رُوت

روت کی کتاب محبت، وفاداری اور خدا کی قدرت کی ایک شاندار مثال پیش کرتی ہے۔ یہ ایک غیر قوم کی عورت، روت، کی کہانی بیان کرتی ہے، جو اپنی ساس نعومی کے ساتھ وفادار رہی اور اسرائیل کے خدا پر ایمان لائی۔ اس کتاب میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح خدا اپنی حکمت اور فضل سے روت کو برکت دیتا ہے اور اسے داؤد نبی کے خاندان کا حصہ بنا دیتا ہے۔ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ خدا وفاداری اور قربانی کو پسند کرتا ہے اور اپنے منصوبے میں ہر ایک کو شامل کر سکتا ہے، چاہے وہ کسی بھی قوم یا پس منظر سے ہو۔

الِیملک اور اُس کا خاندان موآب کو ہجرت کرتے ہیں
1 اور اُن ہی ایّام میں جب قاضی اِنصاف کِیا کرتے تھے اَیسا ہُؤا کہ اُس سرزمِین میں کال پڑا اور یہُوداؔہ کے بَیت لحم کا ایک مَرد اپنی بِیوی اور دو بیٹوں کو لے کر چلا کہ موآؔب کے مُلک میں جا کر بسے۔ 2 اُس مَرد کا نام الِیملک اور اُس کی بِیوی کا نام نعومی تھا اور اُس کے دونوں بیٹوں کے نام محلون اور کلِیوؔن تھے۔ یہ یہُوداؔہ کے بَیت لحم کے افراتی تھے۔ سو وہ موآؔب کے مُلک میں آ کر رہنے لگے۔ 3 اور نعومی کا شَوہر الِیملک مَر گیا۔ پس وہ اور اُس کے دونوں بیٹے باقی رہ گئے۔ 4 اُن دونوں نے ایک ایک موآبی عَورت بیاہ لی۔ اِن میں سے ایک کا نام عُرفہ اور دُوسری کا رُوت تھا اور وہ دس برس کے قرِیب وہاں رہے۔ 5 اور محلوؔن اور کلِیوؔن دونوں مَر گئے۔ سو وہ عَورت اپنے دونوں بیٹوں اور خاوند سے چُھوٹ گئی۔
نعومی بَیت لحم واپس آتی ہے
6 تب وہ اپنی دونوں بہُوؤں کو لے کر اُٹھی کہ موآؔب کے مُلک سے لَوٹ جائے اِس لِئے کہ اُس نے موآؔب کے مُلک میں یہ حال سُنا کہ خُداوند نے اپنے لوگوں کو روٹی دی اور یُوں اُن کی خبر لی۔ 7 سو وہ اُس جگہ سے جہاں وہ تھی دونوں بہُوؤں کو ساتھ لے کر چل نِکلی اور وہ سب یہُوداؔہ کی سرزمِین کو لَوٹنے کے لِئے راستہ پر ہو لِیں۔ 8 اور نعومی نے اپنی دونوں بہُوؤں سے کہا تُم دونوں اپنے اپنے میکے کو جاؤ۔ جَیسا تُم نے مرحُوموں کے ساتھ اور میرے ساتھ کِیا وَیسا ہی خُداوند تُمہارے ساتھ مِہر سے پیش آئے۔ 9 خُداوند یہ کرے کہ تُم کو اپنے اپنے شَوہر کے گھر میں آرام مِلے۔
تب اُس نے اُن کو چُوما اور وہ چِلاّ چِلاّ کر رونے لگِیں۔ 10 پِھر اُن دونوں نے اُس سے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے ساتھ لَوٹ کر تیرے لوگوں میں جائیں گی۔
11 نعومی نے کہا اَے میری بیٹِیو لَوٹ جاؤ۔ تُم میرے ساتھ کیوں چلو؟ کیا میرے رَحمِ میں اور بیٹے ہیں جو تُمہارے شَوہر ہوں؟ 12 اَے میری بیٹِیو لَوٹ جاؤ۔ اپنا راستہ لو کیونکہ مَیں زِیادہ بُڑھیا ہُوں اور شَوہر کرنے کے لائِق نہیں۔ اگر مَیں کہتی کہ مُجھے اُمّید ہے بلکہ اگر آج کی رات میرے پاس شَوہر بھی ہوتا اور میرے لڑکے پَیدا ہوتے۔ 13 تَو بھی کیا تُم اُن کے بڑے ہونے تک اِنتظار کرتِیں اور شَوہر کر لینے سے باز رہتِیں؟ نہیں میری بیٹِیو مَیں تُمہارے سبب سے زِیادہ دلگِیر ہُوں اِس لِئے کہ خُداوند کا ہاتھ میرے خِلاف بڑھا ہُؤا ہے۔
14 تب وہ پِھر چِلاّ چِلاّ کر روئِیں اور عُرفہ نے اپنی ساس کو چُوما پر رُوت اُس سے لِپٹی رہی۔ 15 تب اُس نے کہا دیکھ تیری جِٹھانی اپنے کُنبے اور اپنے دیوتا کے پاس لَوٹ گئی۔ تُو بھی اپنی جِٹھانی کے پِیچھے چلی جا۔
16 رُوت نے کہا تُو مِنّت نہ کر کہ مَیں تُجھے چھوڑُوں اور تیرے پِیچھے سے لَوٹ جاؤں کیونکہ جہاں تُو جائے گی مَیں جاؤں گی اور جہاں تُو رہے گی مَیں رہُوں گی۔ تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خُدا میرا خُدا ہو گا۔ 17 جہاں تُو مَرے گی مَیں مرُوں گی اور وہِیں دفن بھی ہُوں گی۔ خُداوند مُجھ سے اَیسا ہی بلکہ اِس سے بھی زِیادہ کرے اگر مَوت کے سِوا کوئی اور چِیز مُجھ کو تُجھ سے جُدا کر دے۔
18 جب اُس نے دیکھا کہ اُس نے اُس کے ساتھ چلنے کی ٹھان لی ہے تو اُس سے اور کُچھ نہ کہا۔
19 سو وہ دونوں چلتے چلتے بَیت لحم میں آئِیں۔ جب وہ بَیت لحم میں داخِل ہُوئِیں تو سارے شہر میں دُھوم مچی اور عَورتیں کہنے لگِیں کہ کیا یہ نعومی ہے؟
20 اُس نے اُن سے کہا مُجھ کو نعومی نہیں بلکہ مارا کہو اِس لِئے کہ قادرِ مُطلق میرے ساتھ نِہایت تلخی سے پیش آیا ہے۔ 21 مَیں بھری پُوری گئی اور خُداوند مُجھ کو خالی پھیر لایا۔ پس تُم کیوں مُجھے نعومی کہتی ہو حالانکہ خُداوند میرے خِلاف مُدّعی ہُؤا اور قادرِ مُطلق نے مُجھے دُکھ دِیا؟
22 غرض نعومی لَوٹی اور اُس کے ساتھ اُس کی بہُو موآبی رُوت تھی جو موآؔب کے مُلک سے یہاں آئی اور وہ دونوں جَو کاٹنے کے مَوسم میں بَیت لحم میں داخِل ہُوئِیں۔
رُوت بوعز کے کھیت میں بالیں چُنتی ہے
1 اور نعومی کے شَوہر کا ایک رِشتہ دار تھا جو الِیملک کے گھرانے کا اور بڑا مال دار تھا اور اُس کا نام بوعز تھا۔ 2 سو موآبی رُوؔت نے نعومی سے کہا مُجھے اِجازت دے تو مَیں کھیت میں جاؤُں اور جو کوئی کرم کی نظر مُجھ پر کرے اُس کے پِیچھے پِیچھے بالیں چنُوں۔
اُس نے اُس سے کہا جا میری بیٹی۔
3 سو وہ گئی اور کھیت میں جا کر کاٹنے والوں کے پِیچھے بالیں چُننے لگی اور اِتّفاق سے وہ بوعز ہی کے کھیت کے حِصّہ میں جا پُہنچی جو الِیملک کے خاندان کا تھا۔
4 اور بوعز نے بَیت لحم سے آ کر کاٹنے والوں سے کہا خُداوند تُمہارے ساتھ ہو۔
اُنہوں نے اُسے جواب دِیا خُداوند تُجھے برکت دے۔
5 پِھر بوعز نے اپنے اُس نَوکر سے جو کاٹنے والوں پر مُقرّر تھا پُوچھا یہ کِس کی لڑکی ہے؟
6 اُس نَوکر نے جو کاٹنے والوں پر مُقرّر تھا جواب دِیا یہ وہ موآبی لڑکی ہے جو نعومی کے ساتھ موآؔب کے مُلک سے آئی ہے۔ 7 اُس نے مُجھ سے کہا تھا کہ مُجھ کو ذرا کاٹنے والوں کے پِیچھے پُولِیوں کے بِیچ بالیں چُن کر جمع کرنے دے۔ سو یہ آ کر صُبح سے اب تک یہِیں رہی۔ فقط ذرا سی دیر گھر میں ٹھہری تھی۔
8 تب بوعز نے رُوت سے کہا اَے میری بیٹی! کیا تُجھے سُنائی نہیں دیتا؟ تُو دُوسرے کھیت میں بالیں چُننے کو نہ جانا اور نہ یہاں سے نِکلنا بلکہ میری چھوکریوں کے ساتھ ساتھ رہنا۔ 9 اِس کھیت پر جِسے وہ کاٹتے ہیں تیری آنکھیں جمی رہیں اور تُو اِن ہی کے پِیچھے پِیچھے چلنا۔ کیا مَیں نے اِن جوانوں کو حُکم نہیں کِیا کہ وہ تُجھے نہ چُھوئیں؟ اور جب تُو پِیاسی ہو تو برتنوں کے پاس جا کر اُسی پانی میں سے پِینا جو میرے جوانوں نے بھرا ہے۔
10 تب وہ اَوندھے مُنہ گِری اور زمِین پر سرنگوں ہو کر اُس سے کہا کیا باعِث ہے کہ تُو مُجھ پر کرم کی نظر کر کے میری خبر لیتا ہے حالانکہ مَیں پردیسن ہُوں؟
11 بوعز نے اُسے جواب دِیا کہ جو کُچھ تُو نے اپنے خاوند کے مَرنے کے بعد اپنی ساس کے ساتھ کِیا ہے وہ سب مُجھے پُورے طَور پر بتایا گیا ہے کہ تُو نے کَیسے اپنے ماں باپ اور زادبُوم کو چھوڑا اور اُن لوگوں میں جِن کو تُو اِس سے پیشتر نہ جانتی تھی آئی۔ 12 خُداوند تیرے کام کا بدلہ دے بلکہ خُداوند اِسرائیلؔ کے خُدا کی طرف سے جِس کے پروں کے نِیچے تُو پناہ کے لِئے آئی ہے تُجھ کو پُورا اجر مِلے۔
13 تب اُس نے کہا اَے میرے مالِک تیرے کرم کی نظر مُجھ پر رہے کیونکہ تُو نے مُجھے دِلاسا دِیا اور مِہر کے ساتھ اپنی لَونڈی سے باتیں کِیں اگرچہ مَیں تیری لَونڈِیوں میں سے ایک کے برابر بھی نہیں۔
14 پِھر بوعز نے اُس سے کھانے کے وقت کہا کہ یہاں آ اور روٹی کھا اور اپنا نوالہ سِرکہ میں بِھگو۔ تب وہ کاٹنے والوں کے پاس بَیٹھ گئی اور اُنہوں نے بُھنا ہُؤا اناج اُس کے پاس کر دِیا۔ سو اُس نے کھایا اور سیر ہُوئی اور کُچھ رکھ چھوڑا۔ 15 اور جب وہ بالیں چُننے اُٹھی تو بوعز نے اپنے جوانوں سے کہا اُسے پُولِیوں کے بِیچ میں بھی چُننے دینا اور اُسے ملامت نہ کرنا۔ 16 اور اُس کے لِئے گٹھّروں میں سے تھوڑا سا نِکال کر چھوڑ دینا اور اُسے چُننے دینا اور جِھڑکنا مت۔
17 سو وہ شام تک کھیت میں چُنتی رہی اور جو کُچھ اُس نے چُنا تھا اُسے پھٹکا اور وہ قرِیب ایک ایفہ جَو نِکلا۔ 18 اور وہ اُسے اُٹھا کر شہر میں گئی اور جو کُچھ اُس نے چُنا تھا اُسے اُس کی ساس نے دیکھا اور اُس نے وہ بھی جو اُس نے سیر ہونے کے بعد رکھ چھوڑا تھا نِکال کر اپنی ساس کو دِیا۔ 19 اُس کی ساس نے اُس سے پُوچھا تُو نے آج کہاں بالیں چُنِیں اور کہاں کام کِیا؟ مُبارک ہو وہ جِس نے تیری خبر لی۔
تب اُس نے اپنی ساس کو بتایا کہ اُس نے کِس کے پاس کام کِیا تھا اور کہا کہ اُس شخص کا نام جِس کے ہاں آج مَیں نے کام کِیا بوعز ہے۔
20 نعومی نے اپنی بہُو سے کہا وہ خُداوند کی طرف سے برکت پائے جِس نے زِندوں اور مُردوں سے اپنی مِہربانی باز نہ رکھّی اور نعومی نے اُس سے کہا کہ یہ شخص ہمارے قرِیبی رِشتہ کا ہے اور ہمارے نزدِیک کے قرابتِیوں میں سے ایک ہے۔
21 موآبی رُوت نے کہا اُس نے مُجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ تُو میرے جوانوں کے ساتھ رہنا جب تک وہ میری ساری فصل کاٹ نہ چُکیں۔
22 نعومی نے اپنی بہُو رُوت سے کہا میری بیٹی یہ اچّھا ہے کہ تُو اُس کی چھوکریوں کے ساتھ جایا کرے اور وہ تُجھے کِسی اور کھیت میں نہ پائیں۔ 23 سو وہ بالیں چُننے کے لِئے جَو اور گیہُوں کی فصل کے خاتِمہ تک بوعز کی چھوکریوں کے ساتھ ساتھ لگی رہی اور وہ اپنی ساس کے ساتھ رہتی تھی۔
رُوت کو شَوہر مِل جاتا ہے
1 پِھر اُس کی ساس نعومی نے اُس سے کہا میری بیٹی کیا مَیں تیرے آرام کی طالِب نہ بنُوں جِس سے تیری بھلائی ہو؟ 2 اور کیا بوعز ہمارا رِشتہ دار نہیں جِس کی چھوکریوں کے ساتھ تُو تھی؟ دیکھ وہ آج کی رات کھلِیہان میں جَو پھٹکے گا۔ 3 سو تُو نہا دھو کر خُوشبُو لگا اور اپنی پوشاک پہن اور کھلِیہان کو جا اور جب تک وہ مَرد کھا پی نہ چُکے تب تک تُو اپنے تئِیں اُس پر ظاہِر نہ کرنا۔ 4 جب وہ لیٹ جائے تو اُس کے لیٹنے کی جگہ کو دیکھ لینا۔ تب تُو اندر جا کر اور اُس کے پاؤں کھول کر لیٹ جانا اور جو کُچھ تُجھے کرنا مُناسِب ہے وہ تُجھ کو بتائے گا۔
5 اُس نے اپنی ساس سے کہا جو کُچھ تُو مُجھ سے کہتی ہے وہ سب مَیں کرُوں گی۔
6 سو وہ کھلِیہان کو گئی اور جو کُچھ اُس کی ساس نے حُکم دِیا تھا وہ سب کِیا۔ 7 اور جب بوعز کھا پی چُکا اور اُس کا دِل خُوش ہُؤا تو وہ غلّہ کے ڈھیر کی ایک طرف جا کر لیٹ گیا۔ تب وہ چُپکے چُپکے آئی اور اُس کے پاؤں کھول کر لیٹ گئی۔ 8 اور آدھی رات کو اَیسا ہُؤا کہ وہ مَرد ڈر گیا اور اُس نے کروٹ لی اور دیکھا کہ ایک عَورت اُس کے پاؤں کے پاس پڑی ہے۔ 9 تب اُس نے پُوچھا تُو کَون ہے؟
اُس نے کہا مَیں تیری لَونڈی رُوت ہُوں۔ سو تُو اپنی لَونڈی پر اپنا دامن پَھیلا دے کیونکہ تُو نزدِیک کا قرابتی ہے۔
10 اُس نے کہا تُو خُداوند کی طرف سے مُبارک ہو اَے میری بیٹی کیونکہ تُو نے شرُوع کی نِسبت آخِر میں زِیادہ مِہربانی کر دِکھائی اِس لِئے کہ تُو نے جوانوں کا خواہ وہ امِیر ہوں یا غرِیب پِیچھا نہ کِیا۔ 11 اب اَے میری بیٹی مت ڈر۔ مَیں سب کُچھ جو تُو کہتی ہے تُجھ سے کرُوں گا کیونکہ میری قَوم کا تمام شہر جانتا ہے کہ تُو پاک دامن عَورت ہے۔ 12 اور یہ سچ ہے کہ مَیں نزدِیک کا قرابتی ہُوں لیکن ایک اَور بھی ہے جو قرابت میں مُجھ سے زِیادہ نزدِیک ہے۔ 13 اِس رات تو ٹھہری رہ اور صُبح کو اگر وہ قرابت کا حق ادا کرنا چاہے تو خَیر وہ قرابت کا حق ادا کرے اور اگر وہ تیرے ساتھ قرابت کا حق ادا کرنا نہ چاہے تو زِندہ خُداوند کی قَسم ہے مَیں تیرے ساتھ قرابت کا حق ادا کرُوں گا۔ صُبح تک تو تُو لیٹی رہ۔
14 سو وہ صُبح تک اُس کے پاؤں کے پاس لیٹی رہی اور پیشتر اِس سے کہ کوئی ایک دُوسرے کو پہچان سکے اُٹھ کھڑی ہُوئی کیونکہ اُس نے کہہ دِیا تھا کہ یہ ظاہِر ہونے نہ پائے کہ کھلِیہان میں یہ عَورت آئی تھی۔ 15 پِھر اُس نے کہا اُس چادر کو جو تیرے اُوپر ہے لا اور اُسے تھامے رہ۔ جب اُس نے اُسے تھاما تو اُس نے جَو کے چھ پَیمانے ناپ کر اُس پر لاد دِئے۔ پِھر وہ شہر کو چلا گیا۔ 16 جب وہ اپنی ساس کے پاس آئی تو اُس نے کہا اَے میری بیٹی تُو کَون ہے؟
تب اُس نے سب کُچھ جو اُس مَرد نے اُس سے کِیا تھا اُسے بتایا۔ 17 اور کہنے لگی کہ مُجھ کو اُس نے یہ چھ پَیمانے جَو کے دِئے کیونکہ اُس نے کہا کہ تُو اپنی ساس کے پاس خالی ہاتھ نہ جا۔
18 تب اُس نے کہا اَے میری بیٹی جب تک اِس بات کے انجام کا تُجھے پتہ نہ لگے تُو چُپ چاپ بَیٹھی رہ اِس لِئے کہ اُس شخص کو چَین نہ مِلے گا جب تک وہ اِس کام کو آج ہی تمام نہ کر لے۔
بوعز رُوت کو بیاہ لیتا ہے
1 تب بوعز پھاٹک کے پاس جا کر وہاں بَیٹھ گیا اور دیکھو جِس نزدِیک کے قرابتی کا ذِکر بوعز نے کِیا تھا وہ آ نِکلا۔ اُس نے اُس سے کہا ارے بھائی! اِدھر آ اور ذرا یہاں بَیٹھ جا۔ سو وہ اُدھر آ کر بَیٹھ گیا۔ 2 پِھر اُس نے شہر کے بزُرگوں میں سے دس آدمِیوں کو بُلا کر کہا یہاں بَیٹھ جاؤ۔ سو وہ بَیٹھ گئے۔ 3 تب اُس نے اُس نزدِیک کے قرابتی سے کہا نعومی جو موآؔب کے مُلک سے لَوٹ آئی ہے زمِین کے اُس ٹُکڑے کو جو ہمارے بھائی اؔلِیملک کا مال تھا بیچتی ہے۔ 4 سو مَیں نے سوچا کہ تُجھ پر اِس بات کو ظاہِر کر کے کہُوں گا کہ تُو اِن لوگوں کے سامنے جو بَیٹھے ہیں اور میری قَوم کے بزُرگوں کے سامنے اُسے مول لے۔ اگر تُو اُسے چُھڑاتا ہے تو چُھڑا اور اگر نہیں چُھڑاتا تو مُجھے بتا دے تاکہ مُجھ کو معلُوم ہو جائے کیونکہ تیرے سِوا اور کوئی نہیں جو اُسے چُھڑائے اور مَیں تیرے بعد ہُوں۔
اُس نے کہا مَیں چُھڑاؤں گا۔
5 تب بوعز نے کہا جِس دِن تُو وہ زمِین نعومی کے ہاتھ سے مول لے تو تُجھے اُس کو موآبی رُوت کے ہاتھ سے بھی جو مُردہ کی بِیوی ہے مول لینا ہو گا تاکہ اُس مُردہ کا نام اُس کی مِیراث پر قائِم کرے۔
6 تب اُس کے نزدِیک کے قرابتی نے کہا مَیں اپنے لِئے اُسے چُھڑا نہیں سکتا تا نہ ہو کہ مَیں اپنی مِیراث خراب کر دُوں۔ اُس کے چُھڑانے کا جو میرا حق ہے اُسے تُو لے لے کیونکہ مَیں اُسے چُھڑا نہیں سکتا۔
7 اور اگلے زمانہ میں اِسرائیلؔ میں مُعاملہ پکّا کرنے کے لِئے چُھڑانے اور بدلنے کے بارے میں یہ معمُول تھا کہ مَرد اپنی جُوتی اُتار کر اپنے پڑوسی کو دے دیتا تھا۔ اِسرائیلؔ میں تصدِیق کرنے کا یہی طرِیقہ تھا۔
8 سو اُس نزدِیک کے قرابتی نے بوعز سے کہا کہ تُو آپ ہی اُسے مول لے لے۔ پِھر اُس نے اپنی جُوتی اُتار ڈالی۔ 9 اور بوعز نے بزُرگوں اور سب لوگوں سے کہا تُم آج کے دِن گواہ ہو کہ مَیں نے الِیملک اور کلِیوؔن اور محلوؔن کا سب کُچھ نعومی کے ہاتھ سے مول لے لِیا ہے۔ 10 ماسِوا اِس کے مَیں نے محلوؔن کی بِیوی موآبی رُوت کو بھی اپنی بِیوی بنانے کے لِئے خرِید لِیا ہے تاکہ اُس مُردہ کے نام کو اُس کی مِیراث میں قائِم کرُوں اور اُس مُردہ کا نام اُس کے بھائِیوں اور اُس کے مکان کے دروازہ سے مِٹ نہ جائے۔ تُم آج کے دِن گواہ ہو۔
11 تب سب لوگوں نے جو پھاٹک پر تھے اور اُن بزُرگوں نے کہا کہ ہم گواہ ہیں۔ خُداوند اُس عَورت کو جو تیرے گھر میں آئی ہے راخِل اور لیاہ کی مانِند کرے جِن دونوں نے اِسرائیلؔ کا گھر آباد کِیا اور تُو افراتہ میں تحسِین و آفرِین کا کام کرے اور بَیت لحم میں تیرا نام ہو! 12 اور تیرا گھر اُس نسل سے جو خُداوند تُجھے اِس عَورت سے دے فارص کے گھر کی طرح ہو جو یہُوداؔہ سے تمر کے ہُؤا۔
بوعز کی نسل
13 سو بوعز نے رُوت کو لِیا اور وہ اُس کی بِیوی بنی اور اُس نے اُس سے خلوت کی اور خُداوند کے فضل سے وہ حامِلہ ہُوئی اور اُس کے بیٹا ہُؤا۔ 14 اور عَورتوں نے نعومی سے کہا خُداوند مُبارک ہو جِس نے آج کے دِن تُجھ کو نزدِیک کے قرابتی کے بغَیر نہیں چھوڑا اور اُس کا نام اِسرائیلؔ میں مشہُور ہو۔ 15 اور وہ تیرے لِئے تیری جان کا بحال کرنے والا اور تیرے بُڑھاپے کا پالنے والا ہو گا کیونکہ تیری بہُو جو تُجھ سے مُحبّت رکھتی ہے اور تیرے لِئے سات بیٹوں سے بھی بڑھ کر ہے وہ اُس کی ماں ہے۔ 16 اور نعومی نے اُس لڑکے کو لے کر اُسے اپنی چھاتی سے لگایا اور اُس کی دایہ بنی۔
17 اور اُس کی پڑوسنوں نے اُس بچّے کو ایک نام دِیا اور کہنے لگِیں کہ نعومی کے لِئے بیٹا پَیدا ہُؤا سو اُنہوں نے اُس کا نام عوبید رکھّا۔
وہ یسّی کا باپ تھا جو داؤُد کا باپ ہے۔
18 اور فارص کا نسب نامہ یہ ہے۔ فارص سے حصروؔن پَیدا ہُؤا۔ 19 اور حصروؔن سے راؔم پَیدا ہُؤا اور رام سے عِمّینداؔب پَیدا ہُؤا۔ 20 اور عِمّینداؔب سے نحسوؔن پَیدا ہُؤا اور نحسوؔن سے سلموؔن پَیدا ہُؤا۔ 21 اور سلموؔن سے بوعز پَیدا ہُؤا اور بوعز سے عوبید پَیدا ہُؤا۔ 22 اور عوبید سے یسّی پَیدا ہُؤا اور یسّی سے داؤُد پَیدا ہُؤا۔