرائی کریں!
اپنی نجات کی چٹان کے سامنے خُوشی سے للکاریں۔
2 شُکرگُذاری کرتے ہُوئے اُس کے حضُور میں
حاضِر ہوں۔
مزمُور گاتے ہُوئے اُس کے آگے خُوشی
سے للکاریں۔
3 کیونکہ خُداوند خُدایِ عظِیم ہے
اور سب اِلہٰوں پر شاہِ عظِیم ہے۔
4 زمِین کے گہراؤ اُس کے قبضہ میں ہیں۔
پہاڑوں کی چوٹِیاں بھی اُسی کی ہیں۔
5 سمُندر اُس کا ہے۔ اُسی نے اُس کو بنایا
اور اُسی کے ہاتھوں نے خُشکی کو بھی تیّار کِیا۔
6 آؤ ہم جُھکیں اور سِجدہ کریں!
اور اپنے خالق خُداوند کے حضُور گُھٹنے ٹیکیں۔
7 کیونکہ وہ ہمارا خُدا ہے
اور ہم اُس کی چراگاہ کے لوگ اور اُس کے ہاتھ کی
بھیڑیں ہیں۔
کاش کہ آج کے دِن تُم اُس کی آواز سُنتے!
8 تُم اپنے دِل کو سخت نہ کرو جَیسا مرِیبہ میں
جَیسا مسّاہ کے دِن بیابان میں کِیا تھا۔
9 اُس وقت تُمہارے باپ دادا نے مُجھے آزمایا
اور میرا اِمتحان کِیا اور میرے کام کو بھی دیکھا۔
10 چالِیس برس تک مَیں اُس نسل سے بیزار رہا
اور مَیں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جِن کے دِل
آوارہ ہیں
اور اُنہوں نے میری راہوں کو نہیں پہچانا۔
11 چُنانچہ مَیں نے اپنے غضب میں قَسم کھائی
کہ یہ لوگ میرے آرام میں داخِل نہ ہوں گے۔
خُدا سب سے بڑا بادشاہ ہے
1 خُداوند کے حضُور نیا گِیت گاؤ۔
اَے سب اہلِ زمِین! خُداوند کے حضُور گاؤ۔
2 خُداوند کے حضُور گاؤ۔ اُس کے نام کو مُبارک کہو۔
روز بروز اُس کی نجات کی بشارت دو۔
3 قَوموں میں اُس کے جلال کا۔
سب لوگوں میں اُس کے عجائِب کا بیان کرو۔
4 کیونکہ خُداوند بزُرگ اور نِہایت سِتایش کے
لائِق ہے۔
وہ سب معبُودوں سے زِیادہ تعظِیم کے لائِق ہے۔
5 اِس لِئے کہ اَور قَوموں کے سب معبُود محض بُت ہیں
لیکن خُداوند نے آسمانوں کو بنایا۔
6 عظمت اور جلال اُس کے حضُور میں ہیں۔
قُدرت اور جمال اُس کے مَقدِس میں۔
7 اَے قَوموں کے قبِیلو! خُداوند کی۔
خُداوند ہی کی تمجِید و تعظِیم کرو۔
8 خُداوند کی اَیسی تمجِید کرو جو اُس کے نام کے
شایان ہے۔
ہدیہ لاؤ اور اُس کی بارگاہوں میں آؤ۔
9 پاک آرایش کے ساتھ خُداوند کو سِجدہ کرو۔
اَے سب اہلِ زمِین! اُس کے حضُور کانپتے رہو۔
10 قَوموں میں اِعلان کرو کہ خُداوند سلطنت کرتا ہے۔
جہان قائِم ہے اور اُسے جُنبش نہیں۔
وہ راستی سے قَوموں کی عدالت کرے گا۔
11 آسمان خُوشی منائے اور زمِین شادمان ہو۔
سمُندر اور اُس کی معمُوری شور مچائیں۔
12 مَیدان اور جو کُچھ اُس میں ہے باغ باغ ہوں۔
تب جنگل کے سب درخت خُوشی سے گانے
لگیں گے۔
13 خُداوند کے حضُور۔ کیونکہ وہ آ رہا ہے۔
وہ زمِین کی عدالت کرنے کو آ رہا ہے۔
وہ صداقت سے جہان کی
اور اپنی سچّائی سے قَوموں کی عدالت کرے گا۔
خُدا سب سے اعلیٰ فرمانروا ہے
1 خُداوند سلطنت کرتا ہے۔ زمِین شادمان ہو۔
بے شُمار جزِیرے خُوشی منائیں۔
2 بادل اور تارِیکی اُس کے اِردگِرد ہیں۔
صداقت اور عدل اُس کے تخت کی بُنیاد ہیں۔
3 آگ اُس کے آگے آگے چلتی ہے
اور چاروں طرف اُس کے مُخالِفوں کو بھسم کر دیتی ہے۔
4 اُس کی بِجلیوں نے جہان کو رَوشن کر دِیا۔
زمِین نے دیکھا اور کانپ گئی۔
5 خُداوند کے حضُور پہاڑ موم کی طرح پِگھل گئے۔
یعنی ساری زمِین کے خُداوند کے حضُور۔
6 آسمان اُس کی صداقت ظاہِر کرتا ہے۔
سب قَوموں نے اُس کا جلال دیکھا ہے۔
7 کُھدی ہُوئی مُورتوں کے سب پُوجنے والے
جو بُتوں پر فخر کرتے ہیں شرمِندہ ہوں۔
اَے معبُودو! سب اُس کو سِجدہ کرو۔
8 اَے خُداوند! صِیُّون نے سُنا اور خُوش ہُوئی
اور یہُوداؔہ کی بیٹیاں تیرے احکام سے
شادمان ہُوئِیں۔
9 کیونکہ اَے خُداوند! تُو تمام زمِین پر بُلند و بالا ہے۔
تُو سب معبُودوں سے نِہایت اعلیٰ ہے۔
10 اَے خُداوند سے مُحبّت رکھنے والو! بدی سے
نفرت کرو۔
وہ اپنے مُقدّسوں کی جانوں کو محفُوظ رکھتا ہے۔
وہ اُن کو شرِیروں کے ہاتھ سے چُھڑاتا ہے۔
11 صادِقوں کے لِئے نُور بویا گیا ہے
اور راست دِلوں کے لِئے خُوشی۔
12 اَے صادِقو! خُداوند میں خُوش رہو
اور اُس کے پاک نام کا شُکر کرو۔
خُدا دُنیا کا فرمانروا ہے
مزمُور۔
1 خُداوند کے حضُور نیا گِیت گاؤ
کیونکہ اُس نے عجِیب کام کِئے ہیں۔
اُس کے دہنے ہاتھ اور اُس کے مُقدّس بازُو
نے اُس کے لِئے فتح حاصِل کی ہے۔
2 خُداوند نے اپنی نجات ظاہِر کی ہے۔
اُس نے اپنی صداقت قَوموں کے سامنے نمایاں
کی ہے۔
3 اُس نے اِسرائیل کے گھرانے کے حق میں اپنی
شفقت و وفاداری یاد کی ہے۔
اِنتہایِ زمِین کے لوگوں نے ہمارے خُدا کی نجات
دیکھی ہے۔
4 اَے تمام اہلِ زمِین! خُداوند کے حضُور خُوشی کا
نعرہ مارو
للکارو اور خُوشی سے گاؤ اور مدح سرائی کرو۔
5 خُداوند کی سِتایش سِتار پر کرو۔
سِتار اور سُرِیلی آواز سے۔
6 نرسِنگے اور قرنا کی آواز سے
بادشاہ یعنی خُداوند کے حضُور خُوشی کا نعرہ مارو۔
7 سمُندر اور اُس کی معمُوری شور مچائیں
اور جہان اور اُس کے باشِندے۔
8 سَیلاب تالِیاں بجائیں۔
پہاڑِیاں مِل کر خُوشی سے گائیں۔
9 خُداوند کے حضُور۔ کیونکہ وہ زمِین کی عدالت
کرنے آ رہا ہے۔
وہ صداقت سے جہان کی
اور راستی سے قَوموں کی عدالت کرے گا۔
خُدا سب سے بڑا بادشاہ ہے
1 خُداوند سلطنت کرتا ہے۔ قَومیں کانپیں۔
وہ کرُّوبیوں پر بَیٹھتا ہے۔ زمِین لرزے۔
2 خُداوند صِیُّون میں بزُرگ ہے
اور وہ سب قَوموں پر بُلند و بالا ہے۔
3 وہ تیرے بزُرگ اور مُہِیب نام کی تعرِیف کریں۔
وہ قُدُّوس ہے۔
4 بادشاہ کی قُوّت اِنصاف پسند ہے۔
تُو راستی کو قائِم کرتا ہے۔
تُو ہی نے عدل اور صداقت کو یعقُوب میں
رائِج کِیا۔
5 تُم خُداوند ہمارے خُدا کی تمجِید کرو۔
اور اُس کے پاؤں کی چَوکی پر سِجدہ کرو۔
وہ قُدُّوس ہے۔
6 اُس کے کاہِنوں میں سے مُوسیٰ اور ہارُون نے
اور اُس کا نام لینے والوں میں سے سموئیل نے
خُداوند سے دُعا کی اور اُس نے اُن کو جواب دِیا۔
7 اُس نے بادل کے سُتُون میں سے اُن سے
کلام کِیا۔
اُنہوں نے اُس کی شہادتوں کو اور اُس آئِین کو
جو اُس نے اُن کو دِیا تھا مانا۔
8 اَے خُداوند ہمارے خُدا! تُو اُن کو جواب دیتا تھا۔
تُو وہ خُدا ہے جو اُن کو مُعاف کرتا رہا۔
اگرچہ تُو نے اُن کے اعمال کا بدلہ بھی دِیا۔
9 تُم خُداوند ہمارے خُدا کی تمجِید کرو
اور اُس کے مُقدّس پہاڑ پر سِجدہ کرو۔
کیونکہ خُداوند ہمارا خُدا قُدُّوس ہے۔
100
حمد و سِتایش کا گِیت
شُکرگُذاری کا مزمُور۔
1 اَے اہلِ زمِین! سب خُداوند کے حضُور خُوشی کا
نعرہ مارو۔
2 خُوشی سے خُداوند کی عِبادت کرو۔
گاتے ہُوئے اُس کے حضُور حاضِر ہو۔
3 جان رکھّو کہ خُداوند ہی خُدا ہے۔
اُسی نے ہم کو بنایا اور ہم اُسی کے ہیں۔
ہم اُس کے لوگ اور اُس کی چراگاہ کی بھیڑیں ہیں۔
4 شُکرگُذاری کرتے ہُوئے اُس کے پھاٹکوں میں
اور حمد کرتے ہُوئے اُس کی بارگاہوں میں داخِل ہو۔
اُس کا شُکر کرو اور اُس کے نام کو مُبارک کہو۔
5 کیونکہ خُداوند بھلا ہے۔ اُس کی شفقت ابدی ہے
اور اُس کی وفاداری پُشت در پُشت رہتی ہے۔
101
ایک بادشاہ کا وعدہ
داؤُد کا مزمُور۔
1 مَیں شفقت اور عدل کا گِیت گاؤُں گا۔
اَے خُداوند! مَیں تیری مدح سرائی کرُوں گا۔
2 مَیں عقل مندی سے کامِل راہ پر چلُوں گا۔
تُو میرے پاس کب آئے گا؟
گھر میں میری روِش خلُوصِ دِل سے ہو گی۔
3 مَیں کِسی خباثت کو مدِنظر نہیں رکھُّوں گا۔
مُجھے کج رفتاروں کے کام سے نفرت ہے۔
اُس کو مُجھ سے کُچھ سروکار نہ ہو گا۔
4 کج دِلی مُجھ سے دُور ہو جائے گی۔
مَیں کِسی بُرائی سے آشنا نہ ہُوں گا۔
5 جو در پردہ اپنے ہمسایہ کی غِیبت کرے مَیں اُسے
ہلاک کر ڈالُوں گا۔
مَیں بُلند نظر اور مغرُور دِل کی برداشت نہ
کرُوں گا۔
6 مُلک کے اِیمان داروں پر میری نِگاہ ہو گی تاکہ وہ
میرے ساتھ رہیں۔
جو کامِل راہ پر چلتا ہے وُہی میری خِدمت
کرے گا۔
7 دغاباز میرے گھر میں رہنے نہ پائے گا۔
دروغ گو کو میرے رُوبرُو قِیام نہ ہو گا۔
8 مَیں ہر صُبح مُلک کے سب شرِیروں کو ہلاک کِیا
کرُوں گا
تاکہ خُداوند کے شہر سے بدکاروں کو کاٹ ڈالُوں۔
102
ایک پریشان حال جوان کی دُعا
مُصِیبت زدہ کی دُعا جب وہ افسُردہ دِل ہو کر خُداوند کے حضُوراپنا رونا روتا ہے۔
1 اَے خُداوند! میری دُعا سُن
اور میری فریاد تیرے حضُور پُہنچے۔
2 میری مُصِیبت کے دِن مُجھ سے رُوپوش نہ ہو۔
اپنا کان میری طرف جُھکا۔
جِس دِن مَیں فریاد کرُوں مُجھے جلد جواب دے۔
3 کیونکہ میرے دِن دُھوئیں کی طرح اُڑے
جاتے ہیں
اور میری ہڈِّیاں اِیندھن کی طرح جل گئِیں۔
4 میرا دِل گھاس کی طرح جُھلس کر سُوکھ گیا۔
کیونکہ مَیں اپنی روٹی کھانا بُھول جاتا ہُوں۔
5 کراہتے کراہتے
میری ہڈِّیاں میرے گوشت سے جا لگِیں۔
6 مَیں جنگلی حواصِل کی مانِند ہُوں۔
مَیں وِیرانے کا اُلّو بن گیا۔
7 مَیں بے خواب اور اُس گَورے کی مانِند ہو گیا ہُوں
جو چھت پر اکیلا ہو۔
8 میرے دُشمن مُجھے دِن بھر ملامت کرتے ہیں۔
میرے مُخالِف دِیوانہ ہو کر مُجھ پر لَعنت
کرتے ہیں۔
9 کیونکہ مَیں نے روٹی کی طرح راکھ کھائی
اور آنسُو مِلا کر پانی پِیا۔
10 یہ تیرے غضب اور قہر کے سبب سے ہے۔
کیونکہ تُو نے مُجھے اُٹھایا اور پِھر پٹک دِیا۔
11 میرے دِن ڈھلنے والے سایہ کی مانِند ہیں
اور مَیں گھاس کی طرح مُرجھا گیا ہُوں۔
12 لیکن تُو اَے خُداوند! ابد تک رہے گا
اور تیری یادگار پُشت در پُشت رہے گی۔
13 تُو اُٹھے گا اور صِیُّون پر رحم کرے گا
کیونکہ اُس پر ترس کھانے کا وقت ہے۔ ہاں اُس
کا مُعیّن وقت آ گیا ہے۔
14 اِس لِئے کہ تیرے بندے اُس کے پتھّروں
کو چاہتے
اور اُس کی خاک پر ترس کھاتے ہیں۔
15 اور قَوموں کو خُداوند کے نام کا
اور زمِین کے سب بادشاہوں کو تیرے جلال کا
خَوف ہو گا۔
16 کیونکہ خُداوند نے صِیُّون کو بنایا ہے۔
وہ اپنے جلال میں ظاہِر ہُؤا ہے۔
17 اُس نے بیکسوں کی دُعا پر توجُّہ کی
اور اُن کی دُعا کو حقِیر نہ جانا۔
18 یہ آیندہ پُشت کے لِئے لِکھا جائے گا
اور ایک قَوم پَیدا ہو گی جو خُداوند کی سِتایش
کرے گی۔
19 کیونکہ اُس نے اپنے مَقدِس کی بُلندی پر سے نِگاہ کی۔
خُداوند نے آسمان پر سے زمِین پر نظر کی۔
20 تاکہ اسِیر کا کراہنا سُنے
اور مَرنے والوں کو چُھڑا لے۔
21 تاکہ لوگ صِیُّون میں خُداوند کے نام کا اِظہار
اور یروشلِیم میں اُس کی تعرِیف کریں۔
22 جب خُداوند کی عِبادت کے لِئے
قَومیں اور مُملِکتیں مِل کر جمع ہوں۔
23 اُس نے راہ میں میرا زور گھٹا دِیا۔
اُس نے میری عُمر کوتاہ کر دی۔
24 مَیں نے کہا اَے میرے خُدا! مُجھے آدھی عُمر میں
نہ اُٹھا
تیرے برس پُشت در پُشت ہیں۔
25 تُو نے قدِیم سے زمِین کی بُنیاد ڈالی۔
آسمان تیرے ہاتھ کی صنعت ہے۔
26 وہ نیست ہو جائیں گے پر تُو باقی رہے گا۔
بلکہ وہ سب پوشاک کی مانِند پُرانے ہو
جائیں گے۔
تُو اُن کو لِباس کی مانِند بدلے گا اور وہ بدل
جائیں گے
27 پر تُو لاتبدِیل ہے
اور تیرے برس لااِنتہا ہوں گے۔
28 تیرے بندوں کے فرزند برقرار رہیں گے
اور اُن کی نسل تیرے حضُور قائِم رہے گی۔
103
خُدا کی مُحبّت
داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے میری جان! خُداوند کو مُبارک کہہ
اور جو کُچھ مُجھ میں ہے اُس کے قُدُّوس نام کو
مُبارک کہے۔
2 اَے میری جان! خُداوند کو مُبارک کہہ
اور اُس کی کِسی نِعمت کو فراموش نہ کر۔
3 وہ تیری ساری بدکاری کو بخشتا ہے۔
وہ تُجھے تمام بِیماریوں سے شِفا دیتا ہے۔
4 وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے۔
وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔
5 وہ تُجھے عُمر بھر اچھّی اچھّی چِیزوں سے آسُودہ
کرتا ہے۔
تُو عُقاب کی مانِند ازسرِ نَوجوان ہوتا ہے۔
6 خُداوند سب مظلُوموں کے لِئے
صداقت اور عدل کے کام کرتا ہے۔
7 اُس نے اپنی راہیں مُوسیٰ پر
اور اپنے کام بنی اِسرائیل پر ظاہِر کِئے
8 خُداوند رحِیم اور کرِیم ہے۔
قہر کرنے میں دِھیما اور شفقت میں غنی۔
9 وہ سدا جِھڑکتا نہ رہے گا۔
وہ ہمیشہ غضب ناک نہ رہے گا۔
10 اُس نے ہمارے گُناہوں کے مُوافِق ہم سے سلُوک
نہیں کِیا
اور ہماری بدکارِیوں کے مُطابِق ہم کو بدلہ
نہیں دِیا۔
11 کیونکہ جِس قدر آسمان زمِین سے بُلند ہے
اُسی قدر اُس کی شفقت اُن پر ہے جو اُس سے
ڈرتے ہیں۔
12 جَیسے پُورب پچھم سے دُور ہے
وَیسے ہی اُس نے ہماری خطائیں ہم سے دُور
کر دِیں
13 جَیسے باپ اپنے بیٹوں پر ترس کھاتا ہے
وَیسے ہی خُداوند اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں
ترس کھاتا ہے۔
14 کیونکہ وہ ہماری سرِشت سے واقِف ہے۔
اُسے یاد ہے کہ ہم خاک ہیں۔
15 اِنسان کی عُمر تو گھاس کی مانِند ہے۔
وہ جنگلی پُھول کی طرح کِھلتا ہے
16 کہ ہوا اُس پر چلی اور وہ نہیں
اور اُس کی جگہ اُسے پِھر نہ دیکھے گی۔
17 لیکن خُداوند کی شفقت اُس سے ڈرنے والوں پر
ازل سے ابد تک
اور اُس کی صداقت نسل در نسل ہے۔
18 یعنی اُن پر جو اُس کے عہد پر قائِم رہتے ہیں
اور اُس کے قوانِین پر عمل کرنا یاد رکھتے ہیں۔
19 خُداوند نے اپنا تخت آسمان پر قائِم کِیا ہے
اور اُس کی سلطنت سب پر مُسلِّط ہے۔
20 اَے خُداوند کے فرِشتو! اُس کو مُبارک کہو۔
تُم جو زور میں بڑھ کر ہو اور اُس کے کلام کی آواز
سُن کر اُس پر عمل کرتے ہو۔
21 اَے خُداوند کے لشکرو! سب اُس کو مُبارک کہو۔
تُم جو اُس کے خادِم ہو اور اُس کی مرضی بجا
لاتے ہو۔
22 اَے خُداوند کی مخلُوقات! سب اُس کو مُبارک کہو۔
تُم جو اُس کے تسلُّط کے سب مقاموں میں ہو۔
اَے میری جان! تُو خُداوند کو مُبارک کہہ۔
104
خالِق کی حمد و ثنا
1 اَے میری جان! تُو خُداوند کو مُبارک کہہ۔
اَے خُداوند میرے خُدا! تُو نِہایت بزُرگ ہے۔
تُو حشمت اور جلال سے مُلبّس ہے۔
2 تُو نُور کو پوشاک کی طرح پہنتا ہے
اور آسمان کو سائبان کی طرح تانتا ہے۔
3 تُو اپنے بالا خانوں کے شہتیِر پانی پر ٹِکاتا ہے۔
تُو بادلوں کو اپنا رتھ بناتا ہے۔
تُو ہوا کے بازُوؤں پر سَیر کرتا ہے۔
4 تُو اپنے فرِشتوں کو ہوائیں
اور اپنے خادِموں کو آگ کے شُعلے بناتا ہے۔
5 تُو نے زمِین کو اُس کی بُنیاد پر قائِم کِیا
تاکہ وہ کبھی جُنبِش نہ کھائے۔
6 تُو نے اُس کو سمُندر سے چِھپایا جَیسے لِباس سے۔
پانی پہاڑوں سے بھی بُلند تھا۔
7 وہ تیری جِھڑکی سے بھاگا۔
وہ تیری گرج کی آواز سے جلدی جلدی چلا۔
8 اُس جگہ پُہنچ گیا جو تُو نے اُس کے لِئے تیّار کی تھی۔
پہاڑ اُبھر آئے۔ وادِیاں بَیٹھ گئیں۔
9 تُو نے حد باندھ دی تاکہ وہ آگے نہ بڑھ سکے
اور پِھر لَوٹ کر زمِین کو نہ چِھپائے۔
10 وہ وادیوں میں چشمے جاری کرتا ہے
جو پہاڑوں میں بہتے ہیں۔
11 سب جنگلی جانور اُن سے پِیتے ہیں۔
گورخر اپنی پیاس بُجھاتے ہیں۔
12 اُن کے آس پاس ہوا کے پرِندے بسیرا کرتے
اور ڈالِیوں میں چہچہاتے ہیں۔
13 وہ اپنے بالا خانوں سے پہاڑوں کو سیراب کرتا ہے۔
تیری صنعتوں کے پَھل سے زمِین آسُودہ ہے۔
14 وہ چَوپایوں کے لِئے گھاس اُگاتا ہے
اور اِنسان کے کام کے لِئے سبزہ
تاکہ زمِین سے خُوراک پَیدا کرے۔
15 اور مَے جو اِنسان کے دِل کو خُوش کرتی ہے
اور رَوغن جو اُس کے چِہرہ کو چمکاتا ہے
اور روٹی جو آدمی کے دِل کو توانائی بخشتی ہے۔
16 خُداوند کے درخت شاداب رہتے ہیں
یعنی لُبنان کے دیودار جو اُس نے لگائے۔
17 جہاں پرِندے اپنے گھونسلے بناتے ہیں۔
صنوبر کے درختوں میں لقلق کا بسیرا ہے۔
18 اُونچے پہاڑ جنگلی بکروں کے لِئے ہیں۔
چٹانیں سافانوں کی پناہ کی جگہ ہیں۔
19 اُس نے چاند کو زمانوں کے اِمتیاز کے لِئے مُقرّر کِیا۔
آفتاب اپنے غرُوب کی جگہ جانتا ہے۔
20 تُو اندھیرا کر دیتا ہے تو رات ہو جاتی ہے
جِس میں سب جنگلی جانور نِکل آتے ہیں۔
21 جوان شیر اپنے شِکار کی تلاش میں گرجتے ہیں
اور خُدا سے اپنی خُوراک مانگتے ہیں۔
22 آفتاب نِکلتے ہی وہ چل دیتے ہیں
اور جا کر اپنی ماندوں میں پڑ رہتے ہیں۔
23 اِنسان اپنے کام کے لِئے
اور شام تک اپنی مِحنت کرنے کے لِئے نِکلتا ہے۔
24 اَے خُداوند! تیری صنعتیں کَیسی بے شُمار ہیں!
تُو نے یہ سب کُچھ حِکمت سے بنایا۔
زمِین تیری مخلُوقات سے معمُور ہے۔
25 دیکھو یہ بڑا اور چَوڑا سمُندر
جِس میں بے شُمار رینگنے والے جاندار ہیں۔
یعنی چھوٹے اور بڑے جانور۔
26 جہاز اِسی میں چلتے ہیں۔
اِسی میں لویاتان ہے جِسے تُو نے اِس میں کھیلنے کو
پَیدا کِیا۔
27 اِن سب کو تیرا ہی آسرا ہے
تاکہ تُو اُن کو وقت پر خُوراک دے۔
28 جو کُچھ تُو دیتا ہے یہ لے لیتے ہیں۔
تُو اپنی مُٹھّی کھولتا ہے اور یہ اچھّی چِیزوں سے سیر
ہوتے ہیں۔
29 تُو اپنا چہرہ چِھپا لیتا ہے اور یہ پریشان ہو جاتے ہیں۔
تُو اِن کا دَم روک لیتا ہے اور یہ مَر جاتے ہیں
اور پِھر مِٹّی میں مِل جاتے ہیں۔
30 تُو اپنی رُوح بھیجتا ہے اور یہ پَیدا ہوتے ہیں
اور تُو رُویِ زمِین کو نیا بنا دیتا ہے۔
31 خُداوند کا جلال ابد تک رہے۔
خُداوند اپنی صنعتوں سے خُوش ہو۔
32 وہ زمِین پر نِگاہ کرتا ہے اور وہ کانپ جاتی ہے۔
وہ پہاڑوں کو چُھوتا ہے اور اُن سے دُھواں نِکلنے
لگتا ہے۔
33 مَیں عُمر بھر خُداوند کی تعرِیف گاؤُں گا۔
جب تک میرا وجُود ہے مَیں اپنے خُدا کی مدح
سرائی کرُوں گا۔
34 میرا دِھیان اُسے پسند آئے۔
مَیں خُداوند میں شادمان رہُوں گا۔
35 گُنہگار زمِین پر سے فنا ہو جائیں
اور شرِیر باقی نہ رہیں!
اَے میری جان! خُداوند کو مُبارک کہہ۔
خُداوند کی حمد کرو۔
105
خُدا اور اُس کے لوگ
1 خُداوند کا شُکر کرو۔ اُس کے نام سے دُعا کرو۔
قَوموں میں اُس کے کاموں کا بیان کرو۔
2 اُس کی تعرِیف میں گاؤ۔ اُس کی مدح سرائی کرو۔
اُس کے تمام عجائِب کا چرچا کرو۔
3 اُس کے مُقدّس نام پر فخر کرو۔
خُداوند کے طالِبوں کے دِل شادمان ہوں۔
4 خُداوند اور اُس کی قُوّت کے طالِب ہو۔
ہمیشہ اُس کے دِیدار کے طالِب رہو۔
5 اُن عجِیب کاموں کو جو اُس نے کِئے۔
اُس کے عجائِب اور مُنہ کے احکام کو یاد رکھّو۔
6 اَے اُس کے بندے ابرہامؔ کی نسل!
اَے بنی یعقُوب اُس کے برگُزِیدو!
7 وُہی خُداوند ہمارا خُدا ہے۔
اُس کے احکام تمام زمِین پر ہیں۔
8 اُس نے اپنے عہد کو ہمیشہ یاد رکھّا۔
یعنی اُس کلام کو جو اُس نے ہزار پُشتوں کے
لِئے فرمایا۔
9 اُسی عہد کو جو اُس نے ابرہامؔ سے باندھا
اور اُس قَسم کو جو اُس نے اِضحاق سے کھائی
10 اور اُسی کو اُس نے یعقُوب کے لِئے آئِین
یعنی اِسرائیل کے لِئے ابدی عہد ٹھہرایا
11 اور کہا کہ مَیں کنعانؔ کا مُلک تُجھے دُوں گا
کہ تُمہارا مورُوثی حِصّہ ہو۔
12 اُس وقت وہ شُمار میں تھوڑے تھے
بلکہ بُہت تھوڑے اور اُس مُلک میں مُسافِر تھے
13 اور وہ ایک قَوم سے دُوسری قَوم میں
اور ایک سلطنت سے دُوسری سلطنت میں
پِھرتے رہے۔
14 اُس نے کِسی آدمی کو اُن پر ظُلم نہ کرنے دِیا
بلکہ اُن کی خاطر اُس نے بادشاہوں کو دھمکایا
15 اور کہا کہ میرے ممسُوحوں کو ہاتھ نہ لگاؤ
اور میرے نبِیوں کو کوئی نُقصان نہ پُہنچاؤ۔
16 پِھر اُس نے فرمایا کہ اُس مُلک پر قحط نازِل ہو
اور اُس نے روٹی کا سہارا بِالکُل توڑ دِیا۔
17 اُس نے اُن سے پہلے ایک آدمی کو بھیجا۔
یُوسفؔ غُلامی میں بیچا گیا۔
18 اُنہوں نے اُس کے پاؤں کو بیڑِیوں سے دُکھ دِیا۔
وہ لوہے کی زنجِیروں میں جکڑا رہا۔
19 جب تک کہ اُس کا سُخن پُورا نہ ہُؤا۔
خُداوند کا کلام اُسے آزماتا رہا۔
20 بادشاہ نے حُکم بھیج کر اُسے چُھڑایا۔
ہاں قَوموں کے فرمانروا نے اُسے آزاد کِیا۔
21 اُس نے اُس کو اپنے گھر کا مُختار
اور اپنی ساری مِلکیت پر حاکِم بنایا
22 تاکہ اُس کے اُمرا کو جب چاہے قَید کرے
اور اُس کے بزُرگوں کو دانِش سِکھائے۔
23 اِسرائیل بھی مِصرؔ میں آیا
اور یعقُوب حام کی سرزمِین میں مُسافِر رہا
24 اور خُدا نے اپنے لوگوں کو خُوب بڑھایا
اور اُن کو اُن کے مُخالِفوں سے زِیادہ قوّی کِیا۔
25 اُس نے اُن کے دِل کو برگشتہ کِیا تاکہ اُس کی
قَوم سے عداوت رکھّیں
اور اُس کے بندوں سے دغابازی کریں۔
26 اُس نے اپنے بندہ مُوسیٰ کو
اور اپنے برگُزِیدہ ہارُون کو بھیجا۔
27 اُس نے اُن کے درمیان مُعجِزات
اور حام کی سرزمِین میں عجائِب دِکھائے۔
28 اُس نے تارِیکی بھیج کر اندھیرا کر دِیا
اور اُنہوں نے اُس کی باتوں سے سرکشی نہ کی۔
29 اُس نے اُن کی ندِیوں کو لہُو بنا دِیا
اور اُن کی مچھلیاں مار ڈالِیں۔
30 اُن کے مُلک اور بادشاہوں کے بالا خانوں میں
مینڈک ہی مینڈک بھر گئے۔
31 اُس نے حُکم دِیا اور مچھّروں کے غول آئے
اور اُن کی سب حدُود میں جُوئیں آ گئِیں۔
32 اُس نے اُن پر مینہ کی جگہ اَولے برسائے
اور اُن کے مُلک پر دہکتی آگ نازِل کی۔
33 اُس نے اُن کے انگُور اور انجِیر کے درختوں کو بھی
برباد کر ڈالا
اور اُن کی حدُود کے پیڑ توڑ ڈالے۔
34 اُس نے حُکم دِیا تو بے شُمار ٹِڈّیاں
اور کیڑے آ گئے
35 اور اُن کے مُلک کی تمام نباتات چٹ کر گئے
اور اُن کی زمِین کی پَیداوار کھا گئے۔
36 اُس نے اُن کے مُلک کے سب پہلوٹھوں کو بھی
مار ڈالا
جو اُن کی پُوری قُوّت کے پہلے پَھل تھے۔
37 اور اِسرائیل کو چاندی اور سونے کے ساتھ
نِکال لایا
اور اُس کے قبِیلوں میں ایک بھی کمزور آدمی
نہ تھا۔
38 اُن کے چلے جانے سے مِصرؔ خُوش ہو گیا
کیونکہ اُن کا خَوف مِصریوں پر چھا گیا تھا۔
39 اُس نے بادل کو سائبان ہونے کے لِئے پَھیلا دِیا
اور رات کو رَوشنی کے لِئے آگ دی۔
40 اُن کے مانگنے پر اُس نے بٹیریں بھیجِیں
اور اُن کو آسمانی روٹی سے سیر کِیا۔
41 اُس نے چٹان کو چِیرا اور پانی پُھوٹ نِکلا
اور خُشک زمِین پر ندی کی طرح بہنے لگا۔
42 کیونکہ اُس نے اپنے پاک قَول کو
اور اپنے بندہ ابرہامؔ کو یاد کِیا
43 اور وہ اپنی قَوم کو شادمانی کے ساتھ
اور اپنے برگُزِیدوں کو گِیت گاتے ہُوئے
نِکال لایا۔
44 اور اُس نے اُن کو قَوموں کے مُلک دِئیے
اور اُنہوں نے اُمّتوں کی مِحنت کے پَھل پر
قبضہ کِیا
45 تاکہ وہ اُس کے آئین پر چلیں
اور اُس کی شرِیعت کو مانیں۔
خُداوند کی حمد کرو۔
106
اپنے لوگوں پر خُدا کی شفقت
1 خُداوند کی حمد کرو۔
خُداوند کا شُکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے
اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔
2 کون خُداوند کی قُدرت کے کاموں کو بیان کر سکتا ہے
یا اُس کی پُوری سِتایش سُنا سکتا ہے؟
3 مُبارک ہیں وہ جو عدل کرتے ہیں
اور وہ جو ہر وقت صداقت کے کام کرتا ہے۔
4 اَے خُداوند! اُس کرم سے جو تُو اپنے لوگوں پر
کرتا ہے مُجھے یاد کر۔
اپنی نجات مُجھے عِنایت فرما۔
5 تاکہ مَیں تیرے برگُزِیدوں کی اِقبال مندی دیکھُوں
اور تیری قَوم کی شادمانی میں شاد رہُوں
اور تیری مِیراث کے لوگوں کے ساتھ فخر کرُوں۔
6 ہم نے اور ہمارے باپ دادا نے گُناہ کِیا۔
ہم نے بدکاری کی۔ ہم نے شرارت کے
کام کِئے۔
7 ہمارے باپ دادا مِصرؔ میں تیرے عجائِب نہ سمجھے۔
اُنہوں نے تیری شفقت کی کثرت کو یاد نہ کِیا۔
بلکہ سمُندر پر یعنی بحرِ قُلزؔم پر باغی ہُوئے۔
8 تَو بھی اُس نے اُن کو اپنے نام کی خاطِر بچایا
تاکہ اپنی قُدرت ظاہِر کرے۔
9 اُس نے بحرِ قُلزم کو ڈانٹا اور وہ سُوکھ گیا۔
وہ اُن کو گہراؤ میں سے اَیسے نِکال لے گیا جَیسے
بیابان میں سے
10 اور اُس نے اُن کو عداوت رکھنے والے کے ہاتھ
سے بچایا
اور دُشمن کے ہاتھ سے چُھڑایا۔
11 سمُندر نے اُن کے مُخالِفوں کو چِھپا لِیا۔
اُن میں سے ایک بھی نہ بچا۔
12 تب اُنہوں نے اُس کے قَول کا یقِین کِیا
اور اُس کی مدح سرائی کرنے لگے۔
13 پِھر وہ جلد اُس کے کاموں کو بُھول گئے
اور اُس کی مشوَرت کا اِنتظار نہ کِیا
14 بلکہ بیابان میں بڑی حِرص کی۔
اور صحرا میں خُدا کو آزمایا۔
15 سو اُس نے اُن کی مُراد تو پُوری کر دی
پر اُن کی جان کو سُکھا دِیا۔
16 اُنہوں نے خَیمہ گاہ میں مُوسیٰ پر
اور خُداوند کے مُقدّس مَرد ہارُون پر حسد کِیا۔
17 سو زمِین پھٹی اور داتن کو نِگل گئی
اور اَبِیرامؔ کی جماعت کو کھا گئی
18 اور اُن کے جتھے میں آگ بھڑک اُٹھی
اور شُعلوں نے شرِیروں کو بھسم کر دِیا۔
19 اُنہوں نے حورِب میں ایک بچُھڑا بنایا
اور ڈھالی ہُوئی مُورت کو سِجدہ کِیا۔
20 یُوں اُنہوں نے خُدا کے جلال کو
گھاس کھانے والے بَیل کی شکل سے بدل دِیا۔
21 وہ اپنے مُنّجی خُدا کو بُھول گئے
جِس نے مِصرؔ میں بڑے بڑے کام کِئے
22 اور حام کی سرزمِین میں عجائِب
اور بحرِ قُلزؔم پر دہشت انگیز کام کِئے۔
23 اِس لِئے اُس نے فرمایا مَیں اُن کو ہلاک کر ڈالتا
اگر میرا برگُزِیدہ مُوسیٰ میرے حضُور بِیچ میں نہ آتا
کہ میرے قہر کو ٹال دے تا نہ ہو کہ مَیں اُن کو
ہلاک کرُوں۔
24 اور اُنہوں نے اُس سہانے مُلک کو حقِیر جانا
اور اُس کے قَول کا یقِین نہ کِیا۔
25 بلکہ وہ اپنے ڈیروں میں بُڑبُڑائے
اور خُداوند کی بات نہ مانی۔
26 تب اُس نے اُن کے خِلاف قَسم کھائی
کہ مَیں اُن کو بیابان میں پست کرُوں گا۔
27 اور اُن کی نسل کو قَوموں کے درمیان گِرا دُوں گا
اور اُن کو مُلک مُلک میں تِتربِتر کرُوں گا۔
28 وہ بعل فغُور کو پُوجنے لگے
اور بُتوں کی قُربانِیاں کھانے لگے۔
29 یُوں اُنہوں نے اپنے اعمال سے اُس کو خشم ناک کِیا
اور وبا اُن میں پُھوٹ نِکلی۔
30 تب فِینحاس اُٹھا اور بِیچ میں آیا
اور وبا رُک گئی۔
31 اور یہ کام اُس کے حق میں پُشت در پُشت
ہمیشہ کے لِئے راست بازی گِنا گیا۔
32 اُنہوں نے اُس کو مرِیبہ کے چشمہ پر بھی
خشم ناک کِیا
اور اُن کی خاطِر مُوسیٰ کو نُقصان پُہنچا۔
33 اِس لِئے کہ اُنہوں نے اُس کی رُوح سے
سرکشی کی
اور مُوسیٰ بے سوچے بول اُٹھا۔
34 اُنہوں نے اُن قَوموں کو ہلاک نہ کِیا
جَیسا خُداوند نے اُن کو حُکم دِیا تھا
35 بلکہ اُن قَوموں کے ساتھ مِل گئے
اور اُن کے سے کام سِیکھ گئے
36 اور اُن کے بُتوں کی پرستِش کرنے لگے
جو اُن کے لِئے پھندا بن گئے۔
37 بلکہ اُنہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو شیاطِین کے
لِئے قُربان کِیا
38 اور معصُوموں کا یعنی اپنے بیٹے بیٹیوں کا خُون بہایا
جِن کو اُنہوں نے کنعانؔ کے بُتوں کے لِئے
قُربان کر دِیا
اور مُلک خُون سے ناپاک ہو گیا۔
39 یُوں وہ اپنے ہی کاموں سے آلُودہ ہو گئے
اور اپنے فِعلوں سے بے وفا بنے۔
40 اِس لِئے خُداوند کا قہر اپنے لوگوں پر بھڑکا
اور اُسے اپنی مِیراث سے نفرت ہو گئی
41 اور اُس نے اُن کو قَوموں کے قبضہ میں کر دِیا
اور اُن سے عداوت رکھنے والے اُن پر
حُکمران ہو گئے۔
42 اُن کے دُشمنوں نے اُن پر ظُلم کِیا
اور وہ اُن کے محکُوم ہو گئے۔
43 اُس نے تو بارہا اُن کو چُھڑایا
لیکن اُن کا مشوَرہ باغیانہ ہی رہا
اور وہ اپنی بدکاری کے باعِث پست ہو گئے۔
44 تَو بھی جب اُس نے اُن کی فریاد سُنی
تو اُن کے دُکھ پر نظر کی۔
45 اور اُس نے اُن کے حق میں اپنے عہد کو یاد کِیا
اور اپنی شفقت کی کثرت کے مُطابِق ترس کھایا۔
46 اُس نے اُن کو اسِیر کرنے والوں کے دِل میں
اُن کے لِئے رحم ڈالا۔
47 اَے خُداوند! ہمارے خُدا! ہم کو بچا لے
اور ہم کو قَوموں میں سے اِکٹّھا کر لے
تاکہ ہم تیرے قُدوُّس نام کا شُکر کریں
اور للکارتے ہُوئے تیری سِتایش کریں۔
48 خُداوند اِسرائیل کا خُدا
ازل سے ابد تک مُبارک ہو!
اور ساری قَوم کہے آمِین۔
خُداوند کی حمد کرو۔
107
پانچوِیں کِتاب
( زبُور ۱۰۷‏—۱۵۰ )
خُدا کی شفقت کے لِئے حمد و سِتایش
1 خُداوند کا شُکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے
اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔
2 خُداوند کے چُھڑائے ہُوئے یہی کہیں۔
جِن کو اُس نے فِدیہ دے کر مُخالِف کے ہاتھ
سے چُھڑا لِیا
3 اور اُن کو مُلک مُلک سے جمع کِیا۔
پُورب سے اور پچھم سے۔
اُتّر سے اور دکھِّن سے۔
4 وہ بیابان میں صحرا کے راستہ پر بھٹکتے پِھرے۔
اُن کو بسنے کے لِئے کوئی شہر نہ مِلا۔
5 وہ بُھوکے اور پیاسے تھے
اور اُن کا دِل بَیٹھا جاتا تھا۔
6 تب اپنی مُصِیبت میں اُنہوں نے خُداوند سے فریاد کی
اور اُس نے اُن کو اُن کے دُکھوں سے رہائی بخشی۔
7 وہ اُن کو سیدھی راہ سے لے گیا
تاکہ بسنے کے لِئے کِسی شہر میں جا پُہنچیں۔
8 کاش کہ لوگ خُداوند کی شفقت کی خاطِر
اور بنی آدمؔ کے لِئے اُس کے عجائِب کی خاطِر
اُس کی سِتایش کرتے!
9 کیونکہ وہ ترستی جان کو سیر کرتا ہے
اور بُھوکی جان کو نِعمتوں سے مالا مال کرتا ہے۔
10 جو اندھیرے اور مَوت کے سایہ میں بَیٹھے
مُصِیبت اور لوہے سے جکڑے ہُوئے تھے۔
11 چُونکہ اُنہوں نے خُدا کے کلام سے سرکشی کی
اور حق تعالیٰ کی مشوَرت کو حقِیر جانا
12 اِس لِئے اُس نے اُن کا دِل مشقّت سے عاجِز کر دِیا۔
وہ گِر پڑے اور کوئی مددگار نہ تھا۔
13 تب اپنی مُصِیبت میں اُنہوں نے خُداوند سے
فریاد کی
اور اُس نے اُن کو اُن کے دُکھوں سے
رہائی بخشی۔
14 وہ اُن کو اندھیرے اور مَوت کے سایہ سے نِکال لایا
اور اُن کے بندھن توڑ ڈالے۔
15 کاش کہ لوگ خُداوند کی شفقت کی خاطِر
اور بنی آدمؔ کے لِئے اُس کے عجائِب کی خاطِر
اُس کی سِتایش کرتے!
16 کیونکہ اُس نے پِیتل کے پھاٹک توڑ دِئیے
اور لوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالا۔
17 احمق اپنی خطاؤں کے سبب سے
اور اپنی بدکاری کے باعِث مُصِیبت میں
پڑتے ہیں۔
18 اُن کے جی کو ہر طرح کے کھانے سے نفرت ہو
جاتی ہے
اور وہ مَوت کے پھاٹکوں کے نزدِیک پُہنچ
جاتے ہیں۔
19 تب وہ اپنی مُصِیبت میں خُداوند سے فریاد کرتے ہیں
اور وہ اُن کو اُن کے دُکھوں سے رہائی بخشتا ہے۔
20 وہ اپنا کلام نازِل فرما کر اُن کو شِفا دیتا ہے
اور اُن کو اُن کی ہلاکت سے رہائی بخشتا ہے۔
21 کاش کہ لوگ خُداوند کی شفقت کی خاطِر
اور بنی آدمؔ کے لِئے اُس کے عجائِب کی خاطِر
اُس کی سِتایش کرتے!
22 وہ شُکرگُذاری کی قُربانِیاں گُذرانیں
اور گاتے ہُوئے اُس کے کاموں کا بیان کریں۔
23 جو لوگ جہازوں میں بحر پر جاتے ہیں
اور سمُندر پر کاروبار میں لگے رہتے ہیں
24 وہ سمُندر میں خُداوند کے کاموں کو
اور اُس کے عجائِب کو دیکھتے ہیں
25 کیونکہ وہ حُکم دے کر طُوفانی ہوا چلاتا ہے
جو اُس میں لہریں اُٹھاتی ہے۔
26 وہ آسمان تک چڑھتے اور گہراؤ میں اُترتے ہیں۔
پریشانی سے اُن کا دِل پانی پانی ہو جاتا ہے۔
27 وہ جُھومتے اور متوالے کی طرح لڑکھڑاتے
اور حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔
28 تب وہ اپنی مُصِیبت میں خُداوند سے فریاد کرتے ہیں
اور وہ اُن کو اُن کے دُکھوں سے رہائی بخشتا ہے۔
29 وہ آندھی کو تھما دیتا ہے
اور لہریں مَوقُوف ہو جاتی ہیں۔
30 تب وہ اُس کے تھم جانے سے خُوش ہوتے ہیں۔
یُوں وہ اُن کو بندرگاہِ مقصُود تک پُہنچا دیتا ہے۔
31 کاش کہ لوگ خُداوند کی شفقت کی خاطِر
اور بنی آدمؔ کے لِئے اُس کے عجائِب کی خاطِر
اُس کی سِتایش کرتے!
32 وہ لوگوں کے مجمع میں اُس کی بڑائی کریں
اور بزُرگوں کی مجلِس میں اُس کی حمد۔
33 وہ دریاؤں کو بیابان بنا دیتا ہے
اور پانی کے چشموں کو خُشک زمِین۔
34 وہ زرخیز زمِین کو صحرایِ شور کر دیتا ہے۔
اِس لِئے کہ اُس کے باشِندے شرِیر ہیں۔
35 وہ بیابان کو جِھیل بنا دیتا ہے
اور خُشک زمِین کو پانی کے چشمے۔
36 وہاں وہ بُھوکوں کو بساتا ہے
تاکہ بسنے کے لِئے شہر تیّار کریں
37 اور کھیت بوئیں اور تاکِستان لگائیں
اور پَیداوار حاصِل کریں۔
38 وہ اُن کو برکت دیتا ہے اور وہ بُہت بڑھتے ہیں
اور وہ اُن کے چَوپایوں کو کم نہیں ہونے دیتا۔
39 پِھر ظُلم و تکلِیف اور غم کے مارے
وہ گھٹ جاتے اور پست ہو جاتے ہیں۔
40 وہ اُمرا پر ذِلّت اُنڈیل دیتا ہے
اور اُن کو بے راہ وِیرانہ میں بھٹکاتا ہے۔
41 تَو بھی وہ مُحتاج کو مُصِیبت سے نِکال کر سرفراز
کرتا ہے
اور اُس کے خاندان کو ریوڑ کی طرح بڑھاتا ہے۔
42 راست باز یہ دیکھ کر خُوش ہوں گے
اور سب بدکاروں کا مُنہ بند ہو جائے گا۔
43 دانا اِن باتوں پر توجُّہ کرے گا
اور وہ خُداوند کی شفقت پر غَور کریں گے۔
108
دُشمنوں کے خِلاف کُمک کی درخواست
گِیت۔ داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُدا! میرا دِل قائِم ہے۔
مَیں گاؤُں گا اور دِل سے مدح سرائی کرُوں گا۔
2 اَے بربط اور سِتار جاگو!
مَیں خُود بھی صُبح سویرے جاگ اُٹھوں گا۔
3 اَے خُداوند! مَیں لوگوں میں تیرا شُکر کرُوں گا۔
مَیں اُمّتوں میں تیری مدح سرائی کرُوں گا۔
4 کیونکہ تیری شفقت آسمان سے بُلند ہے
اور تیری سچّائی افلاک کے برابر ہے۔
5 اَے خُدا! تُو آسمانوں پر سرفراز ہو
اور تیرا جلال ساری زمِین پر ہو۔
6 اپنے دہنے ہاتھ سے بچا اور ہمیں جواب دے
تاکہ تیرے محبُوب بچائے جائیں۔
7 خُدا نے اپنی قدُّوسیتؔ میں یہ فرمایا ہے مَیں خُوشی
کرُوں گا۔
مَیں سِکم کو تقسِیم کرُوں گا اور سُکّات کی وادی کو
بانٹُوں گا۔
8 جلعاد میرا ہے۔ منسّی میرا ہے۔
اِفرائِیم میرے سر کا خود ہے
یہُوداؔہ میرا عصا ہے۔
9 موآؔب میری چلپچی ہے۔
ادُوم پر مَیں جُوتا پھینکُوں گا۔
مَیں فلِستِین پر للکارُوں گا۔
10 مُجھے اُس فصِیل دار شہر میں کَون پُہنچائے گا؟
کَون مُجھے ادوؔم تک لے گیا ہے؟
11 اَے خُدا! کیا تُو نے ہمیں ردّ نہیں کر دِیا؟
اَے خُدا! تُو ہمارے لشکروں کے ساتھ نہیں جاتا
12 مُخالِف کے مُقابلہ میں ہماری کُمک کر
کیونکہ اِنسانی مدد عبث ہے۔
13 خُدا کی بدَولت ہم دِلاوری کریں گے
کیونکہ وُہی ہمارے مُخالِفوں کو پامال کرے گا۔
109
مُصِیبت زدہ آدمی کی شِکایت
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُدا! میرے محمُود! خاموش نہ رہ
2 کیونکہ شرِیروں اور دغابازوں نے میرے خِلاف
مُنہ کھولا ہے۔
اُنہوں نے جُھوٹی زُبان سے مُجھ سے باتیں
کی ہیں۔
3 اُنہوں نے عداوت کی باتوں سے مُجھے گھیر لِیا
اور بے سبب مُجھ سے لڑے ہیں۔
4 وہ میری مُحبّت کے سبب سے میرے مُخالِف ہیں
لیکن مَیں تو بس دُعا کرتا ہُوں۔
5 اُنہوں نے نیکی کے بدلے مُجھ سے بدی کی ہے
اور میری مُحبّت کے بدلے عداوت۔
6 تُو کِسی شرِیر آدمی کو اُس پر مقرّر کر دے
اور کوئی مُخالِف اُس کے دہنے ہاتھ کھڑا رہے۔
7 جب اُس کی عدالت ہو تو وہ مُجرم ٹھہرے
اور اُس کی دُعا بھی گُناہ گِنی جائے۔
8 اُس کی عُمر کوتاہ ہو جائے
اور اُس کا مَنصب کوئی دُوسرا لے لے۔
9 اُس کے بچّے یتِیم ہو جائیں
اور اُس کی بِیوی بیوہ ہو جائے۔
10 اُس کے بچّے آوارہ ہو کر بِھیک مانگیں
اُن کو اپنے وِیران مقاموں سے دُور جا کر ٹُکڑے
مانگناپڑے۔
11 قرض خواہ اُس کا سب کُچھ چِھین لے
اور پردیسی اُس کی کمائی لُوٹ لیں۔
12 کوئی نہ ہو جو اُس پر شفقت کرے۔
نہ کوئی اُس کے یتِیم بچّوں پر ترس کھائے۔
13 اُس کی نسل کٹ جائے
اور دُوسری پُشت میں اُن کا نام مِٹا دِیا جائے۔
14 اُس کے باپ دادا کی بدی خُداوند کے حضُور
یاد رہے
اور اُس کی ماں کا گُناہ مِٹایا نہ جائے۔
15 وہ برابر خُداوند کے سامنے رہیں
تاکہ وہ زمِین پر سے اُن کا ذِکر مِٹا دے۔
16 اِس لِئے کہ اُس نے رحم کرنا یاد نہ رکھّا
پر غرِیب اور مُحتاج اور شکستہ دِل کو ستایا
تاکہ اُن کو مار ڈالے
17 بلکہ لَعنت کرنا اُسے پسند تھا۔ سو وُہی اُس پر آ پڑی
اور دُعا دینا اُسے مرغُوب نہ تھا سو وہ اُس سے دُور رہی۔
18 اُس نے لَعنت کو اپنی پوشاک کی طرح پہنا
اور وہ پانی کی طرح اُس کے باطِن میں
اور تیل کی طرح اُس کی ہڈِّیوں میں سما گئی۔
19 وہ اُس کے لِئے اُس پوشاک کی مانِند ہو جِسے وہ
پہنتا ہے
اور اُس پٹکے کی جگہ جِس سے وہ اپنی کمر کسے
رہتا ہے۔
20 خُداوند کی طرف سے میرے مُخالِفوں کا
اور میری جان کو بُرا کہنے والوں کا یِہی بدلہ ہے۔
21 لیکن اَے مالک خُداوند! اپنے نام کی خاطِر مُجھ پر
اِحسان کر۔
مُجھے چُھڑا کیونکہ تیری شفقت خُوب ہے۔
22 اِس لِئے کہ مَیں غریب اور مُحتاج ہُوں
اور میرا دِل میرے پہلُو میں زخمی ہے۔
23 مَیں ڈھلتے سایہ کی طرح جاتا رہا۔
مَیں ٹِڈّی کی طرح اُڑا دِیا گیا۔
24 فاقہ کرتے کرتے میرے گُھٹنے کمزور ہو گئے
اور چِکنائی کی کمی سے میرا جِسم سُوکھ گیا۔
25 مَیں اُن کی ملامت کا نِشانہ بن گیا ہُوں۔
جب وہ مُجھے دیکھتے ہیں تو سر ہلاتے ہیں۔
26 اَے خُداوند میرے خُدا! میری مدد کر۔
اپنی شفقت کے مُطابِق مُجھے بچا لے۔
27 تاکہ وہ جان لیں کہ اِس میں تیرا ہاتھ ہے
اور تُو ہی نے اَے خُداوند! یہ کِیا ہے۔
28 وہ لَعنت کرتے رہیں پر تُو برکت دے۔
وہ جب اُٹھیں گے تو شرمِندہ ہوں گے پر تیرا بندہ
شادمان ہو گا۔
29 میرے مُخالِف ذِلّت سے مُلبّس ہو جائیں
اور اپنی ہی شرمِندگی کو چادر کی طرح اوڑھ لیں۔
30 مَیں اپنے مُنہ سے خُداوند کا بڑا شُکر کرُوں گا۔
بلکہ بڑی بِھیڑ میں اُس کی حمد کرُوں گا۔
31 کیونکہ وہ مُحتاج کے دہنے ہاتھ کھڑا ہو گا
تاکہ اُس کی جان پر فتویٰ دینے والوں سے اُسے
رہائی دے۔
110
خُداوند اور اُس کا برگُزیدہ بادشاہ
داؤُد کا مزمُور۔
1 یہوواہ نے میرے خُداوند سے کہا تُو میرے دہنے
ہاتھ بَیٹھ
جب تک کہ مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں
کی چَوکی نہ کر دُوں۔
2 خُداوند تیرے زور کا عصا صِیُّون سے بھیجے گا۔
تُو اپنے دُشمنوں میں حُکمرانی کر۔
3 لشکر کشی کے دِن تیرے لوگ خُوشی سے اپنے آپ
کو پیش کرتے ہیں۔
تیرے جوان پاک آرایش میں ہیں
اور صُبح کے بطن سے شبنم کی مانِند۔
4 خُداوند نے قَسم کھائی ہے اور پِھرے گا نہیں
کہ تُو مَلکِ صِدؔق کے طَور پر
ابد تک کاہِن ہے۔
5 خُداوند تیرے دہنے ہاتھ پر
اپنے قہر کے دِن بادشاہوں کو چھید ڈالے گا۔
6 وہ قَوموں میں عدالت کرے گا۔
وہ لاشوں کے ڈھیر لگا دے گا
اور بُہت سے مُلکوں میں سروں کو کُچلے گا۔
7 وہ راہ میں ندی کا پانی پِئے گا۔
اِس لِئے وہ سر کو بُلند کرے گا۔
111
خُداوند کی حمد
1 خُداوند کی حمد کرو۔
مَیں راست بازوں کی مجلِس میں اور جماعت میں
اپنے سارے دِل سے خُداوند کا شُکر کرُوں گا۔
2 خُداوند کے کام عظِیم ہیں۔
جو اُن میں مسرُور ہیں اُن کی تفتِیش میں
رہتے ہیں۔
3 اُس کے کام جلالی اور پُر حشمت ہیں
اور اُس کی صداقت ابد تک قائِم ہے۔
4 اُس نے اپنے عجائِب کی یادگار قائِم کی ہے۔
خُداوند رحِیم و کرِیم ہے۔
5 وہ اُن کو جو اُس سے ڈرتے ہیں خُوراک دیتا ہے۔
وہ اپنے عہد کو ہمیشہ یاد رکھّے گا۔
6 اُس نے قَوموں کی مِیراث اپنے لوگوں کو دے کر
اپنے کاموں کا زور اُن کو دِکھایا۔
7 اُس کے ہاتھوں کے کام برحق اور پُر عدل ہیں۔
اُس کے تمام قوانِین راست ہیں۔
8 وہ ابدُالآباد قائِم رہیں گے۔
وہ سچّائی اور راستی سے بنائے گئے ہیں۔
9 اُس نے اپنے لوگوں کے لِئے فِدیہ دِیا۔
اُس نے اپنا عہد ہمیشہ کے لِئے ٹھہرایا ہے۔
اُس کا نام قُدُّوس اور مُہِیب ہے۔
10 خُداوند کا خَوف دانائی کا شرُوع ہے۔
اُس کے مُطابِق عمل کرنے والے دانِش مند
ہیں۔
اُس کی سِتایش ابد تک قائِم ہے۔
112
راست باز آدمی کی مُبارِک حالی
1 خُداوند کی حمد کرو۔
مُبارک ہے وہ آدمی جو خُداوند سے ڈرتا ہے
اور اُس کے حُکموں میں خُوب مسرُور رہتا ہے۔
2 اُس کی نسل زمِین پر زورآور ہو گی۔
راست بازوں کی اَولاد مُبارک ہو گی۔
3 مال و دَولت اُس کے گھر میں ہے
اور اُس کی صداقت ابد تک قائِم ہے۔
4 راست بازوں کے لِئے تارِیکی میں نُور چمکتا ہے۔
وہ رحِیم و کرِیم اور صادِق ہے۔
5 رحم دِل اور قرض دینے والا آدمی سعادت مند ہے۔
وہ اپنا کاروبار راستی سے کرے گا۔
6 اُسے کبھی جُنبِش نہ ہو گی۔
صادِق کی یادگار ہمیشہ رہے گی۔
7 وہ بُری خبر سے نہ ڈرے گا۔
خُداوند پر توکُّل کرنے سے اُس کا دِل قائِم ہے۔
8 اُس کا دِل برقرار ہے۔ وہ ڈرنے کا نہیں۔
یہاں تک کہ وہ اپنے مُخالِفوں کو دیکھ لے گا۔
9 اُس نے بانٹا اور مُحتاجوں کو دِیا۔
اُس کی صداقت ہمیشہ قائِم رہے گی۔
اُس کا سِینگ عِزّت کے ساتھ بُلند کِیا جائے گا۔
10 شرِیر یہ دیکھے گا اور کُڑھے گا۔
وہ دانت پِیسے گا اور گُھلے گا۔
شرِیروں کی مُراد نابُود ہو گی۔
113
خُداوند کی شفقت کی تعرِیف اور ثنا
1 خُداوند کی حمد کرو۔
اَے خُداوند کے بندو! حمد کرو۔
خُداوند کے نام کی حمد کرو۔
2 اب سے ابد تک
خُداوند کا نام مُبارک ہو!
3 آفتاب کے طلُوع سے غرُوب تک
خُداوند کے نام کی حمد ہو۔
4 خُداوند سب قَوموں پر بُلند و بالا ہے۔
اُس کا جلال آسمان سے برتر ہے۔
5 خُداوند ہمارے خُدا کی مانِند کَون ہے
جو عالمِ بالا پر تخت نشِین ہے
6 جو فروتنی سے
آسمان و زمِین پر نظر کرتا ہے؟
7 وہ مِسکِین کو خاک سے
اور مُحتاج کو مزبلہ پر سے اُٹھا لیتا ہے
8 تاکہ اُسے اُمرا کے ساتھ
یعنی اپنی قَوم کے اُمرا کے ساتھ بِٹھائے۔
9 وہ بانجھ کا گھر بساتا ہے
اور اُسے بچّوں والی بنا کر دِل شاد کرتا ہے۔
خُداوند کی حمد کرو۔
114
عِیدِ فَسح کا گِیت
1 جب اِسرائیل مِصرؔ سے نِکل آیا۔
یعنی یعقُوبؔ کا گھرانا اجنبی زُبان والی قَوم میں سے
2 تو یہُوداؔہ اُس کا مَقدِس
اور اِسرائیلؔ اُس کی ممُلکِت ٹھہرا۔
3 یہ دیکھتے ہی سمُندر بھاگا۔
یَردن پِیچھے ہٹ گیا۔
4 پہاڑ مینڈھوں کی طرح اُچھلے۔
پہاڑِیاں بھیڑ کے بچّوں کی طرح کُودِیں۔
5 اَے سمُندر! تُجھے کیا ہُؤا کہ تُو بھاگتا ہے؟
اَے یَردن! تُجھے کیا ہُؤا کہ تُو پِیچھے ہٹتا ہے؟
6 اَے پہاڑو! تُم کو کیا ہُؤا کہ تُم مینڈھوں کی طرح اُچھلتے ہو؟
اَے پہاڑِیو! تُم کو کیا ہُؤا کہ تُم بھیڑ کے بچّوں کی طرح کُودتی ہو؟
7 اَے زمِین! تُو رب کے حضُور۔
یعقُوب کے خُدا کے حضُور تھرتھرا
8 جو چٹان کو جِھیل
اور چقماق کو پانی کا چشمہ بنا دیتا ہے۔
115
حقیِقی خُدائے واحد
1 ہم کو نہیں! اَے خُداوند! ہم کو نہیں
بلکہ تُو اپنے ہی نام کو
اور اپنی شفقت اور سچّائی کی خاطِر جلال بخش۔
2 قَومیں کیوں کہیں
اب اُن کا خُدا کہاں ہے؟
3 ہمارا خُدا تو آسمان پر ہے۔
اُس نے جو کُچھ چاہا وُہی کِیا۔
4 اُن کے بُت چاندی اور سونا ہیں
یعنی آدمی کی دست کاری۔
5 اُن کے مُنہ ہیں پر وہ بولتے نہیں۔
آنکھیں ہیں پر وہ دیکھتے نہیں۔
6 اُن کے کان ہیں پر وہ سُنتے نہیں۔
ناک ہیں پر وہ سُونگھتے نہیں۔
7 اُن کے ہاتھ ہیں پر وہ چُھوتے نہیں۔
پاؤں ہیں پر وہ چلتے نہیں
اور اُن کے گلے سے آواز نہیں نِکلتی۔
8 اُن کے بنانے والے اُن ہی کی مانِند ہو جائیں گے۔
بلکہ وہ سب جو اُن پر بھروسا رکھتے ہیں۔
9 اَے اِسرائیل! خُداوند پر توکُّل کر۔
وُہی اُن کی کُمک اور اُن کی سِپر ہے۔
10 اَے ہارُون کے گھرانے! خُداوند پر توکُّل کرو۔
وُہی اُن کی کُمک اور اُن کی سِپر ہے۔
11 اَے خُداوند سے ڈرنے والو! خُداوند پر توکُّل کرو۔
وُہی اُن کی کُمک اور اُن کی سِپر ہے۔
12 خُداوند نے ہم کو یاد رکھّا۔ وہ برکت دے گا۔
وہ اِسرائیل کے گھرانے کو برکت دے گا۔
وہ ہارُون کے گھرانے کو برکت دے گا۔
13 جو خُداوند سے ڈرتے ہیں کیا چھوٹے کیا بڑے
وہ اُن سب کو برکت دے گا۔
14 خُداوند تُم کو بڑھائے۔
تُم کو اور تُمہاری اَولاد کو۔
15 تُم خُداوند کی طرف سے مُبارک ہو
جِس نے آسمان اور زمِین کو بنایا۔
16 آسمان تو خُداوند کا آسمان ہے
لیکن زمِین اُس نے بنی آدمؔ کو دی ہے۔
17 مُردے خُداوند کی سِتایش نہیں کرتے
نہ وہ جو خاموشی کے عالم میں اُتر جاتے ہیں
18 لیکن ہم اب سے ابد تک
خُداوند کو مُبارک کہیں گے۔
خُداوند کی حمد کرو۔
116
مَوت سے بچایا گیا ایک آدمی خُدا کی حمد کرتا ہے
1 مَیں خُداوند سے مُحبّت رکھتا ہُوں
کیونکہ اُس نے میری فریاد اور مِنّت سُنی ہے۔
2 چُونکہ اُس نے میری طرف کان لگایا
اِس لِئے مَیں عُمر بھر اُس سے دُعا کرُوں گا۔
3 مَوت کی رسِیّوں نے مُجھے جکڑ لِیا
اور پاتال کے درد مُجھ پر آ پڑے۔
مَیں دُکھ اور غم میں گرِفتار ہُؤا۔
4 تب مَیں نے خُداوند سے دُعا کی
کہ اَے خُداوند! مَیں تیری منّت کرتا ہُوں میری
جان کو رہائی بخش۔
5 خُداوند صادِق اور کرِیم ہے۔
ہمارا خُدا رحِیم ہے۔
6 خُداوند سادہ لوگوں کی حِفاظت کرتا ہے۔
مَیں پست ہو گیا تھا۔ اُسی نے مُجھے بچا لِیا۔
7 اَے میری جان! پِھر مُطمِئن ہو
کیونکہ خُداوند نے تُجھ پر اِحسان کِیا ہے۔
8 اِس لِئے کہ تُو نے میری جان کو مَوت سے
میری آنکھوں کو آنسُو بہانے سے
اور میرے پاؤں کو پِھسلنے سے بچایا ہے۔
9 مَیں زِندوں کی زمِین میں
خُداوند کے حضُور چلتا رہُوں گا۔
10 مَیں اِیمان رکھتا ہُوں۔ اِس لِئے یہ کہُوں گا
مَیں بڑی مُصِیبت میں تھا۔
11 مَیں نے جلد بازی سے کہہ دِیا
کہ سب آدمی جُھوٹے ہیں۔
12 خُداوند کی سب نِعمتیں جو مُجھے مِلیں
مَیں اُن کے عِوض میں اُسے کیا دُوں؟
13 مَیں نجات کا پیالہ اُٹھا کر
خُداوند سے دُعا کرُوں گا۔
14 مَیں خُداوند کے حضُور اپنی مَنّتیں
اُس کی ساری قَوم کے سامنے پُوری کرُوں گا۔
15 خُداوند کی نِگاہ میں
اُس کے مُقدّسوں کی مَوت گِراں قدر ہے۔
16 آہ! اَے خُداوند! مَیں تیرا بندہ ہُوں۔
مَیں تیرا بندہ تیری لَونڈی کا بیٹا ہُوں۔
تُو نے میرے بندھن کھولے ہیں۔
17 مَیں تیرے حضُور شُکرگُذاری کی قُربانی چڑھاؤُں گا
اور خُداوند سے دُعا کرُوں گا۔
18 مَیں خُداوند کے حضُور اپنی مَنّتیں
اُس کی ساری قَوم کے سامنے پُوری کرُوں گا۔
19 خُداوند کے گھر کی بارگاہوں میں
تیرے اندر اَے یروشلِیم!
خُداوند کی حمد کرو۔
117
خُداوند کی حمد
1 اَے قَومو! سب خُداوند کی حمد کرو۔
اَے اُمّتو! سب اُس کی سِتایش کرو۔
2 کیونکہ ہم پر اُس کی بڑی شفقت ہے
اور خُداوند کی سچّائی ابدی ہے۔
خُداوند کی حمد کرو۔
118
فتح کے لِئے شُکرگُذاری کی دُعا
1 خُداوند کا شُکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے
اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔
2 اِسرائیل اب کہے
اُس کی شفقت ابدی ہے۔
3 ہارُون کا گھرانا اب کہے
اُس کی شفقت ابدی ہے۔
4 خُداوند سے ڈرنے والے اب کہیں
اُس کی شفقت ابدی ہے۔
5 مَیں نے مُصِیبت میں خُداوند سے دُعا کی۔
خُداوند نے مُجھے جواب دِیا اور کُشادگی بخشی۔
6 خُداوند میری طرف ہے مَیں نہیں ڈرنے کا۔
اِنسان میرا کیا کر سکتا ہے؟
7 خُداوند میری طرف میرے مددگاروں میں ہے۔
اِس لِئے مَیں اپنے عداوت رکھنے والوں کو دیکھ لُوں گا۔
8 خُداوند پر توکُّل کرنا
اِنسان پر بھروسا رکھنے سے بہتر ہے۔
9 خُداوند پر توکُّل کرنا
اُمرا پر بھروسا رکھنے سے بہتر ہے۔
10 سب قَوموں نے مُجھے گھیر لِیا۔
مَیں خُداوند کے نام سے اُن کو کاٹ ڈالُوں گا۔
11 اُنہوں نے مُجھے گھیر لِیا۔ بیشک گھیر لِیا۔
مَیں خُداوند کے نام سے اُن کو کاٹ ڈالُوں گا۔
12 اُنہوں نے شہد کی مکھِّیوں کی طرح مُجھے گھیر لِیا۔ وہ
کانٹوں کی آگ کی طرح بُجھ گئے۔
مَیں خُداوند کے نام سے اُن کو کاٹ ڈالُوں گا۔
13 تُو نے مُجھے زور سے دھکیل دِیا کہ گِر پڑُوں
لیکن خُداوند نے میری مدد کی۔
14 خُداوند میری قُوّت اور میرا گِیت ہے۔
وُہی میری نجات ہُؤا۔
15 صادِقوں کے خَیموں میں شادمانی اور نجات کی راگنی ہے۔
خُداوند کا دہنا ہاتھ دِلاوری کرتا ہے۔
16 خُداوند کا دہنا ہاتھ بُلند ہُؤا ہے۔
خُداوند کا دہنا ہاتھ دِلاوری کرتا ہے۔
17 مَیں مرُوں گا نہیں بلکہ جِیتا رہُوں گا
اور خُداوند کے کاموں کا بیان کرُوں گا۔
18 خُداوند نے مُجھے سخت تنبِیہ تو کی
لیکن مَوت کے حوالہ نہیں کِیا۔
19 صداقت کے پھاٹکوں کو میرے لِئے کھول دو۔
مَیں اُن سے داخِل ہو کر خُداوند کا شُکر کرُوں گا۔
20 خُداوند کا پھاٹک یہی ہے۔
صادِق اِس سے داخِل ہوں گے۔
21 مَیں تیرا شُکر کرُوں گا کیونکہ تُو نے مُجھے جواب دِیا۔
اور خُود میری نجات بنا ہے۔
22 جِس پتھّر کو مِعماروں نے ردّ کِیا
وُہی کونے کے سرے کا پتھّر ہو گیا۔
23 یہ خُداوند کی طرف سے ہُؤا
اور ہماری نظر میں عجِیب ہے۔
24 یہ وُہی دِن ہے جِسے خُداوند نے مُقرّر کِیا۔
ہم اِس میں شادمان ہوں گے اور خُوشی منائیں گے۔
25 آہ! اَے خُداوند! بچا لے۔
آہ! اَے خُداوند! خُوش حالی بخش۔
26 مُبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے۔
ہم نے تُم کو خُداوند کے گھر سے دُعا دی ہے۔
27 یہوواہ ہی خُدا ہے اور اُسی نے ہم کو نُور بخشا ہے۔
قُربانی کو مذبح کے سِینگوں سے رسِّیوں سے باندھو۔
28 تُو میرا خُدا ہے۔ مَیں تیرا شُکر کرُوں گا۔
تُو میرا خُدا ہے۔ مَیں تیری تمجِید کرُوں گا۔
29 خُداوند کا شُکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے
اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔
119
خُداوند کی شرِیعت
1 (الف) مُبارک ہیں وہ جو کامِل رفتار ہیں۔
جو خُداوند کی شرِیعت پر عمل کرتے ہیں۔
2 مُبارک ہیں وہ جو اُس کی شہادتوں کو مانتے ہیں
اور پُورے دِل سے اُس کے طالِب ہیں۔
3 اُن سے ناراستی نہیں ہوتی۔
وہ اُس کی راہوں پر چلتے ہیں۔
4 تُو نے اپنے قوانِین دِئے ہیں
تاکہ ہم دِل لگا کر اُن کو مانیں۔
5 کاش کہ تیرے آئِین ماننے کے لِئے
میری روِشیں درُست ہو جائیں!
6 جب مَیں تیرے سب احکام کا لِحاظ رکھُّوں گا
تو شرمِندہ نہ ہُوں گا۔
7 جب مَیں تیری صداقت کے احکام سِیکھ لُوں گا
تو سچّے دِل سے تیرا شُکر ادا کرُوں گا۔
8 مَیں تیرے آئِین مانُوں گا۔
مُجھے بالکُل ترک نہ کر دے۔
خُداوند کی شرِیعت کی فرمانبرداری
9 (بیتھ) جوان اپنی روِش کِس طرح پاک رکھّے؟
تیرے کلام کے مُطابِق اُس پر نِگاہ رکھنے سے۔
10 مَیں پُورے دِل سے تیرا طالِب ہُؤا ہُوں
مُجھے اپنے فرمان سے بھٹکنے نہ دے۔
11 مَیں نے تیرے کلام کو اپنے دِل میں رکھ لِیا ہے
تاکہ مَیں تیرے خِلاف گُناہ نہ کرُوں۔
12 اَے خُداوند! تُو مُبارک ہے۔
مُجھے اپنے آئِین سِکھا۔
13 مَیں نے اپنے لبوں سے
تیرے فرمُودہ احکام کو بیان کِیا۔
14 مُجھے تیری شہادتوں کی راہ سے اَیسی شادمانی ہُوئی
جَیسی ہر طرح کی دَولت سے ہوتی ہے۔
15 مَیں تیرے قوانِین پر غَور کرُوں گا۔
اور تیری راہوں کا لِحاظ رکھُّوں گا۔
16 مَیں تیرے آئِین میں مسرُور رہُوں گا۔
مَیں تیرے کلام کو نہ بُھولُوں گا۔
خُداوند کی شرِیعت میں خُوشنُودی
17 (گِیمل) اپنے بندہ پر اِحسان کر تاکہ مَیں جِیتا رہُوں
اور تیرے کلام کو مانتا رہُوں۔
18 میری آنکھیں کھول دے
تاکہ مَیں تیری شرِیعت کے عجائِب دیکھوں۔
19 مَیں زمِین پر مُسافِر ہُوں۔
اپنے فرمان مُجھ سے پوشِیدہ نہ رکھ۔
20 میرا دِل تیرے احکام کے اِشتیاق میں
ہر وقت تڑپتا رہتا ہے۔
21 تُو نے اُن ملعُون مغرُوروں کو جِھڑک دِیا
جو تیرے فرمان سے بھٹکتے رہتے ہیں۔
22 ملامت اور حقارت کو مُجھ سے دُور کر دے
کیونکہ مَیں نے تیری شہادتیں مانی ہیں
23 اُمرا بھی بَیٹھ کر میرے خِلاف باتیں کرتے رہے
لیکن تیرا بندہ تیرے آئِین پر دِھیان لگائے رہا۔
24 تیری شہادتیں مُجھے مرغُوب
اور میری مُشِیر ہیں۔
خُداوند کی شرِیعت کی فرمانبرداری کا قصد
25 (دالتھ) میری جان خاک میں مِل گئی۔
تُو اپنے کلام کے مُطابِق مُجھے زِندہ کر۔
26 مَیں نے اپنی روِشوں کا اِظہار کِیا اور تُو نے مُجھے جواب دِیا۔
مُجھے اپنے آئِین کی تعلِیم دے۔
27 اپنے قوانِین کی راہ مُجھے سمجھا دے
اور مَیں تیرے عجائِب پر دِھیان کرُوں گا۔
28 غم کے مارے میری جان گُھلی جاتی ہے۔
اپنے کلام کے مُطابِق مُجھے تقوِیت دے۔
29 جُھوٹ کی راہ سے مُجھے دُور رکھ
اور مُجھے اپنی شرِیعت عِنایت فرما۔
30 مَیں نے وفاداری کی راہ اِختیار کی ہے۔
مَیں نے تیرے احکام اپنے سامنے رکھّے ہیں۔
31 مَیں تیری شہادتوں سے لِپٹا ہُؤا ہُوں۔
اَے خُداوند! مُجھے شرمِندہ نہ ہونے دے۔
32 جب تُو میرا حَوصلہ بڑھائے گا
تو مَیں تیرے فرمان کی راہ میں دَوڑُوں گا۔
شرِیعت کو سمجھنے کی درخواست
33 (ھے) اَے خُداوند! مُجھے اپنے آئِین کی راہ بتا
اور مَیں آخِر تک اُس پر چلُوں گا۔
34 مُجھے فہم عطا کر اور مَیں تیری شرِیعت پر چلُوں گا۔
بلکہ مَیں پُورے دِل سے اُس کو مانُوں گا۔
35 مُجھے اپنے فرمان کی راہ پر چلا
کیونکہ اِسی میں میری خُوشی ہے۔
36 میرے دِل کو اپنی شہادتوں کی طرف رجُوع دِلا
نہ کہ لالچ کی طرف۔
37 میری آنکھوں کو بُطلان پر نظر کرنے سے باز رکھ
اور مُجھے اپنی راہوں میں زِندہ کر۔
38 اپنے بندہ کے لِئے اپنا وہ قَول پُورا کر
جِس سے تیرا خَوف پَیدا ہوتا ہے۔
39 میری ملامت کو جِس سے مَیں ڈرتا ہُوں دُور کر دے
کیونکہ تیرے احکام بھلے ہیں۔
40 دیکھ! مَیں تیرے قوانِین کا مُشتاق رہا ہُوں۔
مُجھے اپنی صداقت سے زِندہ کر۔
خُداوند کی شرِیعت پر بھروسا
41 (واو) اَے خُداوند! تیرے قَول کے مُطابِق
تیری شفقت اور تیری نجات مُجھے نصِیب ہوں۔
42 تب مَیں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکُوں گا
کیونکہ مَیں تیرے کلام پر بھروسا رکھتا ہُوں۔
43 اور حق بات کو میرے مُنہ سے ہرگِز جُدا نہ ہونے دے
کیونکہ میرا اِعتماد تیرے احکام پر ہے۔
44 پس مَیں ابدُلآباد
تیری شرِیعت کو مانتا رہُوں گا۔
45 اور مَیں آزادی سے چلُوں گا
کیونکہ مَیں تیرے قوانِین کا طالِب رہا ہُوں
46 مَیں بادشاہوں کے سامنے تیری شہادتوں کا بیان کرُوں گا
اور شرمِندہ نہ ہُوں گا۔
47 تیرے فرمان مُجھے عزِیز ہیں۔
مَیں اُن میں مسرُور رہُوں گا۔
48 مَیں اپنے ہاتھ تیرے فرمان کی طرف جو مُجھے عزِیز ہے اُٹھاؤُں گا
اور تیرے آئِین پر دِھیان کرُوں گا۔
خُداوند کی شرِیعت پر اِعتماد
49 (زَین) جو کلام تُو نے اپنے بندہ سے کِیا اُسے یاد کر
کیونکہ تُو نے مُجھے اُمّید دِلائی ہے۔
50 میری مُصِیبت میں یہی میری تسلّی ہے
کہ تیرے کلام نے مُجھے زِندہ کِیا ہے۔
51 مغرُوروں نے مُجھے بُہت ٹھٹھّوں میں اُڑایا۔
تَو بھی مَیں نے تیری شرِیعت سے کنارہ نہیں کِیا۔
52 اَے خُداوند! مَیں تیرے قدِیم احکام کو یاد کرتا
اور اِطمِینان پاتا رہا ہُوں۔
53 اُن شرِیروں کے سبب سے جو تیری شرِیعت کو ترک کرتے ہیں۔
مَیں سخت طَیش میں آ گیا ہُوں۔
54 میرے مُسافرخانہ میں
تیرے آئِین میرا گِیت رہے ہیں۔
55 اَے خُداوند! رات کو مَیں نے تیرا نام یاد کِیا ہے
اور تیری شرِیعت پر عمل کِیا ہے۔
56 یہ میرے واسطے اِس لِئے ہُؤا
کہ مَیں نے تیرے قوانِین کو مانا۔
خُداوند کی شرِیعت کا اِشتیاق
57 (خیتھ) خُداوند میرا بخرہ ہے۔
مَیں نے کہا ہے مَیں تیری باتیں مانُوں گا۔
58 مَیں پُورے دِل سے تیرے کرم کا خواہاں ہُؤا۔
اپنے کلام کے مُطابِق مُجھ پر رحم کر۔
59 مَیں نے اپنی راہوں پر غَور کِیا
اور تیری شہادتوں کی طرف اپنے قدم موڑے۔
60 مَیں نے تیرے فرمان ماننے میں
جلدی کی اور دیر نہ لگائی۔
61 شرِیروں کی رسِّیوں نے مُجھے جکڑ لِیا۔
پر مَیں تیری شرِیعت کو نہ بُھولا۔
62 تیری صداقت کے احکام کے لِئے
مَیں آدھی رات کو تیرا شُکر کرنے کو اُٹُھوں گا۔
63 مَیں اُن سب کا ساتھی ہُوں جو تُجھ سے ڈرتے ہیں
اور اُن کا جو تیرے قوانِین کو مانتے ہیں۔
64 اَے خُداوند! زمِین تیری شفقت سے معمُور ہے۔
مُجھے اپنے آئین سِکھا۔
خُداوند کی شرِیعت کی قدر و قِیمت
65 (طیتھ) اَے خُداوند! تُو نے اپنے کلام کے مُطابِق
اپنے بندہ کے ساتھ بھلائی کی ہے۔
66 مُجھے صحیح اِمتیاز اور دانِش سِکھا
کیونکہ مَیں تیرے فرمان پر اِیمان لایا ہُوں۔
67 مَیں مُصِیبت اُٹھانے سے پہلے گُمراہ تھا
پر اب تیرے کلام کو مانتا ہُوں۔
68 تُو بھلا ہے اور بھلائی کرتا ہے۔
مُجھے اپنے آئین سِکھا۔
69 مغرُوروں نے مُجھ پر بُہتان باندھا ہے۔
مَیں پُورے دِل سے تیرے قوانِین کو مانُوں گا۔
70 اُن کے دِل چِکنائی سے فربہ ہو گئے
لیکن مَیں تیری شرِیعت میں مسرُور ہُوں۔
71 اچھّا ہُؤا کہ مَیں نے مُصِیبت اُٹھائی
تاکہ تیرے آئِین سِیکھ لُوں۔
72 تیرے مُنہ کی شرِیعت میرے لِئے
سونے چاندی کے ہزاروں سِکّوں سے بہتر ہے۔
خُداوند کی شرِیعت کا عدل و اِنصاف
73 (یود) تیرے ہاتھوں نے مُجھے بنایا اور ترتِیب دی۔
مُجھے فہم عطا کر تاکہ تیرے فرمان سِیکھ لُوں۔
74 تُجھ سے ڈرنے والے مُجھے دیکھ کر خُوش ہوں گے۔
اِس لِئے کہ مُجھے تیرے کلام پر اِعتماد ہے۔
75 اَے خُداوند! مَیں تیرے احکام کی صداقت کو جانتا ہُوں
اور یہ کہ وفاداری ہی سے تُو نے مُجھے دُکھ میں ڈالا۔
76 اُس کلام کے مُطابِق جو تُو نے اپنے بندہ سے کِیا
تیری شفقت میری تسلّی کا باعِث ہو۔
77 تیری رحمت مُجھے نصِیب ہو تاکہ مَیں زِندہ رہُوں۔
کیونکہ تیری شرِیعت میری خُوشنُودی ہے۔
78 مغرُور شرمِندہ ہوں کیونکہ اُنہوں نے ناحق مُجھے گِرایا۔
لیکن مَیں تیرے قوانِین پر دِھیان کرُوں گا۔
79 تُجھ سے ڈرنے والے میری طرف رجُوع ہوں
تو وہ تیری شہادتوں کو جان لیں گے۔
80 میرا دِل تیرے آئِین ماننے میں کامِل رہے
تاکہ مَیں شرمِندگی نہ اُٹھاؤُں۔
رہائی کے لِئے اِلتجا
81 (کاف) میری جان تیری نجات کے لِئے بے تاب ہے
لیکن مُجھے تیرے کلام پر اِعتماد ہے۔
82 تیرے کلام کے اِنتظار میں میری آنکھیں رہ گئِیں۔
مَیں یہی کہتا رہا کہ تُو مُجھے کب تسلّی دے گا؟
83 مَیں اُس مشکِیزہ کی مانِند ہو گیا جو دُھوئیں میں ہو
تَو بھی مَیں تیرے آئِین کو نہیں بُھولتا۔
84 تیرے بندہ کے دِن ہی کِتنے ہیں؟
تُو میرے ستانے والوں پر کب فتویٰ دے گا؟
85 مغرُوروں نے جو تیری شرِیعت کے پَیرو نہیں
میرے لِئے گڑھے کھودے ہیں۔
86 تیرے سب فرمان برحق ہیں۔
وہ ناحق مُجھے ستاتے ہیں۔ تُو میری مدد کر۔
87 اُنہوں نے مُجھے زمِین پر سے فنا کر ہی ڈالا تھا
لیکن مَیں نے تیرے قوانِین کو ترک نہ کِیا۔
88 تُو مُجھے اپنی شفقت کے مُطابِق زِندہ کر
تو مَیں تیرے مُنہ کی شہادت کو مانُوں گا۔
خُداوند کی شرِیعت پر اِیمان
89 (لامد) اَے خُداوند! تیرا کلام
آسمان پر ابد تک قائِم ہے۔
90 تیری وفاداری پُشت در پُشت ہے۔
تُو نے زمِین کو قِیام بخشا اور وہ قائِم ہے۔
91 وہ آج تیرے احکام کے مُطابِق قائِم ہیں
کیونکہ سب چِیزیں تیری خِدمت گُذار ہیں۔
92 اگر تیری شرِیعت میری خُوشنُودی نہ ہوتی
تو مَیں اپنی مُصِیبت میں ہلاک ہو جاتا۔
93 مَیں تیرے قوانِین کو کبھی نہ بُھولُوں گا
کیونکہ تُو نے اُن ہی کے وسِیلہ سے مُجھے زِندہ کِیا ہے۔
94 مَیں تیرا ہی ہُوں۔ مُجھے بچا لے
کیونکہ مَیں تیرے قوانِین کا طالِب رہا ہُوں۔
95 شرِیر مُجھے ہلاک کرنے کو گھات میں لگے رہے
لیکن مَیں تیری شہادتوں پر غَور کرُوں گا۔
96 مَیں نے دیکھا کہ ہر کمال کی اِنتہا ہے
لیکن تیرا حُکم نہایت وسِیع ہے۔
خُداوند کی شرِیعت کے لِئے مُحبّت
97 (میم) آہ! مَیں تیری شرِیعت سے کَیسی مُحبّت رکھتا ہُوں۔
مُجھے دِن بھر اُسی کا دِھیان رہتا ہے۔
98 تیرے فرمان مُجھے میرے دُشمنوں سے زِیادہ دانِش مند بناتے ہیں۔
کیونکہ وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہیں۔
99 مَیں اپنے سب اُستادوں سے عقل مند ہُوں
کیونکہ تیری شہادتوں پر میرا دِھیان رہتا ہے۔
100 مَیں عُمر رسِیدہ لوگوں سے زِیادہ سمجھ رکھتا ہُوں
کیونکہ مَیں نے تیرے قوانِین کو مانا ہے۔
101 مَیں نے ہر بُری راہ سے اپنے قدم روک رکھّے ہیں
تاکہ تیری شرِیعت پر عمل کرُوں۔
102 مَیں نے تیرے احکام سے کنارہ نہیں کِیا
کیونکہ تُو نے مُجھے تعلِیم دی ہے۔
103 تیری باتیں میرے لِئے کَیسی شِیرین ہیں!
وہ میرے مُنہ کو شہد سے بھی مِیٹھی معلُوم ہوتی ہیں۔
104 تیرے قوانِین سے مُجھے فہم حاصِل ہوتا ہے
اِس لِئے مُجھے ہر جُھوٹی راہ سے نفرت ہے۔
خُداوند کی شرِیعت سے رَوشنی
105 (نون) تیرا کلام میرے قدموں کے لِئے چراغ
اور میری راہ کے لِئے رَوشنی ہے۔
106 مَیں نے قَسم کھائی ہے اور اِس پر قائِم ہُوں
کہ تیری صداقت کے احکام پر عمل کرُوں گا۔
107 مَیں بڑی مُصِیبت میں ہُوں۔
اَے خُداوند! اپنے کلام کے مُطابِق مُجھے زِندہ کر۔
108 اَے خُداوند! میرے مُنہ سے رضا کی قُربانِیاں قبُول فرما
اور مُجھے اپنے احکام کی تعلِیم دے۔
109 میری جان ہمیشہ ہتھیلی پر ہے
تَو بھی مَیں تیری شرِیعت کو نہیں بُھولتا۔
110 شرِیروں نے میرے لِئے پھندا لگایا ہے
تَو بھی مَیں تیرے قوانِین سے نہیں بھٹکا۔
111 مَیں نے تیری شہادتوں کو اپنی ابدی مِیراث بنایا ہے
کیونکہ اُن سے میرے دِل کو شادمانی ہوتی ہے۔
112 مَیں نے ہمیشہ کے لِئے آخِر تک
تیرے آئِین ماننے پر دِل لگایا ہے۔
خُداوند کی شرِیعت میں سلامتی
113 (سامک) مُجھے دو دِلوں سے نفرت ہے۔
پر تیری شرِیعت سے مُحبّت رکھتا ہُوں۔
114 تُو میرے چِھپنے کی جگہ اور میری سِپر ہے۔
مُجھے تیرے کلام پر اِعتماد ہے۔
115 اَے بدکردارو! مُجھ سے دُور ہو جاؤ
تاکہ مَیں اپنے خُدا کے فرمان پر عمل کرُوں۔
116 تُو اپنے کلام کے مُطابِق مُجھے سنبھال تاکہ زِندہ رہُوں
اور مُجھے اپنے اِعتماد سے شرمِندگی نہ اُٹھانے دے۔
117 مُجھے سنبھال اور مَیں سلامت رہُوں گا
اور ہمیشہ تیرے آئِین کا لِحاظ رکھُّوں گا۔
118 تُو نے اُن سب کو حقِیر جانا ہے جو تیرے آئِین سے بھٹک جاتے ہیں
کیونکہ اُن کی دغابازی عبث ہے۔
119 تُو زمِین کے سب شرِیروں کو مَیل کی طرح چھانٹ دیتا ہے۔
اِس لِئے مَیں تیری شہادتوں کو عزِیز رکھتا ہُوں۔
120 میرا جِسم تیرے خَوف سے کانپتا ہے
اور مَیں تیرے احکام سے ڈرتا ہُوں۔
خُداوند کی شرِیعت کی فرمانبرداری
121 (عَین) مَیں نے عدل اور اِنصاف کِیا ہے۔
مُجھے اُن کے حوالہ نہ کر جو مُجھ پر ظُلم کرتے ہیں۔
122 بھلائی کے لِئے اپنے بندہ کا ضامِن ہو۔
مغرُور مُجھ پر ظُلم نہ کریں۔
123 تیری نجات اور تیری صداقت کے کلام کے اِنتظار میں
میری آنکھیں رہ گئِیں۔
124 اپنے بندہ سے اپنی شفقت کے مُطابِق سلُوک کر
اور مُجھے اپنے آئِین سِکھا۔
125 مَیں تیرا بندہ ہُوں۔ مُجھ کو فہم عطا کر
تاکہ تیری شہادتوں کو سمُجھ لُوں۔
126 اب وقت آ گیا کہ خُداوند کام کرے
کیونکہ اُنہوں نے تیری شرِیعت کو باطِل کر دِیا ہے۔
127 اِس لِئے مَیں تیرے فرمان کو سونے سے
بلکہ کُندن سے بھی زِیادہ عزِیز رکھتا ہُوں۔
128 اِس لِئے مَیں تیرے سب قوانِین کو برحق جانتا ہُوں
اور ہر جُھوٹی راہ سے مُجھے نفرت ہے۔
خُداوند کی شرِیعت کی تعمِیل کی خواہِش
129 (پے) تیری شہادتیں عجِیب ہیں
اِس لِئے میرا دِل اُن کو مانتا ہے۔
130 تیری باتوں کی تشرِیح نُور بخشتی ہے۔
وہ سادہ دِلوں کو عقل مند بناتی ہے۔
131 مَیں خُوب مُنہ کھول کر ہانپتا رہا
کیونکہ مَیں تیرے فرمان کا مُشتاق تھا۔
132 میری طرف توجُّہ کر اور مُجھ پر رحم فرما
جَیسا تیرے نام سے مُحبّت رکھنے والوں کا حق ہے۔
133 اپنے کلام میں میری رہنمائی کر۔
کوئی بدکاری مُجھ پر تسلُّط نہ پائے۔
134 اِنسان کے ظُلم سے مُجھے چُھڑا لے
تو تیرے قوانین پر عمل کرُوں گا۔
135 اپنا چہرہ اپنے بندہ پر جلوہ گر فرما
اور مُجھے اپنے آئِین سِکھا۔
136 میری آنکھوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں۔
اِس لِئے کہ لوگ تیری شرِیعت کو نہیں مانتے۔
خُداوند کی شرِیعت کا عدل و اِنصاف
137 (صادے) اَے خُداوند! تُو صادِق ہے
اور تیرے احکام برحق ہیں۔
138 تُو نے صداقت اور کمال وفاداری سے
اپنی شہادتوں کو ظاہِر فرمایا ہے۔
139 میری غَیرت مُجھے کھا گئی
کیونکہ میرے مُخالِف تیری باتیں بُھول گئے
140 تیرا کلام بِالکُل خالِص ہے
اِس لِئے تیرے بندہ کو اُس سے مُحبّت ہے۔
141 مَیں ادنیٰ اور حقِیر ہُوں
تَو بھی مَیں تیرے قوانِین کو نہیں بُھولتا۔
142 تیری صداقت ابدی صداقت ہے
اور تیری شرِیعت برحق ہے۔
143 مَیں تکلِیف اور عذاب میں مُبتلا ہُوں
تَو بھی تیرے فرمان میری خُوشنُودی ہیں۔
144 تیری شہادتیں ہمیشہ راست ہیں۔
مُجھے فہم عطا کر تو مَیں زِندہ رہُوں گا
رِہائی کے لِئے اِلتجا
145 (قوف) مَیں پُورے دِل سے دُعا کرتا ہُوں۔
اَے خُداوند! مُجھے جواب دے۔
مَیں تیرے آئِین پر عمل کرُوں گا۔
146 مَیں نے تُجھ سے دُعا کی ہے۔ مُجھے بچا لے
اور مَیں تیری شہادتوں کو مانُوں گا۔
147 مَیں نے پَو پھٹنے سے پہلے فریاد کی۔
مُجھے تیرے کلام پر اِعتماد ہے۔
148 میری آنکھیں رات کے ہر پہر سے پہلے کُھل گئِیں
تاکہ تیرے کلام پر دِھیان کرُوں۔
149 اپنی شفقت کے مُطابِق میری فریاد سُن۔
اَے خُداوند! اپنے احکام کے مُطابِق مُجھے زِندہ کر۔
150 جو شرارت کے درپَے رہتے ہیں وہ نزدِیک آ گئے۔
وہ تیری شرِیعت سے دُور ہیں۔
151 اَے خُداوند! تُو نزدِیک ہے
اور تیرے سب فرمان برحق ہیں۔
152 تیری شہادتوں سے مُجھے قدِیم سے معلُوم ہُؤا
کہ تُو نے اُن کو ہمیشہ کے لِئے قائِم کِیا ہے۔
مدد کے لِئے اِلتجا
153 (ریش) میری مُصِیبت کا خیال کر اور مُجھے چُھڑا
کیونکہ مَیں تیری شرِیعت کو نہیں بُھولتا۔
154 میری وکالت کر اور میرا فِدیہ دے۔
اپنے کلام کے مُطابِق مُجھے زِندہ کر۔
155 نجات شرِیروں سے دُور ہے
کیونکہ وہ تیرے آئِین کے طالِب نہیں ہیں۔
156 اَے خُداوند! تیری رحمت بڑی ہے۔
اپنے احکام کے مُطابِق مُجھے زِندہ کر۔
157 میرے ستانے والے اور مُخالِف بُہت ہیں
تَو بھی مَیں نے تیری شہادتوں سے کنارہ نہ کِیا۔
158 مَیں دغابازوں کو دیکھ کر ملُول ہُؤا
کیونکہ وہ تیرے کلام کو نہیں مانتے۔
159 خیال فرما کہ مُجھے تیرے قوانِین سے کیسی مُحبّت ہے۔
اَے خُداوند! اپنی شفقت کے مُطابِق مُجھے زِندہ کر۔
160 تیرے کلام کا خُلاصہ سچّائی ہے۔
تیری صداقت کے کُل احکام ابدی ہیں۔
خُداوند کی شرِیعت کے لِئے مخصُوصیّت
161 (شِین) اُمرا نے مُجھے بے سبب ستایا ہے
لیکن میرے دِل میں تیری باتوں کا خَوف ہے۔
162 مَیں بڑی لُوٹ پانے والے کی مانِند
تیرے کلام سے خُوش ہُوں۔
163 مُجھے جُھوٹ سے نفرت اور کراہِیت ہے
لیکن تیری شرِیعت سے مُحبّت ہے۔
164 مَیں تیری صداقت کے احکام کے سبب سے
دِن میں سات بار تیری سِتایش کرتا ہُوں۔
165 تیری شرِیعت سے مُحبّت رکھنے والے مُطمئن ہیں۔
اُن کے لِئے ٹھوکر کھانے کا کوئی مَوقع نہیں۔
166 اَے خُداوند! مَیں تیری نجات کا اُمیدوار رہا ہُوں
اور تیرے فرمان بجا لایا ہُوں۔
167 میری جان نے تیری شہادتیں مانی ہیں
اور وہ مُجھے نہایت عزِیز ہیں۔
168 مَیں نے تیرے قوانِین اور شہادتوں کو مانا ہے۔
کیونکہ میری سب روِشیں تیرے سامنے ہیں۔
مدد کے لِئے اِلتجا
169 (تاو) اَے خُداوند! میری فریاد تیرے حضُور پُہنچے۔
اپنے کلام کے مُطابِق مُجھے فہم عطا کر۔
170 میری اِلتجا تیرے حضُور پُہنچے
اپنے کلام کے مُطابِق مُجھے چُھڑا۔
171 میرے لبوں سے تیری سِتایش ہو
کیونکہ تُو مُجھے اپنے آئِین سِکھاتا ہے۔
172 میری زُبان تیرے کلام کا گِیت گائے
کیونکہ تیرے سب فرمان برحق ہیں۔
173 تیرا ہاتھ میری مدد کو تیّار رہے
کیونکہ مَیں نے تیرے قوانِین اِختیار کِئے ہیں۔
174 اَے خُداوند! مَیں تیری نجات کا مُشتاق رہا ہُوں
اور تیری شرِیعت میری خُوشنُودی ہے۔
175 میری جان زِندہ رہے تو وہ تیری سِتایش کرے گی
اور تیرے احکام میری مدد کریں۔
176 مَیں کھوئی ہُوئی بھیڑ کی مانِند بھٹک گیا ہُوں۔
اپنے بندہ کو تلاش کر
کیونکہ مَیں تیرے فرمان کو نہیں بُھولتا۔
120
مدد کے لِئے اِلتجا
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔
1 مَیں نے مُصِیبت میں خُداوند سے فریاد کی
اور اُس نے مُجھے جواب دِیا۔
2 جُھوٹے ہونٹوں اور دغاباز زُبان سے
اے خُداوند! میری جان کو چُھڑا۔
3 اَے دغاباز زُبان!
تُجھے کیا دِیا جائے اور تُجھ سے اَور کیا کِیا جائے؟
4 زبردست کے تیز تِیر۔
جھاؤ کے انگاروں کے ساتھ۔
5 مُجھ پر افسوس کہ مَیں مسک میں بستا
اور قِیدار کے خَیموں میں رہتا ہُوں۔
6 صُلح کے دُشمن کے ساتھ رہتے ہُوئے
مُجھے بڑی مُدّت ہو گئی۔
7 مَیں تو صُلح دوست ہُوں
پر جب بولتا ہُوں تو وہ جنگ پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
121
خُداوند ہمارا مُحافِظ
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔
1 مَیں اپنی آنکھیں پہاڑوں کی طرف اُٹھاؤُں گا۔
میری کُمک کہاں سے آئے گی؟
2 میری کُمک خُداوند سے ہے
جِس نے آسمان اور زمِین کو بنایا۔
3 وہ تیرے پاؤں کو پِھسلنے نہ دے گا۔
تیرا مُحافِظ اُونگھنے کا نہیں۔
4 دیکھ! اِسرائیل کا مُحافِظ
نہ اُونگھے گا نہ سوئے گا۔
5 خُداوند تیرا مُحافِظ ہے
خُداوند تیرے دہنے ہاتھ پر تیرا سائبان ہے۔
6 نہ آفتاب دِن کو تُجھے ضرر پُہنچائے گا
نہ ماہتاب رات کو۔
7 خُداوند ہر بلا سے تُجھے محفُوظ رکھّے گا۔
وہ تیری جان کو محفُوظ رکھّے گا۔
8 خُداوند تیری آمد و رفت میں
اب سے ہمیشہ تک تیری حِفاظت کرے گا۔
122
یروشلیِم کی تعرِیف و تَوصیِف
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔ داؤُد کا۔
1 مَیں خُوش ہُؤا جب وہ مُجھ سے کہنے لگے
آؤ خُداوند کے گھر چلیں۔
2 اَے یروشلِیم! ہمارے قدم
تیرے پھاٹکوں کے اندر ہیں۔
3 اَے یروشلِیم! تُو اَیسے شہر کی مانِند ہے
جو گُنجان بنا ہو۔
4 جہاں قبِیلے یعنی خُداوند کے قبِیلے
اِسرائیل کی شہادت کے لِئے
خُداوند کے نام کا شُکر کرنے کو جاتے ہیں۔
5 کیونکہ وہاں عدالت کے تخت
یعنی داؤُد کے خاندان کے تخت قائِم ہیں۔
6 یروشلِیم کی سلامتی کی دُعا کرو۔
وہ جو تُجھ سے مُحبّت رکھتے ہیں اِقبال مند
ہوں گے۔
7 تیری فصِیل کے اندر سلامتی
اور تیرے محلّوں میں اِقبال مندی ہو۔
8 مَیں اپنے بھائیوں اور دوستوں کی خاطِر
اب کہُوں گا تُجھ میں سلامتی رہے۔
9 خُداوند اپنے خُدا کے گھر کی خاطِر
مَیں تیری بھلائی کا طالِب رہُوں گا۔
123
رحم کے لِئے مُناجات
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔
1 تُو جو آسمان پر تخت نشِین ہے
مَیں اپنی آنکھیں تیری طرف اُٹھاتا ہُوں۔
2 دیکھ جِس طرح غُلاموں کی آنکھیں اپنے آقا کے
ہاتھ کی طرف
اور لَونڈی کی آنکھیں اپنی بی بی کے ہاتھ کی
طرف لگی رہتی ہیں
اُسی طرح ہماری آنکھیں خُداوند اپنے خُدا کی
طرف لگی ہیں
جب تک وہ ہم پر رحم نہ کرے۔
3 ہم پر رحم کر۔ اَے خُداوند! ہم پر رحم کر۔
کیونکہ ہم ذِلت اُٹھاتے اُٹھاتے تنگ آ گئے۔
4 آسُودہ حالوں کے تمسخُر
اور مغرُوروں کی حقارت سے
ہماری جان سیر ہو گئی۔
124
خُدا اپنے لوگوں کی پناہ
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔ داؤُد کا۔
1 اب اِسرائیل یُوں کہے۔
اگر خُداوند ہماری طرف نہ ہوتا۔
2 اگر خُداوند اُس وقت ہماری طرف نہ ہوتا
جب لوگ ہمارے خِلاف اُٹھے
3 تو جب اُن کا قہر ہم پر بھڑکا تھا
وہ ہم کو جِیتا ہی نِگل جاتے۔
4 اُس وقت پانی ہم کو ڈبو دیتا
اور سَیلاب ہماری جان پر سے گُذر جاتا۔
5 اُس وقت مَوجزن پانی ہماری جان پر سے گُذر جاتا۔
6 خُداوند مُبارک ہو۔
جِس نے ہمیں اُن کے دانتوں کا شِکار نہ
ہونے دِیا۔
7 ہماری جان چِڑیا کی مانِند چِڑیماروں کے جال
سے بچ نِکلی۔
جال تو ٹُوٹ گیا اور ہم بچ نِکلے۔
8 ہماری مدد خُداوند کے نام سے ہے
جِس نے آسمان اور زمِین کو بنایا۔
125
خُدا کے لوگوں کے تحفُّظ کی ضمانت
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔
1 جو خُداوند پر توکُّل کرتے ہیں
وہ کوہِ صِیُّون کی مانِند ہیں جو اٹل بلکہ ہمیشہ
قائِم ہے۔
2 جَیسے یروشلِیم پہاڑوں سے گِھرا ہے
وَیسے ہی اب سے ابد تک
خُداوند اپنے لوگوں کو گھیرے رہے گا۔
3 کیونکہ شرارت کا عصا صادِقوں کی مِیراث پر قائِم
نہ ہو گا
تاکہ صادِق بدکاری کی طرف اپنے ہاتھ
نہ بڑھائیں۔
4 اَے خُداوند! بَھلوں کے ساتھ بھلائی کر
اور اُن کے ساتھ بھی جو راست دِل ہیں۔
5 لیکن جو اپنی ٹیڑھی راہوں کی طرف مُڑتے ہیں
اُن کو خُداوند بدکرداروں کے ساتھ نِکال لے
جائے گا۔
اِسرائیل کی سلامتی ہو!
126
رہائی کی اِلتجا
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔
1 جب خُداوند صِیُّون کے اسِیروں کو واپس لایا
تو ہم خواب دیکھنے والوں کی مانِند تھے۔
2 اُس وقت ہمارے مُنہ میں ہنسی
اور ہماری زُبان پر راگنی تھی۔
تب قَوموں میں یہ چرچا ہونے لگا
کہ خُداوند نے اِن کے لِئے بڑے بڑے کام
کِئے ہیں۔
3 خُداوند نے ہمارے لِئے بڑے بڑے کام کِئے ہیں
اور ہم شادمان ہیں۔
4 اَے خُداوند! جنُوب کی ندیوں کی طرح
ہمارے اسِیروں کو واپس لا۔
5 جو آنسُوؤں کے ساتھ بوتے ہیں وہ خُوشی کے ساتھ
کاٹیں گے۔
6 جو روتا ہُؤا بِیج بونے جاتا ہے
وہ اپنے پُولے لِئے ہُوئے شادمان لَوٹے گا۔
127
خُدا کی شفقت کے لِئے حمد و ثنا
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔ سُلیمان کا۔
1 اگر خُداوند ہی گھر نہ بنائے
تو بنانے والوں کی مِحنت عبث ہے۔
اگر خُداوند ہی شہر کی حِفاظت نہ کرے
تو نِگہبان کا جاگنا عبث ہے۔
2 تُمہارے لِئے سویرے اُٹھنا اور دیر میں آرام کرنا
اور مشقّت کی روٹی کھانا عبث ہے
کیونکہ وہ اپنے محبُوب کو تو نِیند ہی میں دے
دیتا ہے۔
3 دیکھو! اَولاد خُداوند کی طرف سے مِیراث ہے
اور پیٹ کا پَھل اُسی کی طرف سے اَجر ہے۔
4 جوانی کے فرزند اَیسے ہیں
جَیسے زبردست کے ہاتھ میں تِیر۔
5 خُوش نصِیب ہے وہ آدمی جِس کا ترکش اُن سے
بھرا ہے۔
جب وہ اپنے دُشمنوں سے پھاٹک پر باتیں
کریں گے
تو شرمِندہ نہ ہوں گے۔
128
خُداوند کی فرمانبرداری کا اَجر
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔
1 مُبارک ہے ہر ایک جو خُداوند سے ڈرتا
اور اُس کی راہوں پر چلتا ہے۔
2 تُو اپنے ہاتھوں کی کمائی کھائے گا۔
تُو مُبارک اور سعادت مند ہو گا۔
3 تیری بِیوی تیرے گھر کے اندر میوہ دار تاک کی
مانِند ہو گی
اور تیری اَولاد تیرے دسترخوان پر زَیتُون کے
پَودوں کی مانِند۔
4 دیکھو! اَیسی برکت اُسی آدمی کو مِلے گی
جو خُداوند سے ڈرتا ہے۔
5 خُداوند صِیُّون میں سے تُجھ کو برکت دے
اور تُو عُمر بھر یروشلِیم کی بھلائی دیکھے۔
6 بلکہ تُو اپنے بچّوں کے بچّے دیکھے۔
اِسرائیلؔ کی سلامتی ہو!
129
اِسرائیلؔ کے دُشمنوں کے خِلاف دُعا
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔
1 اِسرائیل اب یُوں کہے
اُنہوں نے میری جوانی سے اب تک مُجھے بار
بار ستایا۔
2 ہاں اُنہوں نے میری جوانی سے اب تک مُجھے
بار بار ستایا
تَو بھی وہ مُجھ پر غالب نہ آئے۔
3 ہلواہوں نے میری پِیٹھ پر ہل چلائے
اور لمبی لمبی ریگھارِیاں بنائِیں۔
4 خُداوند صادِق ہے۔
اُس نے شرِیروں کی رسِّیاں کاٹ ڈالِیں۔
5 صِیُّون سے نفرت رکھنے والے
سب شرمِندہ اور پسپا ہوں۔
6 وہ چھت پر کی گھاس کی مانِند ہُوں
جو بڑھنے سے پہلے ہی سُوکھ جاتی ہے۔
7 جِس سے فصل کاٹنے والا اپنی مُٹھّی کو
اور پُولے باندھنے والا اپنے دامن کو نہیں بھرتا
8 نہ آنے جانے والے یہ کہتے ہیں
کہ تُم پر خُداوند کی برکت ہو۔
ہم خُداوند کے نام سے تُم کو دُعا دیتے ہیں۔
130
مدد کے لِئے اِلتجا
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔
1 اَے خُداوند! مَیں نے گہراؤ میں سے تیرے حضُور
فریاد کی ہے۔
2 اَے خُداوند! میری آواز سُن لے۔
میری اِلتجا کی آواز پر
تیرے کان لگے رہیں۔
3 اَے خُداوند! اگر تُو بدکاری کو حِساب میں لائے
تو اَے خُداوند! کَون قائِم رہ سکے گا؟
4 پر مغفرت تیرے ہاتھ میں ہے
تاکہ لوگ تُجھ سے ڈریں۔
5 مَیں خُداوند کا اِنتظار کرتا ہُوں۔ میری جان مُنتظِر ہے
اور مُجھے اُس کے کلام پر اِعتماد ہے۔
6 صُبح کا اِنتظار کرنے والوں سے زِیادہ۔
ہاں صُبح کا اِنتظار کرنے والوں سے کہیں زِیادہ
میری جان خُداوند کی مُنتظِر ہے۔
7 اَے اِسرائیل! خُداوند پر اِعتماد کر
کیونکہ خُداوند کے ہاتھ میں شفقت ہے۔
اُسی کے ہاتھ میں فِدیہ کی کثرت ہے
8 اور وُہی اِسرائیل کا فِدیہ دے کر
اُس کو ساری بدکاری سے چُھڑائے گا۔
131
حلِیمی سے توکُّل رکھنے کی دُعا
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔ داؤُد کا۔
1 اَے خُداوند! میرا دِل مغرُور نہیں اور مَیں بُلند نظر
نہیں ہُوں
نہ مُجھے بڑے بڑے مُعاملوں سے کوئی سروکار ہے
نہ اُن باتوں سے جو میری سمجھ سے باہر ہیں۔
2 یقِیناً مَیں نے اپنے دِل کو تسکِین دے کر مُطمِئن
کر دِیا ہے۔
میرا دِل مُجھ میں دُودھ چُھڑائے ہُوئے بچّے کی
مانِند ہے۔
ہاں جَیسے دُودھ چُھڑایا ہُؤا بچّہ ماں کی گود میں۔
3 اَے اِسرائیل! اب سے ابد تک
خُداوند پر اِعتماد کر۔
132
ہَیکل کی تعرِیف و تَوصیِف
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔
1 اَے خُداوند! داؤُد کی خاطِر
اُس کی سب مُصِیبتوں کو یاد کر
2 کہ اُس نے کِس طرح خُداوند سے قَسم کھائی
اور یعقُوب کے قادِر کے حضُور مَنّت مانی
3 کہ یقِیناً مَیں نہ اپنے گھر میں داخِل ہُوں گا
نہ اپنے پلنگ پر جاؤُں گا
4 اور نہ اپنی آنکھوں میں نِیند
نہ اپنی پلکوں میں جھپکی آنے دُوں گا
5 جب تک خُداوند کے لِئے کوئی جگہ
اور یعقُوب کے قادِر کے لِئے مسکن نہ ہو۔
6 دیکھو ہم نے اِس کی خبر اِفراتا میں سُنی۔
ہمیں یہ جنگل کے مَیدان میں مِلی۔
7 ہم اُس کے مسکنوں میں داخِل ہوں گے۔
ہم اُس کے پاؤں کی چَوکی کے سامنے سِجدہ
کریں گے۔
8 اُٹھ اَے خُداوند! اپنی آرام گاہ میں داخِل ہو۔
تُو اور تیری قُدرت کا صندُوق۔
9 تیرے کاہِن صداقت سے مُلبّس ہوں
اور تیرے مُقدّس خُوشی کے نعرے ماریں۔
10 اپنے بندہ داؤُد کی خاطِر
اپنے ممسُوح کی دُعا نامنظُور نہ کر۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤُد سے قَسم کھائی ہے۔
وہ اُس سے پِھرنے کا نہیں
کہ مَیں تیری اَولاد میں سے کِسی کو تیرے تخت
پر بِٹھاؤُں گا۔
12 اگر تیرے فرزند میرے عہد اور میری شہادت پر
جو مَیں اُن کو سِکھاؤُں گا عمل کریں
تو اُن کے فرزند بھی ہمیشہ تیرے تخت پر
بَیٹھیں گے۔
13 کیونکہ خُداوند نے صِیُّون کو چُنا ہے۔
اُس نے اُسے اپنے مسکن کے لِئے پسند کِیا ہے۔
14 یہ ہمیشہ کے لِئے میری آرام گاہ ہے۔
مَیں یہیں رہُوں گا کیونکہ مَیں نے اِسے پسند
کِیا ہے۔
15 مَیں اِس کے رِزق میں خُوب برکت دُوں گا۔
مَیں اِس کے غرِیبوں کو روٹی سے سیر کرُوں گا۔
16 اِس کے کاہِنوں کو بھی مَیں نجات سے مُلبّس
کرُوں گا۔
اور اُس کے مُقدّس بُلند آواز سے خُوشی کے نعرے
ماریں گے۔
17 وہِیں مَیں داؤُد کے لِئے ایک سِینگ نِکالُوں گا۔
مَیں نے اپنے ممسُوح کے لِئے چراغ تیّار
کِیا ہے۔
18 مَیں اُس کے دُشمنوں کو شرمِندگی کا لِباس پہناؤُں گا
لیکن اُس پر اُسی کا تاج رَونق افروز ہو گا۔
133
صُلح سلامتی سے رہنے کے لِئے سِتایش
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔ داؤُدکا۔
1 دیکھو! کَیسی اچھّی اور خُوشی کی بات ہے
کہ بھائی باہم مِل کر رہیں۔
2 یہ اُس بیش قِیمت تیل کی مانِند ہے جو سر پر لگایا گیا
اور بہتا ہُؤا داڑھی پر
یعنی ہارُون کے داڑھی پر آ گیا
بلکہ اُس کے پَیراہن کے دامن تک جا پُہنچا۔
3 یا حرمُون کی اَوس کی مانِند ہے
جو صِیُّون کے پہاڑوں پر پڑتی ہے
کیونکہ وہِیں خُداوند نے برکت کا
یعنی ہمیشہ کی زِندگی کا حُکم فرمایا۔
134
خُدا کی حمد و ثنا کے لِئے پُکار
معلوت یعنی ہَیکل کی زِیارت کا گِیت۔
1 اَے خُداوند کے بندو! آؤ سب خُداوند کو مُبارک کہو۔
تُم جو رات کو خُداوند کے گھر میں کھڑے رہتے ہو!
2 مَقدِس کی طرف اپنے ہاتھ اُٹھاؤ
اور خُداوند کو مُبارک کہو۔
3 خُداوند جِس نے آسمان اور زمِین کو بنایا
صِیُّون میں سے تُجھے برکت بخشے۔
135
حمد و سِتایش کا گِیت
1 خُداوند کی حمد کرو۔
خُداوند کے نام کی حمد کرو۔
اَے خُداوند کے بندو! اُس کی حمد کرو۔
2 تُم جو خُداوند کے گھر میں
ہمارے خُدا کے گھر کی بارگاہوں میں کھڑے
رہتے ہو۔
3 خُداوند کی حمد کرو کیونکہ خُداوند بَھلا ہے۔
اُس کے نام کی مدح سرائی کرو کہ یہ دِل پسند
ہے۔
4 کیونکہ خُداوند نے یعقُوب کو اپنے لِئے
اور اِسرائیل کو اپنی خاص مِلکیت کے لِئے چُن
لِیا ہے۔
5 اِس لِئے کہ مَیں جانتا ہُوں کہ خُداوند بزُرگ ہے
اور ہمارا ربّ سب معبُودوں سے بالاتر ہے۔
6 آسمان اور زمِین میں۔ سمُندر اور گہراؤ میں
خُداوند نے جو کُچھ چاہا وُہی کِیا۔
7 وہ زمِین کی اِنتہا سے بُخارات اُٹھاتا ہے۔
وہ بارِش کے لِئے بِجلیاں بناتا ہے
اور اپنے مخزنوں سے آندھی نِکالتا ہے۔
8 اُسی نے مِصرؔ کے پہلوٹھوں کو مارا۔
کیا اِنسان کے کیا حَیوان کے۔
9 اَے مِصرؔ! اُسی نے تُجھ میں فرِعونؔ اور اُس کے
سب خادِموں پر
نِشان اور عجائِب ظاہِر کِئے۔
10 اُس نے بُہت سی قَوموں کو مارا
اور زبردست بادشاہوں کو قتل کِیا۔
11 امورِیوں کے بادشاہ سِیحون کو
اور بسن کے بادشاہ عوج کو
اور کنعانؔ کی سب ممُلِکتوں کو
12 اور اُن کی زمِین مِیراث کر دی
یعنی اپنی قَوم اِسرائیل کی مِیراث۔
13 اَے خُداوند! تیرا نام ابدی ہے
اور تیری یادگار اَے خُداوند پُشت در پُشت
قائِم ہے۔
14 کیونکہ خُداوند اپنی قَوم کی عدالت کرے گا
اور اپنے بندوں پر ترس کھائے گا۔
15 قَوموں کے بُت چاندی اور سونا ہیں
یعنی آدمی کی دست کاری۔
16 اُن کے مُنہ ہیں پر وہ بولتے نہیں۔
آنکھیں ہیں پر وہ دیکھتے نہیں۔
17 اُن کے کان ہیں پر وہ سُنتے نہیں
اور اُن کے مُنہ میں سانس نہیں۔
18 اُن کے بنانے والے اُن ہی کی مانِند ہو جائیں گے۔
بلکہ وہ سب جو اُن پر بھروسا رکھتے ہیں۔
19 اَے اِسرائیل کے گھرانے! خُداوند کو مُبارک کہو۔
اَے ہارُون کے گھرانے! خُداوند کو مُبارک کہو۔
20 اَے لاوی کے گھرانے! خُداوند کو مُبارک کہو۔
اَے خُداوند سے ڈرنے والو! خُداوند کو مُبارک کہو۔
21 صِیُّون میں خُداوند مُبارک ہو۔
وہ یروشلِیم میں سکُونت کرتا ہے۔
خُداوند کی حمد کرو۔
136
شُکرگُذاری کا گِیت
1 خُداوند کا شُکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
2 اِلہٰوں کے خُدا کا شُکر کرو
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
3 مالِکوں کے مالِک کا شُکر کرو
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
4 اُسی کا جو اکیلا بڑے بڑے عجِیب کام کرتا ہے
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
5 اُسی کا جِس نے دانائی سے آسمان بنایا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
6 اُسی کا جِس نے زمِین کو پانی پر پَھیلایا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
7 اُسی کا جِس نے بڑے بڑے نیّر بنائے
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
8 دِن کو حُکُومت کرنے کے لِئے آفتاب
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
9 رات کو حُکُومت کرنے لِئے ماہتاب اور سِتارے
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
10 اُسی کا جِس نے مِصرؔ کے پہلوٹھوں کو مارا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
11 اور اِسرائیل کو اُن میں سے نِکال لایا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
12 قوّی ہاتھ اور بُلند بازُو سے
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
13 اُسی کا جِس نے بحرِ قُلزم کو دو حِصّے کر دِیا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
14 اور اِسرائیل کو اُس میں سے پار کِیا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
15 لیکن فرِعونؔ اور اُس کے لشکر کو بحرِ قُلزؔم میں ڈال دِیا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
16 اُسی کا جو بیابان میں اپنے لوگوں کا راہنما ہُؤا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
17 اُسی کا جِس نے بڑے بڑے بادشاہوں کو مارا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
18 اور نامور بادشاہوں کو قتل کِیا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
19 امورِیوں کے بادشاہ سِیحوؔن کو
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
20 اور بسن کے بادشاہ عوج کو
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
21 اور اُن کی زمِین مِیراث کر دی
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
22 یعنی اپنے بندہ اِسرائیل کی مِیراث
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
23 جِس نے ہماری پستی میں ہم کو یاد کِیا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
24 اور ہمارے مُخالِفوں سے ہم کو چُھڑایا
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
25 جو سب بشر کو روزی دیتا ہے
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
26 آسمان کے خُدا کا شُکر کرو
کہ اُس کی شفقت ابدی ہے۔
137
اسِیر اِسرائیلیوں کا نَوحہ
1 ہم بابل کی ندیوں پر بَیٹھے
اور صِیُّون کو یاد کر کے روئے۔
2 وہاں بید کے درختوں پر اُن کے وسط میں
ہم نے اپنی سِتاروں کو ٹانگ دِیا۔
3 کیونکہ وہاں ہم کو اسِیر کرنے والوں نے گِیت گانے
کا حُکم دِیا
اور تباہ کرنے والوں نے خُوشی کرنے کا
اور کہا صِیُّون کے گِیتوں میں سے ہم کو کوئی
گِیت سناؤ۔
4 ہم پردیس میں
خُداوند کا گِیت کَیسے گائیں؟
5 اَے یروشلِیم! اگر مَیں تُجھے بُھولُوں
تو میرا دہنا ہاتھ اپنا ہُنر بُھول جائے۔
6 اگر مَیں تُجھے یاد نہ رکھُّوں
اگر میں یروشلِیم کو
اپنی بڑی سے بڑی خُوشی پر ترجِیح نہ دُوں
تو میری زُبان میرے تالُو سے چِپک جائے۔
7 اَے خُداوند! یروشلِیم کے دِن کو
بنی ادُوم کے خِلاف یاد کر
جو کہتے تھے اِسے ڈھا دو۔
اِسے بُنیاد تک ڈھا دو۔
8 اَے بابل کی بیٹی! جو ہلاک ہونے والی ہے
وہ مُبارک ہو گا جو تُجھے اُس سلُوک کا
جو تُو نے ہم سے کِیا بدلہ دے
9 وہ مُبارک ہو گا جو تیرے بچّوں کو لے کر
چٹان پر پٹک دے۔
138
شُکرگُذاری کا گِیت
داؤُد کا مزمُور۔
1 مَیں پُورے دِل سے تیرا شُکر کرُوں گا۔
معبُودوں کے سامنے تیری مدح سرائی کرُوں گا۔
2 مَیں تیری مُقدّس ہَیکل کی طرف رُخ کر کے سِجدہ کرُوں گا
اور تیری شفقت اور سچّائی کی خاطِر تیرے نام کا شُکر کرُوں گا
کیونکہ تُو نے اپنے کلام کو اپنے ہر نام سے زِیادہ عظمت دی ہے۔
3 جِس دِن مَیں نے تُجھ سے دُعا کی تُو نے مُجھے جواب دِیا
اور میری جان کو تقوِیت دے کر میرا حَوصلہ بڑھایا۔
4 اَے خُداوند! زمِین کے سب بادشاہ تیرا شُکر کریں گے
کیونکہ اُنہوں نے تیرے مُنہ کا کلام سُنا ہے۔
5 بلکہ وہ خُداوند کی راہوں کا گِیت گائیں گے
کیونکہ خُداوند کا جلال بڑا ہے۔
6 کیونکہ خُداوند اگرچہ بُلند و بالا ہے تَو بھی خاکسار کا خیال رکھتا ہے۔
لیکن مغرُور کو دُور ہی سے پہچان لیتا ہے۔
7 خواہ مَیں دُکھ میں سے گُذروں تُو مُجھے تازہ دَم کرے گا۔
تُو میرے دُشمنوں کے قہر کے خِلاف ہاتھ بڑھائے گا۔
اور تیرا دہنا ہاتھ مُجھے بچا لے گا۔
8 خُداوند میرے لِئے سب کُچھ کرے گا۔
اَے خُداوند! تیری شفقت ابدی ہے۔
اپنی دست کاری کو ترک نہ کر۔
139
خُدا کی ہمہ دانی اور نِگہداشت
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! تُو نے مُجھے جانچ لِیا اور پہچان لِیا۔
2 تُو میرا اُٹھنا بَیٹھنا جانتا ہے۔
تُو میرے خیال کو دُور سے سمجھ لیتا ہے۔
3 تُو میرے راستہ کی اور میری خواب گاہ کی چھان بِین کرتا ہے
اور میری سب روِشوں سے واقِف ہے۔
4 دیکھ! میری زُبان پر کوئی اَیسی بات نہیں
جِسے تُو اَے خُداوند! پُورے طَور پر نہ جانتا ہو۔
5 تُو نے مُجھے آگے پِیچھے سے گھیر رکھّا ہے
اور تیرا ہاتھ مُجھ پر ہے۔
6 یہ عِرفان میرے لِئے نہایت عجِیب ہے۔
یہ بُلند ہے۔ مَیں اِس تک پُہنچ نہیں سکتا۔
7 مَیں تیری رُوح سے بچ کر کہاں جاؤُں
یا تیری حضُوری سے کِدھر بھاگُوں؟
8 اگر آسمان پر چڑھ جاؤُں تو تُو وہاں ہے۔
اگر مَیں پاتال میں بِستر بِچھاؤُں تو دیکھ! تُو وہاں بھی ہے۔
9 اگر مَیں صُبح کے پر لگا کر
سمُندر کی اِنتہا میں جا بسُوں
10 تو وہاں بھی تیرا ہاتھ میری راہنمائی کرے گا
اور تیرا دہنا ہاتھ مُجھے سنبھالے گا۔
11 اگر مَیں کہُوں کہ یقِیناً تارِیکی مُجھے چِھپا لے گی
اور میری چاروں طرف کا اُجالا رات بن جائے گا
12 تو اندھیرا بھی تُجھ سے چِھپا نہیں سکتا۔
بلکہ رات بھی دِن کی مانِند رَوشن ہے۔
اندھیرا اور اُجالا دونوں یکساں ہیں۔
13 کیونکہ میرے دِل کو تُو ہی نے بنایا۔
میری ماں کے پیٹ میں تُو ہی نے مُجھے صُورت بخشی۔
14 مَیں تیرا شُکر کرُوں گا کیونکہ مَیں عجِیب و غرِیب طَور سے بنا ہُوں
تیرے کام حَیرت انگیز ہیں۔
میرا دِل اِسے خُوب جانتا ہے۔
15 جب مَیں پوشِیدگی میں بن رہا تھا
اور زمِین کے اسفل میں عجِیب طَور سے مُرتّب ہو رہا تھا
تو میرا قالِب تُجھ سے چِھپا نہ تھا۔
16 تیری آنکھوں نے میرے بے ترتِیب مادّے کو دیکھا
اور جو ایّام میرے لِئے مقرّر تھے
وہ سب تیری کِتاب میں لِکھے تھے۔
جب کہ ایک بھی وجُود میں نہ آیا تھا۔
17 اَے خُدا! تیرے خیال میرے لِئے کَیسے بیش بہا ہیں۔
اُن کا مجمُوعہ کَیسا بڑا ہے!
18 اگر مَیں اُن کو گِنُوں تو وہ شُمار میں ریت سے بھی زِیادہ ہیں۔
جاگ اُٹھتے ہی تُجھے اپنے ساتھ پاتا ہُوں۔
19 اَے خُدا! کاش کہ تُو شرِیر کو قتل کرے۔
اِس لِئے اَے خُون خوارو! میرے پاس سے دُور ہو جاؤ۔
20 کیونکہ وہ شرارت سے تیرے خِلاف باتیں کرتے ہیں
اور تیرے دُشمن تیرا نام بے فائِدہ لیتے ہیں۔
21 اَے خُداوند! کیا مَیں تُجھ سے عداوت رکھنے والوں سے عداوت نہیں رکھتا
اور کیا مَیں تیرے مُخالِفوں سے بیزار نہیں ہُوں؟
22 مُجھے اُن سے پُوری عداوت ہے۔
مَیں اُن کو اپنے دُشمن سمجھتا ہُوں۔
23 اَے خُدا! تُو مُجھے جانچ اور میرے دِل کو پہچان۔
مُجھے آزما اور میرے خیالوں کو جان لے
24 اور دیکھ کہ مُجھ میں کوئی بُری روِش تو نہیں
اور مُجھ کو ابدی راہ میں لے چل۔
140
مُحافِظت کے لِئے اِلتجا
مِیر مُغنّی کے لِئے داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! مُجھے بُرے آدمی سے رہائی بخش۔
مُجھے تُند خُو آدمی سے محفُوظ رکھ۔
2 جو دِل میں شرارت کے منصُوبے باندھتے ہیں
وہ ہمیشہ مِل کر جنگ کے لِئے جمع ہو جاتے ہیں۔
3 اُنہوں نے اپنی زُبان سانپ کی طرح تیز کر رکھّی ہے۔
اُن کے ہونٹوں کے نِیچے افعی کا زہر ہے۔ (سِلاہ)
4 اَے خُداوند! مُجھے شرِیر کے ہاتھ سے بچا۔
مُجھے تُند خُو آدمی سے محفُوظ رکھ
جِن کا اِرادہ ہے کہ میرے پاؤں اُکھاڑ دیں۔
5 مغرُوروں نے میرے لِئے پھندے اور رسِیّوں کو چِھپایا ہے۔
اُنہوں نے راہ کے کنارے جال لگایا ہے۔
اُنہوں نے میرے لِئے دام بِچھا رکھّے ہیں۔
(سِلاہ)
6 مَیں نے خُداوند سے کہا میرا خُدا تُو ہی ہے۔
اَے خُداوند! میری اِلتجا کی آواز پر کان لگا۔
7 اَے خُداوند میرے مالِک! اَے میری نجات کی قُوّت
تُو نے جنگ کے دِن میرے سر پر سایہ کِیا ہے۔
8 اَے خُداوند! شرِیر کی مُراد پُوری نہ کر۔
اُس کے بُرے منصُوبہ کو انجام نہ دے تاکہ وہ ڈِینگ نہ مارے۔ (سِلاہ)
9 مُجھے گھیرنے والوں کے مُنہ کی شرارت
اُن ہی کے سر پر پڑے۔
10 اُن پر انگارے گِریں۔
وہ آگ میں ڈالے جائیں
اور اَیسے گڑھوں میں کہ پِھر نہ اُٹھیں۔
11 بدزُبان آدمی کو زمِین پر قِیام نہ ہو گا۔
آفت تندخُو آدمی کو رگید کر ہلاک کرے گی۔
12 مَیں جانتا ہُوں کہ خُداوند مُصِیبت زدہ کے مُعاملہ کی
اور مُحتاج کے حق کی تائید کرے گا۔
13 یقِیناً صادِق تیرے نام کا شُکر کریں گے
اور راست باز تیرے حضُور میں رہیں گے۔
141
شام کی دُعا
داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! مَیں نے تیری دُہائی دی ہے۔ میری طرف جلد آ۔
جب مَیں تُجھ سے دُعا کرُوں تُو میری آواز پر کان لگا۔
2 میری دُعا تیرے حضُور بخُور کی مانِند ہو
اور میرا ہاتھ اُٹھانا شام کی قُربانی کی مانِند۔
3 اَے خُداوند! میرے مُنہ پر پہرا بِٹھا۔
میرے لبوں کے دروازہ کی نِگہبانی کر۔
4 میرے دِل کو کِسی بُری بات کی طرف مائِل نہ ہونے دے
کہ بدکاروں کے ساتھ مِل کر
شرارت کے کاموں میں مصرُوف ہو جائے
اور مُجھے اُن کے نفِیس کھانے سے باز رکھ۔
5 صادِق مُجھے مارے تو مہربانی ہو گی۔
وہ مُجھے تنبِیہ کرے تو گویا سر پر رَوغن ہو گا۔
میرا سر اِس سے اِنکار نہ کرے
کیونکہ اُن کی شرارت میں بھی مَیں دُعا کرتا رہُوں گا۔
6 اُن کے حاکِم چٹان کے کناروں پر سے گِرا دِئیے گئے ہیں
اور وہ میری باتیں سُنیں گے کیونکہ یہ شِیرِین ہیں۔
7 جَیسے کوئی ہل چلا کر زمِین کو توڑتا ہے
وَیسے ہی ہماری ہڈِّیاں پاتال کے مُنہ پر بِکھری پڑی ہیں۔
8 کیونکہ اَے مالِک خُداوند! میری آنکھیں تیری طرف ہیں۔
میرا توکُّل تُجھ پر ہے۔ میری جان کو بیکس نہ چھوڑ۔
9 مُجھے اُس پھندے سے جو انہوں نے میرے لِئے لگایا ہے
اور بدکرداروں کے دام سے بچا۔
10 شرِیر آپ اپنے جال میں پھنسیں
اور مَیں سلامت بچ نِکلُوں۔
142
مدد کے لِئے مُناجات
داؤُد کا مشکِیل جب وہ غار میں تھا۔ دُعا۔
1 مَیں اپنی آواز بُلند کر کے خُداوند سے فریاد کرتا ہُوں۔
مَیں اپنی ہی آواز سے خُداوند سے مِنّت کرتا ہُوں۔
2 مَیں اُس کے حضُور فریاد کرتا ہُوں۔
مَیں اپنا دُکھ اُس کے حضُور بیان کرتا ہُوں۔
3 جب مُجھ میں میری جان نِڈھال تھی تُو میری راہ سے واقِف تھا۔
جِس راہ پر مَیں چلتا ہُوں اُس میں اُنہوں نے میرے لِئے پھندا لگایا ہے۔
4 دہنی طرف نِگاہ کر اور دیکھ مُجھے کوئی نہیں پہچانتا۔
میرے لِئے کہیں پناہ نہ رہی۔ کِسی کو میری جان کی فِکر نہیں۔
5 اَے خُداوند! مَیں نے تُجھ سے فریاد کی۔
مَیں نے کہا تُو میری پناہ ہے
اور زِندوں کی زمِین میں میرا بخرہ۔
6 میری فریاد پر توجُّہ کر کیونکہ مَیں نہایت پست ہو گیا ہُوں۔
میرے ستانے والوں سے مُجھے رہائی بخش
کیونکہ وہ مُجھ سے زورآور ہیں۔
7 میری جان کو قَید سے نِکال تاکہ تیرے نام کا شُکر کرُوں۔
صادِق میرے گِرد جمع ہوں گے
کیونکہ تُو مُجھ پر اِحسان کرے گا۔
143
مدد کے لِئے مُناجات
داؤُد کا مزمُور۔
1 اَے خُداوند! میری دُعا سُن۔ میری اِلتجا پر کان لگا۔
اپنی وفاداری اور صداقت میں مُجھے جواب دے
2 اور اپنے بندہ کو عدالت میں نہ لا
کیونکہ تیری نظر میں کوئی آدمی راست باز نہیں ٹھہر سکتا۔
3 اِس لِئے کہ دُشمن نے میری جان کو ستایا ہے۔
اُس نے میری زِندگی کو خاک میں مِلا دِیا
اور مُجھے اندھیری جگہوں میں اُن کی مانِند بسایا ہے
جِن کو مَرے مُدّت ہو گئی ہو۔
4 اِسی سبب سے مُجھ میں میری جان نِڈھال ہے
اور میرا دِل مُجھ میں بیکل ہے۔
5 مَیں گُذشتہ زمانوں کو یاد کرتا ہُوں۔
مَیں تیرے سب کاموں پر غَور کرتا ہُوں
اور تیری دست کاری پر دِھیان کرتا ہُوں۔
6 مَیں اپنے ہاتھ تیری طرف پَھیلاتا ہُوں۔
میری جان خُشک زمِین کی مانِند تیری پیاسی ہے۔
(سِلاہ)
7 اَے خُداوند! جلد مُجھے جواب دے۔
میری رُوح گُداز ہو چلی۔
اپنا چہرہ مُجھ سے نہ چِھپا۔
اَیسا نہ ہو کہ مَیں قبر میں اُترنے والوں کی مانِند ہو جاؤُں۔
8 صُبح کو مُجھے اپنی شفقت کی خبر دے
کیونکہ میرا توکُّل تُجھ پر ہے۔
مُجھے وہ راہ بتا جِس پر مَیں چلُوں
کیونکہ مَیں اپنا دِل تیری ہی طرف لگاتا ہُوں۔
9 اَے خُداوند! مُجھے میرے دُشمنوں سے رہائی بخش
کیونکہ مَیں پناہ کے لِئے تیرے پاس بھاگ آیا ہُوں۔
10 مُجھے سِکھا کہ تیری مرضی پر چلُوں اِس لِئے کہ تُو میرا خُدا ہے۔
تیری نیک رُوح مُجھے راستی کے مُلک میں لے چلے۔
11 اَے خُداوند! اپنے نام کی خاطِر مُجھے زِندہ کر۔
اپنی صداقت میں میری جان کو مُصِیبت سے نِکال۔
12 اپنی شفقت سے میرے دُشمنوں کو کاٹ ڈال
اور میری جان کے سب دُکھ دینے والوں کو ہلاک کر دے
کیونکہ مَیں تیرا بندہ ہُوں۔
144
بادشاہ فتح کے لِئے خُدا کا شُکر بجا لاتا ہے
داؤُد کا مزمُور۔
1 خُداوند میری چٹان مُبارک ہو
جو میرے ہاتھوں کو جنگ کرنا
اور میری اُنگلیوں کو لڑنا سِکھاتا ہے۔
2 وہ مُجھ پر شفقت کرنے والا اور میرا قلعہ ہے۔
میرا اُونچا بُرج اور میرا چُھڑانے والا۔
وہ میری سِپر اور میری پناہ گاہ ہے
جو میرے لوگوں کو میرے تابِع کرتا ہے۔
3 اَے خُداوند! اِنسان کیا ہے کہ تُو اُسے یاد رکھّے؟
اور آدمؔ زاد کیا ہے کہ تُو اُس کا خیال کرے؟
4 اِنسان بُطلان کی مانِند ہے۔
اُس کے دِن ڈھلتے سایہ کی مانِند ہیں۔
5 اَے خُداوند! آسمانوں کو جُھکا کر اُتر آ۔
پہاڑوں کو چُھو تو اُن سے دُھواں اُٹھے گا۔
6 بِجلی گِرا کر اُن کو پراگندہ کر دے۔
اپنے تِیر چلا کر اُن کو شِکست دے۔
7 اُوپر سے ہاتھ بڑھا۔
مُجھے رہائی دے اور بڑے سَیلاب
یعنی پردیسیوں کے ہاتھ سے چُھڑا
8 جِن کے مُنہ سے بطالت نِکلتی رہتی ہے
اور جِن کا دہنا ہاتھ جُھوٹ کا دہنا ہاتھ ہے۔
9 اَے خُدا! مَیں تیرے لِئے نیا گِیت گاؤُں گا۔
دس تار والی بربط پر مَیں تیری مدح سرائی کرُوں گا۔
10 وُہی بادشاہوں کو نجات بخشتا ہے
اور اپنے بندہ داؤُد کو مُہلِک تلوار سے بچاتا ہے۔
11 مُجھے بچا اور پردیسیوں کے ہاتھ سے چُھڑا
جِن کے مُنہ سے بطالت نِکلتی رہتی ہے
اور جِن کا دہنا ہاتھ جُھوٹ کا دہنا ہاتھ ہے۔
12 جب ہمارے بیٹے جوانی میں قدآور پَودوں کی مانِند ہوں۔
اور ہماری بیٹیاں محلّ کے کونے کے لِئے تراشے ہُوئے پتھّروں کی مانِند ہوں۔
13 جب ہمارے کھتّے بھرے ہوں جِن سے ہر قِسم کی جِنس مِل سکے
اور ہماری بھیڑ بکریاں ہمارے کُوچوں میں ہزاروں اور لاکھوں بچّے دیں۔
14 جب ہمارے بَیل خُوب لدے ہوں۔
جب نہ رخنہ ہو نہ خرُوج
اور نہ ہمارے کُوچوں میں واوَیلا ہو۔
15 مُبارک ہے وہ قَوم جِس کا یہ حال ہے۔
مُبارک ہے وہ قَوم جِس کا خُدا خُداوند ہے۔
145
حمد و سِتایش کا گِیت
داؤُد کا مزمُور۔ مدح۔
1 اَے میرے خُدا! اَے بادشاہ! مَیں تیری تمجِید کرُوں گا
اور ابدُالآباد تیرے نام کو مُبارک کہُوں گا۔
2 مَیں ہر روز تُجھے مُبارک کہُوں گا
اور ابدُالآباد تیرے نام کی سِتایش کرُوں گا۔
3 خُداوند بزُرگ اور بے حد سِتایش کے لائِق ہے۔
اُس کی بزُرگی اِدراک سے باہر ہے۔
4 ایک پُشت دُوسری پُشت سے تیرے کاموں کی تعرِیف
اور تیری قُدرت کے کاموں کا بیان کرے گی۔
5 مَیں تیری عظمت کی جلالی شان پر
اور تیرے عجائِب پر غَور کرُوں گا
6 اور لوگ تیری قُدرت کے ہَولناک کاموں کا ذِکر کریں گے
اور مَیں تیری بزُرگی بیان کرُوں گا۔
7 وہ تیرے بڑے اِحسان کی یادگار کا بیان کریں گے
اور تیری صداقت کا گِیت گائیں گے۔
8 خُداوند رحِیم و کرِیم ہے۔
وہ قہر کرنے میں دِھیما اور شفقت میں غنی ہے۔
9 خُداوند سب پر مہربان ہے
اور اُس کی رحمت اُس کی ساری مخلُوق پر ہے۔
10 اَے خُداوند! تیری ساری مخلُوق تیرا شُکر کرے گی
اور تیرے مُقدّس تُجھے مُبارک کہیں گے۔
11 وہ تیری سلطنت کے جلال کا بیان
اور تیری قُدرت کا چرچا کریں گے۔
12 تاکہ بنی آدمؔ پر اُس کی قُدرت کے کاموں کو
اور اُس کی سلطنت کے جلال کی شان کو ظاہِر کریں۔
13 تیری سلطنت ابدی سلطنت ہے
اور تیری حُکُومت پُشت در پُشت۔
14 خُداوند گِرتے ہُوئے کو سنبھالتا
اور جُھکے ہُوئے کو اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔
15 سب کی آنکھیں تُجھ پر لگی ہیں۔
تُو اُن کو وقت پر اُن کی خُوراک دیتا ہے۔
16 تُو اپنی مُٹھّی کھولتا ہے
اور ہر جاندار کی خواہش پُوری کرتا ہے۔
17 خُداوند اپنی سب راہوں میں صادِق
اور اپنے سب کاموں میں رحِیم ہے۔
18 خُداوند اُن سب کے قرِیب ہے جو اُس سے دُعا کرتے ہیں۔
یعنی اُن سب کے جو سچّائی سے دُعا کرتے ہیں۔
19 جو اُس سے ڈرتے ہیں وہ اُن کی مُراد پُوری کرے گا۔
وہ اُن کی فریاد سُنے گا اور اُن کو بچا لے گا۔
20 خُداوند اپنے سب مُحبّت رکھنے والوں کی حِفاظت کرے گا
لیکن سب شرِیروں کو ہلاک کر ڈالے گا۔
21 میرے مُنہ سے خُداوند کی سِتایش ہو گی
اور ہر بشر اُس کے پاک نام کو ابدُالآباد مُبارک کہے۔
146
بچانے والے خُدا کی حمد
1 خُداوند کی حمد کرو!
اَے میری جان خُداوند کی حمد کر!
2 مَیں عُمر بھر خُداوند کی حمد کرُوں گا۔
جب تک میرا وجُود ہے مَیں اپنے خُدا کی مدح سرائی کرُوں گا۔
3 نہ اُمرا پر بھروسا کرو نہ آدمؔ زاد پر۔
وہ بچا نہیں سکتا۔
4 اُس کا دَم نِکل جاتا ہے تو وہ مِٹّی میں مِل جاتا ہے۔
اُسی دِن اُس کے منصُوبے فنا ہو جاتے ہیں۔
5 خُوش نصِیب ہے وہ جِس کا مددگار یعقُوب کا خُدا ہے
اور جِس کی اُمّید خُداوند اُس کے خُدا سے ہے
6 جِس نے آسمان اور زمِین اور سمُندر کو
اور جو کُچھ اُن میں ہے بنایا۔
جو سچّائی کو ہمیشہ قائِم رکھتا ہے۔
7 جو مظلُوموں کا اِنصاف کرتا ہے۔
جو بُھوکوں کو کھانا دیتا ہے۔
خُداوند قَیدِیوں کو آزاد کرتا ہے۔
8 خُداوند اندھوں کی آنکھیں کھولتا ہے۔
خُداوند جُھکے ہُوئے کو اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔
خُداوند صادِقوں سے مُحبّت رکھتا ہے۔
9 خُداوند پردیسیوں کی حِفاظت کرتا ہے۔
وہ یتِیم اور بیوہ کو سنبھالتا ہے
لیکن شرِیروں کی راہ ٹیڑھی کر دیتا ہے۔
10 خُداوند ابد تک سلطنت کرے گا۔
اَے صِیُّون! تیرا خُدا پُشت در پُشت۔
خُداوند کی حمد کرو۔
147
قادرِ مُطلق خُدا کی حمد
1 خُداوند کی حمد کرو
کیونکہ خُدا کی مدح سرائی کرنا بھلا ہے۔
اِس لِئے کہ یہ دِل پسند اور سِتایش زیبا ہے۔
2 خُداوند یروشلِیم کو تعمِیر کرتا ہے۔
وہ اِسرائیل کے جلاوطنوں کو جمع کرتا ہے۔
3 وہ شِکستہ دِلوں کو شِفا دیتا ہے
اور اُن کے زخم باندھتا ہے۔
4 وہ سِتاروں کو شُمار کرتا ہے
اور اُن سب کے نام رکھتا ہے۔
5 ہمارا خُداوند بزُرگ اور قُدرت میں عظِیم ہے۔
اُس کے فہم کی اِنتہا نہیں۔
6 خُداوند حلِیموں کو سنبھالتا ہے۔
وہ شرِیروں کو خاک میں مِلا دیتا ہے۔
7 خُداوند کے حضُور شُکرگُذاری کا گِیت گاؤ۔
سِتار پر ہمارے خُدا کی مدح سرائی کرو۔
8 جو آسمان کو بادلوں سے مُلبّس کرتا ہے۔
جو زمِین کے لِئے مینہہ تیّار کرتا ہے۔
جو پہاڑوں پر گھاس اُگاتا ہے۔
9 جو حَیوانات کو خُوراک دیتا ہے
اور کوّے کے بچّوں کو جو کائیں کائیں کرتے ہیں۔
10 گھوڑے کے زور میں اُس کی خُوشنُودی نہیں۔
نہ آدمی کی ٹانگوں سے اُسے کوئی خُوشی ہے۔
11 خُداوند اُن سے خُوش ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں
اور اُن سے جو اُس کی شفقت کے اُمیدوار ہیں۔
12 اَے یروشلِیم! خُداوند کی سِتایش کر۔
اَے صِیُّون! اپنے خُدا کی سِتایش کر۔
13 کیونکہ اُس نے تیرے پھاٹکوں کے بینڈوں کو مضبُوط کِیا ہے۔
اُس نے تیرے اندر تیری اَولاد کو برکت دی ہے۔
14 وہ تیری حدُود میں امن رکھتا ہے۔
وہ تُجھے اچھّے سے اچھّے گیہُوں سے آسُودہ کرتا ہے۔
15 وہ اپنا حُکم زمِین پر بھیجتا ہے۔
اُس کا کلام نہایت تیز رَو ہے۔
16 وہ برف کو اُون کی مانِند گِراتا ہے۔
اور پالے کو راکھ کی مانِند بکھیرتا ہے۔
17 وہ یخ کو لُقموں کی مانِند پھینکتا ہے۔
اُس کی ٹھنڈ کون سہہ سکتا ہے؟
18 وہ اپنا کلام نازِل کر کے اُن کو پِگھلا دیتا ہے۔
وہ ہوا چلاتا ہے اور پانی بہنے لگتا ہے۔
19 وہ اپنا کلام یعقُوب پر ظاہِر کرتا ہے
اور اپنے آئِین و احکام اِسرائیل پر۔
20 اُس نے کِسی اَور قَوم سے اَیسا سلُوک نہیں کِیا
اور اُس کے احکام کو اُنہوں نے نہیں جانا۔
خُداوند کی حمد کرو۔
148
کائنات کو خُدا کی حمد کرنے کی تاکِید
1 خُداوند کی حمد کرو۔
آسمان پر سے خُداوند کی حمد کرو۔
بُلندیوں پر اُس کی حمد کرو۔
2 اَے اُس کے فرِشتو! سب اُس کی حمد کرو۔
اَے اُس کے لشکرو! سب اُس کی حمد کرو۔
3 اَے سُورج! اَے چاند! اُس کی حمد کرو۔
اَے نُورانی سِتارو! سب اُس کی حمد کرو۔
4 اَے فلکُ الافلاک! اُس کی حمد کرو۔
اور تُو بھی اَے فضا پر کے پانی!
5 یہ سب خُداوند کے نام کی حمد کریں۔
کیونکہ اُس نے حُکم دِیا اور یہ پَیدا ہو گئے۔
6 اُس نے اِن کو ابدُالآباد کے لِئے قائِم کِیا ہے۔
اُس نے اٹل قانُون مُقرّر کر دِیا ہے۔
7 زمِین پر سے خُداوند کی حمد کرو۔
اَے اژدہاؤ اور سب گہرے سمُندرو!
8 اَے آگ اور اَولو! اَے برف اور کُہر!
اَے طُوفانی ہوا! جو اُس کے کلام کی تعمِیل کرتی ہے۔
9 اَے پہاڑو اور سب ٹِیلو!
اَے میوہ دار درختو اور سب دیودارو!
10 اَے جانورو اور سب چَوپایو!
اَے رینگنے والو اور پرِندو!
11 اَے زمِین کے بادشاہو اور سب اُمّتو!
اَے اُمرا اور زمِین کے سب حاکِمو!
12 اَے نَوجوانو اور کُنوارِیو!
اَے بُڈّھو اور بچّو!
13 یہ سب خُداوند کے نام کی حمد کریں۔
کیونکہ صِرف اُسی کا نام مُمتاز ہے۔
اُس کا جلال زمِین اور آسمان سے بُلند ہے۔
14 اور اُس نے اپنے سب مُقدّسوں
یعنی اپنی مُقرّب قَوم بنی اِسرائیل کے فخر کے لِئے
اپنی قَوم کا سِینگ بُلند کِیا۔
خُداوند کی حمد کرو۔
149
حمد و سِتایش کا گِیت
1 خُداوند کی حمد کرو۔
خُداوند کے حضُور نیا گِیت گاؤ
اور مُقدّسوں کے مجمع میں اُس کی مدح سرائی کرو۔
2 اِسرائیل اپنے خالِق میں شادمان رہے۔
فرزندانِ صِیُّون اپنے بادشاہ کے سبب سے شادمان ہوں۔
3 وہ ناچتے ہُوئے اُس کے نام کی سِتایش کریں۔
وہ دَف اور سِتار پر اُس کی مدح سرائی کریں۔
4 کیونکہ خُداوند اپنے لوگوں سے خُوشنُود رہتا ہے۔
وہ حلِیموں کو نجات سے زِینت بخشے گا۔
5 مُقدّس لوگ جلال پر فخر کریں۔
وہ اپنے بِستروں پر خُوشی سے نغمہ سرائی کریں۔
6 اُن کے مُنہ میں خُدا کی تمجِید
اور ہاتھ میں دو دھاری تلوار ہو
7 تاکہ قَوموں سے اِنتقام لیں
اور اُمّتوں کو سزا دیں۔
8 اُن کے بادشاہوں کو زنجِیروں سے جکڑیں
اور اُن کے سرداروں کو لوہے کی بیڑیاں پہنائیں
9 تاکہ اُن کو وہ سزا دیں جو مرقُوم ہے۔
اُس کے سب مُقدّسوں کو یہ شرف حاصِل ہے۔
خُداوند کی حمد کرو۔
150
خُداوند کی حمد کرو
1 خُداوند کی حمد کرو۔
تُم خُدا کے مَقدِس میں اُس کی حمد کرو۔
اُس کی قُدرت کے فلک پر اُس کی حمد کرو۔
2 اُس کی قُدرت کے کاموں کے سبب سے اُس کی حمد کرو۔
اُس کی بڑی عظمت کے مُطابِق اُس کی حمد کرو۔
3 نرسِنگے کی آواز کے ساتھ اُس کی حمد کرو۔
بربط اور سِتار پر اُس کی حمد کرو۔
4 دَف بجاتے اور ناچتے ہُوئے اُس کی حمد کرو۔
تاردار سازوں اور بانسلی کے ساتھ اُس کی حمد کرو۔
5 بُلند آواز جھانجھ کے ساتھ اُس کی حمد کرو۔
زور سے جھنجھناتی جھانجھ کے ساتھ اُس کی حمد کرو۔
6 ہر مُتنفِّس خُداوند کی حمد کرے
خُداوند کی حمد کرو۔